تازہ تر ین

سرسبزوشاداب پاکستان

افتخار خان ….اظہار خیال
دنیا میں سب سے پہلے آنے والی چیز میرے خیال میںدرخت ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سب سے پہلی نعمت بھی درخت ہی ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام کے آنے سے پہلے دنیا میں کتنے درخت تھے میرے خیال میں ہر جگہ درخت ہی درخت تھے۔ آبادی کے ساتھ درختوں کی تعداد تیزی سے کم ہونے لگی اور غریب ملکوں کے لیے یہ مفت نعمت نا پید ہوگئی۔ آج کل پاکستان کی ہر حکومت درخت لگانے پر بہت وعدے کر رہی ہے لیکن چال وہی بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ محکمہ جنگلات اگر بند کر دیا جائے تو شاید درختوں کی تعداد بڑھ سکے۔
سب سے پہلے ہم کو معلوم کرنا ہوگا کہ پاکستان کو کتنے درخت چاہئیں۔ ہم کو ہر صورت 25% رقبہ پر درخت لگانے ہوں گے اور اس کے لیے اگلے دس سال کا عرصہ مقرر کیا جائے۔ اس کے بعد جتنے کاٹو اتنے ہی لگا دو۔ اگر ہم 10 فٹ سنٹر ٹو سنٹر درخت لگائیں تو 25% جگہ کو کور کرنے کے لیے 250 ارب درخت درکار ہوں گے۔ موجودہ حکومت کروڑوں کی بات کرتی ہے جو سوائے مذاق کے کچھ بھی نہیں ۔
درخت لگانے کے لیے حکومت کو کیا کرنا ہوگا۔ ہماری تجویز میں 10 کھرب روپے دس برسوں کے لیے مختص کیے جائیں۔ اس وقت شہروں میںجو درخت سڑکوں پر لگے ہوئے ہیں یہ صرف خوبصورتی کے لیے ہیں۔ ان کا استعمال کچھ بھی نہیں۔ یہاں تک کہ وہ درخت جلانے کے قابل بھی نہیں ہیں۔ پاکستان میں چاروں موسم ہیں، پہاڑ ہیں، صحرا ہیں، دریا ہیں، پلین ایریاز ہیں۔ لہٰذا دنیا کا ہر درخت یہاں لگایا جاسکتا ہے۔ ہم کو اپنے فائدے کے درخت منتخب کرنے ہوں گے۔ ان درختوں کے بیج، قلمیں پودے درآمد کرنے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ درخت اُگانے چاہئیں جو بطور ایندھن استعمال ہوسکیں۔ فرنیچر کے لیے استعمال ہوں، گھر میں استعمال ہوں، آج کل کینیڈا سے ان گنت قسم کی لکڑی آرہی ہے۔ امریکہ میں لا تعداد قسم کی لکڑی کے درخت کروڑوں کی تعداد میں لگے ہوئے ہیں۔ بالآخر ہم نے یہ لکڑی برآمد بھی کرنی ہے۔ درخت لگانے کے لیے حکومت جگہ دے اور پودے بھی دے گی۔ اس جگہ پر حکومت چار دیواری بنائے گی اور درختوں کی بروقت دیکھ بھال کرے گی۔ بڑی عمارتوں میں 30% ایریا درختوں کے لئے مختص ہوگا جس کی علیحدہ چار دیواری ہوگی اور حکومت کے کنٹرول میں ہوگی۔ مثلاً 150 کنال کے پرائمری سکول میں 50 کنال پر درخت ہوں گے۔
درخت لگانے کا کام تحریک کی صورت میں کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مختلف تجاویز ہیں۔ (1) ہر بالغ مرد ہفتہ میں ایک درخت لگائے گا۔ (2) تمام NGO’s کا اس تحریک میں حصہ لینا لازم ہوگا۔ (3) حکومت ٹھیکے دے کر بھی درخت لگوائے گی۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ ہوگی۔ (4) ہر 8 کنال یا اس سے بڑی جگہ پر بننے والی بلڈنگ اس طرح ڈیزائن کی جائے گی کہ اس پر 30% جگہ پر درخت ہوں اور حکومت ان کے گرد چار دیواری بنا کر اس کی دیکھ بھال کرے ۔ یہ درخت اور جگہ حکومت کی ہوگی اور مالک اس کو فروخت نہیں کرسکے گا۔ (5) جس کا کام اس کو ساجھے دوسرا کرے تو ڈنکا باجے کے اصول پر کاربند رہنا ہوگا۔
دس سال تک یہ سلسلہ پورے جوش و خروش کے ساتھ جاری رہے گا۔ ان درختوں کے قابل استعمال ہونے کی عمر مختلف ہوگی۔ جو کٹائی کی عمر کو پہنچیں گے ان کو کٹوا کر ان کی جگہ پھر درخت لگائے جائیں گے۔ یہ عمر 10 سال سے 50 سال تک ہوسکتی ہے۔ ان درختوں میں پھل دار درخت شامل نہیں ہوں گے۔
آخر میں درخت لگانے کے فوائد اگر نہ بتائے گئے تو درست نہیں ہوگا۔ سرسبزشادات پاکستان کے بڑے فائدے ہونگے۔ (1) سب سے بڑا فائدہ درختوں کا یہ ہے کہ یہ ایندھن ہے ۔ جب گیس، پٹرول وغیرہ دریافت نہیں ہوا تھا اس وقت درخت ہی کام آتے تھے۔ وہ درخت لگائیں جن کو جلانے سے خوب گرمی پیدا ہو۔ (2) ایندھن جلا کر بھاپ بنائی جاتی ہے جس سے پہیہ چلتا ہے اور بجلی بھی بنائی جا سکتی ہے۔ شروع شروع میں گاڑیاں اور ٹرینیں کوئلے سے چلتی تھیں۔ لکڑی براہ راست بھی استعمال ہوتی تھی۔ (3)لکڑی سے محفوظ گھر بنتے ہیں جو بڑی سے بڑی آفت میں بھی انسانی جان کو نقصان نہیں پہنچنے دیتے۔ امریکہ میں اکثر چھتیں آندھی سے اُڑ جاتی ہیں اور لوگ جو ان میں سوئے ہوتے ہیں وہ محفوظ رہتے ہیں۔ (4) درخت سیلاب سے بچنے میں مدد کرتے ہیں۔ (5) لکڑی سے ہر قسم کا فرنیچر بنتا ہے۔ (6) درخت کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) استعمال کرتے ہیں اور آکسیجن (O2) خارج کرتے ہیں۔ جس کے بغیر انسان کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ ماحول میں آکسیجن بڑھنے سے ہر قسم کی آلودگی دور ہوجائے گی۔ دریاو¿ں کے پانی میں آکسیجن بڑھنے سے پانی کی مخلوق کے لیے بہت فائدہ ہے ۔(7) درخت ملک کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ (8) ایک درخت سے لاکھوں کروڑوں درخت لگائے جاسکتے ہیں ۔(9) درخت خود ہی قلمیں اور بیج مہیا کرتے ہیں اور ان کی جڑیں زمین میں سے خود ہی پانی کھینچتی ہیں۔ (10) اس سے برتن بھی بن سکتے ہیں۔ سرسبزشادات پاکستان کے لئے ہرفرد اپنا کردار ادا کرے۔
(کالم نگارقومی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved