تازہ تر ین

مقامی لوگوں کے خواب

رازش لیاقت پوری وسدیاں جھوکاں
رحیم یار خان قیام کے دوران صحافی ناصر مزاری کی والدہ کی تعزیت کے لیے راجن پور کلاں کے دوستوں کے ساتھ سندھ دریا کے بیٹ میںجانا ہوا تو پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا کہ شیر دریا کا بیٹ کتنا زرخیز اور امیر ہے کہ ہر طرف لہلہاتی فصلیں ہی فصلیں نظر آئیں اور پہلی دفعہ یہ بھی احساس ہوا کہ یہاں کے شہروں کی ترقی ،تاجروں کی امارت میں یہاں کے دیہاتیوں کا کمال ہے جو مختلف اجناس پیدا کرکے اس شہر میں فروخت کرکے یہاں بڑے بڑے تجارتی مراکز بناچکے ہیں ،یہ احساس بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ یہاں کے لوگوں کے پاس اگرچہ پیسہ ہے مگر تعلیم ہے نہ صحت کی سہولیات اور نہ ہی سڑکوں کے جال جس کی وجہ سے یہاں کے لوگوں میں شعور کی کمی بھی بدرجہ اتم موجود ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی یہاں کی خواتین کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ،آج بھی یہاں کی عورت کالاکالی اور ونی کی بھینٹ چڑھتی رہتی ہے ،سندھو دریا اور اس کے ہمسائے بھی عجیب قسم کی پریشانیوں میں مبتلا رہتے ہیں کہ ایک طرف کے لوگ تو سیلاب کی تباہ کاریاں سہتے رہتے ہیں مگر چند کلومیٹر کے فاصلے پر موجود چولستان کے لوگ پیاس سے مرتے رہتے ہیں۔ ایسی کیفیت کو یہاں کے شاعروں اور گلوکاروں نے اپنے اپنے انداز میں اجاگر کیا ہے مگر یہاں نہ تو سیلاب کی تباہ کاریاں رک سکیں اور نہ ہی چولستانیوں کی پیاس بجھ سکی ،بقول امان اللہ ارشد” ڈونہیں مویوں ارشد پانی تو تیکوں چھل ماریئے میکوں تریہہ ماریئے“(اے میرے دوست ،اے میرے ہمسائے آپ کا اور میرا دکھ ایک جیسا ہے کہ میں سیلاب سے ماراجاتا ہوں اور آپ پیاس سے)یہ تو بھلا ہو یواے ای کے حکمرانوں کا کہ وہ یہاں شکار کی غرض سے آئے اور روہی میں بھی رونق آنا شروع ہوگئی ورنہ خواجہ سائیں کی شاعری میں تو اسے پروحشت سنجڑی روہی کہا گیا ہے۔
اسی ریتوں بھری روہی میں شکار سے اپنے دل بہلانے والوں نے جب روجھان کی طرف جانے کا فیصلہ کیا تو راستے میں سندھ دریا کی موجوں نے رکاوٹ پیدا کی مگر انہوں نے اپنے شوق کی خاطراربوں روپے سے بنگلہ اچھا کے مقام پر شیخ خلیفہ برج کے نام سے ایک پل کی تعمیر شروع کروا دی جسے دیکھ کرمقامی لوگوں کے چہرے بھی خوشی سے دمکنے لگے کہ چلو ہمیں بھی لمبے سفر کی مصیبتوں سے چھٹکارہ مل جائے گا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے یہاں کے لوگ کہتے تھے کہ اس پل کی تعمیر سے لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگا یہ علاقہ جو ڈاکوﺅں اور چوروں کی وجہ سے مشہور ہے ،چھوٹواور دوسرے گینگ بھی یہاں کے دریائی علاقوں میں چھپ کر انسانوںکو مارتے اور لوٹتے رہے ہیں،اب پل بننے سے بہت جلد یہ علاقہ بھی ترقی یافتہ بن جائے گا کیونکہ انہیں اپنی اجناس اور اشیاءشہروں تک پہنچانے میں کئی مسائل کا سامنا رہاہے ،اس پل کی تعمیر سے رحیم یار خان ،راجن پور،روجھان ،کشمور اور عمرکوٹ سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے شہروں کے لاکھوں لوگوں کو فائدہ ہوگا جس سے یہ علاقہ ایک نیا رخ اختیار کرجائے گا ،جیسے جیسے پل کی تعمیر آگے بڑھتی جارہی تھی لوگوں کے خواب بھی تعبیر کی جانب بڑھتے جارہے تھے کہ اچانک ان کے خوابوں کو بھی بریک لگ گئی جب انہیں پتا چلا کہ یہ پل تو یواے ای والے اپنے پیسے سے بنوا رہے ہیں مگر اس کے سپر اور اپروچ روڈ پنجاب حکومت بنائے گی ،جیسے ہی یہ خبر پھیلی خوشی غمی میں بدل گئی کیونکہ یہاں کے لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ سابقہ حکمران توصرف لاہور کو سنگھارنے اور سنوارنے میں لگے ہوئے ہیں وہ کہاں یہاں کام کروائیں گے ،لوگوں کا خدشہ سچ ثابت ہوا کہ دوسال سے تیار شیخ خلیفہ برج آج بھی اپنے مسافروں کی راہیں تک رہا ہے اور مقامی لوگ ہیں کہ اس پل کو دوردور سے دیکھ کر آنسو توبہاتے رہتے ہیں مگر دریا کے آر پار نہیں جاسکتے ،ایسی کیفیت سے گزرنے والے مقامی لوگوں میں سے ایک انسان دوست اجمل مزاری نے کسی دوست کے توسط سے خبریں دفتر کال کی اور مجھے کہا کہ جناب ضیاشاہد نے نشتر گھاٹ کا مسئلہ اٹھایا تھا ،ہمارے پل سے بعد میں بننے والا بےنظیر پل تو چالوہوگیا ہے مگر ہم آج بھی میلوں کا سفر طے کرکے آس پاس کے شہروں میں جاتے ہیں براہ کرم ہمارا یہ مسئلہ بھی اٹھائیں تو مجھے خوشی ہوئی کہ وسیب میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو جناب ضیاشاہد کو اپنا مسیحا سمجھتے ہیں ،میں نے ضروری معلومات لے کر خبر لگائی تو تیسرے دن مجھے کسی دوست نے فون کرکے خوشخبری سنائی کہ ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی دوست محمد مزاری نے اس پل کے بقیہ کام کے لیے وزیراعلیٰ سردارعثمان بزدار سے فوری طور پر فنڈزجاری کرنے کی درخواست کی ہے، اس بات کی تصدیق کے لیے جب میں نے ان سے فون پر بات کی تو انہوں نے مجھے بتایا کہ واقعی میری شدید خواہش ہے کہ یہ پل جلداز جلد چالو ہوجائے تاکہ لاکھوں بے چین اور پریشان لوگوں کو ریلیف مل سکے ،انہوں نے کہا کہ اس پل کے چالوہونے سے جہاں یہاں کے مسائل حل ہوں گے وہاں جرائم کی شرح بھی کم ہوگی کیونکہ لوگوں کو روزگار ملنے سے یہاں ایک نئی خوشحالی کا آغاز ہوگا ،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی بھی یہی تبدیلی چاہتی ہے کہ عام آدمی کو ریلیف ملے ،پسماندہ علاقوں میں ترقی ہو،انہوں نے یہ بھی کہا ہم جناب ضیاشاہد کے بھی تہہ دل سے مشکور ہیں کہ وہ یہاں کے ایشوز اٹھاتے رہتے ہیں ،انشاءاللہ یہ پل بھی جلد ہی لوگوں کے لیے کھل جائے گا ۔
پیارے قارئین ،واقعی یہ پل صرف ایک پل نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی ترقی کا استعارہ ہے کہ اس پل کے چالو ہونے سے لوگ اپنی اجناس کی نہ صرف آسانی سے بڑے شہروں میں ترسیل کر کے ترقی کی منازل طے کریں گے بلکہ رحیم یار خان ،کشمور ،روجھان اور راجن پور سمیت کئی شہر فاصلوں کے سمٹنے سے خوشحالی کے نئے جہانوں سے روشناس ہوں گے اس لیے میری بھی حکمرانوں سے التجا ہے کہ اگر ممکن ہو تو آئندہ بجٹ میں اس کے لیے پیسے رکھنے کے بجائے ابھی سے اس کے سپر اور اپروچ روڈز کی تعمیر شروع کروادی جائے اس کے لیے شوگر ملز سے ملنے والے روڈ سیس فنڈز کے کروڑوں روپے پڑے ہوں گے ،اس حوالے سے ہمیشہ کی طرح متحرک ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل اور پی ٹی آئی کے منتخب نمائندے بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں، ہاں اگر یواے ای والے اربوں روپے خرچ کر کے یہ پل بنوا سکتے ہیں تو یہاں کے شوگرمل مالکان تھوڑا تھوڑا پیسہ عطیہ کرکے بھی اس پل کو چالو کروا سکتے ہیں کیونکہ اس میں ان کا بھی فائدہ ہے کہ بیٹ کاسارا گنا آسانی سے ان کے پاس بھی پہنچ جائے گاجس طرح سی پیک پاکستان کے لیے چینج میکر ہے اسی طرح یہ پل بھی یہاں کے لاکھوں لوگوں کے لیے چینج میکر کی حیثیت رکھتا ہے ،ہاں یہ بھی ہمارا عزم ہے کہ جناب ضیاشاہد کے ایک سپاہی کی طرح اس پل کی مکمل تعمیر تک ہم بھی حکمرانوں اور مقامی لوگوں کو جگاتے رہیں گے۔بقول سرائیکی شاعر تحسین بخاری
ضیاشاہد شالا جندڑی مانڑیں ،ساڈا پل وی چالو کر ڈے
نشتر گھاٹ دے لوکاں وانگوں اساں وی دعائیں ڈیندے راہسوں
(کالم نگار صحافی اور معروف شاعر ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved