تازہ تر ین

قومی زبان اردو کی زبوں حالی

مبارک علی شمسی….مسافرِ شب
اردوکی تاریخ تو بہت پرانی ہے اور اس حقیقت سے بھی رو گردانی نہیں کی جاسکتی کہ برصغیر میں اردو بہت مقبولیت کی حامل رہی ہے۔ علامہ شیرانی کے نظریے کے مطابق اردوکی داغ بیل اسی دن سے پڑنی شروع ہوگئی تھی جس دن مسلمانوں نے ہندوستان میں آکر بطور وطن رہائش اختیار کرلی تھی مگر سارے مصنفین کا ایک اور خیال یہ ہے کہ اردوبرج بھاشا سے نکلی ہوئی زبان ہے کوئی اسے برج کی بیٹی بناتا ہے اور کوئی اس کے دودھ سے اس کی پرورش تعبیرکرتا ہے اور اردوکے بارے میں سید سلمان ندوی ؒ کی رائے ملاحظہ ہو وہ کہتے ہیں کہ ” اس تاریخی غلط فہمی کا مٹانا بہت ہی ضروری ہے جس کی رو سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ بولیاں یعنی عربی، فارسی، سندھی، ملتانی ، پنجابی موجودہ اردوکی بگڑی ہوئی شکلیں ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ اردو انہیں بولیوں کی ترقی یافتہ اور اصلاح شدہ شکل ہے یعنی جس کو ہم اردوکہتے ہیں اس کا آغاز انہیں بولیوں میں عربی وفارسی کے میل جول سے ہوا اور آگے چل کر یہ دارالسلطنت کی بولی،معیاری زبان بن کر تمام صوبوں میں پھیل گئی۔ حسام الدین راشدی یوں رقمطراز ہوتے ہیں کہ “اردوہندو مسلمانوں کی و ہ سانجھی زبان ہے جو مسلمانوں کی ہندوستان میں آمد اور حکومت و تمدنی روابط کی بدولت اس طرح وجود میں آئی کہ اسلامی زبانوں کے ہزارہا الفاظ ہندی زبان میں شامل ہو گئے اور اہل ہند چاہے وہ ہندوہوں یا مسلم وہ انہیں سمجھنے اور بولنے لگے” ۔ حضرت امیر خسرو شعراءکے سرتاج ہیں ان کی شاعری میں بھی اردو کے الفاظ و تراکیب بدرجہ اُتم موجود ہےں۔غالب نے اردو کی اہمیت اوراس کے ارتقاءکے حوالے سے کیا خوب فرمایا ہے کہ
ریختہ کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں کہ اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
ہندوستان کی مقبول خاص و عام زبان اردوکی ابتدا اُس وقت ہوئی جب مسلمان فاتحین نے کوہ ہندوکش کو عبور کر کے ہند کی دھرتی پہ قدم رکھا اور آریہ ورتھ کے باشندوں سے میل جول قائم کیا، جیسے جیسے ان دونوں قوموں کے تعلقات مضبوط ہوتے چلے گئے ویسے ویسے عربی، فارسی اور ہندوستان کی آربائی زیانوں کے باہمی ملاپ سے ایک مخلوط زبان یعنی اردو عالم وجود میں آئی ، مگر ہمارے مو¿رخین اورمحققین اردو کو شاہجہان کے عہد کی پیداوار سمجھتے چلے آئے ہیں گو کہ بعد کی تحقیقات نے انہیں ماضی میں جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ تاہم محمود غزنوی سے پہلے کی تاریخ پر ان کی نظر نہیں پڑتی کیونکہ اردوکو دہلی کی نواحی زبان سمجھا جاتا ہے ۔ اگر محمود غزنوی سے قبل چار سو سالہ تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گاکہ وادی ¿ سندھ کو ایک نئی زبان کے پیداکرنے میں تقدم حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ امیر خسرو اس نئی زبان کو لاہوری کہتا ہے اور ابوالفضل اسے ملتانی کے نام سے رقم کرتا ہے مگر یہ دونوں نام ایک ہی زبان کے لیئے استعمال ہوئے ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ترقی یافتہ بھاشا(اردو)کی تاریخ ترکش اور مغلیہ دور سے نہیں بلکہ ان سے بیشتر یعنی اصل عربوں کے زمانہ سے شروع ہوتی ہے پاکستان میں ابتدائی دور میں اردونے بہت ترقی کی مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں اردوکو اتنی اہمیت اور پذیرائی نہ مل سکی جو اسے ملنی چاہیے تھی شاید اسی وجہ سے گزشتہ کئی عشروں سے ہماری قومی زبان اردُوزبوں حالی کا شکارہے جسکی بنیادی وجہ سابقہ حکمرانوں کی انگریزی زبان میں پسندیدگی اور انگریزوں کی ذہنی غلامی ہے اوردوسری وجہ یہ بھی ہے بلکہ صدیوں سے افسر شاہی کی یہ ریت بھی چلی آرہی ہے کہ ہرآنے والا حکمران اپنی زبان اور اپنے احکامات محکوم قوموں پر مسلط کرتا چلا آرہا ہے۔ بظاہرتو ہم ایک آزاد اور خود مختار اور اسلامی ریاست کے باشندے ہیں مگر ابھی تک ہم نے غلامی کا طوق گلے سے نہیں اتارپھینکا، یہی وجہ ہے کہ انگریزی کو ہماری دفتری اور عدالتی و ریاستی زبان کی حیثیت سے ہمارے اوپر مسلط کر دیا گیا ہے مگر افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات کو چھو ڑ کر مغرب کے مقلدبن چکے ہیں۔
بانی ¿ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ نے اردوکے متعلق واضح اور کھلم کھلا الفاظ میں فرمایا تھا کہ ” اردوپاکستان کی قومی زبان ہو گی” اور قائد کے اس حکم نامے کو امر کرنے کے لیے 1973ءکے آئین میں اردُوکو سرکاری زبان قرار دے دیا گیا تھا اور شاعر مشرق علامہ اقبال قومی زبان کی اہمیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” میں جو اردُولکھتا ہوں یہ میری تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے اور میں اس کو چھوڑنہیں سکتا ، شان، جلالت، رُعب او ردبدبہ اس کے اوصاف ہیں میری لِسانی عصبیت میری ذہنی عصبیت سے کسی طرح کم نہیں ہے ”
دنیا کی تاریخ میں آج تک ایک بھی قوم ایسی نہیں گزری جس نے کسی دوسری قوم کی زبان میں ترقی کی منازل طے کی ہوں، ہمسایہ ملک چین کو ہی لے لیجئے انقلاب ِ چین کے وقت ماو¿زے تنگ نے حکم جاری کیا تھاکہ چینی بچے صرف چینی زبان میں چائنیز ٹیچرز سے علم حاصل کریں گے چین میں آپ کو کوئی بھی سرکاری یا نجی عہدہ دارانگریزی بولتا نظر نہیں آئے گا۔ دنیائے اسلام کا ترقی یافتہ ملک ترکی جس میں درجہ چہارم سے لیکر آرمی چیف تک سارا نظام ترکش زبان میں ہے اور ایران کا تمام سرکاری ہائے نظام فارسی میں ہے وہاں جانے اور رہنے کے لیے آ پ کو فارسی زبان پر مکمل عبور حاصل ہونا چاہیے۔ انگریزی کو نظر انداز کرنے کے باوجود بھی ایران سے ہر سال نوبل انعام کے لیے کوئی نہ کوئی نامزد ہوتا ہے، جاپان میں صرف جاپانی زبان ہی سرکاری زبان کے طور پر رائج ہے یہی وجہ ہے کہ جاپان جیسا منظم اور ترقی یافتہ ملک ایٹم بم کھا کر بھی نہیں مرا اور نہ ہی ایٹم بم کا خوف اسے ذہنی غلام بنا سکا ۔ دنیا کا جدید ترین ملک اسرائیل جس میں کسی کو انگلش نہیں آتی، کم عرصہ میں ترقی کی منازل عبور کرنے والے ملک جرمنی کے رہائشی جرمن انگزیری سے نفرت کرتے ہیں۔بھارت جیسا انگریز نواز ملک بھی انگریزی سے فرار ہو کر تمام علوم و فنون کو ہندی ، اردواور دیگر مقامی زبانی میں منتقل کر رہا ہے اور تمام سائنسی اصطلاحات کا ترجمہ بھی اردو میں ہی کر رہا ہے۔ افسوس اردُوقومی زبان تو پاکستان کی ہے مگر اس پہ اغیار کام کر رہے ہیں اور مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اگر کوئی قوم دنیا بھر کے علوم و فنون اور سائنسی اصطلاحات کو اپنی قومی زبان میں منتقل کر کے اسے نافذ کرنے سے قاصر رہے تو پھر ایسی قوموں کو تباہی سے کوئی نہیں روک سکتا۔ بانی ¿ پاکستان کے پاکستان کی آزادی کی تکمیل اس روز ہو گی جس دن اس سلطنت خداداد میں ہر شعبہ¿ زندگی میں ہرسطح پر اردوکا نفاذ ہو گا اور یہی وہ دن ہو گا جب وطن عزیز ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو گا اور کامیابی و کامرانی ہمارے قدم چومے گی اور یہی وہ ساعت ہو گی جب ہم حقیقی معنوں میں آزاد ہونگے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ پاکستان میں اردوزبان کے نفاذ کے حوالے سے سابقہ کسی حکومت نے عمل درآمد نہیں کروایا جبکہ 8 ستمبر2015 ءکو سابق چیف جسٹس آف پاکستان جوادایس خواجہ نے نفاذ قومی زبان کے حوالے سے تفصیلی اور ٹھو س فیصلہ بھی سنایا تھا کہ پاکستان میں فوری طور پر حکومت سرکاری و نجی سطح پراردوکو نافذ کرے اور تمام سرکاری اصطلاحات بھی اردو میں منتقل کرے مگر صد افسوس کہ عدالت کے اس فیصلے کو ہوا میں اڑا دیا گیا اور یو ُںیہ فیصلہ بھی سیاست کی نظر ہو گیا اب جبکہ تبدیلی کی خواہاں پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار ہے اور وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قومی زبان میں خطاب قابل داد ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت اور موجودہ وزیراعظم عمران خان قومی زبان کے نفاذ کے لیے اپنا بھر پور کلیدی کردار ادا کریں گے۔
(کالم نگارسیاسی وسماجی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved