تازہ تر ین

قبضہ گروپوں سے چھڑائی زمینیں غریبوں کے چھوٹے گھر بنانے کے لیے کافی

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ وفاقی ابینہ کے فیصلوں میں سب سے زیادہ جس فیصلہ نے متاثر کیا میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بنیادی پتھر ہے موجودہ حکومت کو بہت سی مشکلات ہیں مالی مشکلات ہیں مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن اس کے باوجود اگر یہ جو احتساب کا معاملہ بڑے بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے اگر یہ سلسلہ جاری رہا اور جس طریقے سے احتساب کے شکنجے میں جتنے لوگ آئے ہوئے ہیں اگر انہیں گرفتار کر لیا گیا یا کم از کم انہیں پکڑ لیا گیا تو پھر نیا پاکستان کی شروعات ہو جائے گی۔ دیکھیں کتنے بڑے بڑے نام تھے پنجاب کے وزیراعلیٰ کا کتنا بڑا نام تھا۔ سیاست میں ان کا کتنا بڑا قد تھا اس کے باوجود ان کے داماد نہ صرف یہ کہ پاکستان سے فرار ہو گئے بلکہ اب آج عدالت نے ان کی جائیداد اس کی نیلامی کا حکم دے دیا ہے کبھی کوئی سوچ سکتا تھا کہ پنجاب میں جہاں پر نوازشریف کے بھائی کے داماد اور شہباز شریف جو دس سال سے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ ان کے داماد ملک سے فرار ہو جائیں گے اور کیا ااپ سوچ سکتے تھے ان کی جائیداد نیلامی کا حکم ہو جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ قرضے لینا بڑی تشویشناک بات ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پچھلے برسوں میں 30 سال سے حکومتیں قرضوں پر ہی چل رہی تھیں ایک وقت پر پاکستان کے سر پر 70 ہزار روپے غیر ملکی قرصہ تھا اب یہ بڑھ کر پونے دو لاکھ تک پہنچ گیا ظاہر ہے وہ قرصے کسی نہ کسی نے تو لوٹانے تھے۔ ملکوں کے معاملات میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ کسی نے کھڑے ہو کر کہہ دیا ہو کہ میں نہیں دیتا جی پیسے۔ ملکوں پر پابندیاں لگتی ہیں ان کی تجارت بند ہو سکتی ہے۔ اس وقت بھی پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کہا جا رہا ہے دیکھیں گے کہ جی پچاس لاکھ گھر کیسے بناتے ہیں۔ یہ 50 لاکھ گھر بنیں گے اس لئے کہ اگر آپ صرف اخبارات کی رپورٹیں دیکھ لیں تو چھوٹے سے چھوٹے شہر میں اس وقت کم از کم پنجاب تو مجھے چھی طرح سے معلوم ہو گا ذاتی طور پر میری بڑی دلچسپی ہے ان چیزوں سے۔ صرف لاہور میں دیکھیں تو واہگہ بارڈر تک جانے والے علاقوں کے علاقے صاف کر دیئے گئے ناجائز تعمیرات سے بلڈوز کر دیئے گئے اور اتنی جگہیں خالی ہوئی ہیں جو ناجائز قبضوں کی زد میں آئی ہوئی تھیں انہی جہوں پر چھوٹے چھوٹے گھر بنیں گے اور چھوٹی چھوٹی کالونیاں بنیں گی۔ گھروں کے لئے جگہ جو ہے وہ تو سرکار نے فری دینی ہے وہ تو پیسے نہیں دینے لیکن ایڈوانس جو پیسے لوگ جمع کروائیں گے ان سے مکانوں کی تعمیر شروع ہو جائے گی۔ یہ تجارتی بنیادوں پر ٹھیکے دیئے جائیں گے اور پھر جو کنسٹرکشن کمپنیاں چھوٹے چھوٹے گھر تعمیر کریں گی مجھے یقین ہے یہ کام ہو سکتا ہے نیت نیک ہونی چاہئے مجھے یقین ہے کہ حکومت کی نیت نیک ہے اور ہم خود چاہتے ہیں اور پورا پاکستان چاہتا ہے کہ پاکستان میں جہاں آج پوزیشن یہ ہے کہ صرف لاہور شہر میں ہم نے سروے کروایا تھا کہ راتوں کو کتنے لوگ باہر سڑکوں پر سوتے ہیں۔ راوی کے پل سے لے کر بھاٹی گیٹ تک اور بھاٹی گیٹ سے چوبرجی پارک تک اور چوبرجی کے علاقے میں جو ایک دائرہ ہے جس کے اندر گھاس کا تختہ ہے اس پر دیکھیں رات کو کتنے لوگ سوتے ہیں جناب دیکھئے کہ کوئی حق نہیں ہے اس ملک کے لوگوں کو خود تو جیسے بھی ہوں رات کو پنے گھر آرام سے سو سکیں۔ اور ملک کی بڑی آبادی جو ہے ان کے پاس سونے کی بھی جگہ نہ ہو اور وہ پلاٹوں میں میرے پاس تصویریں موجود ہیں اخبار میں چھاپی تھیں دوبارہ اس کا سروے کروا دیتا ہوں کہ لوگ کھلے آسمان تلے پارکوں میں سوتے ہیں کیا یہ انصاف ہے کہ اس ملک میں کم لوگوں کے پاس دس دس بیس بیس کنال کے گھر ہوں اور کچھ لوگوں کے پاس سڑکوں پر سونے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ اگر یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ دس دس کنال کے گھر چھوٹے کریں گے۔ اکتالیس اکتالیس کنال کے ڈپٹی کمشنر کے گھروں والے کو کیوں نہیں ایک کنال کا گھر دیا جاتا۔ ناجائز قبضے کرا کر ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے 50 گھروں کے ہاﺅسنگ پراجیکٹ بنائے جائیں تو اس طرح انہیں بھی صحیح استعمال ہو گی اور لوگوں کو قسطوں پر جو گھر دیئے جا رہے ہیں۔ ضیا شاہد نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق سے کہا گیا ہے کہ ایک رات بلکہ سڑک کے ذریعے 4½ گھنٹے لگتے ہیں لاہور سے اسلام آباد کے لئے جائیں تو پھر کس طرح سے ممکن ہو سکتا ہے ان کو یہ سہولت دی جائے گی کہ اسلام آباد سے ہی ضمانت کروا کر چلیں وہ بڑی آسانی سے وہ یہاں سے بھی ضمانت کروا سکتے ہیں۔ الیکشن کمش کی طرف سے پہلے سے سہولت حاصل ہے کہ جو شخص انتخاب میں حصہ لے رہا ہے اس کو حصہ لینے سے پہلے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
سابق وائس چانسلر یونیورسٹی مجاہد کامران کو گرفتار کرنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا شاہد نے کہا کہ بڑا افسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹیوں کے معاملات کے بارے میں جب ہم سنتے ہیں۔ وائس چانسلرز پڑھے لکھے کلین لوگ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹرز ہوتے ہیں پی ایس ڈی ہوتے ہیں۔ ہونا تو چاہئے کہ ان کا اخلاق ان کا کردار، ان کی کارکردگی بہترین ہو۔ لیکن کبھی کسی تعلیمی ادارے کے سربراہ بارے سنتا ہوں کہ ان کو مالی بدعنوانی کی وجہ سے گرفتار کر لیا گیا تتو مجھے بڑا افسوس ہوتا ہے۔ جب دیکھتا ہوں کہ جب ان کے پاس اختیارات تھے تو انہوں نے کس طرح اختیارات استعمال کئے اور کس طرح سے ہر چیز کو بانٹا۔ اگر آپ دیکھیں تو یونیورسٹیوں کے پاس جو جگہیں ہیں ان کے اندر تجارتی طور پر بڑے بڑے شادی گھر ہیں۔ بہت بڑے بڑے دوسرے اس قسم کے ادارے ہیں جو کمرشل بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیمی اداروں کو دکانیں بنانے سے روکیں اور وہاں اس قسم کے تمام کمرشل پراجیکٹس جو ہیں جن کے ٹھیکے دیئے جاتے ہیں۔ لوگوں کو ایک سہولت دی جاتی ہے کم از کم یونیورسٹیوں کالجوں تعلیمی اداروں کو تجارتی ادارے نہ بتائیں۔
چیف جسٹس نے منرل واٹر پینے سے روکا ہے اچھی بات ہے میں پوچھتا ہوں کہ عدالتوں کی طرف سے بعض ایسے احکامات آ جاتے ہیں۔ یہ نہیں بتایا جاتا کہ پھر کیا کیا جائے۔ اگر ہم نے اس منرل واٹر کو نہیں پینا۔ عدالتوں کا احترام کرتے ہوئے نہیں پینا پھر کہاں سے پانی پئیں۔ نلکے کے پانی کے بارے میں آج سے نہیں بیس 22 برس پہلے سے ٹیگ واٹر کی پوزیشن یہ تھی کہ پرل کانٹی نینٹل جو لاہور کا سب سے بڑا ہوٹل شمار ہوتا تھا اور دوسرے بڑے ہولٹوں میں بھی کشن کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں تھا۔ اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ عدالتیں ساتھ یہ بھی تجویز کریں کہ وہ واسا کو مجبور کریں کہ وہ اپنے ٹیوب ویل کے ساتھ فلٹریشن پلانٹ لگائیں تا کہ فلٹرڈ واٹر جو ہے وہ میسر آ سکے۔ اور لوگوں کو منرل واٹر خریدنے کی ضرورت نہ ہو۔ چیف جسٹس 2 ماہ کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے تو ان کی بڑی خواہش تھی کہ کچھ بنیادی باتیں خاص طور پینے کے پانی، ہسپتال، تعلیمی اداروں میں بڑھتی فیسوں کا مسئلہ تھا وہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان مسائل کا حل تلاش کریں۔ لگتا ہے آپ نے بہت ساری رقم گھرکول پراجیکٹس کے لئے استعمال کی جس کے نتائج نہیں مل سکے۔
ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے کہا ہے کہ بہت دیر سے یہ بات میڈیا پر عیاں ہے کہ 2012ءمیں ہم نے تھرکول پراجیکٹ شروع کیا اور اٹامک انرجی کمیشن کے جو چوٹی کے سائنسدان جو وہاں سے ریٹائر ہوئے تھے انہوں نے اس پروجیکٹ کو وہاں جا کر چلایا۔ سندھ گورنمنٹ نے یہ پروجیکٹ بنایا وفاقی حکومت نے اسے منظور کیا۔ پراجیکٹ منظور ہوا کہ وفاق پیسے دے گا اور سندھ حکومت ٹیم سلیکٹ کرے گی اور کام کرتی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے فنڈ خرچ کرنے کے تمام اختیارات اپنے منیجنگ ڈائریکٹر کو دیے اور انہوں نے ہی کام کیا انہوں نے مزید کہا کہ پراجیکٹ شروع ہونے کے بعد پراجیکٹ کے پورے پیسے دیئے جانے تھے تا کہ وہ 2 برسوں میں 100 میگا واٹ بجلی باا سکے، پلاننگ کمیشن نے اپنے سٹائل کے مطابق پہلے آرام آرام سے پیسے دیئے اور پھر 2015ءتک 3.4 ملین روپے دیا، اتنی رقم سے ہی پہلی دفعہ تقریباً 8 میگا واٹ بجلی بننا شروع ہو گئی۔ پلاننگ کمیشن کو خبر بھیجی تو ایم ڈی نے خط لکھا کہ بڑی خوشی ہوئی تھر میں پہلی دفعہ کوئلے سے بجلی بننی شروع ہوئی ہے۔ اس دن احسن اقبال نے فیصلہ کیا کہ اس پراجیکٹ کی نجکاری کر دیں اور پیسے بند کر دیں، پھر فنڈنگ بند کر دی گئی۔ جس کی وجہ سے 8 میگا واٹ جو بجلی بننا شروع ہوئی تھی وہ وہیں رُک گئی۔ جہاں پیسے بند ہوئے تھے وہیں پر پراجیکٹ رکا ہوا ہے۔ چیف جسٹس نے جب کہا کہ یہ پراجیکٹ فیل ہو گیا تو مجھے بڑی تکلیف ہوئی۔ میں نے کہا کہ 100 میگا واٹ کا پراجیکٹ میں ہر حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ 2 سال میں فنڈ دے گی، 4,3 سال میں صرف 34 فیصد فنڈ دیا پھر وہ بھی بند کر دیئے۔ پراجیکٹ تو حکومت کے فنڈ بند کرنے کے باعث رکا اس میں سائنسدانوں کا کیا قصور ہے؟ میں نے چیف جسٹس سے کہا کہ آپ ضرور آﺅٹ کرائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے سائنسدان ایسے نہیں جن پر کرپشن کے چارجز لگا دیں۔ اگر معلوم ہوتا کہ اس پراجیکٹ پر اس طرح بدنامی ہو گی تو کبھی اس کو ہاتھ نہ لگاتے۔ ایک ایک پیسے کا حساب و سامان موجود ہے لیکن اس وقت چوکیدار کو دینے کیلئے پیسے نہیں ہیں جو 3 سال سے بند ہیں۔ اگر کوئی سامان لے گیا تو کون ذمہ دار ہو گا؟
ضیا شاہد نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں خبریں نے سود خوری کے خلاف بہت بڑی مہم شروع کی تھی۔ زبیر خان آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرا ادارہ اور عملہ آپ کی جدوجہد میں آپ کا ساتھ دے گا، اگر کسی نے آپ کو یا آپ کے خاندان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو ہم اسے نہیں چھوڑیں گے کیونکہ اگر کوئی توبہ کر لیتا ہے تو ہم سب کا فرص ہے کہ اس کی مدد کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلال پور بھٹیاں میں گردہ نکالنے والے واقعے کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہم وہاں اپنے چینل ۵کی ٹیم بھیجیں گے اور نمائندوں کو بھی ہدایات جاری کریں گے، یہ انتہائی سنگین جرم ہے، ایسے لوگوں کو سرعام عبرتناک سزائیں ملنی چاہئیں۔ انہوں نے جلال پور بھٹیاں تھانے کی پولیس کو بھی خبردار کہا کہ قانون کے مطابق نوجوان کا گردہ نکالے جانے پر کارروائی کریں ورنہ آئی جی پولیس سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ریذیڈنٹ ایڈیٹر خبریں ملتان میاں غفار نے کہا کہ پورا ایک نیٹ ورک ہے جس میں سود خور پولیس، نچلے درجے کے عدالتی اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعے عدالت سے مقدمہ کرایا جاتا ہے پھر پولیس متعلقہ شخص کو اٹھا لیتی ہے۔ یہ بڑا خوفناک کیس ہے۔ زبیر فاروق خان یہاں ملتان میں پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے۔ چھوٹے لیول پر شروع کیا اور ملتان میں بہت کالونیاں کامیاب بھی ہیں۔ زبیر کا پھر ایکسیڈنٹ ہو گیا، ان کی صرف زبان چلتی ہے باقی سارا جسم بے جان ہے۔ پچھلے 8 سال سے بستر پر ہیں۔ ان کے بچے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 2007ءمیں شیر زمان خان بطور لیگل ایڈوائزر زبیر خان کے ساتھ شامل ہوئے، شیرزمبان کے بارے مشہور ہے کہ وہ کبھی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جو مقدمہ میں پیش نہ ہو اس کا ذریعہ آمدن ایک سوالیہ نشان ہے؟ لینڈ کروزر، بڑی گاڑیا اور بنگلے ہیں۔ زبیر خان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ روزنامہ خبریں نے جو سود کے خلاف مہم شروع کی تھی اس سے متاثر ہوا ہوں اور ضیا صاحب کو بہت پرانا جانتا ہوں۔ ان کے فلاحی کاموں کا ہمیشہ سے معترف رہا ہوں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے یہاں جو کچھ فلاحی پراجیکٹس کیسے ہیں وہ خبریں سے سیکھا۔ اب چونکہ وہ معذور ہیں، بچے چھوٹے ہیں تو انہوں نے کہا کہ شیرزمان سے میرے خاندان کو کروڑوں روپے کے مالی نقصان کے بعد اب شدید نقصان کا خطرہ ہے، شیر زمان مجھ سے سود لیتا رہا، ساری رقم سود کی مد میں لی، میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں سود لیتا رہا اور دیتا رہا، سود خوروں کے چنگل میں بہت بری طرح پھنس چکا تھا، شیرزمان کے گروپ نے جو مجھ سے جائیدادیں لیں ان کی تفصیلات یہ ہیں۔ گلشن غفور ہاﺅسنگ سکیم میں تمام بھائیوں نے اپنی اپنی کوٹھیاں تعمیر کی ہوئی ہیں، ہر کوٹھی کی قیمت 5 کروڑ روپے سے کم نہیں یہ تمام جائیداد مجھ سے پیسے لے کر بنائی، 4 کنال ابدالی سنٹر مالیت 20 کروڑ، ساڑھے 5 مربع رقبہ موضع رنگ پور، 8 کنال گلشن واحد ملتان، 135 مرلے گلشن امان میں ہے۔ زبیر خان نے کہا کہ مجھے میرے بچوں کو شیرزمان اور اس کے ساتھیوں سے شدید خطرہ ہے، نامعلوم لوگ آ کر فائرنگ کرتے ہیں اور فوری بعد شیرزمان کا فون آتا کہ سلامی مل گئی، انہوں نے کہا کہ میں یہ تحریر چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی پنجاب پولیس، چیئرمین نیب و ڈپٹی چیئرمین نیب کو بھجوا رہا ہوں کہ تحقیقات کی جائے کہ شیرزمان کا کاروبار کیا ہے؟ اربوں کی جائیدادیں کہاں سے آئیں؟ اس نے کہا میں حلفاً کہتا ہو ںکہ ملتان کا نہیں جنوبی پنجاب کا سب سے بڑا سود خور و بلیک میلر شیرزمان قریشی ہے جس نے ہائیکورٹ کے ایک معزز جج کے نام پر مجھ سے 2 کروڑ روپے لئے، اس کے علاوہ دیگر اہم شخصیات کے نام پر مجھ سے کروڑوں کی جائیداد ہتھیائی، اس کے ہاتھ کی تحریریں میرے پاس ہیں۔ میںا غفار نے بتایا کہ اس کے بعد تحریروں کا پلندا تھا۔ زبیر خان نے مزید بتایا کہ شیرزمان نے الیکشن پر ایک کروڑ لیا اور نیب کے لئے مجھ سے 2 کروڑ روپے مانگے جب نیب سے پتہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسے لوگ نہیں اس پر شیرزمان سے جھگڑا ہوا اس کے ہمارے خلاف مقدمے درجے کروائے۔ اس نے یہ بھی لکھا کہ پولیس ہمارے گھر پر چھاپے مار رہی ہے، سودکی ادائیگی سے توبہ کر چکا ہوں عوام و میڈیا کو آگاہ کرتا ہوں کہ گواہ رہنا میں نے توبہ کر لی ہے۔ میرے ساتھ کچھ بھی ہو تو شیرزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ کسی وقت بھی میرے ساتھ کوئی بھی حادثہ ہو سکتا ہے۔ میاں غفار نے کہا کہ یہ وہی شیرزمان قریشی ہے جس نے ملتان میں ایک جج کے خلاف مہم چلائی تھی۔ شیرزمان نے 2 روز قبل آر پی او ملتان سے ملاقات کر کے کہا کہ زبیر خان کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے اس کے چیک میرے پاس ہیں، آر پی او نے کہا کہ جب آپ ہائیکورٹ بار کے صدر تھے تو پولیس کے نام پر لوگوں سے پیسے لیتے رہے پہلے اس کا حساب دیں۔ زبیر خان نے آر پی او کی پریس کانفرنس میں بھی اور بار بار فون کر کے بھی کہا کہ میں ضیا صاحب کے فلاحی کاموں و خبریں کی مہم سے متاثر ہو کر میں توبہ کر رہا ہوں۔ ملتان کے زبیر فاروق خان نے کہا کہ ضیا صاحب آپ کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں، آپ نے سود کے خلاف جہاد شروع کیا، ملتان خبریں کی ٹیم کی بھی بڑی جدوجہد ہے۔ شیرزمان ملتان بار کا سابق صدر ہے۔ بھتہ گیری، بلیک میلنگ، سود خوری اور اسی طرح کے کاموں میں لگا ہوا ہے۔ 15 سال سے وہ میرا لیگل ایڈوائزر تھا لیکن پھر وہ مجھے محتلف نوٹس دے کر ان کے نام پر پیسے لیتا رہا، ججوں کے نام پر پیسے لئے، جسٹس قاسم کے نام پر 2 کروڑ روپے لئے۔ ان کے ساتھ تلخی پر جج کا تبادلہ ہو گیا جس پر وہ اور اونچا ہو گیا کہ میں بہت بڑی چیز ہوں۔ شیرزمان نے ملتان بار کو اپنی ذاتی جاگیر بنایا ہوا ہے، ہم سے اب تک 35 کروڑ روپے نقدی اور 37 کروڑ کی جائیدادیں لے چکا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرا، اب مجھ سے کہا ہے کہ 2 کروڑ روپے دیں وہ نیب کو دینے ہیں تا کہ آپ کی طرف نہ آئے، نیب سے معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہ جھوٹ ہے اس بات پر اس کے ساتھ میری لڑائی ہو گئی، اس نے مجھ پر 5 مقدمے کرا دیئے، میں نے جس کو ضمانت کے لئے بھیجا شیرزمان نے عدالت میں اس پر تشدد کیا پھر ہڑتال کروا دی اور مقدمہ بھی ہم پر کروا دیا، مزید مقدمے بھی کراتا جا رہا ہے۔ میرا ایکسیڈنٹ ہوا تھا میں برسوں سے بستر پر ہوں، نچلا جسم مفلوم ہو چکا ہے۔
نمائندہ چینل ۵ جلال پور بھٹیاں عمران جمیل نے بتایا کہ ایک نواحی گاﺅں میں 25 سالہ نوجوان گلزار احمد غریب آدمی ہے محنت مزدوری کرتا تھا، شبیر نامی ایک شخص اس کو مزدوری کا بہانہ لگا کر اسلام آباد لے گیا تھا، وہاں لے جا کر نشہ آور مشروب پلایا جس پر اس کی حالت خراب ہو گئی، اسے بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال سے جا کر اس کا گردہ نکال لیا گیا۔ پھر تشویشناک حالت میں اس کے گھر چھوڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔ جب اسے مقامی ہسپتال لے کر گئے تو معلوم ہوا کہ اس کا ایک گردہ نکال لیا گیا ہے۔ پولیس کے پاس 4 دن سے درخواست پڑی ہے۔ وہ کہتی ہے وقوعہ اسلام آباد کا ہے یہاں مقدمہ درج نہیں کر سکتے۔ جلال پور بھٹیاں تھانہ ہے۔ تفتیشی افسر اے ایس آئی محمد مشتاق ہیں۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved