تازہ تر ین

ضمنی انتخابات اور سیاسی نیرو

مریم ارشد……..میری آواز
ضمنی انتخابات سے کون واقف نہیں ! ےہ وہ انتخابات ہیں جو مختلف ملکوں میں مختلف ناموں سے جانے جاتے ہیں ۔ امریکہ میں سپیشل انتخابات ، انڈیا میں بائے پولز، آئر لینڈ میں بائے انتخابات وغیرہ کے نام سے مشہور ہیں۔ عام طور پر جب کوئی منتخب نمائندہ فوت ہوجائے ےا استعفیٰ دے دے تو دوبارہ انتخاب کیا جاتا ہے ۔ اس کی جڑیں سولہویں صدی کے ہاﺅس آف کامنز آف انگلینڈسے جاملتی ہیں۔ٹامس کارم ویل نے برطانوی پارلیمنٹ میں ےہ تدبیر پیش کی کہ بادشاہ کو چُننے کے لیے نئے انتخابات کروائے جائیں۔ اس سے پہلے کسی بھی نمائندے کی موت کے بعد بھی جگہ خالی رہتی تھی۔برطانیہ، سکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کے بادشاہ چارلز IIکی کابینہ کے دوران ضمنی انتخابات کی ابتداہوئی۔2018ءکے ضمنی انتخابات میں خواجہ سعد رفیق نے جیت کے بعد کہا: میں ےہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جمہوریت کا روشن سورج ضرور طلوع ہوگا۔ انتخابات میں مدد کرنے پر ایم ایم اے اور پی پی پی کے شکر گزار ہیں۔ آئین اور جمہور کے مطابق چلنے والا پاکستان ہمار ا خواب ہے۔ صاحب ! ےہ بتائیے کہ سٹیٹس کوٹوٹا تو آپ کو لگا آمریت آگئی صرف آپ کی حکومت ہو تو جمہوریت ورنہ آمریت!فرمایا عمران خان کیسے ہمہ وقت آستینیں چڑھاکر اپوزیشن کو للکارتے رہتے ہیں۔ جیسے تیسے وہ وزیراعظم کے سنگھاسن پر بیٹھ تو گئے لیکن انہوں نے پہلے دن سے ہی احتساب کے نام پہ سیاسی انتقام کی کارروائی شروع کردی۔ ایسے کاموں سے ملک ، جمہوریت اور عمران خان کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔E.C.Lپہ لوگوں کے نام ڈالنا دھمکیاں دینا کربناک ہے۔ےہ ہے تو کربناک کہ ملک اس وقت پیسے پیسے کا محتاج ہے اور جمہوریت کو بھی خطرہ ہے۔ 2013ءکے ضمنی الیکشن میں قومی اسمبلی کی 5سیٹوں پہ ن لیگ ، 3پر پی پی پی اور 2پر PTIکو کامیابی ملی تھی۔صوبائی پر بھی ن لیگ کو واضح برتری حاصل تھی۔ اس وقت بھی عمران خان اپنی چھوڑی ہوئی دونوں سیٹیں ہار گئے تھے۔ اس بار پھر وہ اپنی دونوں سیٹیں بچا نہیں سکے ۔ پنجاب میں ن لیگ کو قومی پر برتری اور صوبائی میں برابری ملی ۔ انتخابات کا موسم آنے پر ملک وقوم کو بدلنے والے ہمارے جملہ مسائل کو چٹکیوں میں بدلنے کا جُھرلو نکال لیتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی کی جیت یقینی تھی کہ وہ حلقہ عرصہ¿ دراز سے ن لیگ کا گڑھ رہا ہے ۔
شاہد خاقان عباسی صاحب کو ن لیگ کا قائم مقام صدر بنانے کی باتیں ہورہی ہیں جبکہ شہباز شریف پہلے ہی پارٹی صدر ہیں۔ کیااُن کو شک ہے کہ شہباز شریف نااہل ہوجائیں گے ےا پارٹی میں دھڑے بن رہے ہیں۔ مفاد کا اتحاد ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ ہر پانچ سال بعد پاکستان کی ترقی کو تاراج کر کے صرف اقتدار حاصل کرنا ہی جمہوریت کی بقا کیوں ہے ۔ نعرے بازی، الزام تراشی اور تخریب کاری کرکے ملک کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر اقتدار پالینا اگر جمہوریت کی فتح ہے تو ہم بھرپائے ایسی جمہوریت سے ۔ ےہ تو بالکل ایسے ہے کہ ڈاکو راتوں رات ہمار ا مال و اسباب لُوٹ کرلے جائیں اور اُن پہ الزام بھی نہ آئے ۔ اس وقت سے قوم ایک سکتے کی حالت میںہے ےعنی زندگی چل رہی ہے مگر لوگ جی نہیں رہے ۔ آنکھیں پھٹی کی پھٹی مگر زندگی کی رمق سے خالی ہوگئی ہیں۔ کبھی تو لگتا ہے کہ شاید ہم ذہنی صدمے کا شکار ہوگئے ہیں ،پیارا پاکستان سنگ وخشت کا ویرانہ سابن رہا ہے۔ سیاسی سکتہ طاری کرنے کی بے پایاں کوششیں کی جارہی ہیں۔
میاں نواز شریف اب بھی لوگوں کو گمراہ کرنے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اپنی پیشی کے بعد میڈیا سے کہا کہ ضمنی انتخابات اس با ت کا ثبوت ہیں کہ ہم دوبارہ آئیںگے۔ میاں صاحب کا حال اُس دیوانے کی طرح ہوگیا ہے جسے پھول بھی مارا جائے تو پتھر کی طرح لگتا ہے ۔ ےہ بات تو وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں ہمیشہ موجودہ حکومت ہی جیتتی ہے تو 14اکتوبر 2018ءکے ضمنی الیکشن کی ساری جمع وصولی PTIکو جاتی ہے کہ انہوں نے حکومتی مشینری کا استعمال نہیںکیا، سیاسی طاقت کا استعمال نہیں ہوا، دھاندلی نہیں ہوئی ، ےہ ہے تبدیلی اور نیا پاکستان ۔ اس ملک میں کچھ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان بالکل اُن کی مرضی کے مطابق چلے ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ 22کروڑ عوام بھی ےہاں بستی ہے ۔ سوال ےہ ہے کہ آخر جمہوریت کو خطرہ ہی سیاست دانوں کے اتحاد کی وجہ کیوں ؟ پچھلی حکومتوں کو اپنے بلند وبانگ نعرے کیوں بھول گئے ۔ کیا پی پی پی اور ن لیگ نے عوامی حربوں کو اپنے مفادات کے لیے استعمال نہیں کیا۔ تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکن اپنی پارٹی کے قیدی ہوتے ہیں اور اُن کی مرضی کے مطابق ہی چلتے ہیں۔ خواجہ برادران کی گرفتار ی تواب کسی بھی دن ہوا ہی چاہتی ہے۔ ضمنی الیکشن میں نون لیگ نے دل کھول کر پیسہ خرچ کیا ۔ ن لیگ کے سب رہنما کمالِ نیت سے فرمارہے ہیں کہ ملک کا آئین اور جمہوریت کے اصولوں پہ چلنا ہمارا خواب ہے۔ مت بُھولیے! آئین میں قانون کی بالادستی ہی محترم اور مقدم ہے جسے آپ لوگ ماننے سے انکاری ہیں۔ حکومت عوام کے مائی باپ کی طرح ہوتی ہے۔ وطنِ عزیز میں تو اس عوام کے ساتھ سوتیلا نہیں بلکہ ظالمانہ سلوک ہوتارہا ہے ۔ میاں نواز شریف جو بیان داغ رہے تھے تو لگتا ہے کہ اُن کے دورِ حکومت میں تو لوگوں کو بجلی ، پانی ، روزی روٹی سب مفت مہیا ہورہا تھا۔ ماضی کے حکمرانوں کو عوام کے درد سے کوئی سروکار تھا نہ ہی کوئی درماں پیدا کیا۔ پاکستان کرب سے گزررہا ہے ، درد سے کراہ رہا ہے ، سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے لیکن ےہ سیاسی نیرو بیٹھے اپنے اپنے مفاد کی بانسری بجارہے ہیں۔
حیران ہوں کہ وطنِ عزیز کے تار تار ہوتے لبادے کی ہمارے سیاسی رفوگر کس دھاگے سے بخیہ گری کریں گے۔ اس ملک کے باسی اس کے پاسبان ہیں ۔ ےہ سیاسی بصیرت تو شاید نہ رکھتے ہوں لیکن حالات سے بے خبر نہیں ۔ ہر طرف سے نقاد مسٹر پرائم منسٹر پہ تنقید کر کے تیر برسائے جارہے ہیں ۔تجزیہ نگار ےہ کہے جارہے ہیں کہ گاڑیوں اور بھینسوں کی نیلامی مضحکہ خیز تھی خوشحالی نہیں لیکن اس کے پیچھے چھپا پیغام شاید کسی کو نظر نہیں آرہا ۔ کوئی بھی شخص چھوٹا سا نیا کاروبار بھی کرے تو اسے قدم جمانے میں کم از کم دوسال تو لگتے ہیں۔ عمران خان صاحب کو ابھی دو مہینے بھی پورے نہیں ہوئے ۔ خدارا! ذاتی پسند و ناپسند کے دائرے سے باہر نکل کر قوم بن کر سوچیے۔ اس بات پہ ایک چھوٹا سا قصہ یاد آیا کہیں کسی ملک میں ایک آرٹسٹ نے پینٹنگ بنائی اور چوراہے میں رکھ دی کہ اس کی غلطیاں لگادی جائیں۔ اگلے روز جب وہ وہاں گیا تو دیکھا کہ وہ پینٹنگ غلطیوں کے نشانات سے بھر دی گئی ۔ دوسری دفعہ اس نے ایک اور پینٹنگ بنائی اور چوراہے پہ رکھ کر نیچے نوٹ لکھا ©”ازراہِ کرم غلطیاں درست کر دی جائیں “ساتھ ہی برش اور پیلٹ رکھ دی گئی۔ اگلے روز وہ ششدر رہ گیا ، پینٹنگ پہ ایک نشان بھی نہ تھا ۔ کچھ ایسا ہی حال موجودہ چند دنوں کی حکومت کا ہے۔
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved