تازہ تر ین

عوام کی فلاح کیلئے قانون سازی کرو

اخترمرزا……..اظہارخیال
شہروں کے بازار اور گلیاں گندگی سے بھری پڑی ہیں، گاو¿ں والوں کا تو اور بھی بُرا حال ہے اور انکے میلوں لمبے راستے اور پگڈنڈیاں برسوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، راقم اپنے گاو¿ں جاتا ہے تو کھڈوں کے اوپر سے گاڑی کو چلانا پڑتا ہے ،ہمارے ملک کے ہر کونے میں حکومت قائم ہے اور سالمیت کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، مگر نظام کہیں نظر نہیں آتا، بڑے آفیسر سے لے کر چھوٹے افسر تک کچھ کرتے نہیں نہ ہی لوگوں کو آگے آنے دیتے ہیں، میڈیا اور اخبارات لوگوں کی پریشانیوں کی خبروں سے بھرے رہتے ہیں، مگر نہ تو صوبائی حکومتیں توجہ دیتی ہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کا ایک بھی ممبرپارلیمنٹ گندگی دور کرنے باہر نکلتا ہے ، یہ وہ عوامی نمائندے ہیں جو وہاں بیٹھ کر قانون سازی کرتے ہیںجس کا اطلاق یا ان پر عمل کروانا بڑا مشکل نظر آتا ہے ، پچھلے 40,35 برسوں سے لوگوں کے دماغی توازن بگڑے بگڑے حالات نے ایسی کروٹ لے لی ہے کہ اپنے والدین کو قتل کرنے لگے ہیں، بھائی بھائی کو قتل کررہاہے، جو ان بہنوں کے گلے کاٹے جارہے ہیں ، معصوم بچوں کو سوئے پڑے بے بات انکے گلے کاٹ رہاہے ۔ ایسے کئی واقعات اخبارات میں تصاویر کے ساتھ چھپ رہے ہیں، کیا قانون سازی کرنے والوں کو ایسے گھناو¿نے واقعات کی خبر نہیں ملتی ؟ کیا مجرم کو سزا دینے سے حالات کا تدارک ہو جاتا ہے ؟کیا پھانسی چڑھانے سے آئندہ ہونے والے ایسے واقعات کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔قتل کرنے کی اصل وجہ دماغی پریشانیاں ہیںجن کے پیچھے پیسے کی بیشمار تنگی اور غربت میں ہر طرف سے بے بسی کا عالم اور ستم یہ کہ حکومت کسی بھی صورت میں ایسے لوگوں کا ہاتھ پکڑنے حاضر نہیں ہوتی، نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرے کے یہ بھٹکے ہوئے لوگ چوری ڈاکے پر اتر آتے ہیں یا بے حد تنگی کی حالت میں اپنے ہی گھر کا خاتمہ کردیتے ہیں، تو پھر کہاں گئی آپ کی قانون سازی ، کیا اثرر ہا ایسی قانون سازی کا جہاں آزاد مسلم ریاست میں عوام بے بسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوںاور اپنی زندگی کا خاتمہ کربیٹھیں۔
ان غریب لوگوں کو غیر ممالک میں روٹی روزی کمانے کیلئے ویزے نہیں ملتے، ویزے تو صرف امیر لوگوں کو ان کے بنک بیلنس دیکھ کر سٹمپ کئے جاتے ہیں ، غریب کا کیا حق بنتا ہے کہ اسکو ویزا دیا جائے، لہٰذا وہ اپنا پیک بیگ اٹھاکر بارڈر کراس کرتا ہے اور دوسرے ممالک میں مقامی لوگوں سے آدھی تنخواہ پر کام پر لگ جاتا ہے ، یا پھر اور بھی بدقسمت ہو تو بارڈر پر ہی پکڑا جاتا ہے اور انکی تمام خواہشات وہیں دم توڑ دیتی ہیں۔
ایسے نوجوانوں کو قید نہیں کرنا چاہئے بلکہ انہیں ویزے لگواکر ہر صورت دیگر ممالک کیلئے معاونت دینی چاہئے، آزاد ملک میں لوگوں کو بھی آزاد رہنے دیں ، ہر کام پر قانون سازی نہ کریں، اپنے ملک کے دریاو¿ں سے مچھلی پکڑنے جاو¿ تو لائسنس نہ ہونے پر پکڑلیا جاتا ہے ، سر پر ہیلمٹ نہ پہنو تو نوجوان دھر لیا جاتا ہے ، حالانکہ وہ مزدوری کی خاطر کسی کے گھر نلکا ٹھیک کرنے جارہاتھا، یہ سچ ہے کہ غریب شخص ہر وقت ہر جگہ مارا جاتا ہے بلکہ امیر طبقہ اور سیاستدان انہیں دھوکے میں رکھ کر فائدہ اٹھاتے ہیں، بڑے آدمی کی شاباش اور اپنی وفا پر یہ لوگ اپنی اپنی جان گنوا بیٹھتے ہیں، اور اپنے غریب خاندان میں رونا چھوڑ جاتے ہیں۔
(کالم نگارسماجی مسائل پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved