تازہ تر ین

سارا کھیل ارادے کا!

علی سخن ور….فل سٹاپ کے بعد
ہسٹیریا کوئی بیماری ہے یا پھر کوئی خاص نوعیت کی عارضی کیفیت، ماہرین طب اور ماہرین نفسیات اس بارے میں عرصے سے تجربات اور تحقیق کے مراحل طے کرنے میں مصروف ہیں۔ہسٹیریا کے بارے میں ایک متفقہ رائے یہ ضرور ہے کہ جب انسان جذباتی طور پر خود اپنے قابو میں بھی نہیں رہتا تو اس کی اس اضطرابی کیفیت کے طبعی اثرات اس کے سارے وجود سے ظاہر ہونے لگتے ہیں۔کچھ لوگوں میں یہ اثرات قہقہوں کی صورت میں اور کچھ میں آنسوﺅں کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں۔ تاہم 1893میں اس دنیا سے رخصت ہونے والے معروف فرانسیسی نیورالوجسٹ جین مارٹن چارک کا کہنا تھا کہ ہسٹیریا نہایت واضح طور پر ایک دماغی خلل کا نام ہے اور اس کا کسی بھی قسم کی کسی جسمانی بیماری سے کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا۔اس نے یہ بھی کہا کہ کچھ لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ ہسٹیریا کا تعلق کسی مافوق الفطرت قسم کی قوتوں سے ہوتا ہے لیکن ایسا بالکل بھی نہیں۔ ہسٹیریا مکمل طور پر ایک ایسا طبی مسئلہ ہے جس کا تعلق انسانی دماغ سے ہوتا ہے۔ہسٹیریا کوبنیادی طور پر خواتین کی بیماری کہا جاتا ہے، اس بیماری کا شکار عورتوں میں بے خوابی اورچڑچڑے پن کے ساتھ ساتھ جنسی اضطراب کی شکایت بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ہسٹیریا کی ایک قسم war-hysteria یعنی جنگی جنون بھی ہے۔ اس طرح کے جنون کا شکار افراد دوسروں سے مسلسل بنیادوں پر لڑتے جھگڑتے دکھائی دیتے ہیں۔تاہم وار ہسٹیریا اس وقت بہت ہی خوفناک ہوجاتا ہے جب کوئی ملک اس طرح کے ہسٹیریا کا شکار ہوجائے۔ عہد جدید میں ہمارا قریب ترین ہمسایہ ملک بھارت ایک عرصے سے وار ہسٹیریا کا شکار دکھائی دیتا ہے۔نیپال، بھوٹان، سری لنکا، چین اور پاکستان، کوئی ایک ملک بھی بھارت کے جنگی جنون سے محفوظ نہیں۔دلچسپ بات یہ کہ افغانستان اور بنگلہ دیش جیسے وہ ممالک بھی بھارت کے اس جنگی جنون سے محفوظ نہیں جنہیں بھارت اپنا ہمنوا قرار دیتا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ پاکستان اور سری لنکا جیسے ممالک میں بھارت براہ راست اپنی مداخلت سے معاملات کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ افغانستان اور بنگلہ دیش میں بربادی اور خرابی پیدا کرنے کے لیے بالواسطہ طور پر بھارتی کاوشیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی قوت ایسی نہیں جو بھارت کو اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ فساد پر مبنی پالیسیوں سے روکنے کی اہلیت رکھتی ہو۔ جب تک چین واحد ، ورلڈ سپر پاور کے طور پر سامنے نہیں آتا، بظاہر فی الحال،امریکا دنیا کا وہ اکیلا ملک ہے جس کے پاس بھارت کو نکیل ڈالنے کی ہمت بھی ہے اور صلاحیت بھی ‘لیکن امریکا کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ کبھی ایسے معاملے میں مداخلت نہیں کرتا جس میں اس کا اپنا براہ راست کوئی مفاد نہ ہو۔ممبئی بلاسٹ، سمجھوتہ ایکسپریس اور پٹھان کوٹ حملے جیسے واقعات پر ایک نظر دوڑائیے، آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان تمام واقعات میں بھارت نے ہر طرح سے پاکستان کو گھسیٹنے اور رگیدنے کی کوشش کی،ہر بین الاقوامی فورم پر پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست قرار دیا، پاکستان کو سرجیکل سٹرائیکس کی دھمکیاں دیں لیکن امریکا نے کبھی بھی بھارت کو اس ناجائز عمل سے روکنے کی کوشش نہیں کی، صرف اس لیے کہ بھارت کو روکنے میں امریکا کا کوئی مفاد نہیں تھا۔تاہم گذشتہ دنوں جب بھارت نے روس سے S-400میزائل سسٹم خریدنے کا معاہدہ کیا تو امریکا نے بھارت پر مختلف قسم کی پابندیاں عائد کرنے کی وارننگ جاری کردی مگربھارت اور روس نے اس وارننگ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے روسی صدر پیوٹن کے حالیہ دورہ بھارت کے دوران اس معاہدے کو حتمی صورت دے دی ۔روس پر تو اس امریکی دھمکی کا اطلاق ہی نہیں ہوگا لیکن بھارت کو یہ امریکی حکم عدولی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ امریکی انتظامیہ کے پاس مقامی قوانین کے تحتCAATSA نام کا ایک اختیار ہے، اس اختیار کے تحت امریکا اپنے ناپسندیدہ تین ممالک یعنی ایران، نارتھ کوریا اور روس سے کسی بھی قسم کے دفاعی لین دین کا معاہدہ کرنے والے ملکوں پر ہر طرح کی پابندی لگا سکتا ہے۔ CAATSA دراصلCountering America’s Adversaries through Sanctions Act کا مخفف ہے۔ اگرچہ امریکی صدر جب چاہے اپنا خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی پابندیوں کو جزوی یا کلی طور پر ختم کرنے کا اختیار رکھتا ہے لیکن روس کے ساتھ بھارت کے حالیہ معاہدہ کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بھارت کو نہایت واضح لفظوں میں بتا دیا ہے کہ امریکا سے مفادات کا حصول جاری رکھنا ہے تو پھر امریکا کے دشمنوں کو اپنا دشمن سمجھنا ہوگا۔دوسروں کے ٹکڑوں پر پلنے والوں کا ہر جگہ یہی انجام ہوتا ہے۔اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان بڑی تیزی کے ساتھ اس امریکی امدادی چنگل سے آزاد ہو رہا ہے جس میں ہم گذشتہ کئی دہائیوں سے گرفتار تھے۔ کبھی فوجی امداد کے نام پر تو کبھی امریکا کا اتحادی ہونے کے حوالے سے، ہمیں ہر دور میں بلیک میلنگ کا سامنا رہا ہے۔ لیکن بدمزاج، شکی اور شاکی مالک کی طرح امریکا کبھی بھی ہماری کسی بھی کار کردگی سے مطمئن نہیں ہوسکا۔ ڈو مور، ڈو مور کا مطالبہ سن سن کر ہماری قوم کے کان پک گئے، امریکا کو راضی کرنے کے لیے ہم نے بہت کچھ برباد کرلیا لیکن سب بے سود۔ اب ہماری حکومت اور ہماری افواج نے مل کر طے کرلیا ہے کہ ہم اپنی قوم کو مزید اس بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔ خود انحصاری کے اس سفر میں ہم سب کو یقینا کچھ نہ کچھ سختی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا، ہم میں سے ہر فرد پر آئندہ دنوں میں کچھ نہ کچھ اضافی بوجھ بھی پڑے گا لیکن سختی اور آزمائش کا یہ زمانہ انشاءاللہ طویل نہیں ہوگا۔ ہم مل جل کر، ہمت اور حوصلے کے ساتھ سختی کا یہ زمانہ نہایت پرعزم انداز میں سہنے کی قوت بھی رکھتے ہیں اور ہمت بھی، ہمیں ضرورت ہے تو صرف اور صرف پختہ ارادے کی۔باقی نام اللہ کا۔
(کالم نگار اردو اور انگریزی اخبارات میں
قومی اور بین الاقوامی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved