تازہ تر ین

معرکہ¿ حق وباطل اور اسوہ¿ نبوی

حافظ محمد ادریس….خاص مضمون
امت مسلمہ آج بہت پرآشوب حالات سے گزر رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں پرعزم اور صاحبِ کردار قیادت کا فقدان ہے۔ غیروں کے کاسہ لیس حکمران امت کی کیا رہنمائی کریں گے۔ اگر ہم قرآن وسنت کی طرف رجوع کریں اور سیرت طیبہ کے ایمان افروز واقعات کو تعلیمی اداروں کے طلبہ وطالبات ہی کے لیے نہیں،پوری قوم بالخصوص فیصلہ کرنے والی قوتوں اور اداروں کے لیے بطور نصاب نافذ کریں تو ہماری حالت بدل سکتی ہے۔ لیکن حالات جس ڈگر پر جارہے ہیں اس میں یہ ایک نیک خواہش اور تمنا تو ہوسکتی ہے، مگر اس پر عمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔ البتہ یہ بات تو ممکن ہے کہ دردِ دل رکھنے والے تمام اہلِ ایمان خود اور اپنے اہل وعیال اور خاندان کو یہ بھولا ہوا سبق یاد کرائیں۔ سیرت طیبہ میں ایسے ایمان افروز واقعات ہیںکہ ان کا ذوق پیدا ہوجائے تو پوری سیرت دل ودماغ میں محفوظ ہوسکتی ہے۔
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کی زندگیاں مسلسل ابتلا وآزمایش میں گزریں۔ یہ آزمایش مکی دور کی ہو یا مدنی زندگی کی، قائد انسانیت اور آپ کے جان نثار ساتھیوں نے کبھی کوئی کمزوری نہیں دکھائی۔ مکہ سے مدینہ آنے کے بعد سن ۲ہجری میں معرکہ بدر پیش آیا، جس نے کفار کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ اگلے سال احد کے میدان میں صحابہ کرامؓ کی ایک معمولی سی اجتہادی غلطی سے فتح وقتی طو رپر ہزیمت میں بدل گئی۔ سن پانچ ہجری میں قریش نے تمام عرب قبائل کو ساتھ ملا کر مدینہ پر حملہ کیا۔ اس حملے کی اطلاع آنحضور کو پہنچ چکی تھی۔ آپ نے مدینہ کے گرد خندق کھود کر اسے ناقابل تسخیر بنا دیا تھا۔ یہ جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہی اور بالآخر کفار کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ان کے ساتھ مدینہ کے غدار یہودیوں نے ساز باز کررکھی تھی، مگر اللہ نے ان کی سب تدبیریں ان پر الٹ دیں۔
اتحادی فوجیں بنو قریظہ پر تکیہ کیے ہوئے تھیں کہ وہ مدینہ کے اندر سے مسلمانوں پر ہلہ بول دیں گے جس کے نتیجے میں مسلمان خندق کو چھوڑ کر اپنے گھروں پر توجہ دینے پر مجبور ہو جائیں گے۔ یوں خندق کو خالی پا کر اتحادی فوجیں مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں گی مگر اب سارا کھیل بگڑ چکا تھا اور ساری تدابیر الٹی ہو چکی تھیں۔ ابوسفیان نے لشکروں کو خطاب کرتے ہوئے کہا :”اب یہاں قیام کا کوئی فائدہ ہے نہ گنجایش۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی راہ لیں۔ یہ سارا منظر صحابی رسول حضرت حذیفہؓ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ حضرت حذیفہؓ کو آنحضور نے رات کے وقت دشمن کے خےموں میں جا کر حالات معلوم کرنے کی جاں گسل مہم پر روانہ فرمایا تھا۔ انھوں نے یہ واقعات تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔ جو ہم نے اپنی کتاب ”رسول رحمت تلواروں کے سائے میں“ (جلد دوم) میں مفصل لکھے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں: ”میں نے ابوسفیان کو اس دن پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ وہ میرے تیر کی زد میں تھا۔ میں بڑی آسانی سے اسے نشانہ بنا کر قتل کر سکتا تھا مگر آنحضور کے حکم کی وجہ سے میں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔“
حضرت حذیفہؓ ان لوگوں کی پست ہمتی اور ہزیمت سے محظوظ ہو رہے تھے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ ”مجھے اﷲ نے اتنی جرا¿ت عطا فرما دی کہ میرے دل میں کوئی خوف و خطر باقی نہ رہا۔ میں بلا جھجک قریش اور غطفان کے لشکروں میں گھس گیا اور دشمنان اسلام کی سراسیمگی اور بدحواسی سے لطف اندوز ہونے لگا۔ لشکروں میں ہر جانب کوچ کوچ کا شور ہنگامہ برپا تھا۔“
ہزیمت سے دوچار ہونے کے بعد سردار قریش ابوسفیان نے آنحضور کو ایک خط لکھا۔ یہ خط ابوسلمیٰ خشنی کے ہاتھ بھیجا گیا جو آنحضور کے سامنے سیدنا ابّی بن کعبؓ نے پڑھا۔ ہم یہ پور اخط اور آنحضور کی طرف سے اس کا جواب محمد احمد باشمیل کی کتاب غزوة الاحزاب سے نقل کر رہے ہیں جو جناب موصوف نے عہد نبوی اور خلافت راشدہ کے سیاسی و ثائق کے حوالے سے اپنی کتاب کے صفحہ ۲۶۹ اور ۲۷۰ پر نقل کیے ہیں۔ یہی مضمون سیرت الحلبیہ میں بھی بیان ہوا۔ ابوسفیان کے خط سے قارئین واضح طور پر یہ محسوس کر سکتے ہیں کہ یہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ہے جبکہ رسول اکرم کا خط توکل و رضائ، جرا¿ت و ہمت اور تدبر و حکمت کا بہترین نمونہ ہے۔
ابوسفیان نے لکھا ”باسمک اللّٰھم۔ میں لات ، عزیٰ، اساف، نائلہ اور ہبل کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے ایک بڑا لشکر جمع کرکے تیرے اوپر حملہ کیا تھا اور ہمارا پختہ ارادہ تھا کہ تم لوگوں کے مکمل خاتمے کے بغیر واپس نہیں پلٹیں گے۔ یہاں آ کر معلوم ہوا کہ ہمارا مقابلہ کرنے سے کنی کترا گیا ہے، تو نے خندق کھود کر اپنے آپ کو محفوظ کر لیا۔ تو نے اپنی جان بچانے کے لیے ایسی چال چلی جس سے عرب کبھی واقف نہیں تھے۔ عرب خندقوں اور کھائیوں کو نہیں جانتے۔ وہ تو نیزوں کی چھاو¿ں اور تلواروں کی دھار سے واقف ہیں۔ ہماری تلواروں کے خوف سے تو نے یہ راہ فرار اختیار کی۔ مجھے نہیں معلوم کہ تجھے یہ چال کس نے سجھائی۔
آج اگر ہم محاصرہ اٹھا کر جا رہے ہیں تو اپنے آپ کو محفوظ و مامون مت خیال کرنا، ہم پھر پلٹیں گے اور ایک بار یوم احد کی تاریخ کو پھر دہرا دیں گے۔ اس روز ہم خالی ہاتھ واپس نہیں جائیں گے بلکہ تمھاری عورتوں کو باندیاں بنا کر لے جائیں گے۔“
اس بدزبانی کے جواب میں آپ نے خط لکھوایا: ”بسم اﷲ الرحمن الرحیم ، محمد رسول اﷲ(صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے ابوسفیان بن حرب کے نام!
اما بعد! تمھارا خط مجھے مل گیا ہے۔ دھوکہ دینے والے نے تجھے اﷲ کے بارے میں ہمیشہ دھوکے میں رکھا۔ اے بنو غالب کے نادان سردار! تیرے ناپاک عزائم کے راستے میں اﷲ تعالیٰ خود حائل ہو جائے گا۔ اﷲ تعالیٰ انجام کار ہمارے حق میں فیصلہ صادر کرے گا۔ تو نے جو یہ بڑ ہانکی ہے کہ تو اپنے لشکروں کی مدد سے ہمارا کام تمام کرنے کے لیے آیا تھا تو جان لے کہ تیرے اس ارادے کو اﷲ تعالیٰ نے خود خاک میں ملایا ہے اور ہماری سلامتی اسی ذات کی مرہون منت ہے۔
اے عقل سے عاری سردارِ قریش! تجھے وہ دن ضرور دیکھنا پڑے گا جس دن لات، عزیٰ، اساف، نائلہ اور ہبل توڑ دیے جائیں گے۔ اس دن میں تجھے تیرا خط بھی یاد دلاو¿ں گا اور اپنی اس بات کو بھی دہراو¿ں گا۔ جہاں تک تیرے اس قول کا تعلق ہے کہ مجھے یہ جنگی چال کس نے سکھائی تو جان لے کہ مجھے اﷲ تعالیٰ نے یہ ہدایت اور رہنمائی عطا فرمائی۔“ (السیرة الحلبیة، ج۲، دارالکتب العلمیہ بیروت، ص۴۴۰)
فوجوں کے راتوں رات محاصرہ اٹھا کر بھاگ جانے کے بعد اگلی صبح اہل مدینہ نے دیکھا کہ جہاں ہر جانب اسلحہ بردار دشمن ڈکار رہے تھے۔ وہاں کسی فرد بشر کا اب نام و نشان باقی نہ تھا۔ دشمن خائب و خاسر ہو کر واپس جا چکا تھا۔ اب اس کے لیے اپنے زخم چاٹنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مسلمانوں کو اﷲ تعالیٰ نے ایک کڑی آزمایش میں سے گزارا اور انھیں خالص سونا بنا دیا۔
احزاب کے چلے جانے کے بعد آنحضور نے صحابہ کرام کے حوصلوں کی تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بشارت سنا دی: لا یغزونکم بعد ہا ابداً ولکن انتم تغزونہم۔ اس کے بعد وہ تمھارے اوپر کبھی چڑھائی نہیں کریں گے بلکہ ان پر تم چڑھائی کرو گے۔
حضور اکرم کا یہ فرمان اﷲ تعالیٰ کی رہنمائی اور ہدایت کے تابع تھا۔ تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ سردار قریش اپنے چیلنج کے باوجود پھر کبھی مدینہ کا رخ نہ کر سکا۔ عرب کی پوری قوت جنگ احزاب میں مدینہ کی اسلامی ریاست کے خلاف استعمال ہو چکی تھی۔ اس سے زیادہ قوت جمع کرنا جزیرہ نمائے عرب میں کسی کے بس میں نہیں تھا۔ آنحضور نے نور ربانی کی روشنی میں دنیا کو بتا دیا تھا کہ اب تک مکہ مدینہ پر حملہ آور ہوتا رہا ہے۔ آج کے بعد مدینہ کی باری ہے کہ مکہ پر حملہ آور ہو۔ چنانچہ آپ دیکھ لیجیے کہ اس کے بعد کبھی مدینہ پر حملہ کرنے کی کسی نے جرا¿ت نہیں کی۔ البتہ اس جنگ کے چند سال بعد ۸ھ میں آنحضور نے مکہ پر چڑھائی کرکے اسے فتح کر لیا اور بت توڑ دیے گئے۔ ابوسفیان نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھ لیا۔ اﷲ کا وعدہ سچا ہوا اور شیطان کی چالیں دھری کی دھری رہ گئیں۔
اے اہلِ ایمان!آج پھر اس بھولے ہوئے سبق کو یاد کرنے کی ضرورت ہے۔ اللہ کے دامن سے جڑ جانا کامیابی کی پکی ضمانت ہے۔ اللہ کو فراموش کرکے ٹامک ٹوئیاں مارنے سے ناکامی اور نامرادی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ اے کاش ہم اس نکتے کو سمجھ جائیں۔
(نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved