تازہ تر ین

تلخیاں بڑھنے لگیں !

زید حبیب…. قلم آزمائی
تحریک انصاف کی حکومت کو قائم ہوئے تقریباً دو ماہ ہو چلے ہیں ۔ان دو ماہ کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو مثبت اور منفی دونوں پہلو سامنے آتے ہیں۔ ایک طرف حکومت نے جہاں سادگی اور کفایت شعاری کی مہم کا آغاز کیا تو وہیں دوسری طرف مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ نے عوام کو بے حد متاثر کیا ہے۔ ڈالر کی اونچی اڑان سے مہنگائی کا ایک اور ریلا آنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ میری حکومت کو تین ماہ دیں اس کے بعد جتنی چاہے تنقید کر لیں۔وہ یہ بات کہنے میں حق بجانب تھے کیونکہ تبدیلی راتوں رات نہیں آجاتی اس کیلئے وقت درکار ہے۔ تاہم اب تک کے حکومتی اقدامات سے تو یہی لگتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئی اور مستقبل قریب میں بھی ایسی کوئی امید بر آتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔ ایسے ماحول میں اپوزیشن بھی حکومت پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی جس کے باعث حکومت او راپوزیشن کے درمیان تلخیاں بڑھنے لگی ہیں ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کے تند وتیز بیانات اور حزب اختلاف کے رہنماﺅں کے تلخ جوابات ماحول کو مزید کشیدہ بنا رہے ہیں ۔ تحریک انصاف کو اس بات کا ادراک کرنا چاہئے کہ اب وہ حکومت میں ہیں اور اپوزیشن کی کڑوی کسیلی باتوں پر ان کو صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنا اور معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنا ہے۔
حکومت اور اپوزیشن میں جاری ان تلخیوں میں اس وقت مزید اضافہ ہو ا جب گزشتہ دنوں قومی احتساب بیورو نے مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کو آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم سکینڈل میں گرفتار کر لیا اور وہ د س روزہ ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں ۔ نیب لاہور کی جانب سے آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی گرفتاری کی صورت میں سب سے بڑی اور مجموعی طور پر آٹھویں گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔ آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں اس سے قبل نیب نے 21 فروری کو لاہور ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے سابق ڈائریکٹر جنرل احد چیمہ کو گرفتار کیا تھاجس کے بعد پیراگون سٹی کی ذیلی کمپنی بسم اللہ انجینئرنگ کے چیف ایگزیکٹو شاہد شفیق کو جعلی دستاویزات کی بنیاد پر آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم کا ٹھیکہ لینے کے الزام میں 24 فروری کو گرفتار کیا گیا۔ نیب کی جانب سے آشیانہ کیس میں ہی بدعنوانی کے الزام میں مزید چار ملزمان ایل ڈی اے کے چیف انجینئر اسرار سعید ،سٹریٹجک پلاننگ یونٹ کے اکنامک سپیشلسٹ بلال قدوائی ،سابق سی ای او پنجاب لینڈ ڈیپارٹمنٹ امتیاز حیدر اور عارف مجید بٹ کو 9مارچ کو گرفتار کیا گیا۔ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے سابق پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کو بھی آشیانہ سکینڈل میں 5جولائی کو گرفتار کیا گیاتھا۔ نیب کی جانب سے آشیانہ ہاﺅسنگ سکینڈل میں گرفتار افسران کی جاری کردہ تفصیلات میں انکشاف کیا گیا کہ بلال قدوائی نے منصوبے کا پروپوزل،بڈنگ کے کاغذات اور غیر قانونی فزیبلیٹی رپورٹ تیار کی تھی۔انہوں نے تمام اقدامات کاسا ڈویلپرز کو نوازنے کیلئے اٹھائے ۔ چیف انجینئر ایل ڈی اے اسرار سعید نے بھی اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، اسرار سعید کے ایل ڈی اے افسران اور کاسا ڈویلپرز سے رابطوں کے شواہد بھی ملے۔ان سب کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ میاں شہباز شریف کی گرفتاری پر مسلم لیگ (ن) نے شدید احتجاج کیا اور پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنا بھی دیا۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلائے جانے کا مطالبہ کرنے کے بعد سپیکر نے17اکتوبر کو اجلاس طلب کرنے کے ساتھ ساتھ میاں شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کر دیے ہیں ۔ اب نیب نے سابق وفاقی وزراءخواجہ سعد رفیق ،سینیٹر اسحاق ڈار، انوشہ رحمان ، میاں منطور وٹو، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ثناءاللہ زہری ،پیپلز پارٹی کے رہنما منظور وسان سمیت دیگر رہنماﺅں کے خلاف بھی تحقیقات کرنے کی منظوری دی ہے۔ خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کے خلاف پیراگون سٹی سکینڈل میں تحقیقات جبکہ ریلویز میں کرپشن شکایت پر خواجہ سعد رفیق اور ریلوے افسران کے خلاف انکوائری کی منظوری دی گئی ہے۔ اپوزیشن کے ان رہنماﺅں کیخلاف تحقیقات سے حکومتی اور اپوزیشن بنچوں میں محاذ آرائی مزید بڑھ جائے گی۔ سینٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما مشاہد اللہ خان کے مابین مسلسل تلخ کلامی بھی حکومت اور اپوزیشن میں تلخیوں کو مزید بڑھا رہی ہے۔ ان دونوں رہنماﺅں کے درمیان ایسے سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جنہیں چیئرمین سینیٹ کو کارروائی میں سے حذف کروانا پڑا۔ فواد چوہدری نے مشاہد اللہ خان پر الزام عائد کیا کہ ان کی وجہ سے پی آئی اے کا ادارہ تباہ ہو گیا جبکہ مشاہد اللہ نے ان کی نفی کی۔
ایک ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دب رہے ہےں اور انہیں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں حکومت اور اپوزیشن کو باہم متحد ہو کر عوامی مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہونا چاہئے۔عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں مسائل ورثہ میں ملے ہیں اور گزشتہ حکومت ملک کا بیڑہ غرق کر گئی ہے ۔ تو جناب ، پاکستان کی 71سالہ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ، ہر آنیوالے حکمران کی یہی گردان رہی ہے جو آپ دہرا رہے ہیں ۔2013ءمیں جب نواز شریف نے اقتدار سنبھالا اس وقت تو انہیں اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیدنگ، جلتا کراچی،دہشت گردی کے پے در پے واقعات کا سامنا تھا۔ اس لیے عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ آپ سادگی اختیار کر رہے ہیں یا نہیں ، گورنر ہاﺅس سیر کیلئے کھل گیا ہے یا نہیں ، وزیراعظم ہاﺅس یونیورسٹی بنے گی یا نہیں ، آپ بیرون ملک دوروں پر جاتے ہیں یا نہیں، گاڑیاں اور بھینسیں نیلام ہوتی ہیں یا نہیں ۔یہ مثبت اقدامات ہیں لیکن عوام کا مسئلہ دو وقت کی باعزت روٹی ہے ۔ اگر انہیں دو وقت کی روٹی، رہنے کیلئے چھت اور صحت وتعلیم کی اچھی سہولیات مل جائیں تو وہ آپ کو دعائیں بھی دیں گے اور آپ آئندہ بھی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتے ہیں ۔ وگرنہ حالات اسی نہج پر آگے بڑھتے رہے تو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخیاں مزید بڑھیں گی کیونکہ اپوزیشن کا تو کام احتجاج اور تنقید کرنا ہے ، آپ انہیں ایسا کوئی موقع ہی فراہم نہ کریں ۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved