تازہ تر ین

”میرا دوست نواز شریف“

منشا قاضی ……..اظہار خیال
”میرا دوست نوازشریف “یہ جناب ضیاشاہد کی دلچسپیاں اور رعنائیاں لیے ہوئے منفرد اسلوب بیاں اور رنگین تصاویر سے مزین تازہ کتاب ہے۔ میاں نواز شریف اور ضیاشاہد کسی دور میں بہترین اور بے تکلف دوست رہے مگر آج ؟ اس کا اظہار کتاب کے انتساب سے ہوتا ہے ” انتساب ہم ذات محمد نواز شریف کے نام۔ جس کے نیچے اشعار سے درج ہیں….
غیروں سے کہا تم نے
غیروں سے سنا تم نے
کچھ ہم سے کہا ہوتا
کچھ ہم سے سنا ہوتا
کتاب میں بے شمار دلچسپ واقعات درج ہیں۔ مطالعہ شروع کریں تو سمجھ لیں کتاب آپ سے چمٹ گئی ہے۔ یہ صرف نواز شریف ہی کے حوالے سے نہیں ایک پاکستان کی تاریخ اور نئی نسل کے لئے اس امر کی آگاہی بھی ہے کہ قوم کے مقدر کی ڈور کیسے حکمرانوں کے ہاتھ میں رہی۔ ضیا شاہد کی نوجوان سیاہ چمکتے بالوں والے خوبصورت نوجوان سے ملاقات گورنر ہاﺅس میں گورنر جنرل جیلانی نے یہ کہہ کر کرائی کہ جنرل ضیاالحق نے کہا ہے کہ میاں شریف کے بیٹے نواز شریف کوسیاست میں بہت آگے لے کر جانا ہے۔ اس ملاقات میں ضیاصاحب کے ایڈیٹرمیر خلیل الرحمن بھی موجود تھے۔ گورنر جیلانی نے دونوں کو ”تاکید “ کی اس نوجوان کو بھرپور کوریج دی جائے۔ فورم کسی بھی موضوع پر ہو نواز شریف کو ضرور بلایا جائے اس کی رنگین تصاویر چھاپو۔
پہلی اور آخری ملاقات کے دور ان بہت ساپانی پلوں سے نیچے اور بہت سے معاملات میاں صاحب کے سر سے گزر گئے۔ آخری ملاقات ضیا صاحب کے گھر ہوئی جس میں میاں نواز شریف نے کہا ”جپھی پاﺅ !آپ اپنا اخبار نکالو میں اپنی سیاست کرتا ہوں تم میرے کام میں دخل نہ دو میں تمہارے میں دخل نہیں دوں گا“۔ کتاب میں ضیا صاحب نے بہت سا مواد ہونے کے باوجود کرپشن کہانی پر قلم اٹھانے سے اس لئے گریز کیا کہ کیس عدالتوں میں ہیں۔ تاہم آخری باب میں ڈیوٹی بچانے کے لئے گاڑیوں پر موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹیں لگانے ،ذاتی گھروں کو سرکاری وسائل سے چلانے اور متصل پلاٹوں تسلط جمانے کی ہلکی پھلکی موسیقی ضرور سنائی دیتی ہے۔ دیدہ زیب ٹائٹل اور آفسٹ پیپر کے0 40صفحات کی کتاب کی قیمت 1400روپے ہے جو نوجوان علامہ عبدالستار عاصم کے ادارے قلم فاﺅنڈیشن یثرب کالونی لاہور (0300-0515101) نے شائع کی ہے۔
(بشکریہ:نوائے وقت)
٭….٭….٭
”میرادوست نوازشریف“
کاش نوازشریف کی کتاب منظر عام پر آتی اور وہ کہتا یا لکھتا میرادوست ضیاشاہد۔ مگر موصوف لکھنے اورپڑھنے کے ذوق سے محروم چلے آرہے ہیں۔ یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے کہ واقعی ضیاشاہد کی دوستی پائیدار بھائی چارے اورتادم زیست گزارے پر ہے۔ بدگمانی اس وقت شک میں بدل گئی جب کتاب کا ٹائٹل شاہد ہے کہ ”میرا دوست نوازشریف“ تو مجھے اس موقع پرانیس کاشعر یاد آیا:
دوستی جس کی نگاہوں میں تجارت ہے انیس
آج اسی ریا کار سے رشتہ دل جوڑ آئے ہیں
مصنف خود تسلیم کرتے ہیں کہ مجھ پریہ عقدہ بہت دیر کے بعد جا کر کھلا کہ تجارتی منڈیوں میں دوستیاں نہیں ہوتیں تجارت ہوتی ہے اورتجارتی طرزواسلوب کے خدوخال بدلتے رہتے ہیں۔
کبھی حیات کی ضامن کبھی وسیلہ مرگ
نگاہِ دوست تیرا کوئی اعتبار نہیں
صداقت اوراخلاص دوستی کازیور ہے اگر یہ دونوں وصف آپ کو نہ ملیں تو آپ کے لئے تنہائی بہتر ہے۔ شیکسپیئر کاقول ملاحظہ فرمائیں ”دوستی باہم رہنے سہنے اورکھانے پینے کا نام نہیں بلکہ یہ دو دلوں کے باہمی ربط کانام ہے“۔ مخلص دوست اللہ کا انعام اور قلب وروح کا آرام ہوتے ہیں۔ اس کتاب میں ضیاشاہد نے نوازشریف سے اپنی پہلی ملاقات کاتذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”میر خلیل الرحمن صاحب کے پیچھے میں گورنر صاحب کے کمرے میں داخل ہوا تو کوئی تیسرا موجود نہ تھا‘ میر صاحب سے گرمجوشی سے ملنے کے بعد انہوں نے میری طرف دیکھا‘ کچھ پریس کانفرنسوں اورچند ایک سرکاری دعوتوں میں ان سے سرسری ملاقات ہوئی تھی اوردو ایک بار گفتگو بھی‘ اس لئے وہ مجھ سے شناسا ضرور تھے انہوں نے مجھ سے بھی ہاتھ ملایا تاہم وہ گرمجوشی نہ تھی جو میر خلیل الرحمن صاحب کے لئے تھی۔ میر صاحب نے کسی تمہید کے بغیر کہا میں بندہ لے آیا ہوں میرا بیٹا شکیل اخبار کا انتظام سنبھالتا ہے تاہم لکھنے پڑھنے کاکام ضیاشاہد کے ذمے ہے ان دنوں جنگ فورم کا بہت چرچا تھا جس کامیں انچارج تھا اورہر اہم فورم میں بیٹھتا تھا اور اس کی خبرشائع ہوتی یا میگزین کے صفحات پر پورا صفحہ چھپتا تو مہمانوں کے ساتھ میری تصویر بھی شامل ہوتی تھی لہٰذا پڑھنے والے مجھ سے بخوبی واقف تھے“۔
جناب ضیاشاہد نے اپنی صحافتی زندگی میں تعلقات عامہ میں مہارت تامہ کابھی ذکر کیا ہے اور اپنے دوست نوازشریف کو حقیقی انسان بنانے کے مراحل بھی طے کروائے ہیں۔اصل بات تو احساس کی ہے اگر احساس ہے توہی ایک جاندار بھی انسان ہے۔ ابتدائے نگارش میں اپنے دوست کے بارے میں لکھتے ہوئے مصنف نے ماضی کا صیغہ استعمال کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”میں جس نوازشریف کی بات کرنے جارہا ہوں وہ کبھی میرا دوست تھا اور میں اس سے پیار کرتاتھا اُن دنوں میرا یہ خیال تھا کہ اتنی محبت اوراتنی دوستی کے جواب میں شایدوہ بھی مجھ سے پیار کرتا ہوگا“۔ نواز شریف کے استادوں‘ دوستوں اور عمران خان کی دوستی کابھی ذکر کیاہے۔ خوش پوشاکی اورخوش خوراکی کابھی ذکر موجود ہے۔ مہنگی ترین ضروریات زندگی خریدنے کا شوق تو آپ کو بچپن سے ہی تھا اور آپ نے بچپن سے پچپن تک خوب سیروتفریح کی ہے کیونکہ موصوف نے ایک خوشحال گھرانے میں آنکھ کھولی اورسہولت اورضرورت گھرکی لونڈیوں کی طرح دستیاب تھی۔1970ءکے زمانے میں بھی280ہارس پاور ایس ای ایل مرسیڈیز کنور ٹیبل سورمئی بغیر چھت کے مہنگی ترین لگژری گاڑی تھی۔ ضیاشاہد نے موصوف کے ذاتی دوستوں کا تذکرہ کرتے ہوئے طلعت محمود کوعمران خاں اور نوازشریف کامشترکہ دوست قرار دیا اورجاوید عنایت بٹ کابھی ذکر موجود ہے۔ دراصل میرے زیر نظر کتاب تبصرے کے لئے موجود ہے اوریہ قاری کافرض ہے کہ کتاب خرید کر پڑھے۔ یہ دلچسپ بھی ہے اورنوازشریف کی جبلت اور فطرت سے بھی آشنا کرتی ہے۔ ضیاشاہد نے اس کتاب کومحرم رازدرون مے خانہ کی حیثیت سے وہ راز افشاکیے ہیں جو آپ کو بہت کم ملیں گے۔
(بشکریہ:سرزمین)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved