تازہ تر ین

کالا باغ ڈیم

عبدالمجید منہاس….خاص مضمون
کالا باغ ڈیم حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی پیداوار اورزرعی زمینوں کو سیراب کرنے کیلئے ایک بڑا منصوبہ تھا جس پر بوجوہ ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لیے کالا باغ کی ایک جگہ منتخب کی گئی تھی جو ضلع میانوالی میں واقع ہے۔ یہ ضلع صوبہ پنجاب کے شمال مغربی حصے میںواقع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ اس کی تیاری کے مراحل سے ہی متنازعہ رہا ہے۔ دسمبر 2005ءمیں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے اعلان کیا کہ ” وہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں کالا باغ ڈیم تعمیر کر کے رہیں گے“ جبکہ 26مئی 2008ءکو وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی نے ایک اخباری بیان میں کہا ” کالا باغ بند کبھی تعمیر نہ کیا جائے گا“ اطلاعات کے مطابق گزشتہ کئی برسوں سے وطن عزیز پاکستان کو سستی بجلی تربیلا ڈیم سے مل رہی ہے۔ اربوں یونٹ بجلی کی لاگت تقریباً فی یونٹ چند روپے ہے یعنی تین چار روپے فی یونٹ تک اور یہ سستی ترین بجلی بھی فی یونٹ کتنے میں فروخت ہوتی ہے۔ اس سے قطع نظر موسم سرد ہو یا گرم بجلی جن طریقوں سے پیدا ہوتی ہے وہ طلب سے کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی ہے اگرچہ وہ سرد موسم میں کم اور گرم موسم میں زیادہ ہوتی ہے۔شہروں کی نسبت دیہات میں 12، 12گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ دیکھا جائے تو اس سلسلے میں حکومت کئی نئے ڈیموں پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور اس سے یقیناً پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گابلکہ سستی بجلی بھی میسر آئے گی۔اس سلسلے میں کئی متبادل اقدامات بھی جاری ہیں۔ جہاں تک کالاباغ ڈیم کا تعلق ہے کئی دہائیوں سے یہ منصوبہ مختلف مصلحتوں کی وجہ سے التواءکا شکار ہوتارہا اورکالا باغ ڈیم جس کی مخالفت میں ایک بار پھر سندھ اورکے پی کے، کے لوگوں نے بیانات دینے شروع کردیئے حالانکہ انکی سوچ سراسر غلط ہے۔ آج اگر کوتاہیوں کی وجہ سے نہ بننے والا کالا باغ ڈیم بن جاتا وہاں سے 3600میگا واٹ بجلی ملتی اور اس کی فی یونٹ لاگت 2روپے 50پیسے ہوتی۔ اس ڈیم کی تعمیر سے 6.1بلین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت ملتی۔ اس طرح سندھ کو 40لاکھ ایکڑ فٹ‘ بلوچستان کو 15لاکھ ایکڑ فٹ ‘کے پی کے کو 20لاکھ ایکڑ فٹ اور پنجاب کو 22لاکھ اضافی پانی ملتا اور جو آج ملک بھر میں پانی کی کمیابی کا شورہے وہ نہ ہوتا مگر چند لوگوں نے وہی زبان اپنائی جو بھارت کی ہے۔ بھارت ایک طرف اپنے ملک میںدرجنوں نئے ڈیم بنا رہا ہے دوسری طرف پاکستان کی طرف آنے والے پانی کو روکتا جا رہا ہے۔ یوں پاکستان کے دریاﺅں میں پانی نہروں سے بھی کم دکھائی دیتا ہے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب اس کے ڈیم پانی سے بھر جاتے ہیں تو وہ اضافی پانی چھوڑ کر ہمارے لیے مزید مسائل پیدا کرتا ہے۔ ضرورت تو اس وقت اس امر کی ہے کہ فوری طور تمام کوششیں کالا باغ ڈیم کو بنانے پر لگائی جائیں تاکہ یہ جتنی جلدمکمل ہو گا پاکستان اتنا جلد روشن بلکہ سرسبز بھی ہو گا۔ اس حوالے سے کچھ عرصہ قبل واپڈا کے چیئرمین اور لاہور چیمبر نے اس ڈیم کے حوالے سے کہاتھا کہ بھوک قحط اور تباہی پھیلانے والے سیلابوں سے بچنے اورسستی بجلی پیدا کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم بنانا ضروری ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ موجودہ حکومت آج کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کالا باغ ڈیم مخالف عناصر کے واویلے پر کان نہ دھرے کیونکہ یہ سچ ہے کہ اس ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے ہر سال سیلاب کی وجہ سے جو تباہی ہوتی ہے وہ ایک طرف توانائی کا بحران بھی آج اتنی شدت سے نہ ہوتا۔ ان تمام توانائی مسائل کا فوری حل کالا باغ ڈیم کی جلد تعمیر میںہے۔ دوسرے ڈیموں کی نسبت کالا باغ ڈیم کی تعمیر بہت آسان ہے اور قلیل مدت میں با آسانی بن سکتا ہے ایسے منصوبے کوختم کرنا قابل افسوس امر ہے۔
کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے منصوبے کو پیش ہوتے ہی پاکستان کے چاروں صوبوں خیبر پختوانخواہ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی تلخی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس منصوبہ کی تعمیر کے حق میںصرف صوبہ پنجاب ہے جو کہ تمام چاروں صوبوں میں سیاسی و معاشی لحاظ سے انتہائی مستحکم ہے۔ مرکزی حکومت کی تشکیل بھی عام طور پر صوبہ پنجاب کی سیاست کے گرد گھومتی ہے۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں نے اس منصوبہ کی تعمیر کے خلاف صوبائی اسمبلی میں متفقہ قردادیں منظور کیں اورسخت تحفظات کا اظہار کیا۔ تب سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑا ہوا ہے اوراس پر کوئی بھی تعمیری کام ممکن نہ ہو سکا۔
وزیراعظم صاحب کالا باغ ڈیم کی تعمیر ہی شروع کر دیں یہ کارنامہ ان کے مستقبل کیلئے بھی زادہ راہ ثابت ہو گا کیونکہ اس ڈیم کی تعمیر سے ملکی معیشت بھی تیزی سے ترقی کرے گی۔ اورموجودہ بجلی اور معاشی بحران بھی ختم ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں سارے صوبوں کو بھی تمام اختلافات اورنجشیں فراموش کر کے کالا باغ ڈیم کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے اس کی حمایت کرنی ہو گی یہی وقت کا تقاضا ہے، کیونکہ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے۔
(کالم نگار قومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved