تازہ تر ین

منڈا بدل لیں

توصیف احمد خان

جس طرح پاکستان کی ہر آنے والی حکومت کی باتیں ہماری سمجھ سے باہر ہوتی ہیں اس طرح پاکستان کی شکست کے بعد ہر کرکٹ ٹیم کے کپتان کا بیان بھی ہماری عقل وفہم سے ذرا دور ہی رہتا ہے۔ اس میں قصور کس کا ہے….؟ ہمارا حکومت کا یا کرکٹ ٹیم کا…. اس بارے میں فیصلہ بھی ہماری موٹی عقل کیلئے ذرا مشکل ہے۔ اب قارئین ہی ہماری کچھ مدد کریں تو کریں…. گزشتہ کالم میں ذکر کر چکے ہیں کہ ہر حکومت کو خزانہ خالی ملتا ہے۔ شاید جانے والی حکومت سب کچھ سمیٹ کر جیبوں میں ڈالتی ہے اور یہ جا وہ جا…. آنے والے منہ ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں اس طرح ہر غلطی جو سامنے آتی ہے وہ جانے والوں کا کیا دھرا ہوتا ہے۔ یہی کچھ آنے والوں کے بارے میں اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ جا رہے ہوتے ہیں یا چلے جاتے ہیں۔
اس سے ذرا مختلف صورتحال ہماری کرکٹ ٹیم کے ساتھ ہے۔ ہر میچ ہارنے کے بعد کپتان کا یہی بیان ہوتا ہے کہ ہم سے غلطیاں ہوئیں جن سے ہم نے سبق حاصل کیا ہے اور آئندہ یہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے لیکن ہوتا کیا ہے….؟ شاید اگلے میچ تک وہ اس سبق کو فراموش کر چکے ہوتے ہیں کیونکہ غلطیاں تو اگلے میچ میں بھی ہوتی ہیں۔ ہاں! ہو سکتا ہے پرانی والی غلطیاں تو نہیں دہرائی گئیں یہ کوئی نئی غلطیاں ہو سکتی ہیں جن کے بارے میں پہلے سے اندازہ نہیں تھا۔ آئندہ میچ میں ان غلطیوں کا خیال رکھا جاتا ہے تو کچھ اور سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ معلوم نہیں یہ قسمت کا کیا ہیرپھیر ہے کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم مجموعہ اغلاط بن کر رہ گئی ہے جن پر کچھ لکھا جائے تو شاید کتاب کی ایک جلد ناکافی ہو گی۔
گزشتہ روز بھارت سے شکست کے بعد اپنے کپتان کا بیان سنا تو چند سطریں لکھنے کیلئے قلم مچل اٹھا کیونکہ اس میچ میں ہماری حالت وہی تھی جو اس سے پہلے روز ہانگ کانگ جیسی نوزائیدہ ٹیم نے بھارت کی بنا رکھی تھی۔ اگرچہ ہانگ کانگ میچ نہیں جیت سکی مگر اس نے بھارت کو ناکوں چنے ضرور چبوائے۔ بھارت نے یہ میچ جیتا بھی تو دھڑکتے دل کے ساتھ جبکہ ہمارے ساتھ اس نے کھلے دل کے ساتھ میچ کھیلا اور پھر اس طرح کھلے دل کے ساتھ کامیابی حاصل کی…. اب ہم اس کے سوا کیا کہہ سکتے ہیں کہ ”وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے“۔
تازہ اعلان یہ ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پاکستان کے وزیر خارجہ محترم شاہ محمود قریشی تشریف لے جائیں گے اور دوسری طرف سے بھارتی وزیر خارجہ شریمتی سشما سوراج بھی وہیں موجود ہونگی۔ دونوں کی موجودگی تو خیر تازہ خبر نہیں۔ اس میں تازگی یہ ہے کہ محترم عمران خان نے اپنے بھارتی ہم منصب یعنی نریندر مودی کو خط کے ذریعے پاک بھارت مذاکرات کی جو دعوت دی تھی وہ قبول کر لی گئی ہے اور دونوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نیویارک میں ہونا طے پایا ہے اجلاس کے دوران ہی سائیڈ لائن پر یہ ملاقات ہو گی یعنی محض اجلاس کے دوران رسمی سلام دعا تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کا باقاعدہ ایجنڈا ہو گاجس کے مطابق دونوں گفتگو کرینگے۔ پاکستان کے مختلف وزرائے کرام گزشتہ ستر برس سے بھارتی وزیروں کے ساتھ مذاکرات کرتے رہے ہیں اور یہ مذاکرات آٓئندہ بھی جاری رہیں گے۔ دوسرے لفظوں میں یہ ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے جس کے دوسرے سرے کا کسی کو علم نہیں۔
بڑی خوش آئند بات ہے چلیں محض مذاکرات ہی سہی دونوں بیٹھیں گے گفتگو کرینگے چائے پانی پئیں گے اور پھر اپنے اپنے گھر کی راہ لیں گے۔ گھر تو وہاں کہاں دونوں اپنے اپنے ہوٹل کو سدھار جائیں گے۔ اس میں چائے پانی والا معاملہ ذرا مشکوک ہے۔ سشما سوراج کٹر ہندو ہیں ممکن ہے ایک مسلے کے ساتھ کھانے پینے سے وہ بھرشٹ نہ ہو جائیں ویسے تو بے شمار ہندو اب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھ کر گاﺅ ماتا تک کا گوشت کھا جاتے ہیں لیکن ان کا کیا پتہ کھاتی بھی ہوں تو کہیں سفارتکاری کے معاملات آڑے نہ آ جائیں…. یہ تو خیر ان کا معاملہ ہے ہم نے اپنی ان آنکھوں سے ہندوﺅں کو گوشت خوری کرتے دیکھا ہے۔ کلدیپ نیئر بھارت کے چوٹی کے صحافی تھے بنیادی طور پر سیالکوٹی تھے چند روز پہلے ان کا دیہانت ہوا ہے۔ معلوم نہیں قبر میں ان پر کیا بیت رہی ہو گی مگر قبر کہاں سے آ گئی۔ ہندوﺅں کیلئے تو مرنے کے ساتھ ہی جہنم کا دروازہ کھل جاتا ہے کہ انہیں دفن نہیں کیا جاتا۔ آگ میں جلا دیا جاتا ہے اور راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ہے لیکن اب ہندوﺅں میں بھی دفن کرنے کا رواج شروع ہو گیا ہے شاید اس کی بنیاد آگ میں جلنے کا یہ خوف ہی ہو بہرحال! کلدیپ نیئر کو تو جلایا گیا ہے۔ موصوف سال میں پاکستان کے ایک دو چکر ضرور لگاتے تھے۔ وہ صحافی کے ساتھ سفارتکار بھی تھے لہٰذا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے ان چکروں میں کیا چکر تھا۔ کوئی تھا بھی یا نہیں۔ پاکستان میں وہ حکام، سیاستدانوں اور صحافیوں کے ساتھ ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ لاہوریوں سے ملاقات میں ان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ گوالمنڈی کی مچھلی منگواﺅ چونکہ پنجابی تھے لہٰذا یہ سارا کچھ وہ بلاتکلف پنجابی میں ہی کہتے تھے جو ویسے بھی بڑی کھلی ڈھلی زبان ہے۔ وہ مزے لے لے کر مچھلی کھاتے اور یہ احساس ان کے قریب سے بھی نہیں پھٹکتا تھا کہ ہندو ہو کر بھی وہ ماس (گوشت) سے لذت کام ودہن کر رہے ہیں یا شاید مچھلی کو وہ گوشت سمجھتے ہی نہ ہوں۔
خیر….! یہ تو بات سے بات نکل آئی ۔ اصل معاملہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کی بحالی کا ہے اور اس کی ابتدا دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں ملاقات سے ہو رہی ہے۔ اس ملاقات کا نتیجہ ہم آپ کو ابھی بتائے دیتے ہیں۔ دونوں بڑے مسکراتے ہوئے باہر نکلیں گے۔ سشما سوراج کے چہرے کی مسکراہٹ بڑی معنی خیز ہوگی جبکہ شاہ محمود قریشی خالص ملتانی مسکراہٹ لیے ہونگے…. یہ ملتانی مسکراہٹ بھی کتنی میٹھی ہوتی ہے۔ ہمیں تو بعض اوقات اس مسکراہٹ اور ملتانی حلوے میں کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہوتا…. مگر یہاں معاملہ مختلف ہے۔ سشما جیسی ہوشیار عورت کے سامنے یہ مسکراہٹ ہر گز کام نہ دے گی بہرصورت….! مسکراہٹوں کے ساتھ باہر نکل کر دونوں خوشگوار اور کسی حد تک کامیاب مذاکرات کی خبر دیں گے اور بس….!
اصل میں ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اس بھارتی ناری سے مذاکرات شاید ہمارے ملتانی منڈے کے بس کا روگ نہ ہو۔ اگر کوئی سیالکوٹی منڈا ہوتا تو دوسری بات تھی۔ اس قسم کے مذاکرات میںبڑے پیچ وخم آتے ہیں۔ یہ دراصل جلیبی جیسے ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے سیدھا سادا شاہ محمود قریشی ان میں الجھ کر رہ جائے۔ ماضی اس کا گواہ ہے…. لہٰذا ہماری حکمرانوں سے درخواست ہے کہ ابھی وقت گیا نہیں اس پر غور کریں…. خوب غور کریں…. اور پھر….! منڈا بدل لیں تو مناسب رہے گا۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved