تازہ تر ین

جرمنی سے سیکھیں

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
یورپ میں دوسری عالمی جنگ تہتر برس قبل ختم ہوئی تھی۔ اس دوران لاکھوں جرمن موت کے منہ میں چلے گئے، جرمنی کے بڑے بڑے شہر تباہ اور عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی تھیں، زراعت، بجلی، سڑکیں، بندرگاہیں ناقابل استعمال تھیں۔ جرمنی، مشرقی جرمنی اور مغربی جرمنی میں تقسیم ہو چکا تھا۔ جنگ کے بعد جرمنی نے نیا دستور بنایا، انسانیت سے معافی مانگی اور آئندہ جنگ جیسی تباہ کن غلطی نہ دہرانے کا عزم کیا۔ جرمنی نے دوسری عالمی جنگ کے بعد اپنی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیئے جدوجہد کا نہ ختم ہونے والا سفر اپنایا اور یہی انداز اب بھی ہے۔ آج دنیا بھر میں یورپ کی سب سے بڑی معیشت جرمنی کی دھوم ہے۔ ایک ایسی معیشت جو عالمی معاشی بحران کے دوران بھی ترقی کرتی رہی، جس نے روزگار کی نئی آسامیاں بھی فراہم کیں اور ملک کو خسارے سے بھی بچائے رکھا۔معیشت کی ترقی اور کامیابی کا دارومدار معاشی نظم و ضبط پر ہوتا ہے کیونکہ یہی نظم و ضبط معاشی سرگرمیوں کے لیئے ڈھانچہ فراہم کرتا ہے۔ جرمنی میں اس نظم و ضبط کو“ سوشل مارکیٹ اکانومی“ کہا جاتا ہے۔ یہ مارکیٹ سرمایہ داری، سماجی پالیسیوں اور سوشل انشورنس کا مرکب ایک ایسا نظام ہے، جسے اکثر مربوط مارکیٹ اکانومی بھی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کی بنیاد ایک طرف تو سرمایہ دارانہ مقابلے کی دوڑ ہوتی ہے دوسری جانب یہ ریاست کو سماجی پالیسیوں میں بہتری لانے کے لیئے اقدامات کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ جرمنی کی“ سوشل مارکیٹ اکانومی“ کی جڑیں 19 ویں صدی سے ملی ہوئیں ہیں۔“ بسمارک”جنہیں اپنے وقت کا آئرن چانسلر یا چانسلر آہن کہا جاتا تھا، نے سماجی قوانین وضع کیئے تھے جن میں پنشن اور ہیلتھ انشورنس کو شامل کیا گیا تھا۔ ان قوانین کے تحت پنشن اور ہیلتھ انشورنس کی ماہانہ قسط کا نصف حصہ آجر ادا کرتا ہے اور نصف کام کرنے والا۔ یہ اصول دور حاضر کے سماجی قوانین کی بنیاد ہے۔ ان قوانین کو دوسری عالمی جنگ کے بعد خاندانی امور، سماجی امداد اور کئی دیگر شعبوں کی پالیسیوں کا حصہ بنایا گیا اور یہ آج تک رائج ہیں۔ جرمن معیشت کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ یہاں لیبر یونینوں اور آجرین کے مابین ایک شراکت داری یا پارٹنرشپ کا تعلق بھی پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمنی میں بہت کم ہڑتالیں ہوتی ہیں۔ ایک وقت ایسا تھا جب جرمنی میں بے روزگاری کی سطح تشویش ناک حد تک بڑھ گئی تھی۔ تاہم اسی اثناءمیں جرمنی کی روزگار کی منڈی میں ایک معجزہ پیش آیا۔ اچانک 42 ملین افراد کو روزگار میسر ہوا۔ روزگار سے وابستہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد اس سے پہلے جرمن تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ اس کامیابی کا سہرا“ ایجنڈا 2010 کے سر ہے۔
اس ضمن میں ایک نہایت اہم امر کم اجرت کے سیکٹر اور روزگار کی منڈی کی ڈی ریگولیشن اور اسے لچکدار بنانا ہے۔ اس کے سبب ایک طرف تو نئی آسامیاں پیدا ہوئی ہیں دوسری جانب بہت کم اجرت والی جابز پیدا ہوئی ہیں۔ جرمنی میں کوئی بھی حکومت بنائے، اس کی کوشش یہی ہو گی کہ ان اصلاحات کے منفی ضمنی اثرات دور کرے۔ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت ہے، یعنی واجب الادا قرضوں کا بوجھ، جس کے لیئے ہمیں اگلے تین ماہ کے دوران کم از کم اڑھائی ارب ڈالر درکار ہیں۔ آج ہماری معیشت کے لیئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ان قرضوں کو واپس کیسے کریں۔ اگرچہ ملکی معیشت پر یہ ایک کڑا وقت ہے۔ بڑھتا ہوا خسارہ اور زرمبادلہ کے گرتے ذخائر کو سہارا دینا نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہو گا۔ مگر وزیراعظم پر امید ہیں کہ اس مشکل صورتحال سے نکلنے کے راستے موجود ہیں۔ بڑے ملکی ادارے ملکی معیشت کے لیئے سانس کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ ریلوے، پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز اور دوسرے خسارے پر چلنے والے اداروں کو منافع بخش یونٹس میں بدلنا ہو گا۔ یہ کام بھی بلاشبہ نئی حکومت کے لیئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔ نئی حکومت کو متعدد اہم مسائل کا سامنا ہے مگر ان میں دوست ممالک سے دوستانہ تعلقات کے علاوہ اہم ترین مسئلہ قومی سلامتی ہے، کیونکہ ملک جن حالات سے گزر رہا ہے انہیں تاریخ کا حساس ترین اور نازک دور قرار دیا جا سکتا ہے۔ پاک چین تعلقات اور دونوں دوست ملکوں کے درمیان ہونے والا اقتصادی معاہدہ سی پیک ملک دشمن استعماری قوتوں کے حلق میں کانٹا بنا ہوا ہے۔ ان حالات میں پاکستان اور چین کی طرف سے بیانات اس امر کا ثبوت ہیں کہ سی پیک کا منصوبہ بن کر رہے گا۔ اس وقت پاکستان پانی کی قلت کے سنگین بحران سے دوچار ہے۔ ماہرین کے مطابق پانی کی قلت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیئے خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو اگلے چند برسوں میں پاکستان بحرانی صورتحال کا شکار ہو جائے گا۔ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے ڈیموں کی تعداد ناکافی ہے۔ اگر فوری تدبیر نہ کی گئی تو 2025 تک اناج اگانے کے لیئے بھی پانی نہیں بچے گا، اور ملک میں قحط سالی کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ اسی لیے وزیراعظم عمران خان نے اوورسیز پاکستانیوں سے مدد مانگتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ڈیموں کی تعمیر کے لیئے پاکستانی تارکین وطن رقوم بھیجیں تو پانچ برس میں ڈیم تعمیر کر لیں گے۔ نئے ڈیم سے نہ صرف پانی کو ذخیرہ کیا جا سکے گابلکہ اس سے ہماری بنجر ہوتی زمین بھی سیراب ہو گی اور وطن عزیز سر سبز پاکستان بن سکے گا۔ حقیقت میں پانی بجلی اور ڈیمز پاکستان اور عوام کی سلامتی، بقا کے لیئے بہت اہمیت کے حامل ہیں۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved