تازہ تر ین

این آر او….!

توصیف احمد خان

فیصلہ عدالتی ہے اور یار لوگ اسے کسی قسم کے این آر او سے جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ہمارے ہاں تھڑا ٹائپ سیاست عروج پر ہے اوراس سیاست میں عجیب عجیب ”انکشاف“ ہوتے ہیں۔ ان کی باتیں سن کر محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں سب سے زیادہ اہمیت انہی کی ہے اور جس اعتماد کے ساتھ ”راز“ بتائے جاتے ہیں ان سے تو یہی لگتا ہے کہ سب کچھ ان سے پوچھ کر کیا جا رہا ہے یا کم از کم ان کی رائے کو کچھ نہ کچھ وزن ضرور حاصل ہے۔ عمران خان صاحب گزشتہ روز سعودی عرب کیا گئے یار لوگوں نے کل کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کا تعلق اس دورے سے جوڑ دیا کہ سارے معاملات وہیں طے پاتے ہیں حالانکہ ہمارے نزدیک سعودی عرب کی اب نوازشریف اینڈ کمپنی میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے۔ نوازشریف کے اقتدار کے آخری دنوں سے ہی سعودی حکمرانوں نے ان کے ساتھ سرد مہری برتنا شروع کر دی تھی جس کی وجوہات بھی میڈیا پر آ چکی ہیں۔ لہٰذا ہماری سوچ ان تھڑا باز سیاستدانوں یا دانشوروں اور عقلمندوں سے یکسر مختلف ہے۔ معاملات کو حالات و واقعات کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو جو تصویر بنتی ہے وہ ان لوگوں کی بنائی گئی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ہماری عدالتوں میں کئی ایک فیصلے ایسے بھی ہوئے ہیں جن کے اس ملک کے حق میں نتائج اچھے نہیں نکلے اور چند روز قبل محترم چیف جسٹس نے بھی ضمناً اس کا ذکر کیا تھا، لیکن عدلیہ کا ہر فیصلہ برا نہیں ہوتا۔ صرف ہماری خواہشات اور سوچ اسے اچھا یا بُرا بنا دیتی ہے۔ اس میں قصور فیصلے یا جج کا نہیں ہمارے طرزِفکر کا ہوتا ہے اور رہا نوازشریف خاندان کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ تو اس کے خدوحال روز اول سے ہی واضح ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ماضی میں کہا جاتا تھا کہ جج نہیں ان کے فیصلے بولتے ہیں مگر آج صورتحال یکسر مختلف ہے۔ ہم بڑے احترام کے ساتھ عرض کریں گے کہ اب جج بھی بولتے ہیں اور کافی کچھ بولتے ہیں۔ ان کے اس بولنے کی بنا پر سمجھ آنا شروع ہو جاتی ہے کہ فیصلہ کیا ہو گا اور اس معاملے میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیش آئی ہے کہ معزز جج حضرات نے جو قانونی نکات اٹھائے انہوں نے بڑی حد تک احتساب عدالت کے فیصلے کی خامیوں اور نیب کی تفتیش میں کی گئی کوتاہیوں کو واضح کر دیا تھا۔ شاید نیب کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا کہ اس نے بھاگم بھاگ سپریم کورٹ میں اپیل کر دی اور منہ کی کھائی۔ اب بدھ کے فیصلے کے بعد بھی نیب کا اعلان ہے کہ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں جائے گا۔ سپریم کورٹ اپیل پر کیا فیصلہ کرتی ہے…. اس کے بارے میں رائے دینا ناممکن ہے اور ابھی تک اپیل کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فی الحال اپیل کی نہیں گئی۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی صدارت میں اجلاس نے یہ فیصلہ کیا۔ وہ خود بھی سپریم کورٹ کے سینئر جج رہے ہیں، ان کے ذہن میں کچھ نہ کچھ تو ہو گا جس کاوقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ گلی محلوں میں گونجنے والی یہ این آر او کی تھیوری کہاں سے آ گئی جس سے اچھے خاصے سمجھدار اور سیانے لوگ بھی متاثر ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ تھیوری وہی ہے جس کو سن سن کر کان پک گئے ہیں کہ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز یا مریم صفدر دس برس کے لیے ملک سے چلے جائیں گے، وہ سیاست میں حصہ نہیں لیں گے، لوٹی ہوئی دولت بھی واپس کر دیں گے۔ اب اس میں ایک اور عنصر کا اضافہ ہو گیاہے کہ نوازشریف سے ایک اعترافی بیان لے لیا گیا ہے تاکہ وعدہ خلافی کی صورت میں اس کو منظر عام پر لایا جا سکے۔ معلوم نہیں اس قسم کی ہوائیاں کہاں کہاں سے چھوڑی جا رہی ہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی نے کوئی بے ضرر سی بات کی ہو اور وہ کانوں کان چلتی ہوئی بتنگڑ بنتی گئی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا۔ بہت زیادہ دنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔ نوازشریف اور ان کی صاحبزادی بیرون ملک چلے گئے اور انہوں نے سیاست کے حوالے سے اپنے منہ سی لیے تو ہم بات کا بتنگڑ بنانے والوں کو گرو مان لیں گے۔ بصورت دیگر یہ لوگ کوئی اور تاویل گھڑ لیں گے۔ آخر ان کے ”خزانوں“ میں کیا کمی ہے۔
لیکن اس ساری صورتحال میں کوئی بھی بیچارے کیپٹن صفدر کو نہیں پوچھ رہا۔ سزا ان کے سسر اور اہلیہ کو ہی نہیں موصوف کو بھی ہوئی ہے اور وہ بھی جیل میں ان کے ساتھ ہی تھے، لیکن اب جہاں بھی ذکر ہوتا ہے باپ بیٹی کا ہوتا ہے۔ آخر کپتان صاحب بھی تو اس ساری اذیت سے گزرے ہیں۔ کوئی ان کی بھی تو خبر لے۔ کوئی خبر نہیں بھی لیتا تو جلد ہی وہ خود بول پڑیں گے اورخوب بولیں گے۔
آج لکھنے کا ارادہ تو مقدر کے اس دھنی کے بارے میں تھا جسے محترم وزیراعظم کی یاری کا شرف یا اعزاز حاصل ہے۔ اس یاری میں فاصلے کم اور قربتیں زیادہ ہیں۔ ہماری مراد زلفی بخاری سے ہے جن کا نام تو اکثر سننے کو ملتا تھا مگر شہرت اس وقت ملی جب عمران خان سعودی عرب جاتے ہوئے بلیک لسٹ میں نام ہونے کے باوجود انہیں صاف نکال لے گئے۔ سنا گیا ہے کہ بہت سے فیصلوں اور معاملات میں وہ خاصی حد تک دخیل ہیں بلکہ لوگ تو انہیں اے ٹی ایم مشینوں میں سے ایک قراردیتے رہے ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم ایسا ہے کہ نہیں مگر نوازشات کا سلسلہ بتاتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے یا پھر یہ خالص یاری کا معاملہ ہے کہ عمران خان صاحب خاصے دوست نواز مشہور ہیں۔ ان پر حالیہ عنایت یہ کی گئی ہے کہ انہیں وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کر دیا گیاہے۔ معاون خصوصی بھی کسی اور معاملے کا نہیں اوور سیز یعنی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا…. مخالفین کی طرف سے ان پر اعتراضات اٹھائے گئے اور کہا گیا ہے کہ وہ دوہری شہریت کے حامل ہیں یعنی ان کے پاس برطانیہ کی شہریت بھی ہے جہاں وہ وسیع کاروبار کے مالک ہیں۔ ہماری دانست کے مطابق آئین میں دوہری شہریت کی بنا پر معاونِ خصوصی بننے پر کوئی پابندی نہیں۔ یہ پابندی ان لوگوں کے لیے ہے جو منتخب ہو کر آتے ہیں۔ اخلاقی طور پر کسی بھی حکمران کو اسے پیش نظر رکھنا چاہئے تاہم معاملہ اپنی اپنی اخلاقیات کا ہے لیکن دوسرا معاملہ اہم ہے کہ یہ سمندر پار پاکستانیوں کے معاملات کی دیکھ بھال کرنے والا کیسا شخص ہے جو خود سمندر پار نہیں جا سکتا کہ اس پر سمندر پار جانے کی پابندی ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ خود اس کا نام ای سی ایل میں شامل ہے اور وہ برطانیہ کا شہری ہونے کے باوجود پاکستان کی سرحد سے ایک انچ آگے نہیں بڑھ سکتا لہٰذا اسے نہیں سمندر پار پاکستانیوں کو اس کے پاس آنا ہو گا۔ حکومت بننے سے پہلے اعلان تو یہ تھا کہ کسی نیب زدہ کو وزیر وغیرہ نہیں بنایا جائے گا مگر اب سب چل رہا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر زلفی بخاری تک کابینہ نیب زدہ لوگوں سے بھری پڑی ہے اور یہ نیب کا بھی امتحان ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved