تازہ تر ین

پنجاب کے نئے انسپکٹر جنرل پولیس

احمد خان چدھڑ….خصوصی مضمون
پنجاب کے نئے انسپکٹر پولیس جناب محمد طاہر نے مورخہ 11 ستمبر 2018ءکو اپنے عہدہ کا چارج سنبھال کر اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے شروع کر دیئے ہیں۔ ان کے پیش رو سید کلیم امام نے صوبہ سندھ کے انسپکٹر جنرل پولیس کا چارج سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے نگران حکومت میں تقریباً تین ماہ کام کیا ہے۔ اتنے مختصر عرصہ میں اُن کی کارکردگی کا صحیح اندازہ تو نہیں ہو سکا البتہ دو تین نگران حکومت کے وزراءکو اپنے دفتر چائے پر مدعو کر کے مختلف اوقامات میں ان کو SOUVENIR پیش کیے ہیں۔ اُن کے اس عمل کو سینئر پولیس افسران کس نظر سے دیکھتے ہیں کہ آیا انہوں نے نگران حکومت میں مقبول ہونے کی کوشش کی ہے یا اُن کا کوئی اور مقصد تھا جبکہ وہ پنجاب پولیس کے کمانڈر تھے۔
اکثر پولیس افسران کے متعلق یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ان کی سیاسی وابستگی فلاں سیاسی پارٹی کے ساتھ ہے لیکن کچھ پولیس افسران ایسی شہرت بھی رکھتے ہیں کہ وہ پروفیشنل اور غیرجانبدار ہیں کسی سیاسی پارٹی کی طرف اُن کا جھکاﺅ نہیں ہے صرف میرٹ پر کام کرتے ہیں۔ نئے انسپکٹر جنرل پولیس جناب محمد طاہر کا شمار بھی انہی افسران میں ہوتا ہے کہ پنجاب میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ غیرجانبدار رہ کر میرٹ کی پالیسی کو اپنایا ہے وہ ایک نیک نیت، ایماندار، ذہین، تجربہ کار اور پروفیشنل پولیس افسر ہیں۔
جہاں تک پنجاب میں تعیناتی کا تعلق ہے۔ موجودہ دور میں اُن کو بہت زیادہ محنت کرنا پڑے گی کیونکہ ان کے سامنے کئی بڑے چینلجز ہیں سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے پنجاب پولیس کے اندر انقلابی اصلاحات اور پولیس کے معیار کو بلند کرنے کیلئے اس قدر بلند بانگ دعوے کر رکھے ہیں کہ اگر وہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے اور عوام کی توقعات پر پورا نہ اترے تو پی ٹی آئی کی حکومت پر انگلیاں اٹھنا شروع ہو جائیں گی۔
پی ٹی آئی کی حکومت کا فوکس پنجاب پر ہو گا کیونکہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ آبادی کے لحاظ سے ہے۔ اگر پنجاب میں امن ہے تو باقی ملک میں خودبخود امن ہو گا۔ جناب ناصر خان درانی سابقہ انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخواہ جنہوں نے پولیس میں اصلاحات کر کے اپنی ذاتی قابلیت، ذہانت، معاملہ فہمی اور پروفیشنل وزڈم کی بنیاد پر خیبر پختونخواہ کی پولیس کو ایک درست سمت پر چلایا جس کے نتائج نہایت ہی مفید اور حوصلہ افزاءثابت ہوئے ہیں اور وہ مثالی پولیس ثابت ہوئی ہے۔
اب معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ناصر خان درانی کو پنجاب پولیس میں اصلاحات اور معیار بلند کرنے کا ٹاسک دیا ہے۔ امید ہے انشاءاللہ وہ خیبر پختونخواہ کی طرز پر پنجاب پولیس میں اصلاحات کر کے اس کا معیار بلند کر کے اسے بھی مثالی پولیس بنائیں گے۔ اس سلسلہ میں نئے انسپکٹر جنرل پولیس جناب محمد طاہر کو سخت محنت کر کے اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔
جہاں تک محکمہ پولیس کے اندر اصلاحات کا تعلق ہے۔ موجودہ حالات میں وسیع پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے اِن کے بغیر پولیس کا معیار بلند کرنا یا Immage درست کرنا ناممکن ہے۔ محکمہ پولیس کا ابتدائی یونٹ تھانہ ہے۔ میں اپنے تجربہ کی بنا پر بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر تھانہ کے ماحول اور تھانہ کے عملہ کے رویہ کو درست کر لیا جائے تو ساری پولیس خودبخود ٹھیک ہو جائے گی کیونکہ ساری پولیس کا محور تھانہ ہے اور بقایا پولیس اسی کے گرد گھومتی ہے۔ ضابطہ فوجداری اور پولیس رولز میں زیادہ تذکرہ ایس ایچ او تھانہ اور علاقہ مجسٹریٹ کا ہے۔ ضابطہ کے تحت تھانہ کا انچارج ایس ایچ او ہوتا ہے۔
ایس ڈی پی او سب ڈویژن یا سرکل کا ایس ایچ او ہوتا ہے۔ ضلع کا ایس پی ضلع کا ایس ایچ او رینج یا ڈویژن کا ڈی آئی جی اپنی متعلقہ رینج کا اور انسپکٹر جنرل پولیس پورے صوبے کا ایس ایچ او ہوتا ہے۔ اِن کے اپنے اپنے حلقہ میں وہی ذمہ داریاں اور اختیارات ہوتے ہیں جو ایک تھانہ کے ایس ایچ او کو ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ عملہ پولیس کی ویلفیئر اور دیگر امور پر پالیسیاں وضع کرنا محکمہ کے اندر نظم ونسق قائم کرنا بھی انسپکٹر جنرل پولیس کے فرائض بھی شامل ہے۔
محکمہ پولیس میں جن افسران کا سپر وائزری رول ہوتا ہے اُن کا اپنے کام پر مکمل عبور حاصل ہونا چاہیے وگرنہ وہ اپنے ماتحت عملہ سے کام لینے اور کنٹرول کرنے میں ناکام رہیں گے۔
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ سینئر پولیس افسران کا اپنے ماتحت عملہ کو سزائیں دینے کا رجحان بڑھ رہا ہے معمولی معمولی غلطی پر شوکاز نوٹس جاری کر کے سزائیں دی جاتی ہیں اس سے وقت کا بہت ضیاع ہوتا ہے اور پولیس کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ہاں کوئی ماتحت سنگین غلطی کا مرتکب ہو تو پھر اسے ضرور سزا دینی چاہیے لیکن چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر محض سرزنش پر اکتفا کرنا چاہیے ہمیشہ ٹیم ورک سے پولیس کی کارکردگی بہتر ثابت ہوئی ہے۔
پولیس افسران کی عزت اور وقار میں بھی دن بدن کمی آ رہی ہے۔ آئے دن مزاحمت اور پولیس ملازمین کی مار کٹائی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ پرانے وقتوں میں اگر کسی باوردی پولیس ملازم کو ایک تھپڑ مارا جاتا تھا تو سارے ضلع کی پولیس حرکت میں آ جاتی تھی اور ملازم کی عزت نفس بحال کرائی جانی تھی۔ پاکستان کے پہلے آئی جی پولیس جناب خان قربان علی خان تھے افراتفری کے دور میں بھی انہوں نے پولیس کے وقار کو بلند رکھا۔ 1977ءمیں لاہور اسمبلی کے سامنے چوک میں ایک ایم پی اے نے ٹریفک پولیس کے ایک اے ایس آئی کو تھپڑ مارا تو اس وقت کے انسپکٹر جنرل پولیس جناب کمانڈر انیس الرحمان عارف نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا تھا وقت تو بڑی تیزی کے ساتھ گزر جاتا ہے لیکن کسی کی اچھی یادیں تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ لکھی جاتی ہیں۔
اب محکمہ پولیس کے ملازمین میں بددلی پھیلتی جا رہی ہے اور پولیس Defensive ہوتی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ نئے انسپکٹر جنرل پولیس جناب محمد طاہر پولیس ملازمین کی حوصلہ افزائی اور مورال بلند کرنے میں اپنے تجربہ اور ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے اہم کردار ادا کرینگے ہماری دعائیں اُن کے ساتھ ہیں۔
(کالم نگارسابق ایس ایس پی اور ماہر تفتیش کار آفیسر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved