تازہ تر ین

آر ٹی ایس سسٹم بند کرانے والے بندے کا تعلق اپوزیشن سے ہے

ڈاکٹرشاہدمسعود
ضمنی الیکشن میں تشویشناک امر یہ سامنے آیا کہ ووٹ کاسٹ کرنے کی شرح انتہائی کم رہی، بلاول نے بیان دیا کہ جمہوریت کو خطرہ ہے۔ جمہوریت کو خطرہ ہے یا جمہوریت سے خطرہ ہے۔ عوام کا ووٹنگ میں کم دلچسپی لینا جمہوریت کیلئے خطرناک ہے۔ منشا بم تو صرف ایک پٹاخہ ہے ابھی تو بڑے برے نیوکلیئربم سامنے آئیں گے اور پکڑے جائیں گے، زمینوں پر قبضے تو خادم اعلیٰ کے دور میں ہوتے رہے۔ منشا بم جب اپنی داستان سنائے گا تو تمام سیاسی پارٹیوں کے نام آئیں گے۔ دنیا میں کہیں بھی سرکاری زمین پر قبضہ کا تصور نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان میں ہر شہر میں ایک منشا بم بیٹھا ہے۔ جعلی اکاﺅنٹس کیس میں اب مردوں کے اکاﺅنٹ بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ابھی تو جیل میں بیٹھے قیدیوں کے نام سامنے آئے ہیں جو بیٹھے تو سنٹرل جیل کراچی یا پنجاب کی جیل میں ہیں تاہم ان کے اکاﺅنٹس میں بھاری رقوم کی ٹرانزیکشن جاری ہے۔ اس وقت بھی کراچی سنٹرل جیل سے آن لائن منی لانڈرنگ جاری ہے۔ ملک میں مایوسی کی فضا ہے تو اپوزیشن کیوں فائدہ نہیں اٹھا رہی اور تحریک شروع نہیں کر رہی۔ خبریں ہیں کہ شاہد خاقان کو ن لیگ کا قائم مقام صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بنایا جائے گا۔ یعنی شہباز شریف مکمل فارغ ہو جائیں گے۔ شہباز شریف کی اہلیہ تہمینہ درانی نے تو ملاقات کے بعد بڑی دردناک کہانی سنا دی ہے۔ شہباز شریف سے نواز، مریم، اہلیہ نصرت شہباز، حمزہ، سلمان نے بھی تو ملاقات کی لیکن کسی نے ایسی دردناک کہانی کیوں نہیں سنائی۔ ان سب کو وہ مظالم کیوں نظر نہ آئے جو تہمینہ کی آنکھوں نے دیکھ لئے۔ تہمینہ درانی بری بااثر خاتون ہیں۔ شاہد خاقان نوازشریف کے بیانیہ پر چل رہے ہیں تاہم یاد رکھیں اور خاموش رہیں کوئی الٹی سیدھی بات منہ سے نہ نکالیں کہ ایل این جی سکینڈل رکا ہوا ہے۔ نوازشریف مریم نواز کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ نوازشریف کا وہی حال ہے جو الطاف حسین کا ہوا آج الطاف کچھ بھی کہے کتنی بھی کالیں کر لے ایک منٹ کیلئے کراچی کو بند نہیں کرا سکتا۔ نوازشریف کی بھی ایسی ہی صورتحال ہے چودھری نثار پاکستان واپس آ گئے نوازشریف سے کلثوم نواز کی تعزیت کرنے تو جائیں گے۔ شاہد خاقان کا نام وزیراعظم کیلئے چودھری نثار نے ہی دیا تھا۔ ملک کی سیاست میں عمران خان آخری آپشن ہیں۔ دھاندلی پر کمیشن بنا دیا گیا جو بذات خود ایک حیرت انگیز بات ہے کہ الیکشن میں جیت کر اسمبلی پہنچنے والے اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ ہارنے والے کیوں ہارے اگر الیکشن میں دھاندلی ہوئی تو وہ کمیشن ارکان جو اسمبلی میں بیٹھے ہیں بھی تو دھاندلی سے جیت کرپہنچے ہیں۔ یہ کیا مذاق ہو رہا ہے۔ خود کو وفاقی جماعتیں قرار دینے والی ن لیگ اوار پی پی تیزی کے ساتھ سکڑ رہی ہیں آج صورتحال یہ ہے کہ ن لیگ لاہور کے ایک حلقے کو اپنا قلعہ اور پی پی لاڑکانہ کو اپنا قلعہ قرار دے رہی ہے کل کو کسی محلے کو اپنا قلعہ قرار دیں گے۔ آر ٹی ایس سسٹم میں خرابی کے حوالے سے دو دن پہلے ایک خبر میڈیا پر چلی جس میں ایک شخص کی آواز سنائی گئی جو آر ٹی ایس سسٹم بند کرنے کا حکم دے رہا تھا۔ وہ آواز اپوزیشن کے بندے کی ہے۔ حکومت اس بارے تحقیقات کرا لے، آڈیو کا فرانزک کرائے۔ نام سامنے آ جائے گا۔ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنایا جانے والا 30 رکنی کمیشن سب سے پہلے یہی کام کیوں نہیں کرتا۔ میڈیا پر آ کر بڑی بڑی باتیں کرنے والے زیادہ تر خود چور ہیں۔ 18 ویں ترمیم کا پنگا چلے گا تو دیکھیں گے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ اسمبلی کیا کرتی ہے۔ آصف زرداری کتنے ہی مردم شناس سہی وقت آنے والا ہے جن ان کے اردگرد کے لوگ بھی انور مجید کی طرح طوطے بنیں گے اور ٹرٹر کرتے سب کچھ بتا دیں گے، ڈر ہے کہ مراد علی شاہ اور سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان نہ کر دے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved