تازہ تر ین

ن لیگ لاہور تک محدود ، مجموعی طور پر پی ٹی آئی کا پلہ بھاری رہا : ضیا شاہد ، تحریک انصاف کو جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے وعدہ پربھاری اکثریت ملی : اسحاق خاکوانی ، چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پرمشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی چھوڑی ہوئی سیٹوں پر اصولی طور پراسی کو کامیاب ہونا چاہئے تھا لیکن 4 سیٹوں پر مسلم لیگ ن کامیاب ہوئی، دو سیٹیں لاہور سے خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی کی اور رائیونڈ کی۔ رائیونڈ کو بھی لاہور میں ہی شمار کیا جاتا ہے، ویسے بھی جاتی عمرہ کے حوالے سے یہ لاہور ہی کا حصہ ہے۔ البتہ چوتھی سیٹ پنجاب میں ڈیرہ غازی خان سے مسلم لیگ ن کے اویس لغاری نے حاصل کی ہے۔جوپہلی دفعہ ہار گئے تھے اور دوسری دفعہ جیتے ہیں، سابق صدر فاروق خان لغاری کے بیٹے ہیں اور آجکل مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں۔ بنیادی طور پر شور تو بہت مچایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن جیت گئی۔ مگر دیکھا جائے تو 4 سیٹوں پر تحریک انصاف جیتی ہے اور 2 سیٹیں مسلم لیگ ق جیتی ہے جو آجکل تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔ گویا 6 سیٹیں تحریک انصاف اور 4 سیٹیں مسلم لیگ ن نے جیتی ہیں۔ مسلم لیگ ن پورے پنجاب سے سکڑ کر لاہور تک محدود ہو گئی ہے۔ پورے پنجاب میں بے تحاشا سیٹیں تھیں مگر 35سیٹوں پر مسلم لیگ ن کا امیدوار خال خال ہی جیتا ہے وگرنہ انکی جگہ تحریک انصاف یا دوسری جماعتیں جیتی ہیں۔ مسلم لیگ ن کا لاہور تک محدود ہونا، لاہور پہلے بھی ان کا شہر تھا، بعض حلقوں میں انہوں نے اس قدر فیوض و برکات پھیلائی ہوئی تھیں کہ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ لاہور کے اکثر حلقے ایسے ہیں جہاں ایک اے ایس آئی اورایک نائب تحصیل دار ہر گھر سے نواز شریف نے اپنے 35 برس کے دور اقتدار میں بنایا۔ جس میں 8 برس وہ اپوزیشن میں بھی رہے اور اکثر و بیشتر ان کی حکومت رہی۔ پنجاب میں گزشتہ 10 سال سے شہباز شریف کی حکومت رہی ہے۔ لہٰذا میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ ن کی ایک لحاظ سے فتح ہے کہ ان کی 4 سیٹیں جیتیں لیکن دوسرے لحاظ سے یہ ان کی ہار ہے کہ پنجاب سے سکڑ کر ایک شہر تک محدود ہوگئے۔
تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی خالی کی گئی سیٹوں پر امیدواروں کی سلیکشن پر بہت اعتراضات کیے گئے ہیں۔ پہلا اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کی خالی کی گئی سیٹ پر اگر مثال کے طور پر ولید اقبال کو، جو نوجوان ہیں اور بھاگ دوڑ کی ہوئی تھی، بیگم ناصرہ جاوید کے صاحبزادے،جاوید اقبال کے بیٹے اور علامہ اقبال کے پوتے تھے انکو سیٹ دے دی جاتی۔
اس موقع پر پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال نے ٹیلی فونک شرکت کی ۔ انکا کہنا تھا کہ تبصرہ کرنے والوں کی قیاس آرائیاں ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے امیدوار کوئی اور ہوتا تو نتیجہ کچھ اور ہوتا۔ میں معاملات پر اپنے اختیارات کی حد تک ہی جواب دے سکتا ہوں۔ میرے اختیار میں تھا کہ اپنی پوری کوشش سے سیٹ کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کر لیتا، مگر میری کوشش کامیاب نہیں ہو سکی۔ میں سیٹ پر امیدوار لانے کے حوالے سے فیصلہ کرنے والوں میں نہیں تھا۔ اس کا جواب پارلیمانی بورڈیا وزیراعظم ہی دے سکتے ہیں کہ امیدوار کے حوالے سے انکی کیا ترجیحات تھیں۔ پچھلے سات سال سے سیاست میں یہ سمجھا ہوں کہ بہتر امیدوار اسکو سمجھا جاتا ہے جو سیٹ جیتنے کا امکان رکھتا ہے اور میرے خیال میں ایسا ہی سمجھا گیا تھا۔ وقت کو واپس نہیں موڑا جا سکتا کہ اس امیدوار کو ہٹا کر خود اسکی جگہ آﺅں ۔ میں نے اس حلقے میں بہت کام کیا تھا اور لوگ مجھے جاننے لگے تھے۔ مجھے اندازہ تھا کہ سعد رفیق کس طرح سے کام کر رہے ہیںاور جنرل الیکشن میں انہوں نے کیسے کام کیا تھا۔ اس حلقے میں 26 جولائی کودوپہر دو بجے کے بعد رزلٹ آیا تھا اور 27 جولائی سے سعد رفیق نے وہاں مہم جوئی شروع کر دی تھی۔ ہم نے ڈیڑھ مہینے بعد امیدوار کا فیصلہ کیا ، جب تک سعد رفیق بہت ایڈوانس ہو چکے تھے اور گھر گھر جا کر مہم چلائی۔ میں نے پوری کوشش کی ، میری ٹیم نے پوری حمایت کی ۔ پارٹی کا فیصلہ تھا جسے ہم نے کہا سر آنکھوں پر۔ این اے 131 کا ووٹر ہر چیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے ۔ جب تک ووٹرز سے عوامی سروے نہ کروا لیا جائے کہ انہوں نے کس پارٹی کے امیدوار کو کیوں ووٹ دیا اور کیوں نہیں دیا، سوچ واضح نہیں ہو سکتی۔
ضیا شاہد نے پروگرام میں مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شاہد خاقان عباسی مسلم لیگ ن کے وزیراعظم تھے ، اس لیول کے قد کاٹھ اور سیاسی مقام رکھنے والے شخص کے مقابلے میں کشمیری دیوان صاحب کو ٹکٹ دیا گیا جو کونسلر سطح کے آدمی ہیں۔ جیتنے اور ہارنے کا اندازہ تو رات کو ہوا مگر تجزیہ کار دو ،چار دن پہلے سے شاہد خاقان عباسی کے جیتنے کی بات کر رہے تھے ، یہ سیٹ مسلم لیگ ن کی آبائی سیٹ سمجھی جاتی ہے۔
دونوں امیدواروں کے مقابلے میں تحریک انصاف کی جانب سے کمزور امیدوار کھڑے کیے گئے تھے۔ ہمایوں اختر خان ایک زمانے میں بہت قد آور شخصیت رہے ہیں۔ ان کے بھائی ہارون اخترمسلم لیگ ن کے وزیر مملکت برائے خزانہ بھی رہے ہیںاور اسحاق ڈار کے ساتھ تھے۔ ان کے تیسرے بھائی غازی اختر پیپسی کولا چلاتے ہیں۔ بنیادی طورپر سب کو معلوم تھا کہ ان کے بھائی مسلم لیگ ن کی حکومت میں وزیر مملکت رہے اور اچانک وہ تحریک انصاف میں نظر آئے ۔ ماضی میں انکی بہت جدوجہد رہی ہے وفاقی وزیر بھی رہے مگر ایک مدت سے وہ سیاست سے کنارہ کش ہوچکے تھے اور انکے رابطے بالکل نہیں تھے۔ انہوں نے ٹکٹ لیا اور سمجھا کہ تحریک انصاف کی وجہ سے وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ حالانکہ ان کے مدمقابل امیدوار خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی نے اپنے والد کی طرح سے گلی محلے سے سیاست شروع کی اور سیاسی جماعتوں کے عہدیداروں سے بہت تکیہ کیا۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے ورکرز سے بہت کام لیا اور ایکٹو رہے۔ وہ خود ایک ٹی وی نیوز کاسٹر سے دوسری شادی کر چکے ہیں لیکن ان کی بیگم غزالہ بہت اچھی خاتون ہیںانہوں نے بھی بڑی بھاگ دوڑ کی اور اپنے شوہر کی کمپین خواتین میں موثر طریقے سے چلائی۔ دوسری جانب ہمایوں اختر کے حوالے سے خواتین میں مہم چلانے کا نہیں سنا۔ میرے اپنے دفتر کے بہت سارے لوگوں نے کل مجھے بتایا کہ ان کے اپنے حلقے میں تحریک انصاف کے ڈائی ہارٹ قسم کے لوگوں نے بھی ہمایوں اختر کو ووٹ دینا پسند نہیں کیا۔ لوگ گھروں سے ہی نہیں نکلے۔ پارٹی کو ووٹ دیا جاتا تھا لیکن اس پارٹی میں ہمایوں اختر کبھی ایکٹو ہی نہیں رہے۔ سعد رفیق کو کوئی پسند کرے یا نہ کرے مگر سب جانتے ہیں کہ وہ مسلم لیگ ن سے ہیں۔ مگر ہمایوں اختر کبھی سیاسی پلیٹ فارم پر نظر آئے یا انہوں نے لاہور کے کسی جلسے میں تقریرکی ، وہ تحریک انصاف کی کسی جدوجہد میں حصہ لیتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ میںہمایوںاختر سے کچھ پوچھنا چاہتا تھا اور دو پیغامات چھوڑے کہ مجھ سے بات کر لیں ۔ انکا فون بھی نہیں آیا۔ ہم ایک شام کا اخبار چلاتے ہیں جو لاہور کا سب سے بڑا شام کا اخبار شمار ہوتا ہے دوسرا صف اول کا اخبار خبریں اور چینل ۵ کے نام سے ٹی وی چینل چلاتے ہیں۔ اور انہوں نے مجھے کال نہیں کی ۔ حالانکہ میں نے ان سے اسی الیکشن کے بارے میں دو تین سیاسی سوال کرنے تھے ورنہ مجھے ان سے کیا کام تھا۔ مجھے انکی صورت دیکھے ہوئے کئی سال ہو گئے۔
ضمنی انتخابات میںن لیگ کو ہمدردی کے ووٹ ملے ایسانہیں سمجھتا۔ ن لیگ کا اتنا بڑاکوئی نقصان نہیں ہوا۔ میں سمجھتا ہوں کہ کمزور امیدوار ہونے کیوجہ سے ن لیگ کے امیدوار کو مضبوط سمجھا گیا۔ سعد رفیق پچھلے 5 سال سے بہت ایکٹو ہیں۔یہ درست ہے کہ مہنگائی اور دیگر مسائل ہوئے ہیں مگر کسی ملک کے لوگ اتنے بچے نہیں ہوتے کہ ایک ماہ میں کسی سے اتنے ناراض ہو جائیں کہ ڈیڑھ مہینے میں اسے چھوڑ دیں۔ حکومتیں 5 سال کے لیے ہوتی ہیں۔ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ دوسرے تیسرے سال تک ہر پارٹی کی حکومت کا انتظار کیا جاتا ہے کہ یہ کیا ڈلیور کرتی ہے۔ دو یا تین سال بعد بھی اگر حالات نہ سنبھلے تو عوام ضرور اپنا فیصلہ انکے خلاف دیں گے۔ ضمنی الیکشن میں امیدوار کا قد کاٹھ دیکھا جاتا ہے۔ کسی نے کبھی دیوان صاحب کا نام سنا تھا کہ یہ کون ہے اور سابق وزیراعظم کے مقابلے میں کھڑا ہے۔ پروگرام میں تحریک انصاف کے رہنما اسحق خاکوانی نے ٹیلی فونک شرکت کی۔ ضیا شاہد نے ان سے پوچھاکہ کیا تحریک انصاف نے سیاسی خودکشی کا فیصلہ کیا ہوا ہے؟جس پر انکا کہنا تھا کہ ڈیفنس کے حلقے میں آپکے تجزیے کی توثیق کرتا ہوں۔ اگر ہم ہار بھی جاتے تو ولید اقبال تحریک انصاف کا صحیح چہرہ اور پرانے ساتھی تھے۔
ضیا شاہد نے پوچھا کہ شاہد خاقان عباسی کے مقابل کونسلر لیول کے آدمی کو امیدوار کھڑا کرتے ہوئے کیا سوچا۔ اسحق خاکوانی نے کہا کہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کی سیٹ تھی اس پر الیکشن لڑنا خانہ پوری تھا،یہ ن لیگ کا گڑھ تھا۔ضیا شاہد نے کہا کہ وزیراعظم کے مقابلے میں وزیراعظم اور وفاقی وزیر کے مقابلے میں وفاقی وزیر لانا پڑتا ہے ، سب سے زیادہ نقصان تحریک انصاف کو مخالفین کے پراپوگنڈا سے پہنچ رہا ہے۔ حالانکہ تحریک انصاف نے سادگی مہم، پروٹوکول کا خاتمہ ، گورنر ہاوسز اور وزیراعظم ہاﺅس چھوڑنے جیسے اچھے کام کیے ہیں۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ مہنگائی آئی ہے اور اسکی وجہ پچھلی حکومت کے لیے ہوئے قرضے تھے۔ مگر اخبارات بھرے ہوئے ہیں اور نواز شریف نے خود کہا ہے کہ لوگوں نے ایک مہینے میں دیکھ لیا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کیا کارکردگی ہے۔ حکومت عجیب و غریب فیصلے کر رہی ہے۔ پنجاب میں کوئی نمبر ون سرے سے ہے ہی نہیں۔ اگر چوہدری سرور بن سکتا تھا تو اسے گورنر ہاﺅس میں بٹھا کر ہیڈ کلرک بنا دیا گیا ۔ چوہدری پرویز الہیٰ کو وزارت کا تجربہ تھا ، انہیں وزیراعلیٰ بنانا تھا مگر نہیں بنایاگیا۔ علیم خان کو مقدمے کیوجہ سے نہیں بنایا اور جسے بنایا وہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومت جیتی ہوئی بازی کیوں ختم کرنا چاہ رہی ہے۔
اسحق خاکوانی نے کہا کہ عمران خان نے ڈیفنس کی سیٹ 6,700 ووٹوں سے جیتی تھی۔ انکی جگہ لایا جانیوالا امیدوار کمزور تھا۔ چوہدری سرور نے خود سینٹ کا الیکشن لڑااور سینیٹر بن گئے اور اپر ہاﺅس بھی اپنی مرضی سے چھوڑا۔ جب کوئی خود الیکشن نہیں لڑنا چاہتا تو انہیں کیو ں مجبور کیا جائے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے خبریں ملتان ہیڈ آفس سے مجھے لسٹ دی گئی کہ تین افراد کی غلط سلیکشن کیوجہ سے تحریک انصاف نے 17 سیٹیں ہاری ہیں۔ اللہ سے ڈریں اور بہتر فیصلے کریں ۔ آپس کی لڑائیوں اور گروپنگ کو ختم کریں۔ تحریک انصاف کو بہت لوگوں نے شاندار قسم کی کامیابی دی ہے، اس کامیابی اور اسمبلی میں تعداد کو بڑھنا چاہئے مگر تعداد کم ہو رہی ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ 2013ءمیں تحریک انصاف نے پورے جنوبی پنجاب میں ملتان سے قومی اسمبلی کی دو سیٹیں جیتی تھیں۔2018 ءمیں قومی اسمبلی کی 24 اور 44 صوبائی اسمبلی کی سیٹیں ملیں۔
ضیا شاہد نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے محاذ پر تحریک انصاف نے اتحاد کر کے کامیابی حاصل کی ۔ مجھے جنوبی پنجاب کے بارے میں معلومات نہیں ہیں مگر میں پورے گھنٹے پر جنوبی پروگرام کرنے کو تیار ہوںجہاں تحریک انصاف کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا کھل کر ذکر کیا جائے۔ آپ میرے پسندیدہ سیاستدانوں میں سے ہیں۔ لوگوں کو ہر فورم پر بتایا جائے کہ جنوبی پنجاب میں حکومت نے کتنا ڈیل کیا ہے۔شاہد خاقان کے مقابلے میں کشمیری دیوان کو کھڑا کرنے والے کے حوالے سے تحقیقات کریں۔
اسحق خاکوانی نے کہا کہ جنوبی پنجاب کیوجہ سے یہ حکومت تحریک انصاف کو ملی ہے۔جنوبی پنجاب میں عمران خان کی مقبولیت میں اضافے میں کئی عوامل شامل تھے۔
ضیا شاہد نے کہا کہ فاروق خان لغاری مسلم لیگ ن کی سیاست اور مالی بدعنوانیوں سے شدید نفرت کرتے تھے۔ان کے بیٹے نے جب وہاں شہباز شریف کو کھڑا کیا تو میں نے اپنے پروگرامز میں کہا کہ انہیں خدا کا خوف نہیں آتا کہ ان کے والد کی قبر میں روح تڑپ رہی ہوگی کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ اویس لغاری دوسری دفعہ ہاری ہوئی سیٹ کیسے جیت گئے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ مقصود خان کی صحت اس قابل نہیں تھی کہ جو الیکشن لڑتے مگر عوام نے دونوں خاندانوں کو خوش کرنے کے لیے الیکشن جتوا دیا۔ مگر غیرت مند بچے اپنے والدین کی اس طرح سے توقیر نہیں کرتے جیسے اویس لغاری نے کیا۔
جنوبی پنجاب کے حوالے سے اقدامات پر ضیا شاہد نے کہا کہ حکومت نے بہت اچھا اقدام کیا ہے عمران خان نے خود اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ 100 دن کے اندر صوبہ بنانے کے حوالے سے ٹھوس کاروائی کریں گے۔ انہیں یہ کاروائی کرنی چاہئے کیونکہ انہوں نے جنوبی پنجاب سے وعدہ کیا ہوا ہے۔ اس حوالے سے بننے والی کمیٹی کو دن رات کام کرتے ہوئے صوبہ بنانے کا وعدہ پورا کرنا چاہئے۔ البتہ یہ دیکھنا ہوگا کہ جنوبی پنجاب کے ایم این اے ، ایم این اے نکال دئیے جائیں تو ایم پی ایز کی تعداد کتنی رہ جائیگی۔ کیونکہ جنوبی پنجاب نے پنجاب اسمبلی میں بھی حکومت کو سہارا دیا ہوا ہے۔


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved