تازہ تر ین

امریکی وزیرخارجہ اورنیاپاکستان

خدا یار خان چنڑ …. بہاولپور سے
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میںجوبھی پارٹی حکومت میں ہوتی تھی مختلف ادوارمیں جب بھی کوئی گوراوزیرمشیرپاکستان کے دورے پرآتاتھاتواس گورے کوخوش کرنے کے لئے پوری حکومت کولالے پڑے ہوئے ہوتے تھے اس گورے کوپروٹوکول کس طرح دیناہے ‘رہائش کیسی ہونی چاہئے‘ کھانے کاخاص اہتمام کیاجاتاتھا۔جب وہ گوراپاکستان کی سرزمین پر اترتا تھاتوپاکستان حکومت کے آدھے وزیرتوگل دستے لے کر اس کے استقبال کے لئے کھڑے ہوتے تھے پورے شان وشوکت کے ساتھ شہزادوں کی طرح ان کی خاطرتواضع کی جاتی تھی ان کی ناراضگی کاخاص خیال رکھاجاتاتھاکہیں واپس جاکران کی شکایت نہ کردے۔ سابقہ پاکستانی وزیراعظم جتنے بھی گزرے ہیں ان کی پہلی ترجیح یہی ہوتی تھی کہ امریکہ کوخوش رکھنا اور ان سے ملک سے ہٹ کربھی ذاتی تعلقات بنانے کے لئے ان کی بے حدخوشامدکرنا۔جب کوئی گوراپاکستان کادورہ کرکے واپس جاتاتھاتوپاکستانی وزیراعظم کی طرف سے اسے بڑے قیمتی تحائف سے نوازاجاتاتھاتاکہ امریکی صدر کے منظورنظرہوسکیں پاکستانی حکومت گوروں کے سامنے اپنے اداروں کے خلاف باتیں کرکے امریکہ کوخوش کرتے تھے۔امریکہ پاکستان کے تمام اداروں کوایک پیج پرنہیں دیکھنا چاہتا تھا اوروہ کئی سالوں سے اس شرارت میں کامیاب بھی رہاہے ۔پاکستان دشمن قوتوں کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ پاکستان میں انارکی پھیلاکرخانہ جنگی کروائے عوام اوراداروں کے درمیان بغاوت پیدا کرنا ‘پاکستانی حکومت سے اپنے اداروں کے خلاف بیان بازی کروانا۔سابقہ ادوار میں حکومتوں نے جوحشراپنے اداروں کاکیاہے وہ سب کے سامنے ہے سب کے مکروہ چہرے کھل کرپاکستانی قوم کے سامنے آگئے تھے تمام اداروں کاستیاناس کرنے میں کوئی کسرنہ چھوڑی گئی ۔اب حال ہی میں امریکہ کے وزیرخارجہ پاکستان کے دورے پرآئےجب وہ پاکستان کی سرزمین پراترے تو پہلے کی طرح وہ شان وشوکت والاپروٹوکول نہیں تھاروٹین میں جس طرح ہمارے وزیرباہرکے ملکوں کے دورے پرجاتے ہیں ایک نارمل طریقہ سے ویلکم کیاجاتاتھا اسی طرح ان کے ساتھ ہوا پہلی تبدیلی توامریکی وزیرخارجہ کوائرپورٹ پرہی نظرآگئی تھی ان کویہ محسوس ہوگیاتھا کہ شائدیہ پہلے والا پاکستان نہیں ہے ۔جب امریکہ کے وزیرخارجہ کی ملاقات پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ہوئی توہرپاکستانی کاسرفخرسرسے بلندہوگیا پہلے پاکستانی وزیراعظم اورامریکہ کے وزیرخارجہ کوآمنے سامنے برابرکی دوکرسیوں پربٹھاکرملاقات کروائی جاتی تھی سابقہ وزیراعظم کو امریکی وزیرسے ملاقات کے لئے مکمل تیاری کروائی جاتی تھی کہ وزیراعظم کے کپڑے کیسے ہونے چاہئیں اوراس کے اوپرویسکوٹ کیسی ہونی چاہئے اوران کے ساتھ گفتگوکی تیاری بھی کروائی جاتی تھی ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بارایساہواکہ جب پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی تووزیراعظم پاکستان کی ملاقات کے لئے امریکی وزیرخارجہ اوران کاوفدپہلے سے انتظارکررہاتھاجب پاکستان کے وزیراعظم آئے توپاکستانی لباس شلوارکرتامیں تھے۔ وہ معمول کے مطابق جس طرح پاکستانی وزراءکے ساتھ ملتے ہیںوہی رویہ انہوں نے امریکی وزیرخارجہ کے ساتھ اپنایا ۔عمران خان کے اوپرایک فیصد کوئی اعصابی دباﺅ نہیں تھا کہ وہ امریکہ کے وزیرخارجہ سے ملاقات کررہے ہیں ۔ وہ اس طرح آئے جیسے کوئی مصروف ترین شخص جس کاایک ایک منٹ قیمتی ہو امریکی وفدسے ہاتھ ملایا اورفوراًگفتگو شروع کردی اپنی گفتگو مکمل کرتے ہی اٹھ کراپنے کام پرچلے گئے نہ توان سے کوئی ذاتی تعلقات بنانے کی کوشش کی گئی نہ کوئی خوشامدی الفاظوں سے نوازاگیا۔پہلی بارایساہواکہ درمیان میں پاکستانی وزیراعظم کی کرسی تھی اوردائیں جانب پاکستانی بیٹھے تھے اوربائیں جانب امریکی وفدبیٹھاتھا امریکہ کے وزیرخارجہ کو پہلی بار ایسا معلوم ہواکہ واقعی کسی غیرت مند اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیراعطم سے ملاقات ہوئی ہے ورنہ پہلے توپاکستانی وزیراعظم کو گاجرمولی سمجھاجاتاتھا۔ سب سے خوشی کی بات یہ کہ پہلی بارایساہواہے کہ ہماری عوام اورحکومت ،عدلیہ اور افواج پاکستان ایک ہی پیج پرکام کررہی ہےں جب امریکی وزیرخارجہ کی پاکستان کے وزیراعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی توافواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمرجاویدباجوہ بھی ساتھ تھے ۔ پاکستانی حکومت اورتمام اداروں کوایک پیج پردیکھ کرامریکہ اورپاکستان دشمن قوتوں کوبڑی تکلیف ہورہی ہے کیونکہ پاکستانی حکومت اورتمام اداروں کاایک پیج پرکام کرناپاکستان کے لئے بڑی خوش آئندہ بات ہے ۔ امریکی وزیرخارجہ نے جاتے ہوئے کہاکہ جنرل قمرباجوہ نے واضح طورپرانہیں کہاکہ جوحکومت پاکستان کی ترجیحات ہیں میری ترجیحات بھی وہی ہیں ۔امریکہ کے لئے یہ کوئی اچھاپیغام نہیں ہے۔ پہلی بارایسا نظرآرہا ہے کہ پاکستانی قوم اورپاکستان کے تمام اداروں کواپنے وزیراعظم پرفخرہے کیونکہ پہلے جتنے بھی وزیراعظم پاکستان تھے وہ گوروں سے یا بہت بڑے لوگوں سے مرعوب ہوجاتے تھے ۔عمران خان کاتووزیراعظم بننے سے پہلے ہی دنیا کے تمام بڑے لوگوں کے ساتھ ملناملانارہتاتھا گوروں سے ملنا ان کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی جو ان کے لئے کوئی خاص اہتمام کیاجاتاعمران خان نے بڑی خوداعتمادی اوربامقصدملاقات کرکے پاکستانی قوم کاسرفخرسے سرکیاہے۔ جوامریکہ کاپوری دنیاپرایک ہوّابناہواہے آج امریکہ کو پاکستان میں اپنی حیثیت کاپتہ چل گیاہوگا کہ اب وہ پہلے والاپاکستان نہیں رہااب برابری کی سطح پرتعلقات رکھیں گے تو پاکستان کے ساتھ چل سکیں گے ورنہ پاکستان اب نیچے لگنے کے لئے تیارنہیں نہ ہی اب وہ YES BOSSکرنے کے لئے تیارہیں۔امید ہے کہ اب امریکہ کوبھی اپنامزاج بدلناپڑے گا۔ ڈوموروالی باتیں نہیں چلیں گی پاکستان کاواحدوزیراعظم عمران خان ہے جس کی پراپرٹی باہرکے ملک میں نہیں کوئی بنک بیلنس باہرنہیں ہے جس کی وجہ سے عمران خان کوکسیملک کے ساتھ لچک رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اب پاکستان باہر کی دنیاکے ساتھ برابری کی بنیادپرتعلقات رکھے گا۔ اب جوعمران خان کی حکومت آئی ہے پوری دنیاکی نظریں پاکستان پرلگی ہوئی ہیں اب دوسرے ممالک پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات اورسرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں اب پاکستانی قوم وہ ملک سے باہرہوں یاملک کے اندرہوں اپنے وزیراعظم اورپاکستان کے تمام اداروں پرمکمل اعتمادکر رہے ہیں انشااللہ اب پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کرے گا اب پاکستان کی باگ دوڑ مضبوط قیادت کے ہاتھ میں ہے پہلے کوئی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کے لئے تیارنہیں تھا ان کے تحفظات تھے پہلے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنابہت بڑاسک تھا جتنے بھی اوورسیزپاکستانی ہیں انہوں نے اپنا پیسہ باہررکھاہواہے وہ پاکستان میں کاروبارکرنے سے ڈرتے تھے ان کوسابقہ حکومتوں پریقین نہیں تھا اب جب سے عمران خان وزیراعظم بناہے اب اوورسیزپاکستانی ،پاکستان میں کاروبارکرنے کے لئے سوچنے پرمجبورہوگیاہے ویسے بھی پہلے دن سے عمران خان یہی کہ رہاہے تمام اوور سیزپاکستانی ساراپیسہ پاکستان کے بینکوں میں رکھ دیں توہمیں قرضہ لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی اب وزیراعظم عمران خان کو ایسا قانون بنانا چاہئے کہ ہرپاکستانی کاپیسہ صرف پاکستان کے بنکوں میں ہوناچاہئے تاکہ پاکستان کی معیشت تیزی سے بہترہوسکے ۔
(کالم نگارچیئر مین تحریک بحالی صوبہ بہاولپور ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved