تازہ تر ین

کمرہ عدالت میں گہماگہمی ،نواز ،مریم کی سزا معطل کرنے بارے دلائل مکمل

اسلام آباد(ویب ڈیسک ) ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزا معطلی سے متعلق درخواستوں پر نیب پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہوگئے۔اسلام آبا دہائی کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے جب کہ کمرہ عدالت کھچا کھچ بھر گیا۔نیب پراسیکیوٹر اکرم قریشی نے حتمی دلائل شروع کردیے، گزشتہ روز سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا تھا کہ اگر نیب پراسیکیوٹر نے آج دلائل مکمل نہ بھی کیے تو سزا معطلی کی درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔نیب پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کیس میں مخصوص حالات یہ ہیں کہ انہوں نے گلف اسٹیل ملز 1978 میں فروخت کی، مجرمان کے مطابق طارق شفیع اور عبداللہ قائد آہلی کے درمیان فروخت کا معاہدہ ہوا اور یہ موقف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں اپنایا گیا تھا۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا مجرمان کہتے ہیں کہ 1980 میں مزید 25 فیصد شیئرز فروخت ہوئے اور فروخت سے حاصل 12 ملین درہم قطری شہزادے کے پاس سرمایہ کاری میں استعمال ہوئے اور اسی سے ایون فیلڈ پراپرٹیز خریدی۔مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کی بنیاد یہی 12 ملین درہم ہیں، نیب پراسیکیوٹرنیب پراسیکیوٹر نے کہا مجرمان کے مطابق لندن فلیٹس کی خریداری کے لیے رقم کی بنیاد یہی 12 ملین درہم ہیں اور تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ فروخت کا معاہدہ جعلی ہے اور ایسا کوئی ریکارڈ دبئی کے ریکارڈ میں موجود ہی نہیں ہے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ دبئی کی حکومت نے بتایا 25 فیصد شیئرز کی فروخت کا معاہدہ ان کے پاس نہیں ہے۔ نیب پراسیکیوٹر نے دلائل کے دوران کہا کہ مریم نواز کی طرف سے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست کے ذریعے ایک موقف لیا گیا اور انہوں نے سپریم کورٹ میں سی ایم اے نمبر 7531کے ذریعے دستاویزات جمع کرائیں جس میں قطری خاندان سے کاروباری معاملات کا ذکر کیا گیا۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved