تازہ تر ین

ماموں بھانجے کی ہوس کا شکار مقتولہ بچی انصاف کی طلبگار متاثرہ خاندان ”خبریں“آفس پہنچ گیا

لاہور (کرائم رپورٹر) مناواں کے علاقہ میں مبینہ طور پر ڈاکٹر کے بیٹے اور نواسے کے ہاتھوں جنسی ہوس کا نشانہ بننے کے بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں جانے والے 13سالہ گھریلو ملازمہ اقراءکے قاتل تاحال پولیس گرفتار کرنے میں ناکام، مقتولہ کی پھوپھی حصول انصاف کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد انصاف نہ ملنے پر خبریں دفتر پہنچ گئی، ملزمان امیر اور بااثر ہیں، میری کہیں بھی شنوائی نہیں ہورہی، وزیر اعلی پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سے انصاف کی اپیل۔ بتایا گیا ہے کہ 16اگست 2018 کوایک پرائیویٹ ہسپتال کے وینٹی لیٹر پر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلاءرہنے کے بعد جہان فانی سے کوچ کر جانے والی 13سالہ اقراءاپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئی۔ اقراءکی پھوپھو شہناز بی بی اپنی بھتیجی کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور اسکی موت کے حوالے سے انصاف کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد گزشتہ روز “روز نامہ خبریں”کے دفتر پہنچ گئی۔ شہناز بی بی کا کہنا تھا کہ اسکی بھابی کافی سال پہلے وفات پاچکی ہے جس کے بعد اسکی بھتیجی اقراءپہلے کئی سال تک اس کے پاس رہی لیکن بعد میں اسکا والد محمد شہباز اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کے گھر بطور ملازمہ رکھوا دیا اور خود بھی ساتھ رہنے لگا جسے بعد میں ڈاکٹر خالد جاوید ربانی نے گھر سے نکال دیا لیکن بچی کو رکھنے کے عوض ان سے میرے بھائی نے 2لاکھ روپے بطور ایڈوانس لئے ہوئے تھے قرض کی ادائیگی کیلئے جس وجہ سے وہ لوگ بچی کو اپنے والد کے ساتھ بھیجنے کو کسی بھی صورت تیار نہ تھے۔ میرا بھائی اور میری والدہ اقراءسے ملنے کیلئے جاتے تھے جن کو کبھی تو ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کی بیوی اور بہو ملنے کی اجازت دیدیتے تو کبھی دھکے دیکر نکال دیتے۔ ایک دفہ جب میری والدہ اپنی پوتی کو ملنے کیلئے گئی تو اس نے دیکھا کہ اقراءبیمار(امید)سے تھی جس پر جب اقراءسے انھوں نے پوچھا تو اس نے رو رو کر بتایا کہ ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کا بیٹا رضوان اور اسکا نواسہ رامیک مجھے زیادتی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ یہ سب جب میری والدہ نے ہمیں آکر بتایا تو ہم ڈاکٹر خالدجاوید ربانی کے گھر گئے لیکن اسکی بیوی اور بہو نے یہ کہہ کر ہمیں ٹال دیا کہ اس کی طبیعت بہت خراب تھی جس وجہ سے اسے سرجی میڈ ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ ہم جیسے ہی ہسپتال پہنچے تو ڈاکٹروں نے ڈاکٹر خالد جاوید ربانی کے کہنے پر ہمیں اقراءسے ملنے نہیں دیا اور ہمیں یہی کہتے رہے کہ اسکے گردے خراب ہوچکے ہیں جس کا علاج ہم کررہے ہیں لیکن حقیقت میں وہ اسے پڑھے لکھے طریقے سے قتل کر نے کی کوشش کررہے تھے جس میں وہ 5دن بعد جاکر کامیاب ہوئے اور اقراءکی لاش کو ہمارے حوالے کر دیا جس پر ہم نے جب احتجاج کیا تو پولیس نے موقع پرپہنچ کر لاش کو قبضہ میں لیتے ہوئے پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کیا جہاں سے ملنے والی پوسٹماٹم رپورٹ میں اقراءسے زیادتی ثابت ہوگئی لیکن زیادتی کرنے والے کے تعین کا کہہ کر نمونے فرانزک لیب بھجوادیئے ہیں ۔ شہناز بی بی نے روتے ہوئے کہا کہ آج ہماری بچی کی موت کو 2ماہ کا عرصہ ہونے کو ہے لیکن نہ تو ابھی تک فرانزک لیب کی رپورٹ سامنے آئی ہے اور نہ ہی انویسٹی گیشن پولیس ہی کچھ کررہی ہے۔ اسکا کہنا تھا کہ اگر اقراءکسی امیر یا بااثر شخصیت کی بیٹی ہوتی تو ملزمان ابتک سلاخوں کے پیچھے ہوتے لیکن ہم پتہ نہیں دو وقت کی روٹی کیسے پوری کرتے ہیں لہذا ہماری بچی بچی تھوڑی ہے ، وہ تو ان امیروں کیلئے کھلونا تھا جس سے کھیلا اور بعد میں اسے توڑ دیا ۔ شہناز بی بی نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب سے اپیل کی ہے کہ اگر وہ اقراءکو اس ملک و قوم کی بیٹی سمجھتے ہیں تو برائے مہربانی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے جلد از جلد انصاف فراہم کریں تاکہ وطن عزیز میں امیر غریب کیلئے حصول انصاف کا عمل ایک جیسا ثابت ہوسکے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved