تازہ تر ین

آمدن سے زیادہ اثاثے کیوں؟

لیاقت علی گوہر….دل دریا
خدا کا شکر ہے وطن عزیز میں جمہوری عمل چل پڑا ہے اور میرے عزیز ہم وطنو! والا جملہ معدوم ہو چکا ہے۔ جمہوری عمل اگر جاری رہے تو آبِ رواں کی طرح خود بخود اپنا راستہ بناتا چلا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک د ہائی پر محیط جمہوری عمل کی روانی کا نتیجہ ہے کہ پیپلز پارٹی جیسی سینئر جاگیردارانہ سیاسی پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جیسی پرانی سرمایہ دارانہ سیاسی پارٹی کی موجودگی میں ایک نئی سیاسی جماعت ”پاکستان تحریک انصاف“ اُبھر کر سیاسی منظر نامے پر چھا گئی ہے۔
اقوام عالم نے طویل جدوجہد اور قربانیوں سے ایک ضخیم داستان رقم کرنے کے بعد جمہوریت کی بالا دستی حاصل کی ہے۔ بادشاہت، جاگیرداری، سرمایہ داری اور اشتراکیت جیسے علیل نظاموں کی چکّی سے گزر کر جمہوریت کا صحت مند نظام پیدا ہوا ہے۔ مملکت خداداد پاکستان از خود 1946ءکے عام انتخابات کے نتیجے میں ہی وجود میں آئی، جب برصغیر کے مسلمانوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کر کے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سربراہی میں مسلم لیگ کو اپنی واحد جماعت اور پاکستان کے حصول کو اپنا واحد اور جائز مطالبہ تسلیم کروایا۔ جس پر فرنگی حکمران اور ہندو استعمار برصغیر کے مسلمانوں کا الگ وطن کا مطالبہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ آج ہمارا وطن71 برس کا ہو چکا ہے مگر ہماری جمہوریت ابھی سنِ بلوغت کو نہیں پہنچی۔ ماضی کی بیشتر جمہوری حکومتیں اداروں سے ٹکراو¿ کے باعث اقتدار کی مقررہ مدت پوری نہیں کر سکیں جس کے منفی اثرات کی وجہ سے پاکستان کے اندر سیاسی جماعتیں کبھی سیاسی اداروں کی شکل اختیار نہیں کر سکیں جبکہ ان کے مقابلے میں قومی ریاستی ادارے اپنے ارتقاءکا عمل جاری رکھتے ہوئے مسلسل تقویت اختیار کرتے چلے گئے۔
بعض اصحاب اس بات کو منفی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر رواں دہائی کے دوران جمہوری عمل کو جاری و ساری رکھنے کے لئے قومی اداروں نے جو کردار انجام دیا ہے اُسے مشکوک اور منفی انداز سے دیکھنا درست نہیں۔ یہ درست ہے کہ اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہیے لیکن اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے ملک و قوم کے اتحاد و بقاءکو قائم رکھنے کےلئے مثبت کردار ادا کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ ماضی میں اداروں اور حکومتوں کے مابین ٹکراو¿ کی وجہ سے جمہوریت کو نقصان ہوتا رہا ہے ۔
اس وقت پاکستان کو عالمی سطح پر جن خطرات کا سامنا ہے ان کا تقاضا ہے کہ قوم، ادارے اور حکومت ایک پیچ پر متحد و متفق ہو کر کام کریں۔ اب آپ اسے حکمت عملی کہیں، چالاکی کہیں یا دانشمندی، ہمارے قومی ادارے ملک و قوم کا یہ تقاضا پورا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ لوہے کو لوہے سے ہی کاٹا جا سکتا ہے۔ ہمارے سیاسی نظام میں سیاسی پارٹیاں تو کمزورمگر حکمران سیاستدان لوہے کی طرح مضبوط ہو چکے تھے۔ حکمران طبقے کے جاگیردار، سرمایہ دار بن چکے تھے اور سرمایہ دار عالمی مافیا کا رُوپ اختیار کر چکے تھے۔ ہو سکتا ہے کہ سابقہ حکمرانوں پر عائد کرپشن کے سارے الزامات محض انہیں سیاسی منظر سے ہٹانے کا ایک بہانہ ہو مگر اندرون و بیرون ملک میں پائے جانے والے دولت کے انبار یہی ثابت کرتے ہیں کہ انہیں قوم سے زیادہ خواہشِ زر کی تسکین عزیزتھی۔باب العلم حضرت علیؓ کا قول ہے کہ انسان کو صرف ضرورتوں تک محدود رہنا چاہیے ، خواہشوں پر نہیں جانا چاہیے،ضرورتیں فقیروں کی بھی پوری ہو جاتی ہیں مگر خواہشیں بادشاہوں کی بھی رہ جاتی ہیں۔ مگر ہمارے تقریباََ تمام سیاستدان شترِ بے مہار کی طرح پھیلی ہوئی خواہشوں کی تکمیل میں سرگرداں رہتے ہیں۔ دولت کی حد سے بڑھ جانے والی خواہش انسان کو خود غرض بنا دیتی ہے ۔ یہ رویہ کسی بھی عوامی اور سیاسی شخصیت کو زیب نہیں دیتا۔ ہمارے اداروں نے کچھ بھی نہیں کیا، بس پرانے سیاسی قائد ین اور حکمرانوںکے اس منفی رویے کو بے نقاب کیا ہے۔
یوں توماضی میں حکمران طبقے کا کردار منفی رویوں سے بھرا پڑا ہے مگر ان منفی رویوں کا دستاویزی ریکارڈ دستیاب نہیں ہو پاتا۔ اختیارات کا ناجائز استعمال محض زبان و بیان سے ہوتا ہے۔ ناجائز مفادات کا حصول اپنے کارندوں اور افسران مجاز کو ڈرا دھمکا کر یا اُنہیں ناجائز فائدے دے کر کیا جاتا ہے۔ بڑی بڑی رشوتیں تحائف کے روپ میں وصول کی جاتی ہیں۔ رہی فائلوں، ریکارڈ اور ضوابط کی بات، تو وہ ماتحت ماہرین کرام ہاتھ کی صفائی سے پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے رہتے ہیں۔ یہ بات شائد عام آدمی کے عِلم میں نہ ہو کہ خرید و فروخت، خالی آسامیوں پر بھرتی سے لے کر تعمیر و مرمت اور تقرر و تبادلہ تک کے معاملات میں کیسے پاکستان میں سخت اور مشکل ترین قواعد و ضوابط کا انبار لگا ہوا ہے۔ یہ قواعد و ضوابط کی جکڑن وفاقی حکومت کی سطح پر الگ اور صوبائی حکومتوں کی سطح پر الگ موجود ہےں…. اور ہمارے تمام اونچے نیچے سرکاری افسران و اہلکار ان قواعد و ضوابط کے مطابق فائلوں کا پیٹ بھرنے کے ایکسپرٹ ہیں…….. اس صورت حال میں حکمران تو حکمران کسی عام سے افسر کو بھی کرپٹ ثابت کرنا مشکل ہے۔ ہمیں داد دینی چاہیے اپنے مقتدر قومی اداروں کو کہ جنہوں نے قوانین اور قواعد و ضوابط کے صاف اور شفاف غلافوں میں ملفوف بدعنوانیوں تک جا پہنچنے کا سادہ سا کلیہ دریافت کر لیا ہے کہ آمدن سے زیادہ اثاثے کیوں؟
خدا کا شکر ہے کہ ہمارے ملک میں انصاف، قانون، ڈسپلن، احتساب اور طاقت سے لیس تمام قومی ادارے اس وقت ایک پیچ پر ہیں۔ انہوں نے ”آمدن سے زیادہ اثاثے کیوں؟“ کے کلیے کا اطلاق سابق حکمرانوں پر بھی کیا ۔ قومی اداروں نے قوم کے دل جیت لئے ہیں جبکہ قومی اداروں کی ہم خیال جماعت نے الیکشن جیت لئے ۔ آخر جیتتے بھی کیوں ناں، اُنہوں نے سابق حکومت کا پورا دور سڑکوں پر اور ٹی وی پر بھرپور جدوجہد کرتے ہوئے گزارا ہے اور ”آمدن سے زیادہ اثاثے کیوں؟“ کے کلیے تک پہنچنے میں قومی اداروں کی بھرپور مدد کی۔ عقل و دانش کو سائنسی انداز سے بروئے کار لانے والا کپتان کھیل کے میدان کی طرح، سیاست کے میدان میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھ چکا ہے۔ اب قوم وزیراعظم عمران خان سے اُمید رکھتی ہے کہ ”آمدن سے زیادہ اثاثے کیوں“ کا کلیہ لاگو کرتے ہوئے جس طرح سابق حکمرانوں کو پکڑ میں لیا گیا ہے، ویسے ہی یہ کلیہ اب قومی اداروں کے سربراہوں پر بھی لاگو کیا جائے۔ویسی ہی جے آئی ٹیز بنائی جائیں۔ کرپشن کے ثبوت مانگے نہ جائیں ، ثبوت اکھٹے کیے جائیں اور ویسے ہی تمام کرپٹ افسران کو جیلوں میں ڈالا جائے جیسے سابق وزیر اعظم کو ڈالا گیا تاکہ ثابت ہو جائے کہ پاکستان میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں۔
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved