تازہ تر ین

”کرپشن کے دشمنو!تمہیں خدا غارت کرے“

غلام اکبر …. مہمان کالم
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پانامہ کیس پر اپنے تاریخی فیصلے میں لارڈ آکٹن کے جس فقرے کو گاڈ فادر اور مافیا کے معاملات کے ساتھ جوڑا تھا وہ اپنی صداقت کے لحاظ سے ارسطو‘ افلاطون‘ رومی اور شیکسپیئر ہر بڑے مفکر کے کسی بھی قول کا ہم پلہ قرار پاسکتا ہے۔
”دولت کے ہر انبار کے پیچھے جرم کی ایک داستان چھپی ہوتی ہے۔۔۔۔“
اُردو ترجمہ میں نے اپنی مرضی کے مطابق کیا ہے۔۔۔ انگریزی میں الفاظ ہیں۔۔۔۔
Behind every great fortune there is a crime
اسٹیٹمنٹ پر وہ امراءضرور سخت احتجاج کریں گے جو صدق دل سے یقین رکھتے ہیں کہ انہوں نے دولت جائز اور حلال ذرائع سے کمائی ہے اور جب ہم حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمان بن عوفؓ کی شخصیات کو سامنے رکھتے ہیں تو اس حقیقت سے اتفاق کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ دولت مندی حلال اور جائز ذرائع کا نتیجہ بھی ہوسکتی ہے۔ یہاں البتہ یہ بات ضرور سامنے رکھنی چاہیے کہ مندرجہ بالا دونوں صحابہ کرام کی امارت اور دولت ہمیشہ معاشرے کی فلاح اور اسلام کے فروغ پر خرچ ہوتی رہی۔۔۔مجھے ایک اور بات بھی اس ضمن میں یاد آرہی ہے۔۔۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے اپنے مقرر کردہ حاکم مصر حضرت عمرو العاصؓ سے بعض الزامات کی تحقیقات کے حوالے سے جو خط و خطابت کی تھی اس میں ان کے آخری خط کا یہ جملہ ایک اور داستان پیش کرتا ہے۔۔۔۔
”عاص کے بیٹے تم نے اپنے دلائل سے اپنے موقف کو درست ثابت کردیا لیکن میرا دل نہیں مانتا کہ کوئی مسلمان حاکم اتنا امیر ہوسکتا ہے۔۔۔ میرا مشورہ ہے کہ اپنی اضافی دولت بیت المال میں جمع کرا دو ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں پابہ زنجیر مدینہ لانے کی نوبت آجائے۔۔۔“
بہر حال میں بات موجودہ حالات کے تناظر میں کررہا ہوں۔ اس غریب ملک کا ہر قارون اس بات پر مصر ہے کہ اس کے پاس دولت کی فصل اگانے کا بڑا کثیر بیج ہے جس کے جائز اور حلال نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اور جہاں تک بات ”جرم“ کی ہے تو مجرم تو وہ ہوتے ہیں جو جیبیں کاٹتے ہیں‘ بھینسیں چراتے ہیں، تالے توڑ کر دکانیں لوٹتے ہیں۔۔۔ وہ لوگ کیسے مجرم ہوسکتے ہیں جو سونے چاندی کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہوں، کروڑوں روپوں کی گھڑی پہنتے ہوں، جو اربوں کھربوں کے منصوبوں میں اربوں کھربوں کے ٹھیکے دیتے ہوں اور خالص کاروباری اصولوں کے مطابق جائز اور حلال کمیشن وصول کرتے ہوں۔۔۔
ماضی کے ایک بہت معروف صحافی کا ذکر ہے جو مزاجاً کنجوس تھے۔ ایک روز وہ ہانپتے ہوئے دفتر پہنچے تو ان کے سینئر نے وجہ پوچھی۔ ”میں نے آج بیس پیسے بچائے ہیں“۔ متذکرہ صحافی نے جواباً کہا۔۔۔
”وہ کیسے۔۔۔“ ان سے پوچھا گیا۔۔۔
”مجھ سے بس مس ہوگئی۔ میں اس کے پیچھے بھاگتا ہوا یہاں پہنچا ہوں۔ میرے بیس پیسے بچ گئے۔“
”آپ نے بڑی حماقت کی۔۔۔ ٹیکسی کے پیچھے بھاگتے تاکہ دو روپے بچتے۔“ ان کے سینئر نے کہا۔۔۔
مجھے یہ واقعہ شریف فیملی کے اس موقف کو سن کر یاد آیا ہے کہ شہبازشریف نے 119ارب روپے بچائے ہیں۔۔۔ اس کا مطلب میرے نزدیک یہ نکلتا ہے کہ وہ 319ارب کماسکتے تھے مگر عوام سے محبت اور ملک سے وفاداری نے انہیں مجبور کردیا کہ 200ارب پر قناعت کریں اور 119ارب واپس خزانے میں جمع کرادیں۔۔۔
یہ جذبہ قابل ستائش ہے۔۔۔
اس کے باوجود اگر وہ پابند سلاسل ہیں تو اسے ایک ظالمانہ اقدام سمجھا جاسکتا ہے جس کے خلاف احتجاج کا جواز بنتا ہے۔۔۔
کچھ بینر میں تجویز کئے دیتا ہوں۔۔۔
”کرپشن کے دشمنو! تمہیں خدا غارت کرے۔۔۔“
”کرپشن نہ ہوتی تو ملک ترقی کیسے کرتا؟“
”یہ جو میٹرو ٹائپ کے منصوبے سامنے آئے ہیں اگر ان میں مال کمانے کی گنجائش نہ ہوتی تو ان کا حال بھی کالا باغ ڈیم جیسا ہوتا۔۔۔“
”داغ تو اچھے ہوتے ہیں“
٭….٭….٭
اقتدار میں آنے کے لئے لیڈر کو سیاست کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔اور سیاست وہ کاروبار ہے جس میں سب سے زیادہ انویسٹمنٹ چور ‘ ڈاکو اور فراڈیئے کرتے ہیں۔۔۔
ایک رات سوچتے سوچتے یوں ہی میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ ” کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک کے تمام بڑے چوروں اور ڈاکوﺅں نے سیاست کو بطور ایک پیشہ اختیار کرلیا ہو۔۔۔؟“
یہ خیال غیر ارادی طور پر آیا تھا۔ اب میں شعوری طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوں کہ سیاست ہمارے ملک کا سب سے منفعت بخش کا روبار یا پیشہ ہے۔ کہنے کو لوگ سیاست میں خدمت کے لئے آتے ہیں۔ مگر کیا خدمت کے لئے صرف سیاست باقی رہ گئی ہے؟ گھر میں ماں باپ کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ محلے میں پڑوسیوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ خاندان میں ضرورتمندوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ جہاں تک قوم کی خدمت کرنے کا تعلق ہے وہ ہمارے ادیب‘ شاعر‘ مفّکر‘ مبلّغ اور سوشل ورکر بہتر طور پر کرسکتے ہیں۔ یہ کون سی خدمت ہے کہ اس کے لئے کروڑوں کو داﺅ پر لگا کر الیکشن جیتا جاتا ہے۔؟ اورپھر خواہش مندانِ خدمت وہ سارے کام دھندے شروع کردیتے ہیں جو سیاستدانوں سے منسوب ہیں۔۔۔
ویسے یہ اصطلاح۔۔۔ یعنی سیاست۔ اب خدمت کے تعّفن سے کچھ ایسی بدبودار ہوچکی ہے کہ اس کے قریب سے گزرنے والوں کو ناک پر رومال تو رکھنا ہی پڑتا ہوگا۔
اگر سیاست خدمت گاروں کے لئے ہوتی تو عبدالستار ایدھی ایک بڑے سیاست دان ہوتے۔ آپ قائداعظمؒکا نام یہاں مت لیجئے گا۔ وہ پاکستان بنانے آئے تھے۔ اور بنا کر چلے گئے جیسے ا سٹیفنسن انجن بنانے آئے تھے اور انجن بنا کر چلے گئے۔۔۔
ہاں لیڈر بننا اور بات ہے۔۔۔
اور لیڈر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ بالکل ویسے ہی جیسے پیغمبر پیدا ہوا کرتے ہیں۔ پیغمبر عظیم ہوتے ہیں کہ ان کا رابطہ براہ راست خدا سے ہوتا ہے۔ لیڈروں کے سامنے صرف ایک سوچ ہوتی ہے جس کو وہ ایک ” وژن“ کا روپ دے کر اس کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ یہ پرستش انہیں کبھی جناحؒ‘ کبھی ناصر‘ کبھی ماﺅ ‘ کبھی لینن ‘ کبھی ہٹلر‘ کبھی خمینی تو کبھی اقبالؒ بنادیتی ہے۔۔۔
لیڈر بنیادی طور پر سیاست دان نہیں ہوا کرتے۔ لیڈری اور سیاست کا جب بھی ملاپ ہوتا ہے لیڈری بھی سیاست کے تعّفن سے نہیں بچ پاتی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اقتدار میں آنے کے لئے لیڈر کو سیاست کا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔ اور سیاست وہ کاروبار ہے جس میں سب سے زیادہ انوسٹمنٹ چور ڈاکو اوراورفراڈئیے کرتے ہیں۔۔۔
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved