تازہ تر ین

کیا صبح ہوگئی؟

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
مقصد تنقید برائے تنقید ہو اور وہ فقط زبانی کلامی نہیں بلکہ قرطاس پر ہو تو یہ ایک جرم ہی نہیں بلکہ گناہ بھی ہے۔ اسی کو ”ذہنی بددیانتی“ بھی کہا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی ناروا تنقید کے ”حساب کتاب“ میں سے دنیا و آخرت میں گزرنا ہی ہوگا۔ آج کل کے جمہوری دور میں اختیارات اور ذمہ داریاں، کسی فرد واحد کی بجائے اجتماعی طور پر نبھانا ہوتی ہیں۔ بادشاہت یا ڈکٹیٹر شپ کے برعکس جمہوریت میں ذات کی بجائے ”جمہور“ کو ہر فیصلے میں شامل کرنا پڑتا ہے۔ تبھی تو اس کو جمہوریت کہا جا سکے گا۔ ہمارے ہاں رائج جمہوریت میں فیصلے پارلیمان کرتی ہے جو کہ بائیس کروڑ عوام کی اکثریت میں نمائندگی کرتی ہے۔ یہی پارلیمان پھر اپنی اجتماعی ذمہ داریاں اور حکومتی اختیارات، کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے توسط سے ادا کرتی ہے۔ یاد رہے کہ متعلقہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے کابینہ کے وزیر بھی ”جوابدہ“ ہوئے ہیں۔ مگر ایسا کوئی کرے تو پھر۔ ہماری جمہوریت تو سر سے پیر تک کج رو ہے۔ ابھی تک سنبھلنے اور سیدھا چلنے کا نام نہیں لیتی۔ برطانوی طرز جمہوریت سے ہم روشنی لیتے ہیں۔ ویسٹ منسٹر کے پارلیمنٹ ہاﺅس میں چلتی ہوئی ادا کو اپنانا ہی اپنا قبلہ گردانتے ہیں۔ مگر انہوں نے تو اپنی فقط ”روایات“ کو اپنی جمہوریت بنا رکھا ہے۔ اپنا دستور آج تک قرطاس پر نہیں چڑھایا مگر پانچ چھ صدیوں سے اپنے نظام کو صحیح جمہوری ”رویوں اور روایات“ سے یوں چلا رہے ہیں کہ دنیا ان کی جمہوریت پسندی کی مثالیں دیتی ہے۔ اسی دوران انہوں نے ایک نہیں بلکہ دو جنگ ہائے عظیم بھی لڑی ہیں۔ صرف لڑی ہی نہیں بلکہ جیتی بھی ہیں۔ ان کی جمہوریت ان جنگوں اور نامساعد حالات میں بھی نہیں ڈوبی۔ بلکہ دوسری جنگ عظیم کے وقت تو ان کے مشہور وزیراعظم سرونسٹن چرچل نے اپنی کامیابی کو اپنی عدالتوں اور جمہوری نظام کا مرہون منت ٹھہرایا تھا۔ اپنی افواج اور ان کی جنگی مہارتوں کا تذکرہ بھی نہیں کیا تھا حالانکہ بذات خود وہ ایک فوجی پس منظر بھی رکھتے تھے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہماری پارلیمانی جمہوریت اس قدر کج رو کیوں ہے۔ جبکہ نقل لگانے کیلئے ہمارے سامنے صدیوں پرانی برطانوی جمہوریت موجود ہے اور یہ سب کچھ اس کے باوجود ہو رہا ہے کہ ہم نے اپنا آئین لکھ بھی رکھا ہے جو کہ ہمیں پارلیمانی پٹڑی پر سیدھا رکھنے کیلئے کافی ہونا چاہیے تھا۔ اس کیلئے ہمیں مختصراً اپنی چھوٹی سی تاریخ پر ایک نگاہ ڈالنا ہوگی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مملکت کا پہلا دستور بننے تک ہمارے قومی رہنماﺅں کو یہ احساس ہی نہ ہو سکا تھا کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں اور سارا کچھ انہوں نے اب خود ہی کرنا تھا۔ انگریز وائسرائے کا رول ختم ہو چکا تھا اور قائداعظم کی رہنمائی بھی ایک برس کے بعد اٹھ چکی تھی۔ مگر خیر یہ ہوئی کہ ملک کی افسر شاہی ابھی تک اپنے نظام کو انگریزی نظم و ضبط کے تابع رکھے ہوئے تھی۔ میرٹ پر استوار، کام کرنے کی روایت ابھی موجود تھی۔ سیاستدان ناکام ہوئے تو دستور سازی کا مرحلہ ایک سابق بیورو کریٹ چودھری محمد علی کے وسیلے سے ہی طے ہوا ۔ جب بات سول افسروں کے حوالے ہوئی تو ملٹری کے افسران ان سے کہیں زیادہ نظم و ضبط کے پابند تھے۔ انہوں نے سکندر مرزا جیسے سول افسر کو ملک بدر کیا اور جنرل ایوب خان خود ہی جھٹ سے کرسی پر بیٹھ گئے۔ اور ادھر ہی سے ہمارا وطن پارلیمانی نظام کی پٹڑی سے اتر گیا۔ خیر ملٹری بیورو کریسی کے ماتحت سول بیورو کریٹس نے دل جمعی سے کام کیا۔ ایک مارشل لاءایڈمنسٹریٹر کو یا ایک صدر اور گورنر وغیرہ کو خوش رکھ کر ملک کی فلاح کے منصوبوں پر ایمانداری سے عملدرآمد کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان ایشیا بھر میں معاشی ترقی کا ایک روشن ستارہ بن گیا۔ ایسا ستارہ کہ جس کی تقلید اقوام عالم فخر سے کرنا چاہتی تھیں۔ معاشی ترقی تو ہوگئی مگر 1962ءکے آئین میں بنیادی جمہوریتوں کے باوصف حقیقی جمہوریت تو یہاں پنپ ہی نہ سکی تھی۔ صدارتی نظام میں سول افسر شاہی بھی سر سے پاﺅں تک ہرگناہ اور سماجی بیماریوں میں مبتلا ہوتی گئی۔ اس نظام کے گھنٹہ گھر میں فرد واحد کو خوش رکھ کر کوئی بھی اللے تللے کرسکتی تھی ۔ سو انہوں نے کئے بھی۔ ایسی جمہوری گھٹن میں ملک دولخت ہوا تو باقی ماندہ پاکستان میں پھر سے دستور بنا اور ذوالفقار علی بھٹو نے ایک بار پھر سے پارلیمانی جمہوریت کو رواج دینے کی کوشش کی۔ مگر اب تک یہاں کی افسر شاہی ڈکٹیٹر شپ کے لوشے لے چکی تھی۔ اب وہ وطن کی بجائے اپنی ذات اور خاندان کو خوشحال کرنے کا زیادہ سوچتی تھی۔ اس کیلئے فارمولا بھی بڑا سادہ تھا کہ حکمران (گو کہ وہ اپنے تئیں ایک جمہوری بھی کہلاتا ہو) کو مہاوی، ظل الٰہی اور عقل و دانش کی آخری سیڑھی پر چڑھا کر رکھو اور نیچے سے ذاتی مفادات کے ٹوکرے لبالب بھرتے رہو۔ اس طرح سے اس کو عقل و دانش کا ایک پہاڑ بنا کر زمین پر نظر ڈالنے سے روکے رکھو گے تو پھر وہ جمہوریا عوام کو بھی ”اپنی ذات ہی میں سموکر“ پارلیمان، کابینہ یا نچلی سطح کی دیہی اور علاقائی جمہوریتوں کو اختیارات دینے سے باز رہے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو جیسا ذہین و فطین لیڈر، بیورو کریسی کے ایسے ہی جال میں یوں پھنسا کہ اس نے ایف، ایس ،ایف جیسے نازی صفت ادارے بنا کر دلائی کیمپ بھی کھولے اور برسر عام، اختلافی رائے رکھنے پر نواب محمد احمد جیسے لوگوں کو گولیاں مروا کر راستے سے بھی ہٹایا جیسے کہ وہ کوئی ظل الٰہی یا شہنشاہ ہو۔ ایسے ہی انداز سے جونہی اس نے اگلا الیکشن ڈرامہ رچایا تو اس کے بیورو کریٹس نے اس کے لئے ان چاہے نتائج بھی برآمد کروادیئے۔ مگر پھر یہی نتائج اسی کے گلے پڑ گئے۔ اس سے اس کی ”مضبوط وزیراعظم والی کرسی“ بھی چھن گئی اور اس کے چند مہینوں بعد وہ تختہ دار پر بھی چڑھ چکا تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک بار پھر ملک میں ایوب خان جیسا جنرل ضیا حکمران ہوچکا تھا اور اسی کی طرز پر جنرل ضیاءالحق نے ایک پارلیمانی وزیراعظم بھی چن لیا تھا۔ ان تمام برسوں میں گو کہ وطن عزیز کے عوام کی ہار ہوئی اور یہاں کی پارلیمانی جمہوریت بھی محمد خان جونیجو جیسے شریف النفس انسان کی صورت میں بھی برباد ہوئی مگر یہاں کی افسر شاہ کی ”متواتر جیت“ بھی رہی۔ وہ ذوالفقار علی بھٹو کو ”عقل کل“ قرار دینے کی بات تھی یا نوازشریف جیسے وزیراعظم کو ”امیر المومنین“ کا خواب دکھانے کا عمل‘ حقیقت یہ ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بعد پاکستان کی بیوروکریسی نے وطن میں ایک کھلا اور ننگا ناچ ناچا‘ جس میں عوام پاکستان کے ساتھ ”ریاست“ بھی مکمل طور پر ہماری ہے اور جیت صرف اور صرف ہماری افسر شاہ کی ہوئی ہے۔ آپ تجربے کے طور پر کسی بھی ضلعی‘ صوبائی یا مرکزی سطح کے افسر کی جائیدادوں کا ”پورٹ فولیو“ ملاحظہ کرلیں تو الا ماشاءاللہ آپ کے دماغ کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ اس میں نہ صرف ان کی کمائیاں دیکھنے کو ملیں گی بلکہ ان کی ڈالی گئی وارداتیں اور ان کو چھپانے کی تکنیکی کارروائیاں بھی آپ کو عش عش کرنے پر مجبور کردیں گی اور بالخصوص جب سے لوٹ کے مال کو بیرون ملک ٹھکانے لگانے کا رواج چل نکلا ہے‘ اس ”فن لوٹ مار“ کو ہماری بیوروکریسی نے اور بھی چار چاند لگا دیئے ہیں۔ بہرحال‘ یہ تو جو کچھ ہے سو ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تبدیلی اور روشن پاکستان کے دعوےدار وزیراعظم عمران خان نے اگلے روز جو اس افسر شاہ کے سینئر ترین نمائندوں کو اسلام آباد میں اکٹھا کیا ‘ کیا وہ ان کی قابلیتوں اور طریقہ ہائے وارداتوں سے کلی طور پر واقف بھی ہےں اور اگر واقف ہےں بھی تو جو لوگ تواتر سے حکمرانوں کو چکر دینے کی قابلیت رکھتے ہیں‘ عمران خان ان سے کیسے محفوظ رہے گا؟ اس کا جواب یہی ہے کہ عمران خان کے سامنے کوئی پاکستانی بیوروکریسی کی تاریخ رکھے اور اسے سمجھائے۔ گھٹنوں گھٹنوں تک کرپشن میں دھنسی اس بیوروکریسی نے بھٹو سے لے کر جنرل مشرف تک‘ کس کس کو دن میں تارے نہیں دکھائے۔ جہاں تک نوازشریف اور بینظیر یا اس کے خاوند کا تعلق ہے تو کون نہیں جانتا کہ اس افسر شاہی کو کرپشن کے میدان میں تو ان دونوں کے ٹولوں نے بھی مات یوں دے رکھی تھی کہ وہ نت نئی وارداتیں ڈالنے کے لئے ان شریفوں اور زرداریوں سے طریقے سیکھتے رہے ہیں۔ سو اب عمران خان نے اگر اس بیوروکریسی سے کوئی کام ”ایمانداری“ سے نکلوانا ہے تو یہ اس کی بھول ہوگی۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ عمران کو مست کرنے کے لئے جلد ہی کوئی ”گیدڑسنگھی“ تیارکرلیں گے اور پہلی کی طرح پھر کھل کر کھیلیں گے۔ پاکستان تو پہلے ہی لٹ چکا ہے‘ مزید لوٹنے کے لئے یہ افسران حکومت کو بھی راستے دکھائیں گے۔ ٹیکس بڑھاﺅ‘ پٹرول بجلی مہنگا کرو اور بیرونی قرضے بے دریغ اٹھاﺅ اور قوم کے سروں پر سوار کردو۔ اس کے علاوہ وہ ہر دوسرے حل یا راستے کو ناقابل عمل قرار دیتے رہیں گے کیونکہ ان کے کھلے دہانوں میں فی الفور کچھ پڑنا چاہئے۔ دوسرے راستوں سے کچھ دیر ہوسکتی ہے؟ جو اس باﺅلی افسر شاہی کو برداشت قطعاً نہیں ہوگی۔
مگر جب کام انہی سے لینا ہے تو پھر مجبوری بھی تو ہوتی ہے۔ عمران خان نے ان کو اکٹھا کرکے اور ان کو کرپشن پر ”زیرو مفاہمت“ کا سنا کر ایک درست قدم اٹھایا ہے۔ وہ ایسے لیکچر پر دل ہی دل میں ضرور ہنسے بھی ہوں گے کیونکہ عمران خان ان کے لئے کوئی پہلا حکمران نہیں۔ ایسے حکمران تو پانچ برس کے لئے آتے ہیں جبکہ یہ بیوروکریٹ کم و بیش 35 سے 40 سال تک پاکستان کی گردن پر سوار رہتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہماری بیوروکریسی فقط جونیئر یا سینئر لیول کی ”کلرکی“ تک محدود کردی جائے۔ اس کا سیدھا سادھا اور جمہوری راستہ اپنے اوپر‘ اپنی کابینہ‘ اس کی کمیٹیوں اور مکمل پارلیمان پر بھروسہ کرکے ”فیصلے“ کرنے سے مشروط ہوگا۔ ”فیصلوں“ کی ہر بنیاد اگر عوامی پارلیمان سے اٹھے گی تو یہ افسر خود بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ اس سلسلے میں دوسرا بڑا قدم عمران خان کو صوبوں کی وساطت سے آئین کے آرٹیکل نمبر 140 کی رو سے مقامی سطح کی جمہوریتوں کو مکمل انتظامی‘ سیاسی اور فنانشل آزادی دے کر اٹھانا ہوگا۔ پرویز مشرف کو اس سلسلے میں اسی بیوروکریسی نے ناکام کردیا تھا۔ ضروری ہے کہ وہاں سے سبق حاصل کرکے ان افسروں کو لوکل سطح پر ”مکمل بے اختیار“ کرکے‘ یونین کونسل کو مکمل اختیارات سے مالامال کردیا جائے۔ پی ٹی آئی یاد رکھے کہ اگر اس نے ان دو نقاط پر کماحقہ ‘ عمل کرکے جمہوری اداروں کو ”ان کی اصل روح“ کے مطابق بااختیار نہ کیا تو ”نئے پاکستان“ کا سورج یہاں کبھی طلوع نہیں ہوسکے گا۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved