تازہ تر ین

پیپلزپارٹی کی قیادت کی گرفتاری طے ہوچکی

ڈاکٹرشاہدمسعود
حکومت کے اگلے چند دن بڑے اہم ہیں اپوزیشن ایک بات ذہن نشین کر لے اگر حکومت ٹوٹ گئی تو ان کی مشکلات میں کمی نہیں اضافہ ہو گا۔ موجودہ احتساب آپریشن کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ ریاست خود کو ٹھیک کر رہی ہے۔ 3 سال میں معاشی دہشت گردی بڑا ایشو بن چکی ہے۔ عوام مشکل سے ضرور دوچار ہیں۔ تاہم ملک کو لوٹنے والے اس وقت تڑپ رہے ہیں اور آنے والے دن ان کیلئے مزید مشکلات لانے والے ہیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ عوامی شعور بڑھ رہا ہے اسے پتہ چل رہا ہے کہ حکومت اور ریاست میں کیا فرق ہے۔ حکومت ایک بڑی ہاﺅسنگ سکیم لا رہی ہے۔ یہ سکیم مکمل بھی ہو سکتی ہے اور مسائل کا شکار بھی ہو سکتی ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سعودی یا چینی فارمولہ استعمال کر کے لوٹی دولت نکلوائی جائے اور اس معاملہ پر کام تیز کر دیا گیا ہے۔ ریاست نے اب تک کئی بڑے ٹارگٹ حاصل کیے ہیں دہشت گردی پر قابو پانا کراچی میں امن بحال کرنا فاٹا کو قومی دھارے میں لانا بڑے کام تھے جنہیں مکمل کیا گیا ہے اب مافیا چاہے بھی تو وزیرستان میں طالبان اور گلے کاٹنے کا کھیل نہیں چلا سکتی۔ کراچی ایک فون کال سے بند نہیں کیا جا سکتا۔ بلوچستان میں سینکڑوں لاشیں نہیں گرائی جا سکتیں۔ نواز شریف یا مریم نواز وزیر اعظم نہیں بن سکتے۔ پی پی قیادت کی گرفتاری بھی طے ہو چکی ہے۔ چند دنوں میں پابند سلاسل ہونگے۔ حکومت اگر ضمنی الیکشن میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو مستحکم ہو گی۔ حکومت کے اتحادی ساتھ چھوڑتے ہیں اور حکومت جانے کا خطرہ بھی بنتا ہے تو بھی اس کا احتساب آپریشن پر کوئی اثر نہ پڑے گا بلکہ آپریشن مزید تیز ہو سکتا ہے۔ بطور پاکستانی یہ چاہتا ہوں کہ مجھے جھوٹ کی میٹھی گولیاں دینے کے بجائے کڑوا سچ بتایا جائے حکومت کم از کم پچھلی حکومتوں کی طرح جھوٹ نہیں بول رہی اور قوم کو صورتحال بارے آگاہ رکھ رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں مشکلات بڑھیں گی تاہم ان پر قابو پا لیا جائے گا۔ اسحاق ڈار نے جس طرح مصنوعی معیشت چلائی اور مسلسل جھوٹ بولتے رہے اس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ لیگی رہنما بے شرمی کے ساتھ میڈیا پر آ کر ڈار کی حمایت میں باتیں کر رہے ہیں۔ ن لیگ اس بات کا تو جواب دے کہ اسحاق ڈار وطن واپس کیوں نہیں آ رہے۔ ایسی شرمناک حد تک لوٹ مار کرنے والوں کو تو سامنے آنا ہی نہیں چاہیے یہ ان کی ہٹ دھرمی کمال ہے۔ واٹر مافیا کے کرتوت بھی سامنے آ رہے ہیں جس نے پہلے ملک کا پانی زہریلا بنایا اور پھر ایک روپے میں زمین سے پانی نکال کر 52 روپے میں فروخت کر رہا ہے۔ واٹر مافیا کو چیک کیا جائے تو اس کے تعلقات حکومتی واٹر بورڈز سے جا ملیں گے۔ ضمنی الیکشن میں اپوزیشن ساری نشستیں بھی جیت جائے تو بھی وفاقی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حکومت گر جاتی ہے تو پھر احتساب مزید تیز ہو گا جس پر لٹیرے کوسیں گے کہ حکومت رہتی تو اچھا تھا۔ ایم ایم اے کا اجلاس ہوا اور پہلی بار اس میں مولانا فضل الرحمان پر تنقید کی گئی۔ پرویز مشرف کے دوست احباب بتاتے ہیں کہ ان کو رعشہ کی بیماری بڑھ گئی ہے۔ احتساب تیز ہوتا جا رہا ہے سیاستدانوں سے بیورو کریسی تک اور ان سے جامعات تک پہنچ چکا ہے آگے میڈیا ہاﺅسز کی باری بھی آنے والی ہے۔٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved