تازہ تر ین

جدید ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال کی ضرورت

فیصل مرزا……..نقطہ نظر
اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مقدس میں فرمایاہے ”جولوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوںمیں فحاشی پھیلے، ان کیلئے دنیااورآخرت میں دردناک عذاب تیارہے، اور اللہ جانتا ہے(ان لوگوں کے عزائم کو) اور تم نہیں جانتے”۔(سورة النور:آیت:19)
ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان پورنوگرافی کی ویب سائٹس دیکھنے والے10ممالک کی فہرست میں شامل ہے،جس میں 10 فیصد معمراورادھیڑعمرافرادجبکہ 90فیصد نوجوان ہیں۔ جبکہ ہمارے معاشرے میں نوجوان کل آبادی کا 60 فیصد ہیں،جن میں سے 70 تا80 فیصد نوجوان مخرب الاخلاق ویب سائٹس کو دیکھ کر اپنا ایمان و اخلاق اورزندگیاںتباہ کررہے ہیں۔ کس قدر افسوس اور دکھ کا مقام ہے کہ ایک اسلامی جمہوری ملک جو کلمہ طیبہ کے نام پرمعرض ِ وجود میں آیا، جس میں 90 فیصد سے زائد اکثریت دین اسلام کی پیروکار ہونے کی دعویدار ہے۔مگر یہاں جہالت ، مہنگائی ،کرپشن اوربیروزگاری کے عفریتوں کے علاوہ فحش ویب سائٹس اسقدر عام ہوجائیں گی، یہ تو سوچ کر بھی گھِن آتی ہے۔شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔
اسلامی نظریہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والے ملک میں بلاشبہ قیام ِ پاکستان سے آج تک 71برسوں میں کسی حکومت نے اسلامی نظام عدل وانصاف اور معاش ومعاشرت کے نفاذ کے لئے خلوصِ دل سے ذرہ بھر پیش رفت کی اورنہ ہی نوجوانوں کو فحاشی والحاداوربے مقصدیت کے عالمی سیلابِ رواں سے بچانے کیلئے کوئی مربوط شعوری کوشش کی۔ ہمارے ہاں شروع سے لارڈمیکالے کاطبقاتی نظام ِ تعلیم بیروزگارنوجوانوں کی فوج ظفرموج پیدا کررہاہے، مگرمجموعی طورپر شرح خواندگی بھی 49فیصد )نوجوان72فیصد اور ادھیڑ عمر26فیصد(سے زائد نہ ہوسکی ہے۔جبکہ ہم سے 71ءمیں الگ ہونیوالا ہمارا بھائی بنگلہ دیش شرح خواندگی 72.62فیصد تک لانے میں کامیاب ہوچکاہے۔ان تمام حکومتی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عالمی استعماری طاقتیں جو شروع سے اسلامی پاکستان اور مسلمانوں کے وجود سے خائف ہیں، اور مسلسل اسکے خلاف مختلف النوع سازشیں کررہی ہیں ،ان میں ایک ”ففتھ جنریشن وار “بھی ہے جس کے تحت کسی ملک میں ذہنی انتشار پھیلاکر وہاں کی نوجوان نسل کو مفلوج بنادیا جاتا ہے کہ وہ دشمن کی سازشوں کا مقابلہ نہ کرسکے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تاامروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
آج مغرب اپنے ہاں خاندانی نظام کی تباہی سے پریشان ہوکر اس پریشانی و تباہی کا حل نکالنے کے بجائے اس کا رخ مسلمانوں کی طرف کرنا چاہتا ہے۔اور ایک منظم منصوبے کے تحت بہت عرصہ قبل انٹرنیٹ ،ڈش ،کیبل کلچر کے ذریعے گلوبلائزیشن اور فحاشی اور مخرب الاخلاق عریاں فلموں اور ویب سائٹس کی یلغار کردی گئی ۔ اگر ان تمام ویب سائٹس کے آئی پی ایڈریس اورریجن دیکھے جائیں تو ان کے تانے بانے اسرائیل ، فلپائن ،امریکہ، بھارت سے ملیں گے۔ مزیدستم یہ کہ سانحہ زینب کیس ضلع قصورمیں ”ڈارک ویب “کا نام بھی سننے میں آیا۔ کسی مسلم ملک یاپاکستان کی سرزمین سے ایسی کسی ویب سائٹ کا وجود نہیں ملے گا۔آئے روز روزنامہ خبریں اور دیگر اردو اورانگریزی اخبارات میں بھارت کے حوالے سے ریپ کیسز کو اپ لوڈ کرنے کی خبریں اور پورن ویب سائٹس کو بلاک کرنے کی اطلاعات شائع ہوتی رہتی ہیں۔ جبکہ بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستی کی شادیوں کی اجازت دیکر مشرقی روایات و تہذیبوں کو جنگل کے قانون کیطرف دھکیلنے کی مذموم کوشش کی ہے جس کے اثرات بالعموم ہمسایہ ملکوں پر بھی پڑیں گے۔تاہم ایک خوش آئند خبر ہے کہ خود مغرب ویورپ کے ترقی یافتہ اور نام نہاد مہذب ملکوں میں فحاشی ، زنا اور ہم جنس پرستی کے باعث ٹوٹتے ہوئے خاندانی نظام کے اثرات کو دیکھ کر بیداری کے اثرات نظرآرہے ہیں۔اسلام امریکہ وفرانس میں دوسرابڑا مذہب بن چکا ہے،خواتین تیزی سے حجاب وحیاکے پرسکون ومحافظ نظام کی طرف لوٹ رہی ہیں۔مصروترکی وعرب ممالک میں نئی عرب بہار کے آثار ہویداہیں۔
قرآن حکیم میں ایسے ہی تہذیب دشمن ،طاغوتی عناصراورشیاطین کیلئے اللہ تعالیٰ نے چودہ صدیاں قبل سورہ النور میں فرمادیا تھا کہ” جو لوگ مسلمانوں میں بے حیائی و فحاشی کا فروغ چاہتے ہیں، ان کے لئے دنیا وآخرت میں دردناک عذاب ہے،تم نہیں جانتے ،اللہ جانتا ہے”۔اس آیت مبارکہ میں دنیاوی عذاب سے مراد وہ تمام اخلاقی ،روحانی،ذہنی ،جسمانی بیماریاں وعوارض اور خرابیاں ہیں اس فحاشی کے پھیلنے سے پیداہوتی ہیں،کہ فحاشی ایک ایسی بڑی برائی اور بذات خود عذاب الہیٰ ہے جس کی لپیٹ میں فحاشی پھیلانے والے اور فحاشی میں مبتلاہونے والے سبھی آجاتے ہیں۔ہم سب جانتے ہیں کہ ایڈز،ڈپریشن،مثبت سوچ کاختم ہوجانا، دماغی کینسرجیسے نفسیاتی وذہنی امراض ،کم عمری میں بالغ ہوجانا، طلاقوں ،لومیرج،قتل وغارت،لڑائی جھگڑوں کی بڑھتی ہوئی وارداتیںاسی فحاشی وبے حیائی وعریانی کلچر کا ہی شاخسانہ ہے۔ شیطان نے اللہ تعالیٰ کو ابتدائے آفرینش میں چیلنج دیا تھا کہ میں انسانوں کوبہکانے کیلئے ان کے آگے سے آﺅں گا، ان کے پیچھے سے آﺅں گا، دائیں اوربائیں سے آﺅں گا، اورخلافِ فطرت حرکات پر مجبور کرکے ایک انبوہ کثیر جہنم میں لے جاﺅں گا،جس طرح تو مجھے جہنم کیطرف دھکیل رہا ہے ایک سجدہ نہ کرنے کی پاداش میں۔
آج کی مسلمان نوجوان نسل اور بالخصوص مسلمان والدین کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کو اور اپنے بیٹے ،بیٹیوں کو شیطان اور شیطان کے چیلوں کی جلائی ہوئی فحاشی کی اس آگ سے بچاسکتے ہیں۔ اس ضمن میں جہاں ہر مسلمان اور پاکستانی شہری خواہ کسی مذہب ومسلک سے تعلق رکھتا ہو،اسکا فرض اور اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے آپ اور اپنی نئی نسل کو ایڈز،پاگل پن، دماغی کینسر ، حیوانیت کے اجتماعی عذاب درعذاب سے بچانے کیلئے حکومتِ وقت پر سوشل ،پرنٹ اورالیکٹرانک میڈ یا کے ذریعے دباﺅ ڈالے کہ وہ ان مخرب الاخلاق عریاں ویب سائٹس اور ڈارک ویب کے گھناﺅنے ”بزنس “کو پیمرا ،پی ٹی اے اور دیگر آئی ٹی کے اداروں کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر بلاک کروائے ، ملکی سطح پر پورن،سیکس اور اس سے ملتے جلتے تمام الفاظ پر مشتمل ویب سائٹس کی تلاشSearch ناممکن بنادی جائے اور پراکسی سرورز کو بھی بلاک کر دیا جائے تاکہ پراکسی سرور کے ذریعے بھی ان ویب سائٹس کی تلاش ناممکن بنا دی جائے۔ورنہ دنیا میں مہذب سوسائٹی اور مذہب و انسانیت کا نام تلک ختم اور معدود ہوکررہ جائے گا۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ جس طرح سوموٹوایکشن کے ذریعے ایک فیصلے سے آناًفاناً موبائل فون ایزی لوڈ اور کارڈری چارجنگ پر تمام ٹیکسز سرے سے ختم کردیئے گئے ہیں،اسی طرح مخرب الاخلاق ویب سائٹس ،ڈارک ویب،الیکٹرانک میڈیا پربڑھتی ہوئی فحاشی کیخلاف سوموٹوایکشن لیکر فوری طور پر اس قومی عذاب،گھناﺅنے کاروبار، عالمی استعماری سازش کا راستہ مسدودکرکے پاکستان کا مخدوش ہوتا ہوا مستقل محفوظ بنایا جائے ۔
وزیر اعظم پاکستان کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ ان ویب سائٹس کو پاکستان میں مستقل بلاک کرنے اور نوجوان نسل کو ان مخرب الاخلاق لغویات سے محفوظ رکھنے کیلئے باقاعدہ قانون سازی کروائیں اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کو ان ویب سائٹس کو مستقل بلاک کرنے کے احکامات صادر فرمائیں۔عمران خان اس پر مستقل پابندی لگا کر مدینہ کی طرز پر ریاست کی داغ بیل ڈال سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں اس گھناﺅنے جرم کے نتیجے میں ملنے والے عذاب الہیٰ سے محفوظ رہنے کیلئے ضروری ہے کہ ایک توہم خود زندگی وموت کے مقصد سے آگاہی حاصل کریں، کہ مردوعورت کو اللہ تعالیٰ نے کس مقصد کیلئے اور کن حدود وقیود کیساتھ پیدا فرمایا ہے۔ دوسرے ہم اپنی اخلاقی ومذہبی وروحانی دینی اقدار سے تعلق مضبوط کرکے اپنے آپ اوراپنی نئی نسلوں کو بچاسکتے ہیں۔ کہ اللہ اور رسول نے فحاشی کے قریب بھی جانے کے تمام راستے مسدود کردیئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:- ” آنکھیں زنا کرتی ہیں ، ان کا زنا (نامحرم کو)دیکھنا ہے، کان زناکرتے ہیں اور ان کا زنا(گانے ،فلمیں) سننا ہے، زبان بھی زنا کرتی ہے، اس کا زنا (گالیاں وغیرہ)بولنا ہے، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں ،ان کا زنا (غیرمحرم کو)پکڑنا ہے۔ اورشرم گاہ ان سب کی تصدیق کردیتی ہے۔“ایک اور حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ” یا تو تم اپنی نگاہ نیچی رکھواور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، ورنہ پھر اللہ تعالیٰ تمہاری صورتیں بدل دیں گے۔“قرآن پاک میں ارشادِ ربانی ہے:بے شک نمازفحاشی ،برائی اورظلم وزیادتی کے کاموں سے روکتی ہے۔
چنانچہ ان حالات میں ہم سب کا بنیادی فرضِ اولین بنتا ہے کہ ہم اپنی اولادکو14، 15سالہ بچہ سمجھ کر موبائل وکمپیوٹر تنہائی میں استعمال نہ کرنے دیں، بلکہ ان ایجادات کے مثبت استعمال کی ہدایت کریں،وہ بھی بڑوں کے سامنے اورزیرنگرانی استعمال کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ۔ ورنہ یاد رکھیں کہ سانحہ زینب کیس،قصور آئے روز تمام شہروں میں رونما ہورہے ہیں، یہ سانحہ ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتا ہے۔
ان مخرب الاخلاق ویب سائٹس کے نتائج جو کہ مغرب میں والدین ،بہن بھائیوںکے پاکیزہ رشتے پامال ہونے کی صورت میں برآمد ہو چکے ہیں اوراب بدقسمتی سے ہمارے ہاں بھی ایسے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ خدارا اگرحکومت نے ان مخرب الاخلاق ویب سائٹس کو روکنے کےلئے ٹھوس اقدامات نہ کئے تو ہمارے ملک میں بھی غیر مسلم ممالک کی طرح پاکیزہ رشتے پامال ہونے کا خدشہ ہے۔
(کالم نگارسماجی اورمعاشرتی امورپر لکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved