تازہ تر ین

درپیش چیلنجز اورعوامی توقعات

سلمیٰ اعوان …. لمحہ فکریہ
ہم جیسے چھوٹے لوگ جو اس ملک کی کرسیوں پر نئے بےٹھنے والوں سے کیسی کیسی انقلابی امےدےں وابستہ کرلےتے ہےں‘خواب بُننے لگتے ہیں۔ہتھےلی پر سرسوں اُگانا چاہتے ہےں۔ ہماری تمنا ہوتی ہے کہ ہر رات جب آنکھےں بند کرےں اور صبح جب یہ کھلیں تو ملک کے لےے کی جانے والی کسی نئی اصلاح کی آواز کانوں مےںپڑے۔اخبار اٹھائےں تو امید افزا خبرےں پڑھنے کو ملےں۔الےکٹرونک مےڈےا کو دیکھیں تو نئے اقدامات کی آوازےں بصارتوں اور سماعتوں کی تواضع کریں۔سچی بات ہے ذرا سی کوئی تبدیلی، کسی بہتری کی طرف کوئی اشارہ، کوئی نےا اور صحیح سمت مےں اٹھا قدم حوصلے کا پےغام دےں اور ہمےں خوش فہمےوں مےں مبتلا کرےں۔ ور ہمارا اندر باہر مسرور ہوجائے۔اس صورت نے پہلی بار اس شدّت سے جنم نہےں لےا ہے۔ بھٹو کے دورمیں بھی کچھ ایسے ہی جذبات تھے۔ مگر وہ شدّت جواب ہے تب ایسی نہ تھی۔اب توقعات بہت اونچی ہےں۔بڑا کڑا امتحان ہے۔
عام لوگوں کی بات کیا کروں سچی بات ہے مےراتو اپنا دل اِس آس مےں بڑا اتھل پتھل ہوا تھا کہ جب امرےکی وزیر خارجہ مائےک پومپیو آیا تو اُسے یہ ضرور احسا س ہو کہ پاکستان کی نئی قےادت سابقہ قےادتوں سے مختلف اپنے موقف مےں واضح اور پالےسےوں مےں مصمم ہے۔وہ ڈومور کی بجائے نو مور کہنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔اور اُسے ےہ بتانے کی پوزےشن مےں ہے کہ یہ امرےکہ بہادر کولےشن سپورٹ فنڈ بند کرنے کا تو مجاز ہی نہےں کہ یہ امرےکی امداد تھوڑی ہے۔ ےہ تو اُن اخراجات اور نقصان کی تلافی کی اےک ادنیٰ سی کاوش ہے جو پاکستان نے امرےکہ کو سپر پاور بنانے کے لےے جھےلی۔ظاہر ہے دنےا کی دوسری سپر پاور کو توڑنے، اس بے وفا ملک کو دنےا کا تھانیدار بنانے کے لےے جو تباہی ہوئی اُسے پاکستان نے ہی تو جھےلا۔ جسے اس وقت اس نے اپنے مفاد کے لےے آنکھوں کا تارہ بناےا اور بعدمیں کھڈے لائن لگادیا۔
ہمارا تو سچی بات ہے وہ حال ہے کہ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ےعنی جن کے لےے اپنے گھر کے سکون کو داﺅ پر لگا دےا وہ بھی خوش نہےں۔ ہمی کو دوش دےتے ہےں۔ تو بات پھر ہونٹوں پر آتی ہے کہ ےہ جانتا اگر تو لٹاتا نہ گھر کو مےں۔ےہ گھر تو نشانے پر رکھا گےا نا۔ہمارے تو کسی بڑے کو عقل نہ آئی کہ اِس افغان پھڈے مےں نہ پڑے۔ہماری تزوےراتی سٹرےٹےجی کی دھجیاں جس طرح اڑےں اُسے ہم نے خود دےکھا۔اب ہم تو ٹھہرے دشمن اس کے اور باقی سارے ہی اس کے مامے چاچے بن گئے ۔سبھوںکو افغانستان کی ممتا ابلی پڑرہی ہے۔ ایک مظاہرہ تو خود چشم دیدہے کہ انڈیا مےں سارک کانفرنس میں جیسے افغان مندوبےن کو پذےرائی دی جارہی تھی وہ ہندوستان کی ساری سےاسی ڈپلو مےسی کے راز فاش کرتی تھی۔
نو منتخب حکومت کوعاطف میاں کے کےس مےں عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔سوال یہ ہے کہ پہلے غوروخوض کےوں نہےں ہوا۔ زمےنی حقائق سے آنکھےں کےوں چرائی گئےں۔اگر پاکستانی عاطف میاں جو بلاشبہ ایک ماہر اقتصادےات ہےں۔ان کے اےجنڈے مےں سی پےک نہےں تھا تو اس منصوبے کے تمام مخفی اور ظاہری پہلو عوام کے سامنے لائے جاتے۔ انہےں اِن امور سے آگا ہ کیا جاتاکہ ماضی کے حکمرانوں نے ڈیل کرتے ہوئے کہاں کہاں حقائق قوم سے چھپائے اور اس سارے سودے مےں قوم کو فائدہ کتنا اور نقصان کتنا ہوگا۔ ابھی بھی صورت حال کھل کر سامنے نہےں۔عام لوگ تو جانتے ہی نہےں منصوبے کی تفصیلات کہاں طے ہوئےں ،کیا کوئی پاکستانی کمپنی اس مےں شامل ہوئی ۔اگلے تو سازو ساماں کے ساتھ لےبر تک بھی اپنی لے آئے۔ذرا مہاتےر محمد کا بےان پڑھ لےجئےے توفیق ہوتو غور بھی کرلےںجس نے واشگاف لفظوں مےں کہا چےن کے ساتھ کام کرنے مےں کوئی ہرج نہےں مگر کوئی بھی معاہدہ ایسا نہےں ہونا چاہےے جس مےں ملائیشیا کاحصّہ صرف 10% ہو۔
گورنر ہاﺅسوں کو عوام کے لےے کھولنا بہت خوش آئند بات ہے۔ بڑے لوگوں نے کیا وہاں جانا ہے کہ وہ تو ماحول شناس لوگ ہےں۔مگر عام لوگ تو جائےں گے۔ ان کے وسیع سبزہ زاروں پر اُن کے بچے بھاگےں دوڑیں گے۔اس دنےا کو جو اُن کے لےے ایک آسمانی اور تخیر زدہ سی ہے۔اپنی آنکھوں سے نظارہ کرےں گے۔مےرے جیسی میلہ گھومنی عورت بھی جب عراق گئی تو بغداد جیسے تارےخی شہر کے گرین زون کو دےکھنے کے لےے تڑپ رہی تھی اور چاہتی تھی کہ گرین زو ن کے محل کی وسعتوں اور اس کے شاہانہ رنگ ڈھنگ دےکھے تو سہی۔ دراصل یہ المیہ بہت تکلےف دیتا تھاکہ بےسےویں صدی کے عام سے مسلمانوں کے پاس جب جب اقتدار آیا تو وہ آپے مےں ہی نہ رہے۔افسوس صدام کسی ہائی فائی خاندان کا فرد نہ تھا ایک غریب چرواہے کا بےٹا ۔مگر اُس نے ذاتی محل باڑیوں کا مےنا بازار سجا دےا۔کہےں تکریت جہاں وہ پےدا ہوا تھا۔برتھ ڈے پےلس بنوا رہا تھا۔کہےں رضوانےہ پےلس ۔خدا جھوٹ نہ بلوائے بابل کے قرےبی شہر حلاHiilla کے نزدیک فرات کے کنارے سمیرےن زےگورتZiggurat سٹائل پرنو بخد نصر کے محلات کے کھنڈرات پر بنے اِس دےوپےکر محل کو دےکھ کر مےری آنکھےں ایک بار پھر پھٹی تھےں۔اس وقت وہاں امرےکی موجےں مار رہے تھے۔کچھ حاصل ہوا‘ مےںنے بے اختےار اپنے آپ سے کہا؟امرےکی جب اپنے ٹےنکوں کے ساتھ ان محلوں مےں داخل ہوئے تھے اُس کی شان و شوکت دےکھ کرگنگ رہ گئے تھے۔
”گرین زون تواتنا بڑا ہے، اتنا پھےلا ہوا ہے کہ اندر شٹل سروس چلتی ہے۔وہ کمرے جن مےں کِسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی وہ عام امرےکیوں کے بوٹوں نے روند ڈالے۔پاکستان وزےر اعظم ہاﺅس بھی دےکھنے سے تعلق ہے۔وقت بھی کتنا ظالم ہے چےونٹی کی طرح مسل دیتا ہے۔بس رہے نام اللہ کا۔
ہاں مگر اِن سب کے ساتھ ساتھ مگر اس اتنی بڑی تلخ حقیقت کا ایک روشن پہلو بھی مےرے سامنے پےٹرز برگ روس کی سیاحت کے دوران سامنے آیا جو یقےنا غور طلب ہے۔جب مےںاےکڑوں مےں پھےلے پےٹر ہاف کی سیر کرتی تھی۔ اور اس کے تحیر اور سحر میں گُم تھی۔یہاں اتفاقاً میری ملاقات میخائل وےزاالیوچ سے ہوئی جو زاروں کا قرےبی رشتہ دار تھا۔جس کے بہت سے سال مشرق وسطیٰ مےں گزرے ،کراچی بھی سالوں رہا۔انگرےزی ،اردو کی کےا بات وہ فارسی اور عربی بھی بول لیتا تھا۔ اُس سے باتےں کرتے ہوئے مےں احمقوں کی طرح بول پڑی۔دراصل مےرا اشارہ پےٹر ہاف محل کے شاہانہ وسعتوں اور رنگےنیوں بارے تھا۔
”یہ شبستان ِحرم، یہ عشرت گاہیں، ظلم وجبر چیخوں اور کراہوںپر اُٹھانیں اِن کی۔ کیا بولوں؟ کیا نہ بولوں ۔“
زبردست قہقہہ گونجا تھا وہاں اُس کا۔” بہُت خوب خدا کے لئے اِس خود ساختہ قسم کی مظلومیت کو اتنا حیران کن رنگ مت دیجیئے۔زار کھا پی گئے پھُولوں کی سیج پر سوئے یا کانٹوں کے بستر وں پر ۔ظلم و ستم کےے ۔لوگوں کے خون پسینوں پر محل باڑےاں بنائےں ۔بات سادہ سی ہے کہ جن پر ظلم کئے۔ اُن کی ہی آل اولادوں کے لئے روزی کا سامان چھوڑ گئے کہ جو کچھ بناےا ملک مےں تو بناےا۔ باہر تو نہےں لے کر گئے۔ اُن کی اپنی نسلیں توذبح ہو گئیں، سان پر چڑھ گئیں یا بھاگ بھگا گئیں۔ ذرا اندازہ تو لگائیے اِن عشرت کدوں کاجن میں سے بُہت سے میوزیم بنے ہوئے ہیں۔ جہاں چپّے چپّے پر موجود نچلے متوسط طبقے کی اُدھیڑعُمر، بوڑھی، جوان، دیہاتی، شہری عورتیں اور مرد رزق روٹی کماتے ہیں۔آٹھ دس ہزار روبل پر نوکرےاں کرتے ہےں۔ حکومتی خزانوں میں دھڑا دھڑ روبل جمع ہورہے ہےں۔عقل آ گئی ہے انہیں۔ کھول رہے ہیں دُنیا پر اپنے دروازے۔ کچھ محل ٹریننگ سینٹرز میں تبدیل ہو گئے ہیں جہاں عام آدمی کے بچے کی کِسی نہ کِسی شعبے میں تربیّت ہوتی ہے کہیں لائبریریاں بن کر علم کے قیمتی اثاثوں کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔
اور آپ بھی دل پر ہاتھ رکھ کر کہئیے کہ یہ محل مینارے نہ ہوتے توآتے یہاں۔چجھو کے چوبارے کے لئے کون پینڈے مارتا ہے۔ وہ تو ماڑا موٹا آپ کا بھی اپنا ہوگا۔“
میں تو سچی با ت ہے۔ دل کھول کر ہنسی تھی۔یہ رُخ تو مانو‘ جیسے آنکھ اوجھل دماغ اوجھل تھا۔
(کالم نگار معروف سفرنگار اورناول نگار ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved