تازہ تر ین

پرویز مشرف کی واپسی کےلئے حالات سازگار

کنور محمد دلشاد….خصوصی مضمون
سابق صدر پرویز مشرف مشکلات کے گرداب میں ہیں ،وہ پچھلے چار سال سے جلا وطنی کی زندگی گزار رہے ہیں اور متعدد الزامات کے حوالے سے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں ۔ 2014کے مقابلے میں ان کی صحت تیزی سے گر رہی ہے ،ان کو با عزت طریقہ سے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ پرویز مشرف کو مئی 2013کے انتخابات کے عمل سے باہر رکھنے میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا عمل دخل تھا اور ان کے کاغذات نامزدگی کے فارم بعض حلقوں میں منظور کئے گئے تھے لیکن چترال کے حلقے سے جہاں ان کی کامیابی کے امکانات تھے ان کو پشاور ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس نے تاحیات نا اہل قرار دے کر قومی اسمبلی کے دروازے ان پر بند کر دئے اور کمزور نگران حکومت نے خاموشی اختیار کئے رکھی ۔ جنرل پرویز مشرف کے فعال اور با اثر دوستوں نے اپنے مفادات کے تحت پاکستان مسلم لیگ (ن )میں شمولیت اختیار کر لی اور احساس کمتری میں انہوں نے نواز شریف کو بھی قائل نہیں کیا کہ پرویز مشرف کے خلاف کاروائی سے انہیں کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں ہو سکے گا۔ پرویز مشرف جولائی 2018 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لئے بے چین تھے اور پاکستان آنے کے لئے متواتر اپنے حامیوں سے بیانات بھی دلواتے رہے لیکن ہماری اطلاعات کے مطابق ان کو طاقتور حلقوں کی طرف سے پیغامات بھجوا دئیے گئے تھے کہ اب نواز شریف کی تا حیات نا اہلی کے بعد ان کا پاکستان آنا ان کے لئے سود مند نہیں ہوگا، کیونکہ عدالتیں ان کے خلاف ایکشن لینے کے لئے آئین کا سہارا لیں گی۔ عمران خان کی حکومت بر سر اقتدار ہے لیکن ان کے اپنے سیاسی مسائل ہیں اور اس موقع پر ان کے لئے نرم گوشہ رکھنا ان کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا احتمال ہے لہٰذا انہوں نے غیر جانبداری کی راہ اپنائی اور میرے خیال میںموجودہ عسکری قیادت نے بھی پرویز مشرف سے دور رہنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے کیونکہ انکی طرف سے ہلکا سا بھی ہمدردی کا اشارہ ملنے سے نواز شریف کو ان کے خلاف شدید تنقید کا راستہ مل جائے گا اور میڈیابھی نیا پنڈورا باکس کھول کر رائے عامہ کو متاثر کرنے کی پوزیشن میں ہوگا ۔ سابق صدر پرویز مشرف کو شاہ عبداللہ کی رحلت سے بھی نا قابل تلافی نقصان پہنچا،شاہ عبداللہ نے غالباً 2010میں نواز شریف کو جدہ بلا کر سر زنش کی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کریں ۔ شاہ عبداللہ نے نواز شریف کے بارے میں جو خط پرویز مشرف کو لکھا تھا جس کا انگلش میں ترجمہ کیا ہوا خط ان کے ذاتی دوستوں کے پاس موجود ہے ، جس میں شاہ عبداللہ نے نواز شریف کے بارے میں لکھا کہ وہ ان کے خاندانی پس منظر کو سمجھنے میں ناکام رہے حالانکہ صدیوں سے عرب میں شجرہ نسب کی بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی سے منزل طے کی جاتی ہے ۔ شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد نئی شاہی قیادت نے شاہ عبداللہ اور ان کے تمام اہم ساتھیوںکو کنارہ کش کر دیا بلکہ ان کو کرپشن کی زد میں لائے اور گرفتار بھی کئے گئے۔ لہذاٰ پرویز مشرف کو اب سعودی عرب سے کسی بھی قسم کی سیاسی کمک حاصل نہیں ہے اور متحدہ عرب امارات کی حکومت بھی ان سے گرم جوشی سے اس لئے پیش نہیں آ رہی کہ ان کی سیاسی جماعت پاکستان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے ۔
پرویز مشرف جلا وطنی کے بعد اپنی جماعت کو سر گرم اور فعال کر سکتے تھے اگر ان کو پاکستان سے نمایاں شخصیات کا تعاون حاصل ہوتا ،ڈاکٹر امجد پرویز مشرف کے خصوصی دوست ہیں اور انہوں نے پرویز مشرف کا بھرم رکھا ہوا ہے۔ پرویز مشرف در اصل بنگلہ دیش کے سابق صدر جنرل ارشاد کی پیروی کرنا چاہتے تھے جیسا کہ جنرل ارشاد بنگلہ دیش کی قید میں سات سال سے سزا بھگت رہے تھے تو ان کی جماعت بنگلہ دیشن میں 170سے زائد نشستیں حاصل کر کے اقتدار میں شریک ہوئی ۔ جنرل مشرف اپنی پارٹی کو مضبوط تو کرنا چاہتے تھے لیکن ان میں مردم شناسی کا فقدان رہا اور سیاسی خانہ بدوش ان سے کروڑوں روپے لے کر فراڈ کرتے رہے ،جب اکتوبر 2010میں جنرل مشرف اپنی سیاسی جماعت بنانے کے خواہاںتھے تو انہوں نے پاکستان کی قد آور سیاسی شخصیتوں کو دوبئی مدعو کیا تھا ۔یاد پڑتا ہے کہ پاکستان کی اہم سیاسی شخصیات نے ان کو تعاون کی یقین دہانی کروائی تھی ، اور جب انہوں نے آل پاکستان مسلم لیگ کی بنیا درکھی تو ان کی جماعت میںکئی ایک ایسی شخصیات موجود تھیں جو با آسانی قومی اسمبلی کے ارکان منتخب ہو جاتےں ،میڈیا نے ان کا بھرپور ساتھ دیا اور ملک کی رائے عامہ میں ان کی جماعت کو نمایاں پوزیشن دی گئی ، لیکن بعد کے حالات میں ان کے دوستوں نے اپنی جدا گانہ راہ اختیار کر لی اور ان کے اہم دوست اس وقت عمران خان کے دست راست بنے ہوئے ہیں ۔
جنرل پرویز مشرف سے ان دنوں میری بھی دوبئی میں ملاقات ہوئی تھی ،میں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ انہوں نے دس سال تک ملک پر حکومت کی ہے لہٰذا انہیں فیلڈ مارشل ایوب خان کی راہ اپنانی چاہئے جنہوںصدارت سے مستعفی ہونے کے بعد خاموشی سے بڑے اطمینان کی زندگی گزاری۔انہیں ایک بار 1971میں علاج کے لئے امریکہ جانا پڑا ۔میں نے ان کو بتایا کہ صدر ایوب خان نے مجھے 1973میں بتایا تھا کہ جب ذو الفقار علی بھٹوکی پالیسیوں کی وجہ سے انتشار کی فضا ءپید اہو رہی تھی تو بقول سابق صدر ایوب خان کے ان سے مجید نظامی ،آغا شورش کاشمیری، پیر پگاڑا اور ملک قاسم نے ملاقات کر کے ان کو سیاست میں آنے کا پر زور مشورہ دیا بلکہ استدعاکی ۔ صدر ایوب خان نے کہا کہ چونکہ وہ گیارہ سال حکومت کر چکے ہیں اور اب ان کا سیاست میں آنے کا ارادہ نہیں ہے چنانچہ صدر ایوب خان نے معذرت کی اور ازراہ مذاق ان سے کہا کہ وہ چند دوستوں کی ایما ءپر سیاست میں آنے کا اعلان نہیں کریں گے اگر چند ہزار افراد ان کے گھر کے سامنے آ کر مطالبہ کریں تو غو رو غوض کیا جا سکتا ہے ،تب پیر پگاڑا نے کہا کہ وہ لاہور سے پیدل چل کر اسلام آباد آئیں گے اور لاکھوں افراد ان کے گھر کے سامنے کھڑے کر دیں گے ۔ پورے سندھ سے قافلے اسلام آباد پہنچیں گے تو صدر ایوب خان نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے معذرت کی ۔ میں نے پرویز مشرف کو یہی مشورہ دیا کہ سیاست میں وہ کوئی خاص مقام حاصل نہیں کر پائیں گے اور جن کو وہ پارٹی میں شامل کر رہے ہیں وہ ان کے لئے کوفی دوست ثابت ہونگے ۔ میری پیشن گوئی درست ثابت ہوئی ان کے مفاد پرست دوستوں نے ان سے کروڑوں روپے اکٹھے کئے اور پارٹی سمٹ کر ڈاکٹر امجد تک محدود ہو گئی ۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے انتہائی نرم عدالتی رویہ اختیار کرتے ہوئے ان کی واپسی سے متعلق نیا حکم نامہ جاری کیا ہے ، اور انہیں نہ صرف مکمل سیکورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے بلکہ ہر ممکن طبی سہولیات بھی فراہم کرنے کا کہا گیا ہے ،غالباً وہ اب بھی وطن واپسی اور اپنے حتمی فیصلے سے قبل اپنے دوست اور ساتھیوں کی جانب سے مثبت اشاروں کا انتظار کر رہے ہیں ۔ سابق صدر پرویز مشرف اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انہیں چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اس بات کی یقین دہانی کروائی کہ انہیں ملک واپسی پر گرفتار نہیں کیا جائے گا‘ مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی اور انہیں جیل کی بجائے ان کے گھر میں رکھا جائے گا،عدالت زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو اس کیس سے زیادہ دلچسپی نہیں ہے اور نواز شریف بھی اپنے مقدمات میں گھرے ہوئے ہیں انہیں بھی پرویز مشرف سے کوئی سرو کار نہیں رہا اور ماضی کے بر عکس موجودہ عسکری قیادت نے بھی پرویز مشرف کے معاملات سے خود کو کافی حد تک دور کر لیا ہے ۔ جنرل پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت مقدمہ دائر کرنا نواز شریف کی ذاتی انا تھی اس کے پس منظر میں ان پر آئین کے آ رٹیکل 6کے تحت مقدمہ دائر کرنے پر کوئی جاندار دلائل نہیں ہیں ۔ ان کو پاکستان واپس آ کر اپنے مقدمات کی جرات مندانہ پیروی کرنا ہوگی ۔ موجودہ حکومت کی مکمل غیر جانبداری سے انکو مکمل استفادہ حاصل کرنا چاہئے کیونکہ ان کے لئے حالات سازگار ہیں ،مارچ کے بعد شاید حالات نیا رخ اختیار کر لیں جب چیف جسٹس ثاقب نثار ریٹائرڈ ہو جائیں گے ۔
وفاقی حکومت غیر جانبدارانہ طریقے سے آئین کے آرٹیکل 6کے حوالے سے ان کے خلاف مقدمہ چلانے میں اس لئے بھی سنجیدہ نہیں ہوگی کہ زیر سماعت بہت اہمیت کے حامل فیصلوں کا پنڈورہ باکس کھل جائے گا کیونکہ 3نومبر 2007کی نام نہاد ایمرجنسی پلس وزیر اعظم شوکت عزیز کی مشاورت سے نافذ کی گئی اور کور کمانڈر کانفرنس کی بھی منظوری حاصل کی گئی تھی اور بعد ازاں اس وقت کی قومی اسمبلی نے ایمرجنسی پلس کی تو ثیق کر دی تھی اور اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان عبد الحمید ڈوگر کی عدالت نے بھی ایمرجنسی کے نفاذ پر اپنی مہر ثبت کر دی تھی لہٰذا اعلیٰ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران تمام حقائق سامنے آئیں گے اور پاکستان کی سیاست کے مرد آہن چوہدری شجاعت حسین بڑی جرا¿ت اور استقلال سے اس اہم ایشوپر ان کی پشت پر کھڑے ہیںلہٰذا پرویز مشرف کھلے دل کے ساتھ پاکستان آئیں اور تمام تر حقائق قوم کے سامنے رکھیں کہ آخر کیا حالات پیدا ہو گئے تھے جب انہیں 3نومبر 2007کو ایمر جنسی لگانی پڑی اور اسی ایمرجنسی میں انہوں نے 27نومبر 2007کو چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے سے کنارہ کشی کرتے ہوئے جنرل پرویز کیانی کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کر دیا تھا اور اسی دوران ایمرجنسی میں جبکہ آئین کی بعض شقیں معطل تھیں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 22نومبر 2007کو الیکشن شیڈول جاری کیا تھا ،گویا ایمرجنسی کے سائے تلے الیکشن کا شیڈول جاری کیا گیا ، جسے بعد میں اٹھارہویں ترمیم میں اس کو قانونی جواز میں آئینی قرار دے دیا تھا اب جنرل پرویز مشرف اپنے فعال وکلا ءکے ساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوں اور اپنا مقدمہ قوم کے سامنے پیش کریں۔
(الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکرٹری ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved