تازہ تر ین

یہ کر گزریں

کسی کی ہر بات سے اتفاق کسی طرح ممکن نہیں۔ ہم نبیوںؑ،رسولوں ؑاور پیغمبروںؑ کا ذکر نہیں کر رہے۔ اس حوالے سے بزرگان دین بھی ہمارے پیش نظر نہیں۔ ہمارا ذکر دنیا داروں کے بارے میں ہے۔ وہ دنیا دار کتنے ہی بڑے مقام اورمرتبے پر کیوں نہ ہو۔ وہ خواہ ملک کا وزیراعظم یا چیف جسٹس ہی کیوں نہ ہو۔ کسی کی ہر بات، ہر سوچ اور ہر فکر سے کلی اتفاق کسی طرح ممکن نہیں۔ کوئی عقل کل نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة یوسف میں فرمایا ہے کہ ہر ذی علم پر ایک ذی علم موجود ہے۔ آپ اس سے اندازہ کر لیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر ایک کی ہر بات سے اختلاف ہمارا حق بن جاتا ہے۔ عقل کی باتوں سے اختلاف بجائے خود جہالت ہے۔
ہمارے پیش نظر اس وقت محترم چیف جسٹس ہیں۔ ان کے ہی نہیں ہر جج کے عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے مگر عدالتی فیصلوں کے سوا کہی گئی باتوں سے اتفاق ضروری نہیں۔ یہاں ہم کسی بات سے عدم اتفاق کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ ان کی اس بات سے سو فیصد متفق ہیں کہ ڈیم یا ڈیموں کے مخالفوں پر غداری کے مقدمات بن سکتے ہیں اور ان پر آرٹیکل 6 لگایا جا سکتا ہے۔ آرٹیکل 6 آئین کی تخریب پر سنگین غداری کا اعلان کرتا ہے۔ 1973ءمیں یہ شق شامل ہونے کے بعد سے جنرل پرویز مشرف واحد شخصیت ہیں جن پر اس کا اطلاق کیا گیا۔ ممکن ہے ضیاءالحق اگر اقتدار سے باہر ہو جاتا تو اس پر کبھی نہ کبھی آرٹیکل 6 لگ جاتا مگر وہ تو باوردی ہی اس دنیا سے کوچ کر گیا۔
اصل میں پانی تو زندگی ہے اور کسی کو زندگی سے محروم کرنے سے بڑا جرم اور کیا ہو سکتا ہے۔ ملک کو ڈیموں سے محروم کرنے کا مطلب انسانوں ہی نہیں حیوانوں، جنگلی حیات اور آبی حیات کو زندگی سے محروم کر دینا ہے۔ہرے بھرے کھیتوں اور کھلیانوں کو بھی چٹیل میدانوں میں تبدیل کر دینا ہے۔ لہٰذا اس پر آرٹیکل 6 لگ ہی نہیں سکتا کسی نہ کسی کو نشان عبرت بنانے کے لئے اس آرٹیکل کا نفاذ کر دینا چاہئے خواہ خورشید شاہ ہی کیوں نہ ہو۔
پانی تو جنت کی بشارت بھی دیتا ہے۔روایت ہے کہ ایک طوائف کی محض اس لئے مغفرت ہو گئی کہ اس نے ایک دفعہ ایک پیاسے کتے کو پانی پلایا تھا۔ ہم آپ کو عہد نبوی کے ایک باب سے آگاہ کرتے ہیں۔ یہ اس دور کی بات ہے جب ریاست مدینہ میں مسلمان پریشانیوں کا شکار تھے خصوصاً پانی ان کے لئے بہت بڑا مسئلہ تھا۔ وہاں ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو بہت مہنگا پانی دیتا تھا جبکہ مسلمانوں کی اکثریت مفلوک الحال تھی۔ ایک دن نبی کریم نے اس یہودی سے فرمایا کہ تم مجھے یہ کنواں اس چشمے کے عوض دے دو جو تمہیں جنت میں ملے گا یعنی آپ اسے جنت کی بشارت دے رہے تھے لیکن اس نے اس عظیم دولت کو ٹھکرا دیا کہ وہ بدبخت اور بدقسمت تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ نے فرمایا کہ جو اس کنوئیں کو خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دے گا اس کو جنت کی بشارت دی جاتی ہے۔ لہٰذا حضرت عثمانؓ نے یہودی سے نصف کنواں بارہ ہزار درہم یا دوسری روایت کے مطابق سو اونٹوں کے عوض خرید لیا۔ طے یہ پایا کہ ایک دن کنوئیں کی ملکیت حضرت عثمانؓ اور دوسرے دن اس یہودی کی ہو گی۔ حضرت عثمانؓ کی باری کے دن مسلمان دو دن کا پانی جمع کر لیتے تو یہودی کا کاروبار ٹھپ ہو گیا جس کے بعد اس نے پورا کنواں حضرت عثمانؓ کو فروخت کر دیا اور اب مسلمانوں کے لئے کنوئیں کے شیریں پانی کے حصول میں کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔
اگرچہ مقصد اس کنوئیں کی تاریخ بیان کرنا نہیں مگر معاملہ مسلمانوں کی دلچسپی کا ہے لہٰذا مختصراً بتا دیتے ہیں کہ یہ آج بھی موجود ہے اور بیئر عثمانؓ کہلاتا ہے۔ بیئر عربی میں کنوئیں کو کہا جاتا ہے۔ حضرت عثمانؓ کی طرف سے خریداری سے قبل اس کا نام بیئر رومہ یا بیئرمزنی تھا۔ آپ مدینہ جائیں تو یہ کنواں وادی عتیق کے قریب ازہری محلہ میں مسجد قبلتین کی شمالی سمت میں ہے اور محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کنواں منہدم ہو گیا تھا بعد میں 750ھ میں اس کو بحال کیا گیا۔ اس سلسلے میں ایک حدیث پاک بھی بیان کی جاتی ہے کہ جو بیئر رومہ کو کھو دے اس کے لئے جنت ہے۔ یعنی حضرت عثمانؓ کو توجنت مل گئی مگر بعد میں اس کو بحال کرنے والوں کے لئے بھی یہی بشارت ہے۔ اس سے آپ پانی کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگا لیں لیکن اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ پانی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں اور انسانوں، حیوانوں، جمادات، نباتات اور دھرتی کو پیاسا رکھنا چاہتے ہیں ان کے لئے کتنا بڑا عذاب ہے۔
آج بھی ہم جس صورتحال سے دوچار ہیں اس میں پانی بہت زیادہ اہمیت اور حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ ہمارے لئے ہی نہیں پوری دنیا کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ آئندہ جنگوں میں پانی بنیادی مسئلہ ہو گا۔ یعنی مستقبل میں جنگیں ہوتی ہیں تو ان کی سب سے بڑی وجہ پانی ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تو کشمیر کے علاوہ سب سے بڑا تنازع ہی پانی ہے۔ ہم نے 1960ءکے معاہدے میں تین دریا بھارت کو دیئے اور تین ہمارے حصے میں آئے مگر آج صورتحال یہ ہے کہ بھارت نے ہمارے دریاﺅں پر بھی دانت تیز کر لئے ہیں۔ اور ان پر اڑھائی سو سے زیادہ ڈیم بنا رہا ہے۔ یعنی اس نے تو ہمارا پانی استعمال کرتے ہوئے اتنے ڈیم بنا لئے اور ہم اپنے پانی پر خود اپنے لئے ایک ڈیم بھی بنانے کے لئے تیار نہیں۔
جن لوگوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ ڈیم نہیں بننے دیں گے، ان کے پیش نظر آخر مسئلہ کیا ہے….؟ کہا جاتا ہے کہ سب سے بڑا مسئلہ بھارتی سرمایہ ہے جو دھڑا دھڑ ان لوگوں کے پاس پہنچ رہا ہے اور ڈیم کے حق میں ان لوگوں کے منہ بند کرتا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے تو اس سے بڑی قوم اور وطن دشمنی اور کیا ہو گی اور اس سے بڑی غداری ہم کس کو قرار دے سکتے ہیں۔ یہ تو مشرف، ضیاءالحق، یحییٰ خان اور ایوب خان کے اقدام سے بھی بڑی غداری کہلا سکتی ….کہلا کیا سکتی ہے یقینا ہے بھی۔
یہاں ہم محترم چیف جسٹس کی توجہ ایک غدار وطن کی طرف دلانا چاہتے ہیں جس کا نام جماعت علی شاہ ہے۔ یہ شخص ایک عرصہ تک پاکستان کا انڈس واٹر کمشنر رہا مگر بتایا جاتا ہے کہ کام بھارت کے لئے کرتا تھا۔ نوکری سے فارغ ہوتے ہی کینیڈا چلا گیا جس کی شہریت اس نے پہلے ہی حاصل کر رکھی تھی۔ ظاہر ہے بھارت سے ملنے والا مال بھی وہیں گیا ہوگا جس پر آج وہ عیاشی کر رہا ہے۔ ہماری درخواست یہ ہے کہ کسی طرح سے بھی اس شخص کو واپس لایا جائے اور پھر اس کا وہ حشر کیا جائے جو رہتی دنیا تک لوگوں کو یاد رہے کیونکہ ہمارے نزدیک یہ میرجعفر اور میر صادق سے بھی بڑا غدار ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved