تازہ تر ین

حکومت 50 لاکھ افراد کیلئے گھر بنا دے تو بڑاکام ہو جائیگا : ضیا شاہد، شناخت ” بہاری “کو دیں جو 72 برس سے کیمپوں میں پڑے ہیں : کائرہ ، سعودی عرب کہے گا گیس پائپ لائن بھول جائیں : سردار آصف، بجٹ میں کوئی چیز نہیں آئی جس کی تعریف کر سکیں : عقیل کریم کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ بجٹ کی ساری باتیں اپنی جگہ پر لیکن حکومت نے جس طرح اعلان کیا تھا اگر 50 لاکھ افراد کے لئے گھر بنا دیں گے تو میں سجھتا ہوں کہ اگر وہ اور بڑا کام نہ کریں یہ بڑا کام ہو گا۔ جو کچھ بھی ہونا ہے ابھی بہت ساری چیزیں ابتتدائی مراحل میں ہیں۔ آج بھی میں ڈیڑھ دو گھنٹہ وزیراطلاعات کے پاس رہا۔ سی پی این ای کی میٹنگ تھی جس میں میں اور امتنان شاہد گئے ہوئے تھے ان سے بھی کافی بحث مباحثہ جاری رہا اور ان کی بات ہم نے بھی سمجھنے کی کوشش کی۔ بہت ساری باتیں جنہیں ہم ان آفنگ کہتے ہیں کیونکہ دن رات بعض نئی چیزوں پر کام ہو رہا ہے اور وہ کیا کرتا ہے۔ مجھے اس سے مایوسی بھی ہوئی ہے کہ جس طرح سے عام طور پر شیڈو کیبنٹ ہوتی ہے مختلف ملکوں میں معلوم ہوتا ہے ہمارے ہاں زیادہ کام ہوا نہیں اب جب اچانک آن پڑا ہے سر پر تو تقریباً ہر شعبہ، ہر وزارت عجیب مخمصے میں نظر آ رہی ہے۔ کبھی کہتے ہیں یہ کر لیں۔ پھر سوچ آتی ہے وہ کر لیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ بجٹ شاید پرانے بنائے گئے بجٹوں سے لیا گیا۔ مگر میں ایک بات پر یقین رکھتا ہوں کہ میں ذاتی طور پر عمران خان کی ذات کے حوالے سے جو رائے رکھتا ہوں۔ ایک آدھ مہینے یا ایک سال کی نہیں ہے 22 برس سے انہیں جانتا ہوں کہ وہ کوشش بڑے بھرپور طریقے سے کریں گے اور جو کوشش وہ کریں گے اس میں اس بات کے چانسز ہو سکتے ہیں کہ پہلے کی نسبت بہتری نظر آئے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیسے آئے گی یہ اب تلخ حقائق ہیں زندگی کے ٹھوس حقائق ہیں ان کو صرف خوش خیالی سے حل نہیں ہو سکتا۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا جس طرح سے 4,3 برس سے شور مچ رہا تھا کہ یہاں گڑ بڑ ہے یہاں گڑ بڑ ہے۔ وہ گڑ بڑ کی نشان دہی تو ضرور ہوئی لیکن ان کو صحیح کرنے کے کام پر کوئی پیپر ورک ہوا ہی نہیں۔ضیا شاہد نے کہا کہ میں دو باتیں کرنا چاہوں گا اپنے دیکھنے والوں کی خدمت میں بھی عرض کروں گا آپ یقین جانیں۔ جب میں پانچویں جماعت کا امتحان پاس کر کے چھٹی جماعت میں داخل ہوا تو پہلی مرتبہ میں نے اس زمانے میں میں نے بجٹ کے سلسلے میں کچھ بحث مباحثہ سنا تھا اور یوں لگتا تھا کہ جو جملے آج کل سنائی دیتے ہیں میں نے 40,35 برس پہلے بھی یہی جملے سنے تھے کہ ملک بہت زیادہ خطرے میں حالات اتنے خراب ہیں کہ پہلے کبھی نہیں ہوئے۔ جو پچھلی حکومت ہے وہ بیڑا غرق کر کے چلی گئی۔ اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا کریں ملک جو ہے وہ بالکل ڈیفالٹر ہونے والا ہے۔ ہمیں پوری دنیا میں ایلسیاں بند ہونے والی ہیں اور ہمارے کاروبار بند ہونے والے ہیں۔ یہ باتتیں میں 40,35 سال سے یہی باتیں سن رہا ہوں۔ ایک شعر بڑا اچھا ہے بہت بوجھل گفتگو کر رہی ہیں مجھے بھی بڑی پریشانی ہونے لگی ہے۔ اس لئے میں ایک شعر تلاش کر کے لاتا ہوں۔ تا کہ ماحول تھوڑا سا صحیح ہو۔ وہ شعر یہ ہے کہ جب دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہےمرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کالگتا ہے جو سن رہا ہوں آئندہ پچاس برس بھی یہی رہے گا۔ دُعا ہی کر سکتا ہوں کہ یا اللہ بہت ہی ہو گیا ہمارے ساتھ۔ اے اللہ پاک ہم نے بڑی آزمائشیں دیکھ لی ہیں۔ بڑے مرحلے ہم نے دیکھ لئے ہیں۔ اور عوام ہیں کہ کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھے گول دائرے میں گھوم رہے ہیں۔ضیا شاہد نے کہا کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ تسی سانوں پنبھل پوسہ وچ پایا ایہہ“ لوگ بیچارے کب تک اسی چکر میں پھنسے رہے۔ اب ایک بڑی بات اور بھی ذہن میں آ رہی ہے جب آپ حکومت میں نہیں ہوتے تو کہتے ہیں کہ اگر ہمارے پاس آ جائے تو ہم ٹھیک کر دیں گے اب آ گئی ہے اب کرو۔آج تو ہمارے آصف علی زرداری صاحب نے بڑی زبردست منطق بھگاری ہے کہ اگر آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں دراصل آپ مجھ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ شہید بی بی کی قبر کا ٹرائل کرا لوں۔ اس کا مطلب ہے اس سب کچھ کو ٹھپ ہی پڑا رہنا چاہئے۔ دیکھیں جی دمی اپنے آپ کو بچانے کے لئے اگلے پچھلوں کا سہارا تو لیتا ہے۔ تو انہوں نے بھی لے لیا۔ اب شہید بی بی اپنے معاملات دیکھ رہی ہوں گی جو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان جو ہوتے ہیں۔ معروف صنعتکار عقیل کریم ڈھیڈی نے بجٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے لوگوں کو توقعات اور امیدوں میں ووٹ ڈالا ہوا تھا لوگوں کو اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ صاحب کوئی ایسے فیصلے کریں گے کہ ملک کی اکانومی شاید بہتر ہو۔ بہر حال انہوں نے دو تین چیزیں ایسی کی ہیں جس کی وجہ سے اکانومی جو بالکل مردہ ہو چکی تھی اس میں تھوڑا بہت کرنٹ آ سکتا ہے جیسے انہوں نے کہا کہ نان فائلر گاڑی نہیں خرید سکتا تھا، نان فائلر مکان نہیں خرید سکتا تھا۔ ایک مخصوص سے اوپر انہوں نے اس کو ختم کر دیا۔ یہ آٹو سیکٹر والوں کی بہت بڑی ڈیمانڈ تھی۔ لیکن یہ میرا ہر ایک اور راستہ نکالتے تو زیادہ بہتر ہوتا چونکہ اب جو حکومت نے جو کوشش کی تھی کہ فائلر اور نان فائلر کے درمیان فرق ہٹ گیا۔ میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگ اس چیز کو پسند نہ کریں گے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ چونکہ پراپرٹی اوور ہاﺅسنگ سیکٹر میں ٹریڈ بہت کم ہو رہی تھی شاید انہوں نے سوچا یہ کہ ہم اسے اگلے بجٹ میں متعارف کرائیں۔ پھر انہوں نے پٹرولیم لیوی ختم کر دی۔ پٹرولیم لیوی وفاق کو جاتی ہے صوبوں کو نہیں جاتی۔ اس کے علاوہ پنشنرز کو فائدہ پہنچا ہے۔ لیکن یہ درست ہے کہ لوگوں کی توقعات بہت زیادہ ہیں۔ اس منی بجٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں نظر آ رہی جس کی ہم زیادہ تعریف کر سکیں۔ ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ ایک چیز ایک جگہ رکی تھی وہ اٹھا کر دوسری جگہ رکھ دی گئی ہے۔ماہر قانون خالد رانجھا نے کہا کہ عدالت سے جس طرح نیب کو جرمانہ ہوا اس سے لگتا ہے کہ اپیل کی سماعت شروع ہو جائے گی اور پھر بات لمبی ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ سزا معطلی کیس میں ہو سکتا ہے کہ مریم نواز کو ضمانت مل جائے۔ وہ خاتون ہونے کے حوالے سے دعویٰ کر سکتی ہیں۔ شاید مریم نواز کو آج آنے والے فیصلے میں کچھ ریلیف مل جائے، نوازشریف کا کیس اور ہے ان کو ریلیف ملنے کا امکان نہیں۔پی پی رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ افغان، بنگالیوں کو حقوق دینے کی جو باتیں کی جا رہی ہیں، اس سے ان کی اور تعداد آ سکتی ہے۔ ملک کا ماحول بدلے گا جس پر صوبوں اور قومیتوں کو اعتراضات ہوں گے۔ اگر کسی کو شناخت دینا ہے تو ”بہاری“ کو دیں جو 72 سال سے کیمپوں میں پڑے ہیں ان کو بنگلہ دیش یا پاکستان کوئی قبول نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ 3 ماہ تک کوئی غیر ملکی دورہ نہیں کروں گا، جہاز استعمال نہیں کروں گا۔ قرضہ نہیں لوں گا۔ وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو کہتے رہے کہ نہیں کروں گا۔ جس جہاز میں سعودی عرب گئے اس کے بارے کہا جاتا تھا کہ یہ وزیراعظم استعمال نہیں کریں گے۔ کمرشل فلائٹ سے جائیں گے۔ حکومت کا المیہ یہ ہے کہ وہ بھڑکیں مار رہی ہے جو ترقی پذیر ممالک میں اپوزیشن کرتی ہے۔ ریلیف کی باتیں کرتے ہیں دے نہیں سکتے۔ جس میں ٹیکس لگے وہ ریلیف دینے والا بجٹ نہیں ہوتا۔ اپوزیشن ان ساری چیزوں پر بھرپور آواز اٹھائے گی۔ سابق وزیرخارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان پاک سعودیہ تعلقات میں ایشوز پر بات کریں گے۔ اقتصادی، سعودی عرب میں کام کرنے والے کے مسائل سمیت دیگر امور پر بات چیت ہو گی۔ میرے خیال میں سعودی عرب کہے گا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ بھول جائیں۔ یمن کے بارے میں دباﺅ ڈال سکتے ہیں کہ ہم پاکستان کو 4 ارب ڈالر دیتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں۔ اس وقت ملک کی حالت بہت بری ہے، 12 ارب ڈالر کا خسارہ ہے۔ ساری صورتحال دیکھ کر اس کے مطابق چلنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شروع میں ہی بہت کچھ بدلا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں قیام نہیں کیا، گورنر ہاﺅسز عوام کیلئے کھول دیئے یہ ایک اشارہ ہے کہ اب پاکستان کو بدلنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج تک کسی حکومت یا میڈیا نے خسارے کے بارے میں نہیں بتایا تھا، عمران خان کو ابہام نہیں ہوا تھا کہ اتنا خسارہ ہے۔یہ برداشت نہیں کر سکتا لیکن کیا مرنے والوں کے بعد سارا حساب کتاب ٹھپ کردینا چاہئے؟ عقیل کریم نے کہا کہ اس حوالے سے معلومات نہیں کہ انہوں نے کس زمرے میں یہ بات کی۔ منی بجٹ پر کاروباری حضرات کی بہت زیادہ بعد میں تھیں، حکومتکا ٹیکس نہ بڑھانا خوش آئند ہے۔ضیا شاہد نے مزید کہا کہ آج آنے والے عدالتی فیصلے میں نوازشریف کو کلین چٹ ملنے کے امکانات نہیں البتہ مریم نواز اور ان کے شوہر کو کچھ سہولتیں مل سکتی ہیں۔ قانون میں خواتین کے لئے ہمیشہ ایک سافٹ کارنر ہوتا ہے اور کیپٹن (ر) صفدر بھی نوازشریف کی طرح براہ راست ملزم نہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved