تازہ تر ین

اومنی اکاﺅنٹس سے پیسہ بھارت بھیجا گیا

ڈاکٹرشاہدمسعود
فوج پر تنقید کرنے کی وجہ سے نوازشریف شاہد خاقان کو زیادہ پسند کرتے ہیں حالانکہ وہ ن لیگ کے مراد علی شاہ ہیں۔ شاہد خاقان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا کردار سنبھالیں گے۔ خواجہ سعد رفیق نے کل نیب میں پیش ہونا ہے آشیانہ کیس میں شہباز شریف، فواد حسن فواد، احد چیمہ گرفتار ہیں تو وہ کیسے آزاد پھر سکتے ہیں۔ ضمنی الیکشن کے نتائج کا ملک کی مجموعی صورتحال پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ چودھری برادران رواداری کی سیاست کے امین ہیں ان کے خاندان سے 2 نوجوانوں کا الیکشن جیتنا خوش آئند ہے۔ اومنی گروپ کے جعلی اکاﺅنٹس میں ایسے اکاﺅنٹس بھی سامنے آ گئے ہیں جن کے ذریعے پیسہ بھارت بھیجا گیا۔ آئینی بحران اس لئے پیدا ہو رہا ہے کہ وقت کے ساتھ آئین میں ترامیم کی جاتی رہیں جس سے وہ چوں چوں کا مربہ بن چکا ہے۔ 18 ویں ترمیم تو لوٹ مار کیلئے صرف ایک مک مکا کے طور پر سامنے آئی۔ اسحاق ڈار نے 26 رکنی کمیٹی جس میں زیادہ تر سنیٹرز تھے کے ذریعے یہ تمام بند کمرے میں تیار کی۔ یہ ترمیم پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے ایک دوسرے کے مفادات اور صرف لوٹ مار کیلئے بنائی۔ دونوں پارٹیوں نے مک مکا کیا کہ ہم سکون سے باری باری حکومت کریں گے اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اسی طرح اقتدار میں رہیں گی۔ اس ترمیم کے ذریعے تعلیم، پولیس، صحت کے نظام کو صوبوں کے حوالے کر دیا گیا نتیجہ سامنے ہے تعلیم کا نظام مکمل برباد ہو چکا ہے سرکاری سکولوں میں استاد ہی نہیں تو بچے کہاں سے آئیں گے، صحت کی یہ صورتحال ہے کہ ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر چار چار مریض ہیں۔ تھر میں ہزاروں بچے مر چکے ہیں۔ صوبوں کو بجلی گھر بنانے کا احتیار دے کر میگا کرپشن کا دروازہ کھول دیا گیا۔ صوبوں کو یونیورسٹیاں بنانے کا اختیار دیا تو کس طرح ڈگریاں بانٹی گئیں 18 ویں ترمیم کے ذریعے وفاق کو کمزور کیا گیا۔ اس ترمیم میں کچھ اچھے کام بھی ہوئے تاہم وہ برائے نام ہیں ویسے لوکل گورنمنٹ نظام کی بات کی گئی لیکن آج تک اسے مضبوط نہ بنایا گیا۔ اس بدمعاشیہ نے جمہوریت کے لئے یہ قربانی دی کہ ایک وزیراعظم صرف اس لئے گھر چلا گیا کہ ملک سے لوٹی دولت واپس لینے کیلئے سوئٹزرلینڈ حکومت کو خط نہیں لکھوں گا۔ وزیراعظم عمران خان کہتے ہیںکہ ملک میں یکساں نظام تعلیم لاﺅں گا۔ 18 ویں ترمیم کے ہوتے ہوئے کیسے یکساں نظام تعلیم لائیں گے۔ وزیراعظم پی ایم ہاﺅس کے پرانے ملازمین کو فارغ کرنے کے بجائے صرف یہ دیکھیں کہ پچھلے 10 سال میں کتنی بھرتیاں کی گئیں اور افسران کو کتنی تنخواہوں پر رکھا گیا۔ صوبوں کو بھرتیاں کرنے کا اختیار دیاگیا نتیجہ یہ نکلا کہ پنجاب کی 56 کمپنیاں سامنے آئیں جن کے افسران کو 20,20 لاکھ تک کی تنخواہیں دی جا چکی ہیں۔ سستی روٹی، صاف پانی جیسے منصوبے صرف لوٹ مار کیلئے تھے۔ وقت آ گیا ہے کہ پارلیمنٹ 18 ویں ترمام کا از سر نو جائزہ لے اور اس میں صرف اچھے نکات کو رہنے دے باقی لوٹ مار کے سب دروازے بند کرے اس ترمیم کا یہ نتیجہ تھا کہ ایک صوبے میں سرکاری بینک صرف اس کام کیلئے بنایا گیا کہ منی لانڈرنگ کی جا سکے۔ پاکستان کے آدھے سے زیادہ مسائل اور کرپشن کی وجہ 18 ویں ترمیم بنی۔ بجلی گھر بنانے کا اختیار صوبوں کو دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ تھر کول منصوبہ میں فواد حسن فواد نکلتا ہے۔ پنجاب میں ہر 6 ماہ بعد پولیس کی وردی بدل جاتی ہے۔ عدالت 18 ویں ترمیم کی وضاحت کرے۔ پچھلے 10 سال کا سارا ریکارڈ نکالا جائے تو تمام چوروں کے نام سامنے آ جائیں گے۔ یہ بھی شکر کا مقام ہے کہ اس ترمیم میں خارجہ پالیسی اور فوج بنانے کا اختیار صوبوں کو تفویض نہیں کر دیا۔ ضرورت اس امر کی ہے لوٹ مار کرنے والی تمام بدمعاشیہ کو سعودی احتساب ماڈل کی طرز پر ہتھکڑیاں لگا کر چیک سائن کرائے جائیں۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved