تازہ تر ین

بنگالی ،افغانی باشندوں کیلئے پاکستانی شہریت

فیصل مرزا……..اظہار خیال
وزیراعظم عمران خان کا بنگالیوں اور افغانیوں کو شہریت دینے کے حوالے سے بیان خوش آئند اور بنیادی انسانی حقوق کی ترجمانی کرتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں مہاجرین کی باقاعدہ رجسٹریشن کی جاتی ہے اور مہاجرین رجسٹریشن کارڈجاری کئے جاتے ہیں جس کا مطلب ہرگزشہریت نہیں ہوتا، یہ مہاجرین رہائشی کارڈ ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر مہاجرین اس ملک میں قانونی قیام کرتے اور اسکی بنیادپر قانونی ملازمت اور دوسرے امورسرانجام دے سکتے ہیں۔یورپی ممالک قانونی حیثیت سے پانچ سال سے دس سال تک قیام کرنے اور اس عرصہ میں باقاعدہ ٹیکس کی ادائیگی کرنے کے بعدتارکین وطن کو اپنے ملک کی شہریت دیتے ہیں۔
پاکستان میں صورتحال عام ممالک میں مہاجرین سے تھوڑی مختلف ہے۔ پاکستان میں بنگالی مہاجرین 1971ءسے لیکر 1978ءتک ہجرت کرکے آتے رہے ،جو کہ قانونی طور پر Re-Partiation سرٹیفکیٹ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی شہریت حاصل کر چکے ہیں جبکہ 1978کے بعد بنگالی مہاجرین کی پاکستان ہجرت کرنے کی تعداد بہت کم ہے اور اس کم تعداد کو شہریت دینا نقصان دہ نہیں۔ جبکہ افغان مہاجرین 1979ئ کے بعد سے آنا شروع ہوئے اور 1989ءتک کثیر تعداد میں جبکہ اس کے بعد بھی وقتاََ فوقتاََ یکے بعد دیگرے مسلسل غیر قانونی طور پر افغانوں کی پاکستان آمد کا عمل جاری رہا۔ ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ افغانی ابتدائی طور پر پاکستان میں ہجرت کرکے آئے۔ جبکہ ایک کثیر تعداد ان کے علاوہ ہے جو پاکستان کے غیرفطری اوراوپن بارڈرجو شمالی پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے ،سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن یا مہاجرین ہیں۔ جو خاندان کے خاندان ہجرت کر کے آئے اور اس وقت اندازے کے مطابق رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغانیوں کی تعداد 2کروڑ کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔ بہرحال اس کثیرتعداد کو قومی شہریت دینا پاکستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ملک کیلئے ممکن نہیں جو ہرطرف سے دشمن کی ناپاک سازشوں اور معاشی بدحالی کا شکار ہو ۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال اس سے مختلف ہے ، ان مہاجرین میں سے کثیر تعداد نے پاکستان میں آنے کے بعد غیر قانونی طریقہ سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کئے ، اس عمل میں ان کی معاونت کرنے والے بعض ممبر ان قومی اور صوبائی اسمبلی تھے جنہوں نے ان کو 1999ءتک اپنے سیاسی مفادات یعنی ووٹ حاصل کرنے کیلئے پاکستانی مینوئل شناختی کارڈ کے اجراءمیں مدد دی،جس کی بناءپر ان لوگوں نے پاکستانی کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ بھی بنوالئے۔ایک قسم مہاجرین کی وہ ہے جو دوران ِ جنگ امن والی جگہ پر ہجرت کرکے جاتے ہیں،جو تعداد میں بہت زیادہ ہوتے ہیں اور کوئی بھی ملک جنگ کے بعد انکو اپنے ملک میں قیام کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ مہاجر کیمپوں میں رہتے ہیں اور جنگ کے بعد ان کو اپنے ممالک میں واپس بھیجا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ایسا نہ ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ لوگ 40 لاکھ کے قریب تھے جو پاکستان میں شمالی افغان طورخم بارڈرکے ذریعے ہجرت کرکے آئے لیکن ان کو باقاعدہ مہاجر کیمپوں تک محدود رکھنے کی پالیسی میں جھول اور حکومتی بے جا نرمی و شعوری یا لاشعوری کوتاہیوں کے باعث یہ افغان مہاجرین کیمپوں تک محدود نہ رکھے جاسکے ، نتیجتاً یہ لوگ خیبر پختونخواہ اور پھر کراچی اور لاہور سمیت پاکستان کے تمام علاقوں میں پھیل گئے۔ان میں سے بعض لوگوں کا خاندانی پیشہ اسمگلنگ تھاجو افغانستان کے راستے مال پاکستان میں غیرقانونی طریقے سے لاتے ، تعلیم یافتہ نہ ہونے کی وجہ سے ان لوگوں نے پاکستان میں آکر یا تو مزدوری کی یا پھر بارڈر سے غیرقانونی طریقہ سے مال پاکستان لانے اور لے جانے کا کام کرتے رہے۔ کسٹم ڈیوٹی ادانہ کرنے کے باعث پاکستانی معیشت کو سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہوا اور 40 سال میں کھربوں ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے اور یہ لوگ اسمگلنگ کے ذریعے پیسہ کماکر اس وقت پاکستان کی بڑی مارکیٹوں پر قابض ہوچکے ہیں ۔جس کی وجہ سے یہاں کی مقامی تجارت وانڈسٹر ی کو بھاری خسارہ اٹھانا پڑرہا ہے۔ بلکہ بے شمار مقامی انڈسٹر ی تو غیرقانونی غیرملکی مال کی سستے داموں کثرت اور باآسانی مل جانے کے باعث بند بھی ہوچکی ہے ۔ سب سے بڑا نقصان پاکستانی النسل پختون برادری کو ہوا،جن کو افغانی اور مشکوک سمجھ کر انکے شناختی کارڈ بلاک کردئیے گئے۔ اس وقت سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں موجود 2 کروڑ کے لگ بھگ غیرقانونی افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت کیونکردی جاسکتی ہے؟ان مہاجرین کی تقریباََ40فیصد تعدادنے غیرقانونی طریقہ سے پاکستانی شناختی کارڈ حاصل کئے اور پاکستان میں رائج قانونی طریقہ کار اختیار نہیں کیا۔ صرف 15فیصدافغان یعنی2.8ملین نادراکے پاس بطور افغان رجسٹرڈ ہیں جن کو پروف آف رجسٹریشن(POR)کارڈ حکومت پاکستان کی طرف سے جاری شدہ ہیں جبکہ 45 فیصدنے خود کو سرے سے رجسٹرڈ کروایا ہی نہیں جس کی بڑی وجہ یہ ڈر تھا کہ پاکستان سے نکال کر واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا۔یہ ایک طرح کا قومی کینسر ہے جس کی سرجری ناممکن نہیں ،تو بے حد مشکل ضرورہے۔ جس کے کرنے کیلئے ایک قومی عزم اور حکومتی و اپوزیشن یک جہتی کی ضرورت ہے۔
بلاشبہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک میں غیررجسٹرڈ مہاجرین کا موجود ہوناکسی بھی ملک کامعاشی دیوالیہ نکالنے کیلئے کافی ہے ۔اسے ایک” غیرمرئی جن “بھی کہا جاسکتا ہے۔ جو نظر نہیں آتااور اسے پکڑانہیں جاسکتا۔بہرحال موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اس نازک صورتحال پر تجاویز مانگ کرایک اہم اور حساس ایشو کی طرف قوم کی توجہ مبذول کروائی ہے کیونکہ ان رجسٹرڈ مہاجرین اور غیر رجسٹرڈ مہاجرین نامی غیر مرئی مخلوق کا کوئی نہ کوئی مستقل حل جلد از جلد نکالنا قومی سلامتی اور معاشی بہتری کیلئے بے حد ضروری ہے جو ہمارے معاشرے میں گھل مل چکے ہیں۔ ان غیررجسٹرڈافغانیوں کی وجہ سے ملک میں جرائم اور دہشت گردی کا گراف بڑھا ہے ۔جسکا فوری سدباب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تشویشناک صورتحال سے بخوبی نمٹنے کیلئے درج ذیل میکنزم بنایا جاسکتا ہے:- ہمارے ملک میں موجودہ پالیسی کے مطابق 1951ءتک پاکستان میں ہجرت کرنے والے لوگ پاکستانی ہیں جبکہ 1978تک پاکستان ہجرت کرنے والے بنگالی بھی پاکستانی ہیں، جبکہ شہریت کی تصدیق کیلئے1979ءسے پہلے کے پاکستانی گورنمنٹ سے جاری شدہ دستاویزات میں سے کوئی ایک دستاویز رکھنے والے کو پاکستانی شناختی دستاویزات قانونی طور پر جاری کر دی جاتی ہیں۔اس پالیسی کے لحاظ سے بنگالیوں کو پاکستانی شہریت دینا تو بالکل ٹھیک اور مناسب محسوس ہوتا ہے کہ وہ 1978ءسے پہلے کے یہاں آچکے ہیں ان کے ریکارڈبنگالی مہاجرین کے ڈیٹا ریکارڈ میں اور ان سابقہ مشرقی پاکستانی بنگالی مہاجرین کے پاس Re-Partiation سرٹیفکٹ کی صورت میں موجود ہیں۔جبکہ افغان مہاجرین کی تین کیٹیگریز میں سے رجسٹرڈ15فیصدافغان ہیں جن کو قانونی طریقہ اپناتے ہوئے پاکستانی شہریت دینے کے بارے میں کام کیا جاسکتاہے ۔ان15فیصد رجسٹرڈ میں سے30فیصد افغان مہاجرین یعنی840000افغان ایسے ہیں جو کہ اقوام متحدہ ہائی کمشنربرائے مہاجرین (UNHCR) کے اعلان کے بعد کہ افغان مہاجرین واپس آئیں اور 400ڈالرفی کس وصول کریں ، افغان مہاجرین نے واپس جاکر یہ رقم لی اور بارڈرکھلے ہونے اورکسی قسم کا مﺅثر چیکنگ کنٹرول نہ ہونے کے باعث دوبارہ واپس آگئے ۔ جن لوگوں نے ایساکیا، ان کو بہر صورت واپس بھیجنا چاہئے ۔ جبکہ صرف رجسٹرڈ افغان مہاجرباشندوں کو باقاعدہ طریقہ کار کو اپناتے ہوئے ”ناقابل تقسیم وفاداری “ کا حلف اٹھانے کے بعد پاکستانی شہریت دی جاسکتی ہے ۔باقی45فیصد غیررجسٹرڈ افغانوں کو واپس بھیجنے کے اقدامات کرنا ہونگے اور 40 فیصدوہ افغان مہاجرین جنہوں نے غیرقانونی طریقہ سے پاکستانی کارڈ حاصل کئے، ان لوگوں میں کچھ کی نیشنل ری ویری فیکیشن پروگرام کے نتیجے میں نشاندہی ہوچکی ہے ، ان لوگوں سے حکومتی پالیسی کے مطابق1979ءسے پہلے کے کاغذات جوکہ حکومت ِ پاکستان سے جاری ہو، لیکر ان کی دستاویزات کو کلیئر کردینا چاہئے اور 1979ءسے پہلے کے کوائف مہیانہ کرسکنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے ان کو ایف آئی اے کے ذریعے ڈی پورٹ کردینا چاہئے۔ جبکہ انسانی ہمدردی کی بناءپر رجسٹر ڈ لوگوں کو پاکستانی شہریت دینے کے اقدامات کرنا بھی ضروری ہیں جبکہ غیر رجسٹرڈ یا غیر قانونی شناختی دستاویزات حاصل کرنے والے لوگوں کو جلد ازجلد واپس بھجواکر معاشی بدحالی ، ،اسمگلنگ، بچوں کے اغوا جیسے سنگین جرائم پرکافی حد تک قابو پایاجاسکتا ہے ۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved