تازہ تر ین

مودی اربوںڈالر کرپشن میں ملوث بھارتیوں کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان سے پھڈا

نئی دہلی(آن لائن)فرانس کے سابق صدر فرینکوئس ہولانڈے کے انکشافات نے بھارت میں ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے مشکلات کھڑی کردی ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرینکوئس ہولانڈے نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بھارت سے 2016 میں 9.4 ارب ڈالر کے 36 رافیل جنگی طیاروں کے معاہدے میں فرانسیسی مینوفیکچرر ”ڈاسولٹ“کو بھارتی پارٹنر کے انتخاب کے لیے کوئی آپشن نہیں دیا گیا تھا۔ان کے اس بیان کے بعد بھارت میں ایک نئے تنازع نے جنم لے لیا اور بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی پر طیاروں کے معاہدے میں سرکاری کمپنی کے بجائے نجی کمپنی کو ترجیح دینے کا الزام عائد کیا گیا۔بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے نریندر مودی پر الزام لگایا کہ انہوں نے سرکاری کمپنی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل)کو نقصان پہنچانے کے لیے”ریلائنس گروپ“کے ارب پتی صنعت کار انیل امبانی سے ترجیحی سلوک کیا۔بھارت اور فرانس کے حکام کا کہنا ہے کہ ‘ڈاسولٹ نے آزادانہ طور پر پارٹنر بنانے کے لیے ریلائنس کا انتخاب کیا،’ حالانکہ ایروناٹکس کے شعبے میں کمپنی کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔2012 سے 2017 تک فرانس کے صدر رہنے والے فرینکوئس ہولانڈے نے تحقیقاتی ویب سائٹ ‘میڈیا پارٹ’ کو بتایا کہ ‘ہمارے پاس اس معاملے پر کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا، بھارتی حکومت نے ریلائنس سروس گروپ کی تجویز دی تھی، جس کے بعد ڈاسولٹ نے انیل امبانی سے مذاکرات کیے۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے پاس انتخاب کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا اور ہم نے اسی کمپنی سے مذاکرات کیے جس کا نام ہمیں پیش کیا گیا۔فرانسیسی کمپنی ڈاسولٹ نے بھارت میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کے ساتھ مل کر 126 جنگی جہازوں کی تیاری کے لیے کئی سال تک مذاکرات کیے، تاہم پھر اچانک یہ مذاکرات رک گئے۔اقتدار میں آنے کے بعد مودی حکومت نے یہ مذاکرات منسوخ کر دیئے اور فرانس سے براہ راست 36 جنگی طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا۔فرینکوئس ہولانڈے نے کسی بھی طرح ریلائنس سے مفادات کے ٹکرا کی تردید کی، جس نے 2016 میں ان کی گرل فرینڈ جولی گائٹ کی فلم کے لیے جزوی طور پر مالی معاونت کی تھی۔بھارت کی جانب سے ڈاسولٹ اور ریلائنس کے مل کر کام کرنے کے لیے دبا ڈالے جانے کے حوالے سے ایک سوال پر سابق فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں اس سے متعلق کچھ علم نہیں۔بھارت کی وزارت دفاع نے ٹوئٹر پر لکھا کہ بھارتی اور فرانسیسی حکومت اس تجارتی فیصلے پر کچھ نہیں کہہ سکتی تھی۔بعد ازاں فرانس کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی حکومت کا واحد فرض یہ تھا کہ وہ جہازوں کی ڈیلوری اور ان کے معیار کو یقینی بنائے۔بیان میں کہا گیا کہ پیرس کسی طور پر بھارتی صنعتی پارٹنر کے انتخاب میں ملوث نہیں تھا۔نئی دہلی میں فرانس کے سفارتخانے نے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ڈاسولٹ ایوی ایشن نے اپنے جواب میں کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کی حکومتوں کے درمیان تھا۔معاہدے پر اپوزیشن کی توجہ مبذول کرانے والے کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے لکھا کہ ‘فرینکوئس ہولانڈے کا شکریہ ، جن کی بدولت اب ہمیں یہ معلوم ہے کہ نریندر مودی نے اربوں ڈالر کا یہ معاہدہ ذاتی طور پر بینکوں کے قرض دار انیل امبانی کو دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نریندر مودی نے ملک کو دھوکا دیا اور ہمارے فوجیوں کے خون کی بے حرمتی کی۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved