تازہ تر ین

سندھ اور کالا باغ ڈیم….!

مختار عاقل …. دوٹوک
سندھ میں اقتدار کے چاروں اسٹیک ہولڈر ایک دوسرے پر گہری نظر جمائے کسی غلطی کے منتظر ہیں ‘ پیپلز پارٹی کو صوبے میں تیسری بار حکومت ملی ہے ۔ سندھ کے عوام نے ماضی کی غلطیوں اور کرپشن کے پہاڑ جیسے ریکارڈز ہونے کے باوجود پی پی پی کو ووٹ دیئے اور سید مراد علی شاہ دوسری بار سندھ کے وزیر اعلیٰ بن گئے ۔ کہا جاتا ہے کہ اگر مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیر اعظم جولائی 2018ءمیں لندن سے واپس آکر انتخابی مہم میں شریک نہ ہوتے تو سندھ کا اقتدار تبدیل ہو جاتا ۔ اس مقصد کے لیے جی ڈی اے ‘ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس ‘ کی تشکیل بھی عمل آئی تھی لیکن نواز شریف کی انتخابی مہم میں شمولیت کے بعد سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھایا ۔ وہ پہلی ترجیح بن گئی اور آصف علی زرداری ‘ بلاول بھٹو زرداری ‘ زرداری کی بہنیں فریال تالپور اور عذرا پیچوہو سمیت کئی رشتہ دار بھی اسمبلیوں میں پہنچ گئے ۔ ملک گیر سطح پر انتخابی نتائج توقع کے مطابق تحریک انصاف اور عمران خان کے حق میں آگئے ۔میاں نواز شریف ‘ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن صفدر اڈیالہ جیل پہنچ گئے ۔ عمران خان مملکت خداداد پاکستان کے نہ صرف خود وزیر اعظم بن گئے بلکہ اپنے دیرینہ ساتھی ڈاکٹر عارف علوی کو پاکستان کا صدر منتخب کرالیا ۔ اقتدار کی منتقلی اور تبدیلی کا عمل مکمل ہوا تو آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کے گرد نیب اور ایف آئی اے کا گھیرا پھر تنگ ہو گیا۔ جعلی بینک اکاﺅنٹس کیس میں جے آئی ٹی بن چکی ہے جس میں آئی ایس آئی ‘ آئی بی اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی شامل ہیں ۔ 35ارب روپے کا سوال ہے کہ وہ بینک اکاﺅنٹس میں کہاں سے اور کیسے آئے ؟ کرپشن کے دو بڑے مقدمات ڈاکٹر عاصم حسین اور سابق صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن کے خلاف بھی ہیں ۔ ڈالر گرل ایان علی تو موقع پاکر بیرون ملک نکل گئیں لیکن سندھ کے کرپٹ افسروں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے جعلی بینک اکاﺅنٹس کی چھان بین کے لیے بننے والی جے آئی ٹی نے کراچی میں کام شروع کردیا ہے ایف آئی اے نے کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں اپنا نیا شاندار دفتر قائم کیا ہے ۔ جس کے حصے میں جے آئی ٹی کا دفتر قائم ہوا ہے آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور کو اس دفتر میں طلب کیا گیا ہے جہاں وہ منی لانڈرنگ اور جعلی بینک اکاﺅنٹس کے سلسلے میں جے آئی ٹی کے رو برو اپنے بیان قلمبند کرائیں گے ۔ نواز شریف خاندان کے افراد بھی جے آئی ٹی کے پل صراط سے گزر کر جیل میں پہنچے ۔ کراچی میں جے آئی ٹی کے ارکان کی خصوصی حفاظت کی جارہی ہے اخراجات کے لیے دو کروڑ روپے کا فنڈ بھی جاری کیا جارہا ہے اس مقدمہ میں نامزد ملزمان میں آصف علی زرداری کے فرنٹ مین انور مجید اور ان کا بیٹا بھی شامل ہیں جو فی الوقت جیل میں ہیں اور جے آئی ٹی میں پیش ہوں گے ۔ جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیے ضابطہ فوجداری ‘ نیب آرڈیننس ‘ ایف آئی اے ایکٹ اور اینٹی کرپشن قوانین کے تحت تمام اختیارات حاصل ہوں گے ۔ سپریم کورٹ نے تمام اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ جے آئی ٹی سے تعاون کریں ‘ ماضی میں نواز شریف خاندان کے خلاف بھی ایسی ہی جے آئی ٹی بن چکی ہے جس نے پاناما کیس کی تفتیش کی تھی ۔ وفاقی حکومت کے لیے ایک دشواری یہ ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے جس کی قیادت آصف علی زرداری اور ان کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں میں ہے اور سندھ کی بیوروکریسی فریال تالپور کو جوابدہ ہے ۔ وفاق کے لیے ایک اہم مسئلہ سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈنگ کا ہے ۔ سندھ حکومت کی کوشش اور خواہش ہے کہ وفاق کا فنڈ صوبائی حکومت کے ذریعے خرچ ہو اور وہی ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کرے ۔ سابق گورنر سندھ محمد زبیر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان آخر تک یہ چپقلش جاری رہی ۔ تیسری اسٹیک ہولڈر جماعت ایم کیو ایم ہے جس کے سندھ اسمبلی میں 17ارکان ہیں کراچی اور حیدر آباد کی میئر شپ ایم کیو ایم کے پاس ہے اس کا شکوہ ہے کہ صوبائی حکومت اسے فنڈ فراہم نہیں کرتی اور اختیارات بھی سلب کررکھے ہیں ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سندھ میں وفاقی ‘ صوبائی اور مقامی حکومتیں تینوں ایک دوسرے سے اختلافات رکھتی ہیں جس سے صوبے کی ترقی متاثر ہورہی ہے ۔ اگرچہ یہی صورتحال بر قرار رہتی ہے تو تینوں جماعتوں میں اختلافات مزید شدت اختیار کرسکتے ہیں ۔ 1970ءکے عام انتخابات میں سندھ ‘ پنجاب سے پیپلز پارٹی اور صوبہ سرحد و بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی ( نیپ) اور جمعیت علماءاسلام کامیاب ہوئی تھیں ۔ پی پی پی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے بطور وزیر اعظم انتخاب اور 1973ءکے آئین کی تشکیل تک صوبہ بلوچستان اور سرحد کی حکومتوں کو نہیں چھیڑا گیا لیکن دونوں کام ہوتے ہی دو صوبوں کی حکومتیں ختم کرکے وہاں گورنر راج نافذ کردیا گیا ۔ نواب اکبر بگٹی کے حصے میں بلوچستان کی گورنری آئی ۔ نیپ پر ملک دشمنی کا الزام لگا کر پابندی لگا دی گئی اس کے قائدین ولی خان ‘ عطاءاللہ مینگل ‘ غوث بخش بزنجو اور خیر بخش مری سمیت52افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بنا اور حیدر آباد جیل میں جنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءتک چلتا رہا۔شایدتاریخ ایک بار پھر خود کو دہرانے جارہی ہے پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت کا شکار ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں مزید ڈیم نہ بنائے گئے تو 2025ءتک ملک خشک سالی اور قحط کا شکار ہو جائے گا اس سنگین مسئلہ سے نمٹنے کے لئے چیف جسٹس پاکستان جناب ثاقب نثار نے ”ڈیم بناﺅ ‘ پاکستان بچاﺅ“ مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اس کے لیے وہ پورے ملک سے چندہ بھی جمع کررہے ہیں ۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ کہہ دیا ہے کہ کالا باغ ڈیم بھی ضرور بنے گا ۔ انہوں نے ڈیم مخالفین کو وارننگ دی ہے کہ آئین کے آرٹیکل 6کے تحت بغاوت کا مقدمہ بھی بن سکے گا ۔ وہ اس سلسلہ میں جائزہ لے رہے ہیں ۔ سندھ کے قوم پرستوں اور پیپلز پارٹی کی سیاست کالا باغ ڈیم کی مخالفت کے گرد گردش کرتی رہی ہے ۔اگر بغاوت کا کوئی آرڈیننس آتا ہے تو اس کے بعد پیپلز پارٹی کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرے گی تو اس کی قیادت کو مقدمہ کا سامنا ہوسکتا ہے جس طرح آصف زرداری کے سسر اور بلاول کے نانا ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے مخالفین کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بناکر اسے ”حیدر آباد سازش کیس“ کا نام دیا تھا۔
کالا باغ ڈیم مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ڈیم بنا تو سندھ بنجر ہو جائے گا ۔ اس تصور کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ سندھ تو حکمرانوں کی نا اہلی کے سبب کالا باغ ڈیم کے بغیر ہی بنجر ہورہا ہے ۔ ان دنوں تھر کے علاقے میں شدید خشک سالی کے سبب لاکھوں تھری عوام اپنے خاندانوں اور مویشیوں سمیت نقل مکانی کررہے ہیں اور قحط کا شکار ہیں ۔ سندھ کے عوام کو بھوک و افلاس ‘ بیروزگاری اور قحط سالی کالا باغ ڈیم کی وجہ نہیں بلکہ اپنے ہی حکمرانوں اور بیوروکریسی کی نا اہلی اور کرپشن کے باعث ملی ہے ۔ ڈیم تو توانائی زرخیزی اور خوشحالی و ترقی کا ذریعہ ہوتے ہیں ۔ بھارت میں 5ہزار ڈیم اور چین میں 84ہزار ڈیم بن چکے ہیں اور ان ملکوں میں زرعی پیداوار بڑھا رہے ہیں ‘ توانائی کی ضروریات پوری کررہے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈیم سازی کے معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دی جائے ۔ وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور ان سے استفادہ کررہے ہیں ۔ پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کے پاس سندھ اسمبلی کی 39نشستیں ہیں جو مجموعی نشستوں کی تقریباً ایک تہائی ہیں ۔ وفاق نے اگر سندھ میں ڈیم کی مخالفت پر بغاوت کے مقدمات بنائے ‘ گرفتاریاں ہوئیں اور سندھ میں گورنر راج کا آپشن استعمال کیا تو یہ 1974ءکی تاریخ کو دہرانا ہوگا ۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved