تازہ تر ین

کوئی اور راستہ ڈھونڈیں

توصیف احمد خان

محترم وزیراعظم کا فرمان ہے کہ ان افغانیوں اور بنگالیوں کے چار لاکھ بچوں کو پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ دیئے جائیں گے جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی ہے ، دوسرے لفظوں میں ہم انہیں پاکستانی شہریت دے رہے ہیں ، یہ لوگ اگرچہ اب بچے نہیںان میں سے اکثریت بھرپور جوان ہوچکی ہوگی بلکہ اب تو ان کے بچے بھی جوانی میں قدم رکھ رہے ہونگے، اب صورتحال یہ ہوگی کہ ان کے باپ دادا غیر ملکی شمار ہونگے جبکہ بچوں پر پاکستان کا ٹھپا لگ جائیگا، یعنی ایک ہی خاندان، ایک ہی گھر اور ایک ہی خون سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ تو غیر ملکی ہونگے جبکہ اسی چھت کے نیچے رہنے والے ان کے بچے پاکستانی ہونگے، جن کو قانون کا تحفظ حاصل ہو جائیگا ، ان کے والدین غیر ملکی اور غیر قانونی شہری قرار پاگئے ہیں، قرار پا کیا گئے وہ تو اول و آخر غیر ملکی ہیں۔
افغانیوں کے معاملے میں تو کوئی ابہام نہیں مگر بنگالیوں کا معاملہ قدرے مختلف ہے، یہ دو قسم کے لوگ ہیں، ایک بہاری اور ایک بنگالی…بنگالی تو سیدھے سیدھے غیر ملکی ہیں خواہ ان کا تعلق بنگلہ دیش سے ہو یا مغربی بنگال سے جوکہ بھارت کا صوبہ ہے ، ویسے تو بنگلہ دیش کا معاملہ بھی مشکوک ہی ہے مگر چلیں ہم اس کا ذکر نہیں کرتے۔
جنہوں نے کبھی خود کو بنگلہ دیشی یا غیر ملکی تسلیم نہیں کیا انکا ابتداءسے ہی موقف ہے کہ وہ پاکستان کے شہری ہیں اور رہیں گے، انہوں نے طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کی ہیں، ظلم و تشدد سہا ہے مگر اپنا ذہن تبدیل نہیں کیا، بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک کے دوران سب سے زیادہ وحشیانہ سلوک انہی کے ساتھ کیا گیا کیونکہ یہ اس تحریک کا حصہ بننے کیلئے تیار نہیں تھے ، کیونکہ وہ خود کو اول و آخر پاکستانی سمجھتے ہیں، بعد میں بھی ان پر ابتلا کا یہ دور ٹلا نہیں، انہیں شہروں اور آبادیوں سے نکال کر کیمپوں میں منتقل کردیاگیا جہاں ان کی تیسری نسل بھی اب جوانی میں قدم رکھ رہی ہے مگر بدحالی کی زندگی گذارنے کے باوجود وہ پاکستان کا نام لینا نہیں چھوڑتے۔
ہم نے یعنی پاکستان نے شروع میں انکے معاملے میں کچھ دلچسپی لی اور کچھ کو پاکستان میں لاکر بسایا مگر بعد میں ہم نے بھی انہیں فراموش کردیا اور انکا کوئی پرسان حال نہیں رہا… ان لوگوں کو پاکستانی پاسپورٹ ، پاکستانی شناختی کارڈ اور پاکستانی شہریت دینا ان پر کوئی احسان نہیں کہ یہ تو ہیں ہی پیدائشی پاکستانی …یہ ہم سے بڑے محب وطن اور پاکستانی ہیں کہ انہوں نے پاکستان کے بدترین دشمنوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی پاکستان کا دم بھرنا نہیں چھوڑا…مشرقی پاکستانی کی علیحدگی کی تحریک کے دوران ان پر ہونے والے مظالم کی ایک جھلک بھی دیکھ لی جائے تو آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں …جس ماں کے سامنے اس کے بچے یا بچوں کو نیزے میں پروکر اس کے بہتے خون اور عرش الٰہی تک کو ہلا دینے والی چیخوں کیساتھ لہرایا گیا ہو ، وہ ماں تو جیتے جی مرگئی ہوگی، صرف یہی نہیں ، کون کون سا ظلم ہے جس کا ہم یہاں ذکر کریں۔
چشم فلک نے دو مواقعے دیکھے ہیں جب پاکستان کیلئے قربانیاں دی گئیں، ایک موقعہ 1947میں آیا جب مسلمانوں کی نعشوں سے بھری ہوئی ٹرینیں ہندوستان سے پاکستان پہنچیں اور دوسرا موقع وہ تھا جب 71´´/ 1970 ءمیں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک چل رہی تھی ، اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہم آپ کو اوپر دکھا چکے ہیں ، جن لوگوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں وہ بہاری کہلاتے ہیں اور انہوں نے کبھی خود کو بنگالی تسلیم نہیں کیا …ان لوگوں کے تو دلوں پر پاکستان کی مہر ثبت ہے، اگر ان کے بچوں کو پاکستانی شہریت دینے کی بات ہے تو یہ ہم ان پر ایک اور ظلم کرینگے کیونکہ یہ تو ہیں ہی اول و آخر پاکستانی۔
اب رہ گئے بنگالی اور افغانی…بنگالی یہاں روزی روٹی کی تلاش میں آتے رہے ہیں ، ماضی میں بنگلہ دیش کے مقابلے میں ان کیلئے پاکستان خصوصاً کراچی کسی طرح بھی دوبئی سے کم نہیں تھا، وہ یہاں آتے گئے اور بستے گئے ، کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں تھا ، افغانیوں کا بھی ایسا ہی معاملہ ہے ، قریباً چار عشرے قبل جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تو وہاں سے پناہ گزینوں کے ایک ریلے نے پاکستان کا رخ کرلیا، ہم نے انہیں انسانی ہمدردی اور اسلامی بھائی چارے کے تحت پناہ دی، ان کی تعداد 35 / 30 لاکھ بلکہ اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے ، ان میں سے بہت سے مہاجر کیمپوں میں بس گئے، کچھ نے شہروں اور دیہات کا رخ کرلیا اور بہت سے چوری چھپے کراچی میں جا بسے، کچھ نے ملازمتیں کرلیں اور جن کے پاس وسائل تھے وہ اپنے اپنے کاروبار میں مگن ہوگئے ، یہی وہ بنگالی اور افغانی ہیں جن کے بچے پاکستان میں پیدا ہوئے اور اب انہی بچوں کو پاکستانی شہریت دینے کی بات کی جارہی ہے …کوئی اور نہیں یہ بات پاکستان کا چیف ایگزیکٹو کررہاہے، جہاں بہت سے دوسرے کام سوچے سمجھے بغیر کئے جارہے ہیں وہاں غالباً ا س اعلان کے نفع و نقصان پر غور نہیں کیا گیا، ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس قسم کا اعلان بلا سوچے سمجھے کردیاگیا ہے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جن لوگوں نے وزیراعظم کو اس قسم کا مشورہ دیا ہے ان کے ذہن میں غالباً کوئی اور ہی کھچڑی پک رہی ہوگی…گذشتہ یعنی ن لیگی حکومت میں ہم محمود خان اچکزئی اور اسفندر یار ولی قسم کے لوگوں کی مثال پیش کرسکتے ہیں ، اب کون سے لوگ مصروف کار ہیں …؟ ان کے نام اور کارنامے بھی جلد سامنے آجائیں گے۔
دیکھا جائے تو محض وزیراعظم کے کہہ دینے یا ایک ایگزیکٹو آرڈر سے ان لوگوں کو شہریت نہیں دی جاسکتی ، اس کیلئے باقاعدہ قانون سازی کرنا پڑیگی اور قانون سازی محض انہی چار لاکھ افراد کیلئے نہیں ہوگی اس کیلئے آپ کو پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر غیر ملکی کے بچوں کیلئے اپنی شہریت کے دروازے کھولنے پڑیں گے…کیا آپ ایسا کرسکتے ہیں اور کیا آپ کو ایسا کرنے دیا جائیگا…؟ ہاں! ہمارے سفارتخانے اس قسم کی غیر قانونی حرکتیں بہت کر چکے ہیں اور اب بھی کرتے رہتے ہیں، حتیٰ کہ ضیاءالحق کے دور میں جن لوگوں کو مشروط طور پر پاسپورٹ دیئے گئے تھے ان میں سے بغیر کسی قانونی جواز کے بہت سے لوگوں کو شرائط سے مستثنیٰ قرا ر دیا جا چکا ہے، حالانکہ اس قسم کے لوگوں کے دل پاکستان میں نہیں اپنے ہی ملک میں اٹکے رہتے ہیں، ان میں سے کم ہی ہونگے جو پاکستان کا بھی بھلا سوچ پائیں گے۔
دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جہاں پیدا ہونے والے غیر ملکی بچوں کو وہاں کی شہریت دیدی جاتی ہے لیکن ان میں سے بہت سے ممالک اب پابندیاں عائد کررہے ہیں، بعض معاملات میں شرائط بھی عائد کی جارہی ہیں اور انہی شرائط کے تحت کئی لوگوں کی شہریت منسوخ بھی کردی گئی ہے …برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں شہریت دینے کی اجازت تھی مگر اب وہاں بھی پابندیاں لگادی گئی ہیں، دوسری طرف ہم ہیں کہ دل کھلا کرنے کی طرف جارہے ہیں جس کے بعد معاملہ ان چار لاکھ لوگوں تک محدود نہیں رہے گا ، اس ملک میں لاکھوں دوسرے افغانی بھی ہیں، برما کے ستائے ہوئے بہت سے مسلمان یہیں پناہ لئے ہوئے ہیں، عراق اور بہت سے دوسرے ممالک کے لوگ بھی ہیں، آپ کن کن کو شہریت دینگے۔
نہیں…! وزیراعظم صاحب نہیں …! یہ راستہ ٹھیک نہیں، آپ کوئی اور راستہ ڈھونڈیں جس سے معاشرے میں بڑھتے ہوئے جرائم پر بھی قابوپایاجاسکے، اور ان لوگوں کا مسئلہ بھی حل ہو جائے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved