تازہ تر ین

آئی ایم ایف سے بچنے کا راستہ….!

مختار عاقل ……..دوٹوک
ابھی تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو قائم ہوئے دو ماہ ہی گزرے ہیں کہ پاکستان عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے در پر پہنچ گیا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے 25 جولائی کے عام انتخابات سے قبل کھل کر آئی ایم ایف سے دوری اور کشکول توڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن محض دو ماہ کی حکمرانی میں ہی قومی خزانہ خالی دیکھ کر وہ اور ان کے وزیر خزانہ اسد عمر ہاتھوں میں کشکول اٹھائے آئی ایم ایف کے در پر پہنچ گئے ہیں ۔ دس بارہ ارب ڈالر قرضہ وصولی کے متمنی ہیں ۔ اس سے قبل ہی آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنی شروع کردی ہیں ۔ گیس کی قیمتیں آسمان پر پہنچا کر روپیہ پر حملہ کےلئے ڈالر کو کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔ اسے تاریخ کی بلند ترین سطح 138روپے فی ڈالر تک پہنچا کر اس کی بلند پروازی کو مہمیز دی ہے ۔ بیچارہ وزیر اعظم بھی کیا کرے ! لندن میں زیر علاج سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 845فیصد شرح پر سکوک بانڈز فروخت کیے ‘ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے 1700ارب قرض لے کر پنجاب میں 56جعلی کمپنیاں قائم کیں ۔ اسحاق ڈار نے 6فیصد شرح سود پر چین سے قرض لیا ‘ لاہور میں کچرا اٹھانے والی کمپنی نے 45ارب روپے کا خطیر سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ۔ میٹرو منصوبے پر سالانہ 10ارب روپے زر تلافی دیا گیا ۔ نواز دور میں وزیر اعظم ہاﺅس کے اخراجات 10کروڑ روپے ماہانہ تھے ‘ ن لیگ کی حکومت صرف توانائی سیکٹر میں 1200ارب روپے کا قرض چھوڑ گئی ہے ‘ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاﺅنٹس کیس میں فالودہ والے سے لے کر طالب علم تک کروڑوں روپے برآمد ہورہے ہیں ۔ شہباز شریف کا دست راست اور حالیہ سلطانی گواہ احد چیمہ کے شوروم میں کھڑی گاڑی سے 50کروڑ روپے کی ملکی وغیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی ہے ۔ آشیانہ ہاﺅسنگ اسکیم سے لے کر صاف پانی کمپنی اور جعلی اکاﺅنٹس ‘ اومنی گروپ کرپشن سمیت ایسی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں جس میں قومی خزانہ بے دردی سے لوٹا گیا ہے ۔ پاکستان سے لوٹا گیا یہ خطیر سرمایہ اب غیر ممالک کے بینکوں میں دفن ہے یا پراپرٹی کی شکل میں نظر آرہا ہے ۔ شاہد حسن صدیقی اور وزیر اعظم پاکستان کے معاشی ماہر ڈاکٹر اشفاق حسین سے جب دریافت کیا گیا کہ آئی ایم ایف سے بچنے کا کیا راستہ ہو سکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ محنت کے ذریعے چھٹکارہ مل سکتا ہے ۔ ان کا جواب لا جواب ہے ۔
دنیا کی بہادر اقوام نے محنت کرکے ہی غیروں کی معاشی غلامی اور بدمعاشی سے نجات حاصل کی ہے جس کی سب سے بڑی مثال عوامی جمہوریہ چین ہے ۔ پاکستان دنیا کے عظیم ‘ خوبصورت اور وسائل سے مالا مال ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔ تمام اسلامی ممالک میں پاکستان واحد ایٹمی ملک ہے ۔ دنیا کا چوتھا براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم پاکستان کا ہے ۔ اس کی فوج دنیا بھرمیں چھٹے نمبر پر بڑی فوج شمار ہوتی ہے ۔ پاک فضائیہ کے مایہ ناز ہوا باز محمد محمود عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5طیارے گرائے تھے ‘ جو عالمی ریکارڈ ہے ۔ پاکستان دنیا کے ان 11ملکوں میں شامل ہے جن میں 21ویں صدی کے دوران سب سے بڑی معیشت بننے کی صلاحیت ہے ۔ دنیا کی دوسرے نمبر پر طویل ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو اور نویں نمبر پر نانگا پربت پاکستان میں ہیں آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں چھٹے اور اسلامی ممالک میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ زمین کی بھرائی والا سب سے بڑا اور دنیا میں دوسرے نمبر کا بڑا تربیلا ڈیم پاکستان میں ہے ۔ ایدھی فاﺅنڈیشن دنیا میں سب سے بڑا ایمبولینس نیٹ ورک چلارہی ہے ۔ دنیا کا بلند ترین ریلوے اسٹیشن بھی پاکستان میں ہے ۔ دنیا میں ماہر ترین ہوا باز پاک فضائیہ میں ہیں ۔ جس کا اعتراف بھارتی فضائیہ کے سربراہ بھی کرچکے ہیں ۔ دنیا کی سب سے گہری بندرگاہ گوادر پاکستان میں ہے ۔ سائنسدانوں اور انجینئروں کی دنیا بھر میں ساتویں بڑی کھیپ پاکستان میں ہے ۔ دنیا میں تیار ہونے والے فٹ بال کا نصف (50فیصد ) پاکستان میں تیار ہوتے ہیں ۔ چین اور پاکستان کو ملانے والی قراقرم ہائی وے دنیا میں بلند ترین پختہ سڑک شمار ہوتی ہے ۔ کھیوڑہ میں نمک کی کانیں دنیا میں دوسرے نمبرپر شمار کی جاتی ہیں ۔ دنیا کا بلند ترین پولو گراﺅنڈ شندور پاکستان میں ہے جس کی بلندی 3700میٹر ہے ۔ دنیا کا سب سے بڑا نظام آبپاشی اور آسمان کو چھونے والی پہاڑی رینج پاکستان میں ہے ۔ پاکستانی میزائل ٹیکنالوجی دنیا میں بہترین شمار ہوتی ہے ۔ لڑاکا طیارہ سازی میں بھی پاکستان آگے ہے ۔ پاکستان سرجیکل آلات کی برآمد میں بھی بڑا مقام رکھتا ہے ۔ ایک عالمی سروے کے مطابق دنیا کے 125ممالک میں پاکستان ذہین ترین افراد میں چوتھے نمبر پر ہے ۔ لیکن اس عظیم الشان ملک میں ہر نئے دن کے ساتھ غربت و افلاس ‘ بیروزگاری اور مہنگائی کا گراف بڑھ رہا ہے ۔ مہنگی تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتیں بھی عوام کو دستیاب نہیں ہیں جس نے عام آبادی کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔ رشوت ‘ کرپشن اور بدعنوانیوں نے ملک کا نقشہ بگاڑ رکھا ہے ۔ پاکستان کے بدعنوان سیاستدانوں نے اپنا ملک لوٹ کر بیرون ملک بینکوں میں پیسہ جمع کر رکھا ہے۔ منی لانڈرنگ اور پاناما کیس نے ماضی کے حکمرانوں کے بہت سے راز اور پراپرٹی کھول دیئے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ سوئس بینکوں میں جمع پاکستانیوں کی رقوم واپس لانا بہت مشکل کام ہے ۔ان رقومات کا تخمیہ 200ارب ڈالر سے زیادہ لگایا جاتا ہے جو پاکستان پر واجب الادا غیر ملکی قرضوں سے تقریباً دوگنی رقم ہے ۔ پاکستان اور اس کے عوام ان قرضوں کا سود ادا کررہے ہیں اور قومی خزانہ لوٹنے والے اپنے خاندانوں کے ساتھ عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کے 70برسوں میں اسے کنگال اور بے حال کردیا ہے ۔ اپنے اطراف پر نظر ڈالیے ‘ چند سال قبل جن کے پاس سائیکل نہیں تھی وہ پراڈو اور مرسڈیز میں گھوم رہے ہیں ۔ جن کے پاس کھانے کی محتاجی تھی وہ فائیو اسٹار سے کم بات نہیں کرتے ۔ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کے رضاعی بھائی اویس مظفر ٹپی نے دبئی میں لاکھوں درہم کی خریداری کی ان میں 39ہزار درہم کے تین جوتے بھی شامل تھے جن کی پاکستانی روپے میں قیمت 11لاکھ 70ہزار روپے بنتی ہے وہ سندھ کے وزیر بلدیات تھے اور ”جگاڑ“ سے ارب پتی بن گئے ‘ نیب کی انکوائری اور ایف آئی اے کی پکڑ دھکڑ سے بچ کر بیرون ملک گئے تھے ۔ لیکن آج تک واپس نہیں آئے ۔ پاکستان کو لوٹنے والوں نے غیر ملکی قرضوں کا پہاڑ کھڑا کردیا ہے ۔ انہوں نے اس حسین و جمیل سر زمین کی شکل بگاڑ دی ہے ۔ پاکستان بنا تو ایک ڈالر ایک روپے کا تھا ‘ انہوں نے اسے 138روپے تک پہنچا دیا ہے ۔ چند سو روپے میں پلنے والے خاندانوں کے لیے آج 20ہزار روپے ماہانہ بھی کم ہیں ۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات آسمان سے باتیں کررہے ہیں اور مہنگائی سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔ دبئی اور کراچی ایک ہی خط پر واقع ہے ۔ درمیان میں سمندر ( بحیرہ عرب) ہے لیکن دونوں کی ترقی اور نظام حکومت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔
گزشتہ 30سال سے ڈالر اور درہم کی ایک ہی شرح مقرر ہے۔ قانون کی حکمرانی ایسی کہ تنہا خاتون سڑک پر سونا اچھالتی چلی جائے مگر کیا مجال کہ کوئی لوٹنے کا خیال بھی دل میں لاسکے ۔ ہمارے یہاں اسٹریٹ کرائم مستقل ناسور بنا ہوا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مجرموں کے خلاف آہنی ہاتھ استعمال کیے ‘ ضرب عضب لگائی امن وامان قائم کیا تو عوام ان کے گرویدہ ہو گئے ‘ مسجد نبوی میں بھی راحیل شریف زندہ باد کے نعرے لگ گئے ۔ حکمران اگر عوام کا خیال کریں ‘ ملک سنواریں ‘ مجرموں کی سرکوبی کریں ‘ قومی خزانہ کو امانت سمجھیں ‘ عوام کی فلاح و بہبود کو مقدم سمجھیں تو پاکستان بھی سوئٹزر لینڈ ‘دبئی اور سنگاپور بن سکتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان اپنی معاشی ٹیم کے رکن ڈاکٹر اشفاق حسن کے مشوروں پر ہی عمل کرلیں تو ملک بد حالی سے خوشحالی تک سفر کرسکتا ہے چین میں 1949ءمیں انقلاب آیا تو اشترا کی روس ہی اس کا واحد مددگار تھا لیکن ابتدائی برسوں میں تعلقات کشیدہ ہو گئے ۔ چین نے روسی امداد لینا بند کردیا ۔ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا مضبوط ارادہ کیا اپنے وسائل اور عوام پر بھروسہ کیا ۔ اپنی مدد آپ کے تحت دس دیوہیکل منصوبے محض 10ماہ کی مختصر مدت میں مکمل کیے جن میں دریائے سنگکیانگ پر بنایا گیا میلوں طویل پل بھی شامل ہے ۔ کمیونسٹ انقلاب کے باعث کوریا کے دو ٹکڑے ہوئے شمالی کوریا کا امریکہ اور مغرب نے بائیکاٹ کردیا ۔ کورین لیڈر کم ال سنگ نے پوری قوم میں انقلاب کی روح پھونک دی ۔ ہر شے خود بنانے لگے اور جلد ہی خود کفیل ہو کر اپنے قدموں پر کھڑے ہو گئے۔ وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کو اقوام عالم میں ایسی کئی ولولہ انگیز داستانیں مل جائیں گی جن کی جدوجہد کو سامنے رکھ کر پاکستانی قوم میں بھی انقلابی روح پھونکی جاسکتی ہے مزاج تبدیل ہوسکتا ہے ‘ ملک کا مقدر سنور سکتا ہے تب آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ اگر غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کوری شیدول کیا جائے ۔ تمام غیر ضروری اشیاءاور ہتھیاروں کی درآمدات کو کنٹرول کیا جائے برادر اسلامی ملکوں سعودی عرب اور ابوظہبی سے تیل اور قطر ‘ بحرین سے ایل این جی گیس ارزاں نرخوں پر ادھار حاصل کی جائے ‘ رشوت اور کرپشن کی سزا موت مقرر کی جائے اور گزشتہ برسوں کے دوران پاکستان سے لوٹی ہوئی دولت واپس لائی جائے تو یہ بات پختہ یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پاکستان کو کسی غیر ملکی قرضہ کی ضرورت نہیں ہوگی اور پاکستانی قوم اپنے قدموں پر کھڑی ہو جائے گی ۔
( کالم نگار سینئر صحافی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved