تازہ تر ین

زندگی سجدے میں

قسور سعید مرزا / ایک نظر ادھر بھی
حدیث قدسی ہے کہ ”اے محمد اگر میں تم کو پیدا نہ کرتا تو دنیا ہی نہ بناتا“ ایسی ہستی مبارک جن کے لئے رب کائنات اتنا بڑا اعزار بخشے اور وہ عظیم ہستی یہ فرمائیں کہ حسینؓ مجھ سے ہے اور میں حسین ؓسے ہوں۔ برصغیر پاک وہند میں بسنے والے تمام مذاہب کے پیروکاروں نے ہمیشہ ہی سے حضرت امام حسینؓ بن سیدنا علیؓ ابن ابی طالب کی شخصیت کا ذکر نہایت ادب و خلوص کے ساتھ کیا ہے۔ جو صدیاں گزرنے کے باوجود ترو تازہ ہے اورقیامت تک تازگی عطاءکرتا رہے گا۔ مسلمانوں کے ہاں یہ تہذیبی، سیاسی، انقلابی، مزاحمتی، تمدنی، فکری اور تحریکی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ یہ محض ایک ذات ہی کا ذکر بن کر نہیں رہ گیا ہے بلکہ یہ انسان کے درد، محروموں کی محرومیوں، ظلم و جبر اور استحصال کے خلاف ہماری روح اور ضمیر کا مستقل احتجاج ہے ۔ اس احتجاج میں دنیا بھر کے مظلومین، منافقت و ملوکیت کے مخالفین، حق و صداقت کے عارفین، امن و محبت کے عاشقین اور صبر و استقامت کے امین شامل ہیں۔سوچنے کا مقام ہے کہ فرمانِ رسول خدا کی روشنی میں کوئی شخص امام عالی مقام کے ہم مرتبہ ہو سکتاہے۔ ہر شخص کا اپنا حسب اور نسب ہوتا ہے۔ حسب اپنی قابلیت، علم، محنت اور صلاحیت سے پہچانا جاتا ہے۔ ذاتی کمال ہی حسب کہلاتا ہے جبکہ نسب انسان کا خاندانی پس منظر ہوتا ہے۔ حسب و نسب لازم و ملزوم نہیں ہوتے مثلاً حضرت سلمان فارسیؓ، حضرت ابوذر غفاریؓ، حضرت بلالؓؓ اور حضرت اویس قرنیؓ کا نسب کیا تھا اور حسب ان کو کہاں سے کہاں لے گیا۔ افضل ترین انسان وہ ہوتا ہے کہ جس کا حسب بھی بلند ہوا اور نسب بھی۔ قربان جائیے حضرت امام حسینؓ پر ذرا نسب پر غور فرمائیے کہ نانا حضور سردار الانبیاء، والد محترم سید الاولیائ، والدہ محترمہ جنت میں خواتین کی سردار اور خود جنت میں نوجوانوں کے آقا۔ حسب کیا ہوتا ہے کہ کربلا میں یہ دعا نہیں کی کہ اے اللہ مجھے اس مصیبت سے بچا بلکہ یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ مجھے اس آزمائش میں ثابت قدم رکھ۔ کربلا کے اندر سب ہی مسلمان کہلانے والے تھے۔ یزید بھی نماز پڑھ رہا تھا۔ حسینؓ بھی محو نماز تھے۔ ایک جانب مسلمانوں کی نماز تھی دوسری طرف عشق والوں کی نماز تھی۔ عشق والے خود مشکل کشا ہوتے ہیں۔ مگر وہ اپنی ذات کے لئے مشکل کشائی نہیں کرتے۔ یہ تسلیم و رضا والے ہوتے ہیں جو مالک حقیقی کی رضا پر راضی رہتے ہیں حالانکہ خود کن فیکون کے درجے پر فائز ہوتے ہیں مگر ”دوست“ کا بھید ظاہر نہیں کرتے خود اپنی جان سے گزر کر امر ہو جاتے ہیں۔ شہید بظاہر ناکام شخص ہوتا ہے مگر ساری کامیابیوں کا سہرا اسی کے سر ہوتا ہے۔
گھوڑے تو دوڑے لاشہ شبیر پر مگر
تاریخ نے یزید کو پامال کر دیا
اللہ اپنی کتاب مبارک کی سورہ شوریٰ آیت نمبر23، سورہ ابراہیم آیت نمبر 41، سورہ الاحزاب آیت نمبر 33 میں کن کی شان بیان کر رہا ہے۔ اللہ کی کتاب کے بعد صاحبِ کتاب کیا فرما رہے ہیں کہ حسنؓ و حسینؓ میری دنیا کے دو پھول ہیں یہ دونوں میری بیٹی کے بیٹے ہیں اے میرے مالک میں ان سے محبت رکھتا ہوں، تو بھی ان سے محبت رکھ، یہ بھی آپ شان والا ہی کا فرمان ہے کہ حسینؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے پھر فرمایا کہ جو شخص اہل بیت کی محبت میں مرا وہ مومن مرا اور جس شخص نے میرے اہل بیت پر ظلم کیا خدا نے جنت اس پر حرام کر دی۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی کتاب سراّ لشہادتیں میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسینؓ کی شہادت حضرت سیدنا محمد کی شہادت ہے۔ اسی طرح اگر ایک فاسق، فاجر، ظالم، شرابی یزید کی بیعت سیدنا امام حسینؓ کر لیتے تو یہ امام عالی مقام کی بیعت نہ ہوتی بلکہ یہ پاک پیغمبر کی بیعت کہلاتی۔ قربان جائیے ایسے قائد، رہنما اور رہبر پر کہ جس کے بھائی بازو کٹانے پر، بہن بازار میں پابَچُولاں ہونے پر، بھتیجے جان لٹانے پر، بھانجے ماﺅں کی آغوش سے بچھڑنے پر اور بیٹے پنگھوڑے میں تیروں سے چھلنی ہونے پر آمادہ ہوں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اسلام اپنی ابتداءسے کربلا تک محمدی ہے اور کربلا سے قیامت تک حسینی ہے۔ ایسا کیا ہے کہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ سے لے کر خواجہ پیر سید مہر علی شاہؒ تک ہر ولی، سعدیؒ اور جامیؒ سے لے کر علامہ اقبال اور مولانا ابوالکلام تک اہل بیت کی مداح سرائی میں کسی سے پیچھے نہیں۔
ہر باشعور اورصاحب فہم انسان حضرت امام حسینؓ کے حضور سر جھکائے ٹھہرا ہے اور مودب ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ میدان عمل میں حضرت امام حسینؓ سرخرو ٹھہرے اور تاریخ انسانی کو فتح کرگئے۔ یہ کوئی معمولی بات تھی کہ شہر عافیت و رحمت کو چھوڑ کر وادی کرب و بلا کو آباد کریں اور اپنے موقف کی صداقت میں اپنے عزیزوں اور بچوں کے خون کا نذرانہ پیش کریں۔ کون سا ستم تھا جو آل رسول پر نہیں توڑا گیا۔ بیماروں کو نہ بخشا گیا اور بقول شاعر
نصیرعداوت کے بھی کچھ آداب ہوتے ہیں
کسی بیمار کو زنجیر پہنائی نہیں جاتی
جہاں جبرائیل بے اذن نہ آتے ہوں وہ کاشانے جلائے گئے۔ جن کو نبی پاک اپنے کاندھوں پر سوار کراتے ہوں وہی نیزوں سے گرائے گئے اور جن ہستیوں کی وجہ سے پردہ قائم کیاگیا تھا وہ ہستیاں بازاروں میں پھرائی اور گھمائی گئیں۔ یہ الگ بات کہ حسن ازل نے ہمیشہ عشق ہی کو اپنی اداﺅں کا تختہ مشق بنایا۔ رکوع میں انکسار اور سجدہ میں دیدار عشق ہی نصیب ہوا۔
صدق خلیل بھی عشق، صبر حسین بھی عشق
معرکہ وجود میں بدرو حنین بھی ہے عشق
یہ تاریخ کی نپی تلی حقیقت ہے کہ راہ حق کے مسافر مصائب والام سے گھبرایا نہیں کرتے۔ یزیدیت جب بھی کبھی سر اٹھائے گی عزم حسین ہی رہنما ہوگا کیونکہ اس شجر کی آبیاری خون سے ہوئی ہے۔
شہادت نیکی کی حد ہے۔ شاہد اپنے شہید کو اپنے حضور میں حاضری کے شرف سے مشرف فرماتا ہے شہادت ناز کا مقام ہے۔ شہادت کا نشہ اذیت پر غالب ہوتاہے۔ کردار اور ابتلاہی تاریخ کے سنہری اوراق ہیں۔ کردار اور ابتلا لازم و ملزوم ہیں۔ جس معیار کا کردار،اس معیار کی ابتلا کرنی اور کردار کسی کا بھی ہو۔ کبھی نہیں مرتا۔ زند رہتا ہے۔ جناب امام عالی مقام نے وہی کردار ادا کیا کہ جواُن کے معیار اور شان کے مطابق تھا۔ انہوں نے ڈنکے کی چوٹ پر یزید کی بیعت سے انکارکیا اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کو پامال کرتا ہے۔ حلال حرام میں فرق نہیں رکھتا، بے گناہ انسانوں کا قاتل ہے۔ یہ امام کی حقیقی اور ابدی زندگی کی جانب سفر کا آغاز تھا۔ امام عالی مقام نے اجتماعی قربانی کے ذریعے اپنی دائمی حیات کو عزت بخشی، شہادت کے مقام کو رفعت عطاءکی۔ حسینی طرز شہادت اصل میں اللہ اور اللہ کے رسول تک پہنچنے کا سنہرہ راستہ ہے۔ امام عالی مقام سورہ¿ مزمل کی لغت میں ”رتل القرآن ترتیلا“ کے مقام پر فائز تھے۔ کربلا کی خاک پر بشر سجدے میں نہیں تھا۔ زندگی سجدہ کررہی تھی۔ موت و حیات، فنا و بقا کے راز سے پردہ ہٹ رہا تھا۔ نوک نیزہ پر زندگی تلاوت کررہی تھی اورکربلا گواہی دے رہی تھی۔ زمین لرزرہی تھی اور بقول افتخار عارف،
کربلا کی خاک پر کیا آدمی سجدے میں ہے
موت رسوا ہوچکی زندگی سجدے میں ہے
حشر تک جس کی قسم کھاتے رہیں گے اہل حق
اک نفس مطمئن اسی دائمی سجدے میں ہے
جب تک نوع انسان کے درمیان حق و باطل، خیروشر، ظالم و مظلوم کی آویزش رہے گی حضرت امام حسینؓ ایک قوی علامت کے طور پر انسانیت کے حق اور خیر کے لیے ظلم کے خلاف جدوجہد کا درس دیتے رہیں گے۔ امام حسینؓ کے کارنامے کو سنی، شیعہ کی بھینٹ چڑھانے والے ناکام اور نامراد رہیں گے۔ امام عالی مقام کا جہاد کسی فقہی، فروعی اور جزئی مسئلے کے لیے نہیں تھا اور نہ ہی کسی گروہ کی سربلندی اور حقانیت کو ثابت کرنے کے لیے قربانی دی ۔ ہم نے اپنی بداعمالیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بڑی ناروا جسارت کرتے ہوئے اصحاب نبی اور اہل بیت کو ایک دوسرے کا حریف بنادیا حالانکہ یہ حریف نہیں حلیف ہیں۔ آل رسول سے اظہار عقیدت کا مطلب اصحاب نبی سے گریز نہیں اور نہ ہی صحابہ کرامؓ کا احترام آل رسول کی عزت و حرمت کے منافی ہے۔ آﺅاے انسانوں سلام بھیجو اپنے اس محسن پر کہ جس نے اپنے خون سے تمہارے لئے عظمت کی شاہراﺅں پر چراغ جلائے اور یہ حقیقت جان لو کہ حسینؓ ایک ملت کا نام ہے جس کی ابتداءحضرت ابراہیم سے ہوئی اور کربلا کے میدان میں اپنے نکتہ عروج کو پہنچی۔ حسینؓ صدائے انقلاب ہے۔ جو ہر دور میں بلند ہوتی رہے گی۔ حسینؓ ایک تہذیب کا نام ہے۔ حسینؓ شرافت کا ایک معیار ہے۔ امام عربی لغت میں اس آہنی لٹو کو کہتے ہیںکہ جو مستری لوگ ٹیڑھی دیوار کو سیدھا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اسلامی دیوار میں جو کجی آگئی تھی اسے امام حسینؓ نے اپنا اور اپنے خاندان کا خون دے کر سیدھا کیا۔
الصلوة و السلام علیک یا رسول اللہ
الصلوة والسلام علیک یا ابن رسول اللہ
(کالم نگارایوان صدر پاکستان کے
سابق ڈائریکٹرجنرل تعلقات عامہ ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved