تازہ تر ین

آئی ایم ایف‘ زہرِ ہلاہل یا ”قند“

عثمان احمد کسانہ…. بولتے الفاظ
گھُٹنے ٹیکنا یا ہارمان لینا بظاہر معیوب اور مشکوک معلوم ہوتا ہے۔ لیکن پنجابی کی ایک کہاوت ہے ” راہ پیا جانے یا واہ پیا جانے“ یعنی جو جس رستے پر چلتا ہے اسے ہی اس راہ کی مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے اور جب کسی معاملے سے واسطہ پڑتا ہے تو ہی اس کا بھاو¿ تاو¿ معلوم ہوتا ہے۔ اس کو مزیدآسان کرنے کیلئے ایسے کہہ دیتے ہیں کہ بڑھک بازی اور حکومتی اُمور سازی میں بہت زیادہ بلکہ زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔موجودہ وزیراعظم صاحب جب تک کنٹینر پر تھے تب تک تو یوٹیلٹی بلز جلانا اور سول نافرمانی کی دھمکیاں دینا سمجھ آتا تھا ۔مگر خدا لگتی بات ہے کہ اب حکومت کے ایوانوںمیں بیٹھ کر دھمکی آمیز لہجہ انہیں ذرا نہیں جچتا۔ اس کام کیلئے انکے پاس وزراءکی فوج ظفر موج ہے ناں۔ ان کا کام ہے کہ وہ بگل بجائیں یا آوازیں کسیں۔ آپ تو سربراہِ حکومت ہیں۔ آپ کا وقت قیمتی ہے۔ آپ عوامی فلاحی منصوبہ جات کیلئے غور و خوض کیجئے‘ آپ بین الاقوامی معاملات میں دلچسپی لیجئے۔ دوست ممالک کی دوستی کی قدر کیجئے‘ دشمنوں کی دشمنی کی خبر لیجئے۔ باقی جہاں تک یہ یوُٹرن لینے والی بات کا تعلق ہے تو کہنے والوں کو کہتے رہنے دیجئے۔ آپ کوئی پرُانے اور منجھے ہوئے توہیں نہیں آپ تو نئے نئے آئے ہیں اور نیا پاکستان بنانے آئے ہیں۔اقتدار کی راہداریاں پرُ پیچ تو ہوتی ہیں لیکن نئے پاکستان میں یہ کس قدر خاردار اور پرُ خطر ہیں یہ بھی آپ ہی کے جاننے کی بات ہے۔ جہاں سے جی چاہے نیا موڑ اور نیا رخ اختیار کر لیجئے۔ استدعا صرف یہ ہے کہ پاکستان نیا ہو یا پُرانا اس میں غریب کی آس نہ ٹوٹنے دیجئے گا۔ یہ جو غریب اور سادہ لوگ ہوتے ہیں یہی اثاثہ ہوتے ہیں ملک و ملت کا ‘ معاشرے کا اور طاقتور لوگوں کا بھی۔ انہی کے سروں پہ قدم رکھ کر اقتدار کے بلندوبانگ بام ودر تعمیر کئے جاتے ہیں۔
آپ 100دن کا ایجنڈا یا دوسرے الفاظ میں 100دن کی چمک لیکر آئے تھے۔ اب کیا ہوا‘ کیسے ہوا‘ اس سے عام آدمی کو غرض نہیں۔ کیاعام آدمی صرف بھاشن سُننے اور پیٹ پر پتھر باندھ کر مشقت کرنے کیلئے زندہ رہے۔ جب آپ فرمائیں کہ بھیک یا قرض نہیں مانگوں گا خود کشی کر لوں گا۔ یہ غریب تب بھی زور دار تالیاں بجائے‘ نعرے لگائے‘ واہ واہ کرے‘ تھڑوں‘ بازاروں اور اخباروں میں آپ کا دفاع کرے اور جب آپ جناب اپنی اداو¿ں پر نظر ثانی فرمائیں اور ملک کو پھر سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی میں لے جانے لگیں تو بھی یہ غریب آپ کی خیر مانگے‘ اور زبردستی یہ یقین پیدا کر ے کہ اب کی بار یہ غلامی عارضی ہے۔ ہمیں تو پچھلے چار پانچ سال سے آپ کی باتیں سُن سُن کر غلامی سے شدید نفرت ہوگئی ہے۔ نئے پاکستان کے پاکستانی اب ذہنی طور پر بھی آزاد ہیں اور آپ کی آسانیاں پیدا کرنے کی داعی حکومت کی بدولت معاشی طور پر بھی آزاد رہنے کی خُو کر چکے ہیں۔ اب انہیں یہ سمجھا نا بحث ہے کہ فلاں مسئلہ ہے‘ فلاں مشکل ہے‘ فلاں مجرم ہے‘ خزانہ بھرنا ہے‘ گزارہ کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔ کچھ نہیں بھی¿ اب تو کر کے دکھانا ہو گا۔ خالی خولی بیانات ‘ سچی جھُوٹی تسلّیاں گالیاں اور دھمکیاں اب کار گر نہیں ہونگی۔ملک میں مہنگائی کا طوفان برپاکرنے اور ضروریات زندگی کو عام آدمی کی پہنچ سے دور کرنے کے باوجود آئی ایم ایف کی گود میں پناہ لینے کا مطلب ناتجربہ کاری اور حالات سے عدم واقفیت کے علاوہ اور کچھُ نہیں۔ اس کا واضح مطلب ہے کہ اب مہنگائی اور بدحالی کا ایک اور ریلا آئے گا جو میرے خیال سے امیرو غریب اور طاقتور و کمزور کی تمیز کیے بغیر سب کو بہا لے جائیگا ۔ پاکستانی روپے کی بے قدری‘ ڈالر کی اُونچی اڑان‘ سٹاک مارکیٹ کی تاریخی تنزلی ان سب باتوں کو سُن کر اس شخص کے بھی طوطے اُڑتے جارہے ہیں جس کا مالی گورکھ دھندوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
وطن عزیزکا بہت بڑا طبقہ جو پہلے خاموش تھا یا لاتعلق تھا اب وہ بھی فکر مند ہے ۔ ایک سفید پوش مڈل کلاسئے کو یہ سب بے معنی سا لگتا ہے کہ نیب بلا امتیاز احتساب کرے یا امتیازی پکڑ دھکڑ کرے‘ چوروں اور ڈاکوو¿وں کو نشان عبرت بنایا جائے یا لین دین کر کے معاملات طے کر لئے جائیں‘ سرکاری محکموں اور اداروں میں کئے گئے گھپلے کھولے جائیں یا بابوو¿ں کی فائلوں کی نذر ہو جائیں وہ تو یہ جانتا ہے کہ بجلی کے بعد گیس ‘ پھر پانی اور کھانے پینے کی اشیا بھی مہنگی ہو چکی ہیں۔ اور اس ڈراو¿نے خواب کے خوف سے اب تو نیند بھی نہیں آتی کہ آئی ایم ایف کی جانب سے نیا حکم نامہ آنے کو ہے۔اب ہمیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی آرزو کیے بغیر صرف اور صرف قومی مفاد میں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ بیرونی قرضے اور بیرونی آقاﺅں کی امداد ہمارے لیے زہر ہلاہل ہے یا زندگی آمیز قند ہے۔ فکری رہنما اور مرشد حضرت علامہ اقبالؒ نے تقریباً ایک صدی قبل کہہ دیا تھا کہ
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved