تازہ تر ین

پاکستان اورسعودی عرب تعلقات

مبارک علی شمسی….مسافرِ شب
سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دوستی اقوام عالم سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب لازوال اور بے مثال دوستی کے بندھن میںقیام پاکستان کے وقت سے لیکر اب تک بندھے ہوئے ہیں اور یہ تعلقات آئندہ بھی قائم و دائم رہیں گے، سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ پاکستان کے ساتھ مضبوط اور مستحکم رہے ہیں ، اسلام کی بنیاد پر قائم ان رشتوں میں کوئی دراڑ نہیں آئی بلکہ روز بروز اضافہ ہی ہوا ہے جس سے دونوں ملکوں کے درمیان معاشی، مذہبی، اقتصادی اور تجارتی امور کو تقویت ملی ہے ملک پاکستان کا ہر شہری چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکر اور کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والا کیوں نہ ہو سعودی عرب کا نام سنتے ہی امن و آتشی، محبت و اخوت اور ایثار وقربانی کاجذبہ اس کے دل میں جاگزیں ہونے لگتا ہے، کیونکہ پاکستان پر جب بھی کبھی کڑا وقت آیا تو سعودی عرب نے پاکستانی قوم کی ایک آواز پر لبیک کہا ہے اور ہر مشکل میں پاکستان کا ساتھ دے کر اور پاکستانی قوم کی حمایت کر کے دوستی کا حق ادا کیا ہے،سعودی عرب کا شمار گنتی کے ان چند ایک ممالک میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ کھل کر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے موقف کی بھر پور حمایت کی ہے اور 6ستمبر1965 ءکی پاک بھارت جنگ کے دوران سعودی عرب نے پاکستان کی وسیع پیمانے پر امداد کی ۔ اپریل 1966ءمیں شاہ فیصل نے پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا اور اس موقع پر پاکستان کے دارالخلافہ اسلام آباد کی مرکزی جامع مسجد کے سارے اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا یہ مسجد شروع سے لیکر تاحال شاہ فیصل مسجد کے نام سے ہی دنیا بھر میں مانی جاتی ہے جس میں ہزاروں نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔1967ءمیں سعودی عرب اور پاکستان کے مابین فوجی تعاون کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودی عرب کی بری، بحری اور فضائی افواج کی تربیت کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا اور پاکستان آرمی نے اس عظیم ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا جس کے نتیجہ میں 1968ءمیں سعودی حکومت نے برطانوی ہوا بازوں اور دیگر فنی ماہرین کو خیر آباد کہہ دیا اور ان کی جگہ پاکستانی ماہرین کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ 1971ءمیں مشرقی پاکستان کی پاکستان سے علیحدگی پر شاہ فیصل کو گہرا صدمہ ہوا اور انہوں نے پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو علیحدہ تسلیم کرنے کے باوجود بھی تسلیم نہ کیا، 1973 ءمیں شاہ فیصل کے دور حکومت میں سعودی گورنمنٹ نے پاکستان کے سیلاب زدگان افراد کی دل کھول کر مالی امداد کی اور 1975ءمیں سوات کے زلزلہ زدگان کی تعمیر و ترقی اور خوشحالی کے لئے تقریبا ایک کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا ، صرف یہی نہیں بلکہ پاکستان نے بھی دوستی کا حق ادا کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی ،پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ایک بڑے تاریخی اور پاکستان کے مانچسٹر شہر لائل پور کا نام تبدیل کر کے انہی کے نام پر فیصل آباد رکھا گیا اور روشنیوں کے شہر کراچی کی سب سے بڑی شاہراہ بھی انہی کے نام سے منسوب کر دی گئی جو شاہراہ فیصل کہلاتی ہے ۔ شاہ فیصل کے اس دنیائے فانی کو چھوڑ کر چلے جانے کے بعد بھی سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات میں کوئی کمزوری نہیں آئی ، ہمیشہ پاکستانی حجاج کرام کو عزت کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے اور ان کی سہولت کےلئے سعودی حکومت کی جانب سے بہت بڑے اور وسیع انتظامات دیکھنے کو ملتے ہیں اور سعودی حکومت نے پاکستانیوں کو بہتر روزگار کے مواقع بھی فراہم کئے ہوئے ہیں جس سے بیشتر پاکستانی باشندے سعودی عرب کی مختلف کمپنیوں میں ملازمت کر کے روزی کما رہے ہیں ۔
حرمین شریفین کے خادم شاہ عبداللہ نے جب پاکستان کا دورہ کیا تو پاکستانی عوام نے ان کا بھر پور استقبال کیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور یہ کہنے پر مجبور ہو گئے کہ ہم پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں ۔ 2005 ءمیں آزاد کشمیر و خیبرپختونخواہ کے خوفناک زلزلے اور 2010ءکے سیلاب کے دوران بھی مصائب ومشکلات میں مبتلا پاکستانی بھائیوں کی امداد کرنے میں سعودی عرب پیش پیش رہا اورروزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب کی جانب سے امدادی سامان لیکر آنے والے طیارے پاکستان کی دھرتی پر اترتے رہے، سعودی عرب کو اللہ تعالیٰ نے تیل کے ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے مگر اسلامی ممالک میں سعودی عرب کو عزت کی نگاہ سے اس لئے بھی دیکھا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ(بیت اللہ) اور مدینہ منورہ (روضہ رسول) جیسے متبرک شہر بھی سعودی اسٹیٹ میں واقع ہیں جہاں سے ختم نبوت کا سورج طلوع ہوا اس کی کرنوں سے کفر کا خاتمہ ہوا اور اسلام کو شہرت حاصل ہوئی۔ اسلامی ملکوں کے مسائل حل کرنے کےلئے اقتصادیات ، تعلیم، صحت، سمیت دیگر دوسرے موضوعات پر ماہرین کی عالمی کانفرنسز طلب کرنے جیسے اقدامات سمیت سعودی عرب کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل کو بہتر طور پر سمجھ کر ان کے حل کےلئے مشترکہ طور پر بہتر حل تلاش کرسکیں، سعودی عرب کی خارجہ پالیسی جغرافیائی، تاریخی، مذہبی، اقتصادی، امن و سلامتی اور سیاسی اصولوں اور حقائق پر مبنی ہے اس کی تشکیل میں سب سے بہتر ہمسائیگی کی پالیسی ، دوسرے ممالک کے داخلی امور میں عدم مداخلت، خلیجی ممالک اور جزیرہ¿ عرب کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے، عرب اور اسلامی خطوں کے مفاد عامہ کےلئے ان سے گہرے تعلقات بنانے، ان کے مسائل کی وکالت کرنا، غیر وابستگی کی پالیسی اپنانا ، دوست ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا اور عالمی و علاقائی تنظیموں میں مو¿ثر کردار ادا کرنا شامل ہیں ۔ ہم سعودی وزیرِ اطلاعات کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے اپنے حالیہ دورہ کے دوران اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی نئی حکومت کے دور میں پاک سعودی تعلقات مزید گہرے اور مضبوط ہونگے اور دونوں ملکوں کے مابین تعمیر و ترقی کی نئی راہیں استوار ہونگی نیز سعودی قیادت کی جانب سے پاکستان کو قرضوں کے بوجھ سے نکالنے اور دیگر اہم امور پر مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی گئی ہے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکہ کے وزیر خارجہ کے دورہ¾ پاکستان میں اہم امور زیر بحث لانا، ہمسایہ ملک چین کے وزیرخارجہ کا دورہ¿ پاکستان کے موقع پر سی پیک کے منصوبہ کو توسیع دینا اور اب سعودی وزیراطلاعات کا دورہ¿ پاکستان اس بات کی دلیل ہے کہ پوری دنیا نو منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کرنے اور ساتھ چلنے پر رضامند ہے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved