تازہ تر ین

لیاقت علی خان کی یاد میں

زید حبیب….قلم آزمائی
1857ءکی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد انگریز برصغیر کے حاکم اور مسلمان اس خطہ میں ایک ہزار سالہ حکمرانی کے بعد محکوم بن گئے۔چوں کہ انگریزوں نے اقتدار مسلمانوں سے چھینا تھا لہٰذا انہوں نے ایسی پالیسیاں بنائیں کہ مسلمان ہر شعبہ ہائے زندگی میں پیچھے کی طرف دھکیل دیے گئے۔ دور غلامی میں مسلمانوں کی حالت انتہائی پسماندہ ہو گئی تو کچھ مسلم رہنماﺅں نے مسلم نشاة ثانیہ کا بیڑا اٹھایا۔ ان میں پہلا نام سرسید احمد خان کا آتا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو جدید علوم کی طرف راغب کیا ۔1906ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا اور مسلمان رفتہ رفتہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے لگے۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اپنے کلام کے ذریعے خواب غفلت میں سوئے مسلمانوں کو بیدار کیا اور ان میں حریت کی شمع روشن کی ۔اس دور میں اللہ تعالیٰ نے قائداعظم محمد علی جناح کی صورت میں مسلمانوں کو ایک ایسا لیڈر عطا کر دیا جس کی قیادت میں تحریک پاکستان اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ تحریک پاکستان ایک عوامی تحریک تھی جس میں برصغیر بھر سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے بلا تفریق ذات ومسلک بھرپور شرکت کی ۔ اس تحریک میں برصغیر کے ان صوبوں سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں نے بھی نمایاں حصہ لیا جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہ تھی اور انہیں یقین تھا کہ پاکستان بن جانے کی صورت میں بھی وہ آزاد وطن کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ حصولِ پاکستان کا دشوار سفر طے کرنے میں بانی ¿ پاکستان قائداعظمؒ کا جن رہنماﺅں اور سیاسی کارکنوں نے انتہائی پامردی سے ساتھ دیا ان میں قائد ملت لیاقت علی خان کا نام سر فہرست ہے۔ آپ نے پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کے جنرل سیکرٹری اور بعد میں وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنے فرائض منصبی ہمیشہ قائدانہ فراست‘ انتظامی صلاحیت اور سیاسی بصیرت و معاملہ فہمی سے انجام دئیے۔ لیاقت علی خان کی گرانقدر خدمات کی وجہ سے 1943ءمیں آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری سالانہ اجلاس منعقدہ کراچی میں قائداعظمؒ نے آپ کے بارے میں کہا کہ” وہ نواب ضرور ہیں لیکن وہ اپنی ذہنی ساخت کے لحاظ سے عوامی شخص ہیں۔ کاش‘ ہمارے ملک کے تمام نواب اپنے اندر یہی ذہنیت پیدا کر سکیں۔“
تحریک پاکستان کے ممتاز رہنما‘ قائداعظمؒ کے دست راست‘ نوابزادہ لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895ءکو رکن الدولہ شمشیر جنگ نواب رستم علی خان کے ہاں کرنال (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ محترمہ محمودہ بیگم سہارنپور کے ایک قصبہ راجپور کی رہنے والی تھیں۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ 1910ءمیں علی گڑھ چلے گئے۔ یہاں سے بی اے کی سند حاصل کی۔ 1914ءمیں جب لیاقت علی زیر تعلیم تھے تو ان کی شادی ان کی چچا زاد بہن جہانگیرہ بیگم سے ہو گئی۔ کچھ عرصہ بعد انہوں نے دوسری شادی رعنا بیگم سے کی۔ علی گڑھ سے بی اے کرنے کے بعد لیاقت علی خان 1919ءمیں انگلستان چلے گئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایکسیٹر کالج سے 1921ءمیں قانون کی تعلیم مکمل کی۔ 1922ءمیں وہ انرٹمپل بار چلے گئے اور 1924ءمیں وطن واپس آئے۔ 1926ءمیں آپ یو پی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ لیاقت علی خان چودہ سال تک مسلسل اس کے رکن رہے۔ آپ اس دوران یوپی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر بھی رہے۔
لیاقت علی خان نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز زمانہ¿ طالب علمی سے ہی کر دیا تھا۔ انگلستان کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک مجلس ”ہندوستانی مجلس“ کے نام سے قائم کی۔اس مجلس میںہندوستان کی ترقی اور سیاسی امور پر گفتگو ہوتی۔ لیاقت علی خان اس کے خازن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ لیاقت علی خان نے 1923ءمیں
مسلم لیگ کی رکنیت حاصل کی اور 1924ءمیں انہوں نے مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ لاہور میںباقاعدہ طور پر شرکت کی۔ لیاقت علی خان ابتداءمیں جداگانہ انتخاب کے مخالف تھے۔ یو پی اسمبلی میں انہوں نے اس کی کئی بار مخالفت کی لیکن بعد میں ان کے خیالات میں تبدیلی پیدا ہوئی اور وہ مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کے سب سے بڑے داعی بن گئے۔ 1937ءمیں جب مسلم لیگ کی تنظیم نو کی گئی تو قائداعظمؒ نے لیاقت علی خان کو تین سال کے لیے اعزازی سیکرٹری مقرر کیا۔ اس کے بعد وہ مسلم لیگ کے اہم ترین عہدوں پر فائز رہے۔ 1940ءمیں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور مسلم لیگ کے ڈپٹی لیڈر بھی مقرر ہوئے۔
لیاقت علی خان کو قائداعظمؒ کے دست راست کی حیثیت حاصل تھی۔انہوں نے قائداعظمؒ کی سربراہی میں مسلم لیگ کو منزل مقصودپر پہنچانے کے لیے دن رات کام کیا اور ہر سیاسی میدان میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کی ایکشن کمیٹی کے بھی کنوینر مقرر ہوئے۔ لیاقت علی خان نے مطالبہ¿ پاکستان کو مسلمانوں میں مقبول بنانے کے لیے بے پناہ کام کیا۔1946ءکے عام انتخابات کے بعد قائم ہونیوالی عبوری حکومت میں وہ مسلم لیگ کی طرف سے وزیرخزانہ مقرر ہوئے۔ اس حیثیت سے انہوں نے بہترین عوامی بجٹ پیش کیا جس سے ہندو سرمایہ دار اور کانگریسی بوکھلا اٹھے تھے۔اسے غریبوں کا بجٹ بھی کہا جاتا ہے۔14اگست 1947ءکو پاکستان معرض وجود میں آگیا تو لیاقت علی خان پہلے وزیراعظم بنے ۔ پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے لیاقت علی خان نے جرا¿ت مندانہ اقدامات کیے۔ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے متمنی تھے۔ وہ ہمیشہ اس مسئلے کو گفت و شنید سے حل کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ جب 1951ءمیں بھارت نے اپنی نوے فیصد فوج پاکستان کی سرحد پر بھیج دی تو انہوں نے اسے اپنا ”تاریخی مکا“ دکھا کر خبردارکیا۔ اس سے جنگ کا خطرہ ٹل گیا۔ لیاقت علی خان نے آئین سازی میں بہت دلچسپی لی۔ ان کے دور کا ایک اہم کارنامہ قرارداد مقاصد کی منظوری ہے۔ ان کے عہد میں اسلامی عالمی اقتصادی کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی۔ لیاقت علی خان کو 16 اکتوبر 1951ءکو راولپنڈی کے ایک جلسہ¿ عام کے دوران سید اکبر نے گولی مار کر شہید کر دیا۔ ان کی زبان سے ”خدا پاکستان کی حفاظت کرے“ کے آخری الفاظ جاری ہوئے۔
(کالم نگارقومی وسیاسی امور پرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved