تازہ تر ین

افواہیں ہیں نواز شریف کی رہائی کیلئے کچھ ممالک نے دباﺅ ڈالا: توصیف احمد، ڈیل ہو گئی تو نوجوانوں کو پیغام جائےگا کہ ملک پر کرپٹ لوگ ہی حکمرانی کرینگے: طارق ممتاز، کرپٹ لوگ ذہین ہوتے ہیں جنہیں تمام قانونی حربوں سے نمٹنا آتا ہے: سیف الرحمان ، نواز شریف نے 10 ارب ڈالر ادا کرنے تھے تو بیمار بیوی چھوڑ کر کیوں آتے: علامہ صدیق ، چینل ۵ کے پروگرام ” کالم نگار “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل فائیو کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام”کالم نگار“ میں گفتگو کرتے ہوئے میزبان تجزیہ نگار توصیف احمد خان نے کہا ہے کہ افواہیں ہیں کہ نواز شریف کی رہائی کےلئے کچھ ملکوں نے دباﺅ ڈالا۔ عمران خان کا سعودی عرب جانے کا مقصد فیوض و برکات حاصل کرنا ہے۔نواز شریف کی سزا معطل کرنا عدلیہ کا اپنا قانونی فیصلہ ہے۔عمران خان کو سعودیہ میں گارڈ آف آنر دیا گیا اور بہت عزت و تکریم دی گئی۔ انہیں بیت المکرم میں نوافل ادا کرنے کا موقع ملا۔جو بڑی سعادت ہے جیسے پرویز مشرف خود کہتے ہیں کہ میں نے خانہ کعبہ کی چھت پر کھڑے ہو کر اذان بھی دی ہوئی ہے۔سعودی عرب کی حفاظت ہمارا دینی فریضہ بھی ہے۔تجزیہ نگار طارق ممتاز نے کہا کہ عدالت نے نواز شریف کی سزا معطل کی ہے ختم نہیں۔ سپریم کورٹ سے سزا بحال ہونے پر سزا اسی دن سے شروع ہوگی۔تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں سعودی عرب کے این آر او کروانے کی بات بھی نواز شریف ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اب سعودی عرب کے ذریعے پاکستان کو دس ارب ڈالر ملنے سے یہ بات صاف ہو جائے گی کہ نواز شریف سعودیہ کے ذریعے دس ارب ڈالر دینے کو تیار ہوئے ہیں۔ نواز شریف خود کو بچانے کےلئے براہ راست رقم نہیں دینا چاہتے۔ اگر نواز شریف کی کوئی ڈیل ہو گئی تو نوجوانوں کو پیغام ملے گا کہ پاکستان پر حکمرانی کرپٹ لوگوں کی ہی ہوگی،یہاں رہنا ہے تو کرپشن کرو اور ملک کو لوٹو۔ جو جتنا بڑا لٹیرا ہوگا وہ اتنی آزادی سے اس ملک میں رہے گا۔پاکستان میں کسی کو مجرم ثابت کرنا ناممکنا ت میں آگیا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے اس کے لیے میڈیا بھی بھرپورکوریج دیتا ہے اور دباﺅ ڈالتا ہے۔ نواز شریف کے معاملے میں نیب نے کمزوری دکھائی کہ اپنا کیس پیش نہیں کیا۔کالم نگار میاں سیف الرحمان کا کہنا تھا کہ سزا معطلی مجرم کی آدھی جیت ہوتی ہے، ہائی کورٹ اتنے اہم کیس میں آسانی سے سزا معطل نہیں کر سکتا۔کرپشن کرنے والے ذہین لوگ ہوتے ہیں، جنہیں تمام قانونی حربوں سے نمٹنا آتا ہے۔اچھا وکیل کرنے کی سکت ہے تو ملکہ برطانیہ پر حملہ کر دیں، وہ آپکو چھڑوا لائے گا۔تجزیہ کارعلامہ صدیق اظہرنے کہا کہ پاکستان میں عدلیہ کی جانب سے سزا دیئے جائے پر کہا جاتا ہے کہ یہ این آر او ججز جیسا فیصلہ ہے اور جب سزا معطل کر دی جائے تو کہا جاتا ہے کہ عدالت آزاد ہو گئی ہے۔ نواز شریف کی سزا کا انتخابات سے کوئی تعلق نہیں بنتا کیونکہ سپریم کورٹ کے پانچ ججز پہلے ہی نواز شریف کو نا اہل کر چکے تھے۔اگر نواز شریف نے دس ارب ڈالر ہی واپس کرنے تھے تو وہ اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر ملک واپس نہ آتے؟ پاکستان کا ایک بڑا دوست ملک ایک مجرم کو صاف نکلنے کا راستہ فراہم کر رہاہے ایسی افسانوی باتیں نہیں کرنی چاہئیں، کیا ہم ایسی باتوں سے اس ملک کو شامل جرم کر رہے ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved