تازہ تر ین

زرداری جانتے ہیں25 اکتوبر کے بعد کیا ہونیوالا ہے

ڈاکٹرشاہدمسعود
ملک کو معاشی بحران کا شکار کرنے والے معاشی دہشتگرد چاہتے ہیں کہ جمہوریت کی بساط اُلٹ دی جائے، پنجاب اسمبلی میں جو کچھ ہوا آج قومی اسمبلی میں بھی وہی نظر آئے گا۔ ملک کے ادارے اپنی جگہ موجود رہیں گے تاہم پارلیمنٹ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس نے رہنا ہے یا نہیں اچانک عوام کی مشکلات سے آگاہ ہونے والے حمزہ شہباز شریف اور ان کے والد صرف اتنی وضاحت کر دیں کہ ان کا زیڈ کے بلڈرز سے کیا تعلق ہے، ظاہر خان بلڈرز جس کو ایک ہزار ارب کے ٹھیکے دیئے گئے جن میں صرف ایک ٹھیکہ 138 ارب کا تھا اور ادائیگی 190 ارب کی گئی ظاہر خان کے ایک بیٹے احمد سنیٹر بھی ہیں۔ ملک سے نظریاتی سیاست کا خاتمہ افسوسناک حقیقت ہے، آج نوازشریف لبرل ہو گئے ہیں ایک جیب میں نجم سیٹھی اور دوسری میں عرفان صدیقی کو لئے پھرتے ہیں کہ موقع کی مناسبت سے استعمال کر سکیں۔ اے این پی اور جماعت اسلامی میں کیا چیز مشترک ہے، مذہبی جماعتیں اپنی شناخت کھو چکی ہیں۔ اسلام آباد ایئرپورٹ تعمیر کی بڑے پیمانے پر تحقیقات شروع ہونے والی ہیں جن میں ایک بڑی کاروباری شخصیت جن کے خلیجی ممالک میں ہوٹلز ہیں، مریم نواز سے بھی رشتہ داری ہے کا نام سامنے آنے والا ہے اس کیس میں سیاسی، کاروباری اور میڈیا کی شخصیات کے نام آئیں گے۔ احتساب کا شکنجہ مزید سخت ہونے جا رہا ہے، بدمعاشیہ جتنا زور سے چیخے گی اتنے ہی زیادہ جوتے پڑیںگے۔ عمران خان کو اس وقت کوئی پرواہ نہیں کہ حکومت ٹوٹ جائے یا رہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ آخری سیاسی آپشن ہیں۔ اس وقت عوامی سطح پر پاکستان میں صرف معاشی دہشتگردی ڈسکس ہو رہی ہے۔ واجد ضیا نے نیب عدالت میں دستاویزی ثبوت دینا شروع کر دیئے ہیں۔ یہ بات تو بھول جانی چاہئے کہ نواز شریف دوبارہ پاور میں آ رہے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کی بساط الٹنے کے منصوبے بنانے والے ناکام ہوں گے یہ مافیا جتنی بھی افراتفری مچا لے اب گرفتاریوں سے نہیں بچ سکتا۔ آصف زرداری خوب آگاہ ہیں کہ 25اکتوبر کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے۔ شہباز شریف کی نیب عدالت میں ایک دن کی پیشی پر 20 سے 25 کروڑ خرچ ہو رہے ہیں اس طرح سے معاملات کیسے چل سکتے ہیں کیا پاکستان میں چوروں کو سکیورٹی دینے کیلئے غریب عوام کے ٹیکس سے کروڑوں روپے خرچ کئے جائیں گے۔ ریاست نے ابھی تک بڑا نرم ہاتھ رکھا ہوا ہے ورنہ وہ پھونک مار کر ساری بدمعاشیہ کو اڑا سکتی ہے اس لئے بدمعاشیہ انسان بنے اور ریاست کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ پاکستانی عوام دیکھ رہے ہیں کہ عسکری قیادت کو دنیا سے بات کرنا پڑ رہی ہے اور یہ کام سیاسی قیادت کا تھا مگر اسے تو لوٹ مار سے ہی فرصت نہ تھی پاکستان کو اس نہج تک پہنچانے والے مافیا پر ہی فیصلہ چھوڑ دینا چاہئے کہ پھانسی لگنا ہے یا فائرنگ سکواڈ کے سامنے جانا ہے، کسی طرح عوام کی جان چھوڑنی ہے خود فیصلہ کر لے۔ دنیا میں ایک خوفناک کھیل جاری ہے۔ امریکہ کی ڈیپ سٹیٹ ”واشنٹنن پوسٹ“ میں جیسا اداریہ لکھا گیا آج تک ایسا نہیں ہوا، اداریہ میں لکھا ہے کہ ”کیا ہمیں سعودی عرب کی ضرورت ہے“ امریکہ تیل میں خود کفیل ہو چکا ہے تو اسے کیا سعودی عرب کی اب بھی ضرورت ہے۔ امریکی اور برطانوی میڈیا دعویٰ کر رہا ہے کہ سعودی عرب سے کہا گیا ہے کہ آپ ایک معافی نامہ جاری کریں جس میں بتایا جائے کہ صحافی جمال خشوگی کو ترکی میں سعودی قونصلیٹ میں قتل میں غیر ریاستی عناصر ملوث ہیں، سعودی حکومت کے کہنے پر قتل نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب تنہا نہیں ہے اس کے ساتھ خلیجی ممالک کی حمایت ہے، قطر ترکی کے ساتھ کھڑا ہے، ایران خاموش ہے۔ دنیا بھر میں ریاستیں خود کو سنبھال رہی ہیں اور پاکستان میں بدمعاشیہ اپنا پیسہ سنبھالنے میں مصروف ہے۔
٭٭٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved