تازہ تر ین

بھیک نہیں ڈیم فنڈ

صباحت علی خان….خاص مضمون
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ڈیم کی تعمیر پر بھیک مانگنے کا کہنے والوں کو شرم آنی چاہیئے، اور یہ کہ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنا بھیک نہیں۔ ہم چیف جسٹس صاحب کے اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں کیونکہ قومی جذبے کے تحت ملکی مفاد اور عوامی بھلائی کے لئے کوئی کام کرنا بھیک نہیں نیکی کہلاتا ہے۔اوروہ بھی ایک ایسا شخص جس کا کام انصاف کرنا ہے تو اگر وہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر کسی منصوبے پر کام کر رہا ہے تو سیاستدانوں کو اسکی مکمل حما یت کرنی چاہیئے جبکہ یہ کام سابقہ حکومتوں کا تھا جسے انہوں نے سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے نہیں کیا‘اپنی اپنی کرسی کی حفاظت کے لئے عوامی مفادات کے کاموں کو پس پشت ڈالتے رہے۔آج جب ملک کے سب سے بڑے انصاف کے ادارے نے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کا بیڑا اٹھا یا ہے ، جسے کئی آمر بھی حل نہ کر سکے تو بجائے اسکے کہ وزیراعظم اور چیف جسٹس کے اس فلاحی منصوبے کا ساتھ دیا جائے اور اگر کچھ دے نہیں سکتے تو کم از کم مخالفت بھی نہ کی جائے۔لیکن یہاں کچھ ناکام سیاستدان اسے ”بھیک“ قرار دے رہے ہیںتو یہ انکی مخالفت برائے مخالفت کے سوا کچھ نہیں۔
خبریں گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایگزیکٹو جناب ضیا شاہد بھی عرصہ دراز سے پاکستان میں پانی کے مسائل کو حل کروانے کے لئے انتھک محنت کر رہے ہیں،وہ سیمینارز اور پروگرامز کے ذریعے حکومت کی توجہ اس طرف دلاتے رہتے ہیں۔ ان کی کاوشیں بے لوث اور گراںقدر ہیں، جن کا جلد ہی ثمرملنے والا ہے۔ ویسے تو شریف خاندان نے مختلف اوقات میںاس ملک پر بتیس سال حکمرانی کی ہے اور کھربوں کی جائیدادیں بنائی ہیں، اسلئے ان کو کو بھی ڈیم بنانے کی اس مہم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔کیونکہ یہ پاکستان کی بقاءکا مسئلہ ہے کوئی سیاسی ایشو نہیں۔اس وقت پاکستان کا بچہ بچہ اپنی بساط کے مطابق اس فنڈ میں پیسہ جمع کروا رہا ہے، سرکاری ملازمین سے لے کرعسکری اور عدالتی اہلکار بھی اس نیک کام میںاپنا فرض سمجھ کر بڑھ چڑھ کرحصہ لے رہے ہیںکیونکہ دیا میربھاشا ڈیم بننے سے بھارت کی آبی جارحیت سے نجات ملے گی‘کسانوں کو اپنے حصے کا پانی ملے گا، بجلی کی وافر پیداوار ہو سکے گی، پانی ذخیرہ کرنے سے پانی سمندر میں پھینکنے اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکے گا۔اور توانائی کے منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔لاکھوں بےروز گاروں کو روز گار ملے گا۔توانائی بڑھے گی تو ملک معاشی طور پر خوشحال ہو گا اور اپنے پاﺅں پر کھڑا ہو گا‘ قرضوں سے نجات ملے گی۔اس سلسلے میں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے جو فیصلہ کیا گیا ہے وہ بھی خوش آئند ہے، اس میں اوورسیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ کو دیا میر بھاشا ڈیم کے ساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اس میں ڈیم کی تعمیر کے دورانیہ پر محیط بانڈزو سرٹیفیکیٹ جاری کئے جائیں گے۔ اسکے علاوہ شریعہ بانڈ سمیت مزیدتین بچت اسکیمیں بھی متعارف کرائی جائیں گی، حکومت کی اس کاوش کے تحت جو کہ ڈیم کی تعمیر کے لئے متعارف کرائی گئی ہے، اوورسیز پاکستانیز سیونگ سرٹیفکیٹ و بانڈز کی مدت 5 سے 7سال رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ان بانڈز کو مقررہ معیاد تک ناقابل کیش رکھنے کی کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ جتنے عرصے کے لیئے یہ بانڈز و سرٹیفکیٹ جاری کئے جائیں اس عرصہ تک انہیں کیش نہیں کرایا جا سکتا تاکہ ڈیموں کی تعمیر کے لئے فنڈز حاصل ہو جائیںاور حکومت پر مالی بوجھ اور دباﺅ بھی کم سے کم پڑے تا ہم ان بانڈز پر منافع بھی فراہم کیا جائے گا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سلسلے میں ابھی مزید آگاہی کی ضرورت ہے عام لوگوں میں اس بارے شعور اجاگر کیا جائے، اس ضمن میں سیمینارز کرائے جائیں ، ہفتے میں ایک بار ڈیم آگاہی مہم کے لئے واک کا اہتمام کیا جائے۔پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیااس سلسلے میں عوام میں شعور بیدار کریں پانی کی اہمیت کو اجاگر کریںسکولوں کالجوں میں لیکچر دیئے جائیں۔یونین کونسلز کی سطح پر ہفتے میں ایک بار کھلی جگہ پر سیمینار کرایا جائے اور لوگوں کو تیار کیا جائے کہ وہ اس ڈیم فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور دنیا کو بتا دیں کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائیندہ قوم ہیں، ہم سب کی ہے جان پاکستان، پاکستان زندہ باد۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved