تازہ تر ین

پٹرولیم مصنوعات پر 100 ارب کے اضافی ٹیکس واپس ، نان فائلر کو گاڑیاں اور جائیدادیں خریدنے کی اجازت ، کم ازکم پنشن 10 ہزار روپے مقرر ، گاڑیاں ، موبائل فون ، سگریٹ ،غیر ملکی چاکلیٹ ، جوس ، دودھ ، مشروبات مہنگے

اسلام آباد (این این آئی، اے پی پی) حکومت نے منی بجٹ میں سگریٹ اور مہنگے موبائل فون پر ڈیوٹی بڑھانے اور ای او بی آئی کی کم سے کم پنشن 10 ہزار روپے کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی طورپر ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے  ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنا ہماری ترجیح ہے  ارکان اسمبلی کی بجٹ تجاویز پر غور کیا جائیگا اگر ہم نے فیصلے نہ کیے تو زرمبادلہ ذخائر مزید گرسکتے ہیں  موجودہ صورتحال میں خسارہ 7.2فیصد تک پہنچ سکتا ہے  پٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جائےگا پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے  انصاف کارڈ کے تحت علاج کیلئے 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک اخراجات دیئے جائیں گے مزدوروں کےلئے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے  8276 گھروں کی تعمیر کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے  سالانہ 12 لاکھ آمدنی والوں سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا رہا دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائےگا، ڈیم کےلئے مختص رقم میں کوئی کمی نہیں ہو گی وزیراعظم، وزراءاور مراعات یافتہ طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ کم کردی گئی ہے سی پیک میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی   درآمدی اشیاءپر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 ہزار درامدی اشیاءایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگانے اور نان فائلر کیلئے گاڑی خریدنے پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے ¾ بینگ ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرےگا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں ترمیم شدہ مالیاتی بل پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ معیشت کو استحکام، روزگار اور برآمدات میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں، ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنا بھی ہماری ترجیح ہے، ارکان اسمبلی کی بجٹ تجاویز پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال مالیاتی خسارہ 6.6 فیصد تک پہنچ گیا تھا، معاشی طور پر ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے، توانائی کے شعبے میں گزشتہ سال ساڑھے 4 سو ارب روپے کا خسارہ ہوا، گیس کے شعبے میں 100ارب روپے سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے، گیس کے تمام معاہدے ڈالر میں ہوتے ہیں، گزشتہ روز کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، اگر ہم نے فیصلے نہ کیے تو زرمبادلہ ذخائر مزید گرسکتے ہیں اور موجودہ صورتحال میں خسارہ 7.2فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔وزیر خزانہ نے کہاکہ ملک پر بیرونی قرضے 95 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں ¾ ملکی زر مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گر چکے ہیں، گزشتہ چند ماہ میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 20 روپے کمی آچکی ہے ¾روپے کی قدر میں کمی سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوتا ہے، روپے کی قدر میں کمی سے عام اشیاءکی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ¾روپے کی قدر میں کمی سے پٹرول مزید 20 روپے مہنگا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خطرناک معاشی حالات سے نکلنے کیلئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے، قرضے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں، فیصلہ کرنا ہے کیا ہم اسی طریقے سے آگے چلتے رہیں گے یا آگے چلنے کی کوشش کریں گے ¾ہمارا مقصد غریب اور متوسط طبقے پر بوجھ کم کرنا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ میں صوبوں کا مجموعی خسارہ 18 ارب روپے تھا، جو بجٹ پیش کیا گیا اس میں محصول کی ادائیگیوں کے ہدف میں 300 ارب کا فرق ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کسان کی آسانی کیلئے کھاد کی ترسیل بڑھارہے ہیں، وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ صحت انصاف کارڈ کا اجراءکیا جائے ¾ انصاف کارڈ کے تحت علاج کیلئے 5 لاکھ 40 ہزار روپے تک اخراجات دیئے جائیں گے، مزدوروں کےلئے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے ¾ 8276 گھروں کی تعمیر کے لیے ساڑھے 4 ارب روپے ریلیز کیے جائیں گے۔اسد عمر نے اعلان کیا کہ امپلائز اولڈ ایج بینفٹ انسٹی ٹیوٹ (ای او بی آئی) پنشنرز کی کم سے کم پنشن میں 10فیصد اضافہ کیا جارہا ہے ¾پٹرولیم لیوی ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا جائےگا ¾ پٹرولیم لیوی ٹیکس کی مد میں 300 ارب روپے اکٹھے کیے جائیں گے، صنعتوں کیلئے 44 ارب روپے کی سبسڈی کا اعلان کرچکے ہیں، ریگولٹری ڈیوٹی کی مد میں ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔اسد عمر نے کہاکہ مالی سال 2018 میں 661 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تھا ¾رواں مالی سال ترقیاتی بجٹ 725 ارب روپے کر دیا گیا ہے ¾ دیامر اور بھاشا ڈیمز کو 6 سال میں تعمیر کیا جائےگا، ڈیم کےلئے مختص رقم میں کوئی کمی نہیں ہو گی اور سی پیک میں بھی کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ¾ وزیراعظم، وزراءاور مراعات یافتہ طبقے کے لیے ٹیکس چھوٹ کم کردی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ 900 درآمدی اشیاءپر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی اور 5 ہزار درآمدی اشیاءایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے ¾ نان فائلر کیلئے گاڑی خریدنے پر عائد پابندی ختم کرنے کی تجویز ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مختلف طریقے سے جو اچھا ہوا اسے رکھیں گے لیکن تبدیلی کی ضرورت بھی ہے، 30 سال میں ہم نے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی، 10 سال پہلے بھی ہم مشکل حالات میں تھے،یہ ملک اللہ تعالیٰ کی دین ہے، صرف ہمارے آباو¿ اجداد کی محنت سے نہیں بنا، یہ ملک اور قوم ضرور ترقی کریں گے۔وزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں تجویز دی گئی ہےکہ تنخواہ دار طبقے کےلئے سلیب 6 سے بڑھا کر 8 کردیئے اور تنخواہ دار طبقے کےلئے انکم ٹیکس میں ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک اضافہ کردیا گیا ¾ زیادہ سے زیادہ ٹیکس 4 لاکھ 80 روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کردیا گیا ¾ بینک ٹرانزیکشن پر نان فائلر 0.6 فیصد ٹیکس ادا کرے گا۔ نجی ٹی وی کے مطابق 4 سے 8 لاکھ روپے سالانہ آمدن تک ایک ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 8 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 2 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر 5 فیصد فکسڈ ٹیکس دینا ہوگا ¾ 24 سے 30 لاکھ روپے سالانہ آمدن پر نیا سلیب متعارف کرا دیا گیا ہے ¾ 24 سے 30 لاکھ روپے آمدن پر 60 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾24 لاکھ سے زائد اور 30 لاکھ روپے سے کم آمدن پر 15 فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا ¾ 30 سے 40 لاکھ روپے آمدن پر 20 فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 30 سے 40 لاکھ روپے آمدن پر 150،000 روپے اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 40 سے 50 لاکھ روپے آمدن پر 25 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 40 سے 50 لاکھ روپے آمدن پر 3 لاکھ 50 ہزار اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 50 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 29 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا ¾ 50 لاکھ روپے سے زائد آمدن پر 6 لاکھ روپے اضافی ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ 5 سال قبل ملک کا قرضی 16 ہزار ارب روپے تھا ج اس 28 ہزار ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جبکہ اس میں 2 ہزار ارب روپے شامل نہیں ہیں اور یہ وہ روپے ہیں جو ہمیں نظر نہیں آرہے۔انہو ںنے کہا کہ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی جو صورتحال ہے وہ سب سے سامنے ہیں، ان اداروں پر جو قرضے ہیں وہ وفاق نے ادا کرنے ہیں تاہم سب سے زیادہ تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ ورکر ویلفیئر بورڈ کے فنڈز کا بھی 40 ارب روپے سے زائد وفاق نے روکا ہوا ہے، جس کی وجہ سے مزدوروں کے 8 ہزار 2 سو گھروں کی تعمیر رکی ہوئی ہے اور مزدوروں کے بچوں کی فیسوں کی ادائیگی تک نہیں ہورہی۔انہوںنے کہا کہ خیبرپختونخوا واحد صوبہ تھا جس نے 34 ارب روپے کا سرپلس استعمال کیا جبکہ پنجاب نے سب سے زیادہ خسارہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں دکھائے گئے خسارے اور حقیقت میں تقریباً 900 ارب روپے کا فرق ہے اور اگر اقدامات نہ لیں تو بجٹ کا کل خسارہ 2780 ارب روپے تک ہوجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ برس ترقیاتی منصوبوں پر 6سو 61 ارب روپے خرچ کیے گئے تھے، جسے اس سال بڑھا کر 7 سو 25 ارب روپے کردیا ہے جس کےلئے فنانشل اصلاحات کی ضرورت ہے۔اسد عمر نے بتایا کہ 725 ارب میں سے 50 ارب کراچی کی ترقی کےلئے مختص کیے گئے ہیں ¾یہ تمام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کیے جائیں گے اور بجٹ پر اس کا بوجھ نہیں پڑے گا۔اپنی تقریر کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کو مشکل حالات کا سامنا ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ 10 سال پہلے بھی مشکل حالات تھے، گزشتہ 30 برس میں دنیا ہم سے بہت آگے جاچکی ہے لیکن من حیث القوم ہم نے مختلف طریقے سے کام کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو اچھے کام ہوئے ہم ان کی حمایت کریں گے لیکن اس مشکل وقت سے نکلنے کے لیے ہمیں تبدیلی کی ضرورت ہے اور میرا ایمان ہے کہ یہ ملک مسلمانوں نے بڑی قربانیوں سے حاصل کیا، قائد اعظم کی قیادت اور علامہ اقبال کا خواب تھا، یہ ملک اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور اسی لیے اس ملک کا قیام 27 ویں شب کو ہوا، لہٰذا اس ملک نے ترقی کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کی ترقی میں سب شراکت دار ہوں گے لیکن یہ پوری قوم کی جدوجہد ہوگی اور انشاءاللہ پاکستان ایسا ملک بننے جارہا ہے کہ نہ صرف ہم بلکہ دنیا بھی اس پر فخر کرے گی۔بعد اازاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں صحافیوں کی جانب سے ٹیکس چوروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں حلف لیے ہوئے ساڑھے 3 ہفتے ہی ہوئے ہیں لیکن ہم نے چوروں سے ٹیکس وصولی کرتے 92 ارب روپے کی رقم خزانے میں شامل کردی ہے۔انہوںنے کہا کہ ایسے لوگوں کے خلاف ایف بی آر کا میٹر چلنا شروع ہوگیا ہے ہمیں فوری اقدامات کرنے ہیں اگر ایسا نہ کیا تو ہم اپنا ہدف حاصل نہیں کرسکیں گے۔انہوںنے کہا کہ جس طرح سابق حکومت نے بجٹ میں 12 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کو ٹیکس سے استثنیٰ دیتے ہوئے ایک سے 2 ہزار روپے کا ٹوکن ٹیکس عائد کیا تھا اسے برقرار رکھا گیا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ 2 لاکھ روپے ماہانہ کمانے والوں پر معمولی ٹیکس کا فیصلہ برقرار رکھا گیا البتہ 2 لاکھ روپے ماہانہ سے زائد کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح میں معمولی اضافہ کیا گیا اور پورے ملک میں ان کی افراد کی تعداد محض 70 ہزار ہے۔انہوںنے کہا کہ حکومتی عہدیداروں کو حاصل ٹیکس استثنیٰ کا مقصد ریونیو حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ملکی معیشت کی خراب صورتحال میں اگر ہم صاحب ثروت لوگوں سے تعاون طلب کررہے ہیں تو ضروری ہے کہ سب سے پہلے ہم خود اپنے آپ کو اس کےلئے پیش کریں۔گاڑیوں اور جائیداد کو خریدنے کے لیے ٹیکس فائلرز کی شرط ختم کرنے کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اس حوالے سے مزید ٹیکس اصلاحات بھی کی جائیں گی۔غریب اور بے گھر خواتین کے حوالے سے بجٹ میں کیے اقدامات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہم نے غریب طبقے کے مسائل کو ایک ساتھ مدِ نظر رکھا ہے اور اس سلسلے میں مزدورں کے لیے گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری جانب ہم نے ہرجگہ غریبوں کی بہتری کو مدِ نظر رکھا ہے جس کے لیے ہم نے ایل پی جی کے سلنڈر پر 30 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 10 فیصد کیا جس سے فی سلنڈر قیمت میں 200 روپے کی چھوٹ ملے گی۔وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا کہ ٹیکس کا بوجھ صرف امیروں پرڈالا ہے، تمام چیزوں کے نتائج سامنے میں وقت لگے گا، ہم نے صاحب ثروت لوگوں پر زیادہ بوجھ ڈالا ہے، خسارے کوقرضہ لےکرپورا کیا جارہا ہے اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے بھی قرضے لیے جارہے تھے ۔وزیر خزانہ نے کہاکہ حکمرانی بہتر کرنے کےلئے اقدامات کررہے ہیں، چوروں کے خلاف کارروائی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے، تمام اقدامات کے نتائج آنے میں تھوڑا وقت لگے گا، امید ہے بند فیکٹریوں جلد چلنی ہونا شروع ہوجائیں گی۔اسد عمر نے کہا کہ کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ کا تخمینہ 18 سے 21 ارب ڈالرز ہے اور گزشتہ مالی سال کرنٹ اکاو¿نٹ خسارہ 18 ارب ڈالرز تھا، اسٹیٹ بینک کے ذخائر تیزی سے گررہے ہیں، ٹیکس ریفارمز کمیشن کی تجاویز سے اصلاحات کا آغاز کریں گے، برآمدکنندگان کو اپنے پاو¿ں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ اسد عمر نے گزشتہ بجٹ خسارہ 6.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے‘ موجودہ بجٹ خسارہ گردشی قرضوں کی وجہ سے 8.6 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اقتصادی صورتحال کے حوالے سے جو اقدامات کئے وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ گزشتہ ایک سال میں صرف بجلی کے شعبہ میں خسارہ 450 ارب اور گیس میں 100 ارب روپے تک پہنچ گیا، رواں سال یہ خسارہ 2900 ارب تک پہنچنے کا خدشہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ 2012-13ءمیں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ اڑھائی ارب ڈالر تھا۔ گزشتہ سال یہ خسارہ ساڑھے 18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دور میں قرضوں میں 34 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجنا شروع ہوگئی۔ درآمدات بہت بڑھ گئی ہیں‘ برآمدات اس کے مقابلے میں بہت کم تھیں جس کی وجہ سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 20 روپے کمی کی گئی۔ اگر صورتحال یہی رہی تو روپے کی قدر مزید متاثر ہوگی۔ پٹرول ‘ خوردنی تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ اگر اس وقت اقدامات نہ اٹھائے گئے تو عام آدمی کی زندگی براہ راست متاثر ہوگی۔ سرکاری قرضے بھی 2800 ارب تک پہنچ گئے ہیں۔ سٹیل ملز‘ پی آئی اے کے قرضے الگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ورکر ویلفیئر بورڈ کے فنڈز کے بھی 40 ارب روپے وفاق نے روکے ہوئے ہیں۔ ان فنڈز سے مزدوروں کے لئے گھروں کی تعمیر ان کے بچوں کی فیسوں کی ادائیگیاں رکی ہوئی ہیں۔ اتنے برے حالات ہوگئے ہیں کہ لوگ خودکشیاں کرنے پرمجبور ہو رہے ہیں۔ ایوان نے اس حوالے سے فیصلہ کیا ہے کہ ہم نے اس صورتحال سے نکلنا ہے یا اس طرح آگے بڑھنا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاق کے محصولات میں 350 ارب روپے کی کمی کی توقع ہے۔ اسی طرح اخراجات 250 ارب دکھائے گئے ہیں جو اس سے زیادہ ہوں گے۔ صوبوں کا سرپلس 286 ارب دکھایا گیا۔ اس میں بھی 18 ارب کا خسارہ ہے۔ صرف کے پی کے نے 34 ارب کا سرپلس دیا۔ پنجاب نے خسارہ ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محصولات اور اخراجات میں 890 ارب کا خسارہ ہے۔ اگر اقدامات نہ کئے گئے تو یہ خسارہ 2790 ارب تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات میں مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ چادر دیکھ کر پاﺅں پھیلانا اچھی معیشت کا حصہ ہے۔ غریب پہلے سے مشکل میں ہے۔ ہم نے صاحب ثروت پر بوجھ ڈالنا ہے۔ غریب کو اس سے بچانا ہے۔ ملک کی معیشت زرعی و صنعتی ترقی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے بہتر ہوگی۔ ایک لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کرنے کے ساتھ ساتھ کھاد کی مقامی پیداوار بھی بڑھائیں گے اور کسان کو سبسڈی بھی دیں گے۔ وزیراعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اور فاٹا میں پانچ لاکھ چالیس ہزار روپے تک صحت کارڈ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کے لئے ساڑھے چار ہزار گھر مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ دس ہزار مزید گھر تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ای او بی آئی کی پنشن میں دس فیصد فوری اضافہ کیا جارہا ہے۔ آئندہ بجٹ میں اس میں مزید اضافہ کیا جائے۔ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں اضافہ متوسط طبقہ کے ساتھ ظلم ہے۔ 2018-19ءکے بجٹ میں 100 ارب کا ٹیکس پٹرولیم پر لگایا گیا ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایکسپورٹ انڈسٹری کو 82 آئٹمز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرکے ریلیف دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد سمیت گیس سے چلنے والی صنعتوں کی بحالی کے لئے 44 ارب کا ریلیف دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ایکسپورٹر کو اپنے پاﺅں پر کھڑا کریں گے۔ ہم محصولات میں 183 ارب روپے کے اضافے کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔ 92 ارب روپے کوئی نیا ٹیکس لگائے بغیر جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی اقدامات کے ذریعے پورے کریں گے۔ ایف بی آر نے یہ چیلنج قبول کیا ہے۔ نان فائلرز کے لئے بنکنگ خدمات پر ڈیوٹی کو 0.6 فیصد کیا جائے گا۔ سگریٹ نوشی صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔ سگریٹ پر ٹیکس میں اضافہ کیا جارہا ہے اور اس کی سمگلنگ بھی کم ہوگی۔ لگژری آئٹمز پر ٹیکس بڑھائیں گے۔ امیر لوگوں کے زیر استعمال موبائل فون پر ٹیکس کی شرح بڑھائی جارہی ہے۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے ہر طبقہ کے لئے ٹیکس کی شرح میں کمی کردی تھی۔ پاکستان کے لوگ محب وطن ہیں ٹیکس دینا چاہتے ہیں‘ ان کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ جو ٹیکس حکومت لے وہ ایمانداری سے خرچ کیا جائے۔تنخوا دار طبقے کے لئے 12 لاکھ سالانہ آمدن ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی‘ دو لاکھ روپے ماہانہ تک تنخواہ پر بھی جو ریلیف دیا گیا وہ بھی قائم رہے گا۔ ہر پاکستانی کے لئے ٹیکس کی شرح پچھلے سال سے کم ہوگی۔ ہر صاحب ثروت شخص کو ملک کی بہتری کے لئے ساتھ دینا چاہیے۔ ہم نے وزیراعظم ‘ کابینہ کے ارکان‘ گورنرز ‘ وزراءاعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات پر ٹیکس کی چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سی پیک کے منصوبے کے تحت کسی پروگرام میں کوئی کمی نہیں لائیں گے۔ ڈیموں کی تعمیر کے لئے بھی مختص کردہ رقم سے بھی زیادہ رقم خرچ کریں گے۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیموں کی تعمیر کے لئے چیف جسٹس اور وزیراعظم کے فنڈز قائم ہیں۔ ترقیاتی بجٹ پر 725 ارب روپے خرچ کریں گے۔ گزشتہ سال خرچ ہونے والی رقم کے مقابلے میں دس فیصد اضافہ ہوگا۔ کراچی انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے 50 ارب روپے دیئے جائیں گے۔ یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ہوں گے۔ پی ایس ڈی پی سے 575 ارب اور ٹیکس اصلاحات کے ذریعے 100 ارب روپے کا انتظام کریں گے۔ دنیا ہم سے گزشتہ تیس سالوں کے دوران آگے چلی گئی ہے۔ ماضی میں جو کام اچھے ہوئے ہیں وہ قائم رہیں گے۔ اس میں ڈیموں کی تعمیر اور سی پیک منصوبے کے لئے کام جاری رکھیں گے۔ یہ ملک اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔ کوئی وجہ ہے کہ یہ 27 رمضان کو وجود میں آیا۔ ملک کی ترقی کے لئے بلاول بھٹو سمیت سب شراکت دار ہوں گے۔ عمران خان کی قیادت میں ہم ملک کو تبدیل کرنے جارہے ہیں۔ دنیا اس پر فخر کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کے لئے منصوبوں کو بھی جاری رکھا جائے گا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved