تازہ تر ین

ڈاکٹر یاسمین راشد کا امتحان

خواجہ عبدالحکیم عامر/سچ ہی لکھتے جانا
دوستو…! میرا آج کا یہ کالم دو حصوں پر مشتمل ہوگا، ازراہ کرم ٹائم نکال کر پڑھیے ضرور،اس کالم میں آپ ہی کے ارد گرد کی عکاسی کی گئی ہے۔اپنی یہ تحقیق بیان کرتے ہوئے مجھے قطعاً کوئی رکاوٹ محسوس نہیں ہو رہی کہ ہمارے ملک پاکستان کی پولیس کے محکمے کو بیشمار نام دیئے جاتے رہے اور نئے نام دیئے جانے کا سلسلہ ہنوز جاری و ساری ہے اور اب تو انہیں چنداں دہرانے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ان ناموں سے پاکستان کا بچہ بچہ اور نوجوان آگاہ و واقف ہے۔محکمہ پولیس لرزہ خیز داستانوں، قصوں اور کہانیوں سے بھرا پڑا ہے، ہماری پولیس سب سے زیادہ شہرت جعلی مقابلوں میں رکھتی ہے کہ کسی نارمل قیدی یا مخالف شخص کو ابدی نیند سلادینا مقصود ہو تو اسے پولیس مقابلے کا نام دے کر صفحہ ہستی سے غائب کردیا جاتا ہے ، محکمہ پولیس تو پورے پاکستان میں موجود ہے ، مگر ناقابل یقین واقعات میں شہرت پنجاب پولیس نے حاصل کی ہوئی ہے جسے روکنے اور ٹوکنے کی ہمت پنجاب کے کسی بڑے سے بڑے پہلوان / حکمران کے اندربھی موجود نہیں ہو سکی، کیونکہ یہ بھی سچ ہے کہ کسی مخالف کو بساط ہستی سے غائب کروانے کیلئے ہمارے حکمران بھی پولیس کا سہارا لیتے رہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔
دوستو…! محکمہ پولیس سے متعلق ہزاروں لاکھوں کہانیاں بطور ثبوت پیش کی جاسکتی ہیں جن میں پولیس کی بربریت اس بات کا ثبوت دیتی ہوئی نظر آئیگی کہ ہاں… یہ ظلم، قتل اور پولیس مقابلہ سب برے کام میں نے ہی کئے ہیں، پولیس کے مظالم میں سے یہ دو چیزیں انہیں روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں… اولاً بھاری بھرکم دولت …دوئم بہت بڑی سرکاری سفارش، اور یہ سب کچھ دیکھنے پڑھنے کیلئے پولیس اسٹیشن کے خفیہ وزٹ کی ضرورت ہے اور یہ خفیہ وزٹ باضمیر صحافی و دیگر غیرتمند اور تگڑے لوگ ہی کرسکتے ہیں کہ بڑے سے بڑے مجرم /ملزم اور اس کے لواحقین کے ساتھ مک مکا کیسے ہوتا ہے ، مک مکا ہوگیا تو کھیل کے مہرے الٹتے ہیں ، مک مکا نہ ہوسکے تو ملزم /مجرم پارٹی کے چہرے اداس لٹکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔پولیس اسٹیشن عوام کو انصاف دینے کیلئے بنائے گئے ہیں جہاں بلاشبہ لین دین کے بعد ہی فیصلے کئے جاتے ہیں، کم از کم میں نے اپنی زندگی میں ایسا لطیفہ نما کیس نہیں دیکھا، درخواست کی سرخی ہی دیکھ کر آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں، آپ کو سمجھانے کیلئے بات آسان کردیتا ہوں، درخواست گذار مدعی سبزہ زار کا پراپرٹی ڈیلر ہے اس نے تھانہ سبزہ زار میں ایک درخواست جمع کروائی کہ وہ ایک پراپرٹی ڈیلر ہے ، نام ہے اسکا محمد تحریم انوربٹ اور لوگوں کو مکان ، کمرے اور گھر کرائے اور گروی پر لیکر دیتا ہے ، بقول مدعی اس نے سید پور لاہور کی دو مختلف لیڈیز کو دو کمرے کرائے پر لے کر دیئے، اس بات کو ایک مہینہ گذر گیا ہے اور اب وہ جب بھی مالک مکان اور کرایہ دار عورتوں کے پاس کمیشن مانگنے جاتا ہے تو اسے روپوں کی بجائے کسی نہ کسی لڑکی کا ہاتھ پکڑا دیا جاتا ہے اور جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ گھر جو میں نے لیکر دیا تھا کوٹھی خانہ بن چکا ہے ، جو خلاف قانون امر ہے۔سبزہ زار پولیس کیلئے اس ایشو کے حل کیلئے صرف ایک گھنٹہ کافی تھا مگر ایسا نہ ہوا اور کچھ ہونا بھی نہ تھا، مالک مکان تو پہلے ہی کرایہ دار خواتین کی زلفوں کا اسیر بن چکا تھا ، پھر اس نے پولیس کے شیر جوانوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھلایا ہوگا، اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر دنیا کی کونسی طاقت ہے جو کوٹھی خانہ کو بند کروائے۔ پراپرٹی ڈیلر کس حال میں ہے کچھ خبر نہیں، البتہ مجھے کہنے دیجئے سبزہ زار پولیس کے وہ جیالے قابل سزا ہیں جن کی ڈھیل سے سید پور کی فضا انسانی غلاظت کی بدبو سے خراب ہونے لگی ہے ۔
قابل تعریف سمجھی جاتی ہے وہ حکومت جو کابینہ کے وزراءکا تقرر ان کی ذاتی اہلیت اوربے تجربی کو سامنے رکھتے ہوئے کرتی ہے ، موجودہ حکومت ہی کی مثال لیجئے کہ اس نے ایک ڈاکٹر یاسمین راشد کو وزارت صحت کا قلمدان سونپ دیا،دیگر وزراءکی وزارتوں پر سوال اٹھائے جاسکتے ہیں جبکہ یاسمین راشد موجودہ حکومت کا ایک خوبصورت انتخاب ہے کہ ڈاکٹروں سے ایک ڈاکٹر وزیر ہی ڈیل کرینگی کیونکہ ڈاکٹری پیشہ کی جن باریکیوں کا پتہ یاسمین راشد کو ہے کسی دوسرے فیلڈ کا وزیر یقینا ان باریکیوں سے نابلد ہوگا ، بالکل برادرم خواجہ سلمان رفیق کی طرح، ایک ڈاکٹر وزیر کے اندر دو خوبیوں کا موجود ہونا اشد ضروری ہوتا ہے …اولاً اپنے پیشے سے مکمل آگاہی …دوئم انسانیت…انسانیت ہی ایسی خوبی ہے جسے تمامتر انسانی خوبیوں پر برتری حاصل رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی، لگتا ہے کہ وزارتی معاملے میں یاسمین راشد صاحبہ برادر عزیز سلیمان رفیق کو بھی کاٹتی ہوئی نظر آتی ہیں کیونکہ خواجہ سلمان رفیق صرف سیاستدان اور رحمدل و نیک دل انسان ہیں جبکہ یاسمین راشد بیک وقت ڈاکٹر، سیاستدان اور نیک دل خاتون بھی ہیں، البتہ دونوں شخصیات میں ایک نمایاں فرق آنے والے دنوں میں ضرور نظر آئیگاکہ خواجہ سلمان رفیق محکمہ سے زیادہ غریب مریضوں کو اہمیت دیتے تھے جبکہ یاسمین راشد ایک کامیاب ایڈمنسٹریٹر بننے پر زیادہ زور دینگی اور ظاہر ہے کہ یہ تضاد انہیں گوناگوں مسائل کا شکار کرسکتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ سلمان رفیق محکمہ سے زیادہ فائدہ غریب و سفید پوش مریضوں کو پہنچایا کرتے تھے جبکہ یاسمین راشد صاحبہ کو دیگر معاملات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور یہ نقطہ ہی وزیر محترمہ کو کنفیوژ کر سکتا ہے ۔
ایک سچ نوک قلم پر لائے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں کے مسیحاو¿ں نے سینوں سے دل اور دلوں سے انسانیت نکال کر کہیں دور پھینک دی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریض ننگے فرشوں پر ہی علاج کرواتے ہوئے نظر آتے ہیں ، نرسوں کے مزاج ہی مختلف ہیں، ان وجوہات کی بناءپر عام مریض شدید متاثر ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں جانوروں سے بدتر زندگی گذار رہاہے، یہ بات میں اپنے ایک کالم میں تحریر کرچکا ہوں کہ سرکاری ہسپتالوں اور وہاں کے ڈاکٹروں کو کسی ڈنڈا بردار وزیر، مشیر اور سیکرٹری کی ضرورت ہے ، میرے اسی کالم کے جواب میں شاید خواجہ عمران نذیر کا تقرر بھی کیا گیا تھا کیونکہ بہ نسبت سلمان بھائی خواجہ عمران زیادہ متحرک انسان ہیں، خواجہ سلمان رفیق محض نیک ایماندار اور خوف خدا رکھنے والے انسان ہیں اسلئے محکمہ صحت میں ڈنڈا نہ چلا سکے جس کی آج بھی ضرورت ہے جبکہ خواجہ عمران نذیر نے تھوڑا بہت ڈنڈا چلانے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب بھی رہے ۔
فضا میں ایک خبر گردش کررہی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب و متوسط مریضوں کے علاج کیلئے جاری کئے جانے والے سی ایم ڈائریکٹیوز معطل و ختم کئے جارہے ہیں اور یہ سیٹ اپ یاسمین راشد صاحبہ کی حکومت کررہی ہے ، اس ضمن میں وزیراعلیٰ پنجاب، میڈم یاسمین راشد اور سیکرٹری صحت کو میں تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خزانہ جہاں سے غریب و سفید پوش مریضوں کو ایک یا دو نمبر دوائیاں دی جاتی ہیں کسی کے باپ کی جاگیر نہیں، اگر یاسمین راشد یا انکے کسی اللے تللے نے غریبوں کا علاج بند کرنے کی کوشش کی تو بھرپور مزاحمت کی جائیگی، جو صرف عرش معلی ہی کو نہیں موجودہ حکومت کوبھی ہلا کر رکھ دیگی، ویسے اللہ نہ کرے یہ خبر درست ہو۔
مجھے آج بھی سرکاری ہسپتالوں کے تمام بڑے پلاسٹک سرجیز کا وہ ریکارڈ یاد ہے جو انہوں نے اس فقیر (راقم) کا آپریشن نہ کرنے کیلئے کیا تھا، وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور شہباز شریف تک کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیاتھا کہ خواہ بڑی سے بڑی قربانی دینی پڑے راقم کا آپریشن نہیں کرینگے ، وجہ یہ تھی کہ راقم ان کے کرتوت اپنے کالموں کے ذریعے منظر عام پر لاتا رہتا تھا اور آج بھی باز نہیں آیا… کہتے ہیں کہ جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے …میرے سوہنے اللہ نے مجھے کلمہ حق بلند کرنے کیلئے زندہ رکھنا تھا اور رکھا ہوا ہے اور مجھے موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھنے والے مسیحاو¿ں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے اور میں اللہ کے حکم سے آج بھی زندہ و سلامت ہوں، یہ الگ داستان ہے کہ میرا آپریشن کیسے ، کہاں اور کس نے کیا ، مناسب وقت پر ضرور بیان کرونگا، فی الحال اسی پر اکتفا کرتا ہوں کہ اے صاحبان اقتدار اللہ اور اسکی مخلوق کو خوش رکھنا چاہتے ہو تو کبھی مستحق، غریب اور سفید پوش مریضوں کے علاج سے انکار نہ کرنا ورنہ …..!
(کالم نگارثقافتی‘سماجی اورادبی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved