تازہ تر ین

”استاد کو عزت دو“

علی خان….مکتوب لندن
مبارک ہو کہ ملک کے بے جادہ و منزل اور بے ہنگم ہجوم پر اثرانداز ہونے والوں نے عارضی طاقت کے سرور میں جامعہ پنجاب کے سابق وائس چانسلرڈاکٹر مجاہد کامران کو فخریہ انداز میں ہتھکڑیاں لگاکر گرفتار کرلیا۔ اس ”خطرناک ملزم“ کے ساتھ اسکے مزید ساتھیوں کو بھی دھرلیاگیا جن میں ڈاکٹر راس مسعود، ڈاکٹر اورنگزیب عالمگیر، امین اظہر‘ ڈاکٹر کامران مرزا، ڈاکٹر لیاقت علی بھی شامل ہیں۔ ان 70/70 سال کے ملزموں کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیاگیا، نئے پاکستان کی نئی حکومت کے 55دنوں کے دیگر ”کارناموں“ میں سے یہ کارنامہ عظیم تر ہے جس پر وزیراعظم مبارکباد کے مستحق ہیں، ارشاد گرامی رسول اللہ ہے کہ” استاد کی حیثیت روحانی باپ کی سی ہے “۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا ” میں اس شخص کا غلام ہوں جو مجھے ایک لفظ بھی سکھا دے اگر وہ چاہے تو مجھے بیچ دے چاہے تومجھے آزاد کردے“، شاعر نے یونہی تو نہیں کہہ دیا!
دیکھا نہ کوہ کن کوئی فریاد کے بغیر
آتا نہیں ہے فن کوئی استاد کے بغیر
پاکستان کے عظیم وممتاز ڈرامہ نگار، ناول نگار، محقق اشفاق احمد مرحوم فرماتے ہیں ”ایک دفعہ میں لندن گیا ہوا تھا کہ ٹریفک قوانین کی ایک خلاف ورزی کی وجہ سے مجھ پر جرمانہ عائد کردیاگیا، میں مصروفیات کی وجہ سے یہ چالان جمع نہ کرواسکا جس پر مجھے عدالت میں پیش ہونا پڑا، کمرہ عدالت میںجج نے مجھ سے سوال کیا‘ آپ نے وقت پر جرمانہ کیوں ادا نہیں کیا جس پر میں نے کہا جناب ! میں ایک پروفیسر ہوں اکثر مصروف رہتا ہوں اس لئے یہ جرمانہ ادا نہ کرسکا، یکدم جج بولا A Teacher Is In The Court اس کے ساتھ ہی جج سمیت عدالت میں موجود تمام لوگ میرے احترام میں کھڑے ہوگئے “۔
جناب اشفاق احمد کے مطابق اس دن میں اس قوم اور معاشرے کی ترقی کا راز جان گیا۔یہ سب جانتے ہیں کہ استاد کو والدین کے بعد سب سے زیادہ محترم حیثیت حاصل ہے ۔ بادشاہ ہوں، شہنشاہ ہوں، خلیفہ ہوں، یا ولی اللہ سبھی اپنے استاد کے آگے ادب و احترام کے تمام تقاضے پورے کرتے نظر آئیں گے۔ مشہور واقعہ ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دو صاحبزادے امام نسائی کے پاس زیر تعلیم تھے، ایک بار استاد کے جانے کا وقت آیا تو دونوں شاگرد انہیں جوتے پیش کرنے کیلئے دوڑے کیونکہ دونوں ہی پہلے استاد کو جوتے پیش کرنے کے خواہشمند تھے، اس لئے دونوں بھائیوں میں کافی دیر تک تکرار بھی جاری رہی، بالآخر دونوں نے ایک ایک جوتا استاد کے آگے پیش کردیا، خلیفہ ہارون رشید تک اس واقعہ کی خبر پہنچی تو بصد احترام امام نسائی کو دربار میں بلایا اور سوال کیا کہ آپ کے خیال میں سب سے زیادہ عزت و احترام کے لائق کون ہے ، امام نسائی نے محتاط انداز میں جواب دیا میں سمجھتا ہوں کہ سب سے زیادہ احترام کے لائق خلیفہ وقت ہیں، خلیفہ کے چہرے پر گہری مسکراہٹ آئی اور کہا ہرگز نہیں استاد محترم ، سب سے زیادہ عزت کے لائق تو وہ استاد ہے جس کے جوتے اٹھانے کیلئے خلیفہ وقت کے بیٹے آپس میں جھگڑپڑیں۔اسی طرح معروف بزرگ مولانا جلال الدین رومی کے روحانی استاد شمس تبریز سے متعلق بھی چند واقعات تاریخ کا حصہ ہیں۔
ڈاکٹر مجاہد کامران 1971میں پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوئے ، طالبعلم سے استاد تک اس جامعہ کیساتھ ان کا یہ سفر پچاس سال پر محیط ہے، طبیعات میں ایم ایس سی اور پھر میرٹ سکالرشپ جیتا اور مرکزی اوورسیز سکالر شپ سکیم کے تحت حکومت پاکستان کی طرف سے ڈاکٹریٹ سکالر شپ سے نوازاگیا ۔ وہ 1975میں ایڈنبرا یونیورسٹی سکاٹ لینڈ اعلیٰ تعلیم کیلئے گئے اور نظریاتی طبیعات میں پی ایچ ڈی کی، پاکستانی معاشرے کی بے حسی اور بدسلوکی دیکھئے کہ ایسی نابغہ روزگار شخصیت کو 550افراد کی میرٹ کے بغیر تقرریاں کرنے کے الزام پر ان کے دیگر پروفیسر ساتھیوں سمیت ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں نیب نے ان کا دس روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا۔
استاد تو وہ چراغ ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے، اور استاد ہی وہ پھول ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن ، مہرومحبت اور دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔ والدین اگر بچے کو اٹھنے بیٹھنے‘ چلنے پھرنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں تو استاد وہ عظیم رہنما ہوتا ہے جو آدمی کو انسان بنادیتا ہے اور اسے حیوانیت کے چنگل سے نکال کر انسانیت کے گُر سے آشنا کرواتا ہے اور ایک معمولی آدمی کو زمین سے آسمان تک پہنچاتا ہے ۔
”رہبر بھی ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے ….. استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے“
استاد کی عزت و حرمت کا ایک اور واقعہ اور یہ بھی دنیا کے ایک مہذب و ترقی یافتہ ملک سے ہے کہ برصغیر کے معروف کالمسٹ وشاعر ابن انشا ٹوکیو جاپان کی ایک یونیورسٹی میں ایک مقامی استاد سے گفتگو کررہے تھے ، جب گفتگو اختتام کو پہنچی تو وہ استاد ابن انشا کو الوداع کرتے ہوئے یونیورسٹی کے صحن تک چل پڑا ، ابھی یہ دونوں یونیورسٹی کی حدود میں ہی تھے کہ باتیں کرتے کرتے ایک مقام پر کھڑے ہوگئے ، اسی دوران ابن انشا نے محسوس کیا کہ پیچھے سے گزرنے والے طلبہ اچھل اچھل کر گزر رہے ہیں، ابن انشا نے استاد سے پوچھا محترم ! ہمارے پیچھے سے گزرنے والا ہر طالبعلم اچھل اچھل کر کیوں گزر رہاہے ؟ ٹوکیو یونیورسٹی کے استاد نے بتایا کہ سورج کی روشنی سے ہمارا سایہ ہمارے پیچھے پڑ رہاہے اور یہاں سے گزرنے والا ہر طالبعلم نہیں چاہتا کہ اس کے پاو¿ں اس کے استاد کے سائے پر پڑیں، اسی لئے وہ اچھل کر گذر رہے ہیں ، لہٰذا اس قسم کی قومیں کیوں نہ ترقی کریں کہ ہمارے معاشرے میں تو استاد کا احترام اس کے گریڈ و عہدے سے منسلک ہے، انحطاط کے شکار ہمارے بیمار معاشرے میں استاد کو فقط ایک تنخواہ دار ملازم سمجھاجاتا ہے اور یہ کہ چند ایک مضامین اورگنے چنے موضوعات پڑھا دینا ہی استاد کا کام ٹھہرا ہے ، یقینا یہ ہمارے فرسودہ نظام کی خرابی ہے۔
ڈاکٹر مجاہد کامران اور دیگر اساتذہ کو جس مجرمانہ طریقے سے عدالت میں پیش کیا گیا اس سے بحیثیت مجموعی معاشرے کی کج خلقی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔اس واقعہ نے پوری قوم کے سر تو جھکائے ہی ہیں بیرون ملک پاکستانیوں نے بھی اس پر انتہائی افسوس اور شدید غصے کا اظہار کیا ہے ، گو کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اس واقعہ کا ازخود نوٹس لیا لیکن جو سبکی ان اساتذہ کی ہونا تھی ہوچکی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا ان اساتذہ کا قصور یا ان پر لگایا گیا الزام اس قدر سنگین تھا کہ ہتھکڑیاں لگا کر سرعام ان کی تذلیل کی جاتی اور الزام ثابت ہونے سے پہلے ہی قاتلوں، ڈاکوو¿ں ، غداروں ، بدمعاشوں اور رسہ گیروں کی طرح مجرم بناکر انہیں گھسیٹا جاتا؟ چلیں رولز کی چھوٹی بڑی خلاف ورزی کرکے ملازمتیں ہی تو دی تھیں کسی کا روزگار چھینا تو نہیںتھا، ان پر یہ الزام تو نہیں کہ انہوں نے ملکی خزانے کے کھربوں روپے لوٹ کر بیرون ممالک کے بنکوں میں جمع کروادیئے اور کروڑوںڈالر کی جائیدادیں خرید لیں، ان پر الزام یہ بھی نہیں کہ انہوں نے جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو پروفیسر بھرتی کرلیا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ 550غیر قانونی بھرتیاں انہوں نے کیں پھر بھی قومی اداروں پر استادوں کا احترام لازم تھا کیا انہیں پاکستان کی قومی اسمبلی کے وہ درجنوں ارکان پارلیمنٹ یاد نہیں جن کی ڈگریاں جعلی تھیں، انہیں تو کسی نے ہتھکڑیاں نہیں لگائیں اور نہ کوئی سزا دی، یہ لوگ ڈی سیٹ ہونے کے بعد بڑے آرام سے اگلے الیکشن میں منتخب ہوکر دوبارہ اسمبلی میں پہنچ گئے تھے۔ ملک کے یہ کہنہ مشق ادارے اس وقت تو حرکت میں نہیں آئے جب 5اکتوبر 2007کو صدر پاکستان پرویز مشرف نے آٹھ ہزار سے زیادہ قتل، منی لانڈرنگ ، کرپشن، بھتہ خوری، دہشتگردی تک کے الزام زدہ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو” قومی مفاہمتی آرڈیننس“ کے ذریعے عام معافی دیدی تھی، حالانکہ سپریم کورٹ اس این آر او کو غیر آئینی قرار دے چکا ہے لیکن مجال ہے اس پر کوئی ادارہ حرکت میں آئے لیکن زور چلتا ہے تو کمزور اساتذہ پر ، قوم کے ان جغادری اداروں نے 400ارب کی کرپشن کے ملزم ڈاکٹر عاصم کو تو اس طرح ہتھکڑیاں لگاکر پیش نہیں کیا، آئین توڑنے ، لال مسجد میں قتل عام اور بگٹی قتل کیس کے ملزم پرویز مشرف کو بھی کسی پیشی پر ہتھکڑی نہیں لگی، سینکڑوں افراد کو ماورائے عدالت قتل کرنے والے ملزم ایس ایس پی راو¿ انور بھی بغیر ہتھکڑی سینہ تان کر عدالت میں پیش ہوا، غداری کے کیس میں ملوث کسی قومی افسر کو بھی کبھی بازو تک سے پکڑ کر عدالت میں نہیں لایا گیا۔
سوال یہ ہے کہ آصف علی زرداری ہو ، نوازشریف ، شہبازشریف یا کوئی اور سیاسی ملزم‘ کیا کسی کو بھی اس قسم کے تذلیل زدہ طریقے سے عدالت لایاگیا…بھائی صاحب! اس قدر بے عزتی تو آپ نے منشا بم کی بھی نہیں کی، خدارا استاد کو عزت دو۔
( کالم نگار”خبریں“ کے لندن میں بیوروچیف ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved