تازہ تر ین

سی پیک ملکی ترقی کا منصوبہ

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
جب بھی سی پیک منصوبے کی بات ہوتی ہے، نہ جانے کیوں ہمارے چند تجزیہ کار ہماری قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں کہ جیسے ماضی میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر پاک و ہند کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیا تھا اسی طرح اس سی پیک منصوبے کی آڑ میں چین پاکستان کے ساتھ وہی سلوک کرنے جارہا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ کیا تھا۔بدگمانیاں پھیلانا اور غلط فہمیوں کو فروغ دینا بعض لوگوں کا مشغلہ ہوتا ہے اور بعض کا پیشہ۔ پیشے سے مراد یہ کہ ایسے لوگوں کو غلط فہمیاں پھیلانے کے پیسے ملتے ہیں، یہ پیسے کون دیتا ہے، ظاہر ہے وہی دے گاجس کے اس طرح کے منفی پراپیگنڈے سے مفادات منسلک ہوں گے۔یہ بات کثرت سے مشاہدے میں آتی ہے کہ پاکستان میں جب بھی کسی ایسے ترقیاتی منصوبے پر غور شروع ہوتا ہے کہ جس سے پاکستان کی تقدیر بدلنے کے امکانات ہوں تو چند مٹھی بھر مفاد پرست عناصر اس منصوبے کے بارے میں گمراہ کن پراپیگنڈے کا آغاز کر دیتے ہیں۔ شاہراہ ریشم کی تعمیر ہو یا پھر چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ڈیم بناﺅ مہم کا آغاز ہو یا پھر سی پیک منصوبے کا تذکرہ، منفی پراپیگنڈے باز گلے پھاڑ پھاڑ کر شور مچانے لگتے ہیں۔ عمران خان نے جوں ہی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا، کچھ لوگوں نے شور مچانا شروع کردیا کہ چین نے سی پیک منصوبے کے حوالے سے اپنی ترجیحات بدلنے پر غور شروع کردیا ہے۔کچھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ جائے گا۔چند جگہ یہ بیان بھی سننے میں آیا کہ چین نے سی پیک معاہدہ سابق حکومت سے کیا تھا، نئی حکومت سے معاملات طے نہیں ہوسکیں گے وغیرہ وغیرہ۔ہمارے لوگوں کو اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ دو ملکوں کے درمیان ہونے والے کسی بھی معاہدے کا تعلق حکومت میں موجود افراد یا برسر اقتدار سیاسی پارٹی سے نہیں ہوتا۔ معاہدے ملکوں کے درمیان ہوتے ہیں نہ کہ افراد کے درمیان۔ اسی طرح دوستیاں اور دشمنیاں بھی قوموں کی سطح پر ہوتی ہیں۔چین، ترکی اور سعودی عرب جیسے ممالک کل بھی ہمارے دوست تھے اور آج بھی ہیں ، انشاللہ کل بھی ہوں گے۔ویسے بھی اعلی روایتوں کے حامل ممالک اور ایک روشن مستقبل کی مالک قوموںسے ہماری دوستی، عالمی سطح پر ہماری رینکنگ میں بڑھوتری کا سبب بنتی ہے۔چین پر ہی ایک نظر ڈال لیں،ہمارے ساتھ ہی آزادی کا سورج دیکھنے والے چین کو دنیا سب سے زیادہ افیم استعمال کرنے والوں کی سرزمین کے طور پر جانتی تھی لیکن آج وہی چین ہے جس کی رضامندی کے بغیر کوئی بھی عالمی منصوبہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔چینیوں کو یہ مقام کسی نے تھالی میں رکھ کر پیش نہیں کیا۔انہوں نے خلوص اور سچائی کے ساتھ محنت کی اور اپنے آپ کو منوالیا۔چین کی اچھی بات یہ کہ اس نے نہ صرف خود کو مضبوط کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنے دوست ممالک کو بھی سنبھالنے کا فریضہ بخوبی نبھایا۔ پاکستان میں تیزی سے تکمیل کی طرف بڑھنے والا سی پیک منصوبہ بھی اسی روایت کی ایک کڑی ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی اقتصادی صورت حال میں بڑے پیمانے پر بہتری ہوگی۔ابھی گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کی طرف سے کچھ میڈیا پرسنز کو کراچی پشاور موٹر وے کے ملتان سکھر سیکشن کا دورہ کرایا گیا۔ چینی سفارت خانے کے قونصلر مسٹر لی یان لنگ نے سی پیک روٹ کا دورہ کرنے والے اس میڈیا گروپ کی خود میزبانی کی۔ نہایت تفصیلی بریفنگ ، سوال جواب اور پھر تعمیر کے مراحل کا موقع پر جاکر مشاہدے نے ان تمام خدشات کو دور کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا جو گذشتہ چند ہفتوں سے سی پیک کے حوالے سے جان بوجھ کر پھیلائے جارہے ہیں۔مسٹر لی یان لنگ نے کسی معاون اور مددگار کی بجائے تمام سوالات کے ذاتی طور پر جواب دیے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے۔بتایا گیا کہ سی پیک موٹر وے کراچی پشاور روٹ کی کل لمبائی1152کلومیٹر ہے اور یہ روٹ کراچی ،حیدرآباد، سکھر، ملتان، لاہور،اسلام آباد اور دیگر شہروں سے ہوتا ہوا پشاور پہنچے گا۔جبکہ سکھر ملتان سیکشن کی لمبائی392کلومیٹر کے قریب ہے۔منصوبے کے مطابق اس روٹ پرآنے اور جانے والوں کے لیےsix-laneروڈ بنائی جارہی ہے جس پر 120کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کیا جا سکے گا۔ 5اگست 2016کو شروع ہونے والے اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 4اگست2019کی تاریخ دی گئی ہے۔ میڈیا پرسنز کو یہ بھی بتایا گیا کہ اس منصوبے کو وقت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سکھر ملتان روٹ کو 54سے59کلومیٹر لمبائی کے سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان تمام حصوں پر ایک ہی وقت میں تواتر سے کام جاری ہے۔اندازہ ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد کراچی اسلام آباد سفر میں چھ گھنٹے تک کمی ہوجائے گی۔سی پیک پراجیکٹ نے جہاں ہمارے ملک کو ایک روشن مستقبل کی نوید سنائی ہے وہاں ہمارے زمانہ حال کو بھی ایک نئی قوت عطا کی ہے، اس منصوبے کی ایک قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ اس میں اب تک جتنا بھی سیمنٹ، بجری ، ریت اور لوہا استعمال ہوا، وہ سب کا سب مقامی مارکیٹ سے حاصل کیا گیا، لوکل سطح پر حاصل کی جانے والی بہت سی مشینری بھی استعمال ہورہی ہے۔بے شمار لوگوں کو روزگار کے ساتھ ساتھ آئندہ اسی نوعیت کے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے وسیع تجربہ بھی حاصل ہوا۔منصوبے کی تکمیل کے بعد، یہاں کام کرنے والے لوگ اپنے تجربے کی بنیاد پر دوسرے ممالک میں بھی ملازمت پر جاسکیں گے۔ایک اندازے کے مطابق سی پیک پراجیکٹ پر پاکستانی اور چینی کارکنوں کی تعداد کی شرح ایک اور سولہ کی اوسط سے ہے، یعنی ہر سترہ کارکنوں میں سے ایک چینی ہے اور باقی پاکستانی۔ہمارے چینی بھائیوں نے اپنے ملک میں دیوار چین بنائی جس کا عجائبات عالم میں شمار ہوتا ہے سنہ1440 میں اس دیوار کی تعمیر کا آغاز ہوا اور سنہ 1644 میں اسے مکمل کیا گیا۔ اب ہمارے چینی بھائیوں نے ایک ایسی ہی دیوارسی پیک موٹر وے کی صورت زمین پر بچھادی ہے۔تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اگر اس منصوبے کو پاکستان آرمی اور دیگر پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی معاونت حاصل نہ ہوتی تو یہ منصوبہ کبھی بھی تکمیل تک نہ پہنچ پاتا۔ اس حقیقت کا اعتراف چین کے صاحبان اختیار کی طرف سے بھی بارہا کیا جاچکا ہے۔اس منصوبے کے ابتدائی مراحل میں دہشت گردوں نے جس طرح چینی انجینئرز اور دیگر عملے کو ہراساں کرنے کے لیے ان کے قتل و غارت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اگر ہماری فوج ملک کے وسیع تر مفاد میں اس منصوبے کو سیکیورٹی فراہم نہ کرتی تو یہ عظیم الشان منصوبہ کبھی بھی تکمیل کے مراحل کو نہ پہنچ پاتا۔ قوموں کی زندگی میںسڑکیں قسمت کی لکیر کی طرح ہوتی ہیں، دشمن ان لکیروں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور دوست ان لکیروں کو دعاﺅں کی کرنوں سے روشن کرتے رہتے ہیں۔ تاہم کمال کی بات تب ہوگی جب ہم سی پیک قسم کا کوئی اور منصوبہ چین یا پھر کسی بھی اور ملک کی مدد کے بغیر مکمل کریں گے، یہ منصوبہ نئے ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ بھی ہوسکتا ہے۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved