تازہ تر ین

وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب

سجادوریا……..گمان
وزیر اعظم پاکستان عمران خان دو روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب پہنچ چکے ہےں۔نئی حکومت کے قےام کے بعد جناب عمران خان کی کامےابی کو جہاں دنےا بھر مےں خوش آئند تبدیلی کے طور پر دےکھا گےا اور عالمی سطح پر بھر پور پذیرائی ملی ۔ وہیں سعودی عرب نے بھی تحریک انصاف کی کامےابی پر جناب عمران خان کو مبارکباد پےش کی۔پاکستان مےں سعودی عرب کے سفیر بنی گالہ پہنچے اور جناب عمران خان کو شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کا مبارک باد اور نےک خواہشات کا پےغام پہنچاےا ، ان کی کامےابی پر مسرت کا اظہار کیا اور پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا ۔عمران خان نے بھی ان کا شکرےہ ادا کیا ،سعودی عرب اور پاکستان کی دوستی کو لازوال قرار دےا۔
جناب وزیراعظم پاکستان عمران خان کو منتخب ہونے کے بعد شاہ سلمان اور ولی عہد نے فون کیے اور مبارکباد دی اور دونوں راہنماو¾ں نے اےک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنے کا عزم دہراےا ۔وزیراعظم عمران خان نے جب حکومت سنبھالی تو سرکاری اور عوامی پےسے کا ضےاع روکنے کے احکامات جاری کیے اور خود بھی سادگی کی مثال قائم کرتے ہوئے چھوٹے گھر مےں شفٹ ہوگئے اور اضافی گاڑےوں کی نیلامی کر نے کے احکامات جاری کیے۔ان تمام اقدامات سے قومی اور عالمی سطح پر عمران خان کی نےک نامی اورنےک نیتی کو شہرت ملی کہ وہ کچھ عوام کے لیے کرنا چاہتے ہےں۔کرپشن کے خلاف جنگ کا مشن تو عمران خان کی وجہ شہرت ہے ان کی ایمانداری پر تو مخالفین بھی انگلی نہیں اٹھا سکے۔سعودی عرب کے ولی عہد جناب محمد بن سلمان نے بھی کرپشن کے خلاف اقدامات کیے انہوں نے اےسے افراد کو گرفتار کر کے اےک ہوٹل مےں بند کردیا اور اضافی غےر قانونی رقم قومی خزانے مےں جمع کرانے کے احکامات جاری کیے۔جس سے ےہ ظاہر ہوتا ہے کہ عمران خان اور ولی عہد محمد بن سلمان کرپشن کے خلاف اےک ناقابل برداشت روےہ رکھتے ہےں۔
جےسا کہ مےں عرض کر چکا ہوں کہ ۲۵ جولائی کو پاکستان مےں آنے والی تبدیلی کو دنےا بھر مےں محسوس کیا گےا ،عرب دنےا نے اےک خاص مسرت کا اظہار کیا ۔سعودی عرب پاکستان کا عظیم دوست ہے،سعودی عرب ہر مشکل وقت مےں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔سعودی عرب کے سابقہ فرمانرواو¾ں نے ہمےشہ پاکستان کو معاشی اور عالمی معاملات مےں سپورٹ کیا ہے ،ان کی اےک خاص قسم کی رغبت اور محبت تھی جو ہمےشہ پاکستان کے لیے نظر آتی رہی۔ےہ پرانے رواےت پسند لوگ پاکستان سے بے لوث محبت دکھاتے رہے ہےں۔پاکستان سے سعودی عرب کی دوستی کے مےری نظر مےں دو ہی اسباب ہےں ۔اےک تو اسلام اور دوسرا پاکستان کی مضبوط افواج۔ان دو اسباب نے سعودی عرب اور پاکستان کو برادرانہ تعلقات مےں باندھ رکھا ہے ،پاکستان کی افواج ہمےشہ سعودی عرب کے دفاع اور حرمےن شریفےن کی حفاظت کے لیے کٹ مرنے کے جذبے سے لبرےز ہےں ،سعودی فورسز کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے مےں پاکستانی افواج اہم کردار ادا کر رہی ہےں۔سعودی عرب چونکہ ہمارا بے لوث اور مخلص دوست ہے اس لیے ہمےں بھی ان کی مجبورےوں اور مشکلات کا احساس ہونا چاہیے۔مےں سمجھتا ہوں کہ نئے حکمران ان دوستانہ تعلقات کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق نئے خطوط پر متعےن کرنے مےں کامےاب ہو جائےں گے۔دنےا بھر مےں اب نئی تقسیم،نئی دھڑے بندی اور نئے بلاک بن رہے ہےں ،امریکہ کی گرفت کمزور ہو رہی ہے جس سے مےں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کو فائدہ اُٹھانا چاہیے۔اس نئی دنےا مےں سعودی عرب اور چین کو مرکزی اہمیت حاصل ہوگی اور روس بھی اس بلاک کا حصہ بن جائے گا۔اس وقت پاکستان ان تین ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے مےں سنجیدہ کوششےں کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سعودی عرب مےں ہےں ،مدینہ منورہ مےں ان کا استقبال مدینہ کے گورنر بندر بن سلمان نے کیا ، اس موقع پرپاکستان کے سفیر جناب ہشام بن صدیق بھی موجود تھے۔وزیراعظم عمران خان جب ہوٹل پہنچے تو پی ٹی آئی کی طرف سے جناب عبدالعباس اورجناب جہانزےب منہاس نے استقبا ل کیا ،مےں نے مدینہ مےں مقیم جہانزےب منہاس سے بات کی تو وہ بتا رہے تھے کہ سعودی سرکاری پروٹوکول سابقہ حکمرانوں کی نسبت عمران خان کو خاص احترام اور عزت دے رہا تھا۔اللہ نے عمران خان کو عزت دی ہے اور وہ واقعی قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہےں۔
رےاض مےں پاکستانی سفارتخانے کے ترجمان مدثر چیمہ کو فون کیا کہ معلوم کر سکوں کہ سعودی حکمرانوں سے ملاقات مےں کن اہم ایشوز پر بات ہو گی تو انہوں نے کہا کہ ہم کمےونٹی کے مسائل بھی وزیراعظم کو پےش کرےں گے اس مےں وزٹ ویزا کی فیس بھی شامل ہے ۔وزیر اعظم عالمی منظر نامے پر بھی بات کرےں گے۔پاکستان کے معاشی مسائل کے لیے سعودی عرب کی مدد پر بات ہو گی۔تےل کے ادھار فراہمی کی خبرےں بھی پاکستانی میڈےا مےں چل رہی ہےں ۔پاکستان کی طرف سے مطالبہ کیا جائے گا کہ سعودی عرب مےں پاکستانی ورکروں کی تعداد بڑھائی جائے اور ان کو سہولیات فراہم کی جائےں۔
مےرا خےال ہے کہ وزیراعظم پاکستان سعودی عرب سے پاکستان کی معاشی مشکلات مےں تعاون حاصل کرنے مےں کامےا ب رہےں گے،مےرا تجزےہ ےہی ہے کہ وزیر اعظم پاکستان اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ،دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے مےں کامےاب رہےں گے کےونکہ دونوں رہنماو¾ں کی کےمسٹری اےک جےسی دکھائی دےتی ہے ۔ دونوں ممالک کو اندرونی،علاقائی اور عالمی چےلنجز کا سامنا ہے ، سعودی عرب اپنی کامےاب سفارتکاری اور دانشمندانہ حکمت عملی سے ان چیلنجوں سے تقریباََ نکل چکا ہے۔
سعودی عرب نے امریکہ کے ساتھ معاملات مےں اپنے اہداف کو حاصل کرلیا ہے اس وقت سعودی عرب کو عالمی محاذ پر وہ مشکلات نہیں ہےں جو پاکستان کو در پےش ہےں۔مےں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب ،پاک امریکا تعلقات کی بحالی مےں اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔امریکہ پاکستان کے تعلقات کمزور سطح پر ہےں اور دونوں ممالک سمجھتے ہےں کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ مےں زےادہ کردار ادا کیا ہے ۔جبکہ امریکہ کی’ ڈومور‘کی رٹ ان تعلقات کو بگاڑ رہی ہے۔امریکی وزیرخارجہ پومپیو کے دورے پر کوئی خاص پےش رفت سامنے نہیں آئی۔بس سننے اور سمجھنے کے علاوہ کوئی اقدامات سامنے نہیں آئے۔سعودی عرب ان حالات مےں معاون ہو سکتا ہے۔ پاکستانی میڈےا مےں ےہ خبرےں بھی آئی ہےں کہ سعودی عرب سی پےک مےں سرماےہ کاری کرنے پر آمادہ ہو گےا ہے ،اس ضمن مےں اگر سرکاری سطح پر کوئی کامےابی ملتی ہے اور باضابطہ اعلان ہوتا ہے تو مےں سمجھتا ہوں کہ ےہ بہت بڑی کامےابی ہو گی۔اس طرح سعودی عرب خطے مےں اےک حصہ دار کے طور پر اپنا کردار ادا کر سکے گا ،بھارت سی پےک کا مخالف ہے اس کو زوردار جھٹکا ملے گا کےونکہ بھارت ،سعودی عرب کے مفادات کے خلاف وہ احتجاج نہیں کر سکے گا جو وہ پاکستان کے خلاف کرتا ہے۔بھارت کے بہت سے مفادات سعودی عرب سے جڑے ہےں جس کی وجہ سے وہ محتاط روےہ اختےا ر کرے گا ۔بھارت کے لاکھوں شہری ،سعودی عرب مےں کام کر رہے ہےں اور زرمبادلہ بھےجتے ہےں ۔
پاکستان کے سابقہ حکمرانوں نے ہمےشہ ذاتی تعلقات کو فروغ دےا اور رےاستی مفادات کو خاص توجہ نہیں دی۔مےں سمجھتا ہوں عمران خان کا دورہ سعودی عرب اےک کامےاب دورہ ہوگا ،اس مےں دونوں سربراہان اپنی مکمل دوطرفہ دوستی کو پروان چڑھانے مےں کامےاب رہےں گے۔پاکستان کے وزیراعظم کی حےثیت مےں عمران خان نے سب سے پہلے سعودی عرب کا دورہ کر کے ےہ پےغام دیا ہے کہ ہم سعودی عرب کو ہر حال مےں انتہائی اہمیت دےتے ہےں۔پھر مدینہ مےں حاضر ہو کر ےہ بھی پےغام دیا کہ ہم نبی پاکﷺ کے ساتھ بے انتہا محبت کرتے ہےں ۔ہمارے تعلقات صرف دنےاوی نہیں ہم مذہب ،محبت اور عقیدت مےں بندھے ہوئے ہےں۔
مےری نظر مےں اےک اہم اور کامےاب دورہ ہے ،اس سے پاکستان کی معاشی اور سفارتی سمت کے تعےن مےں مدد ملے گی۔ہم دعا بھی کرتے ہےں کہ اللہ پاک پاکستان کو کامےاب کرے۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved