تازہ تر ین

مہاجرین کا سماجی انضمام

مرزا روحیل بیگ ….مکتوب جرمن
جرمنی ہمیشہ سے تارکین وطن کا ملک رہا ہے۔ باہر سے آنے والی ثقافتیں ہمیشہ خوبصورتی لاتی ہیں اور جرمنی متعدد ثقافتوں کا مجموعہ ہے۔ جرمنی نے 2015ءمیں قریب ایک ملین مہاجرین کو قبول کیا تھا، تاہم اس کے بعد ایک طرف تو عوامی سطح پر اس پالیسی پر برہمی دیکھی گئی جب کہ ساتھ ہی جرمن معاشرے میں ان مہاجرین کے انضمام سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ ہوا۔ جرمنی پہنچنے والے ستر فی صد مہاجرین مسلمان تھے۔ گزشتہ انتخابات میں جرمن چانسلر انجیلا مرکل کو مہاجر دوست پالیسی اختیار کرنے کی وجہ سے کم ووٹ پڑے تھے۔ اس کے مقابلے میں دائیں بازو کی مہاجر مخالف جماعت اے ایف ڈی کو توقعات سے زیادہ کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ جرمنی میں حالیہ کچھ عرصے میں انتہائی دائیں بازو کے حلقوں کی جانب سے غیر ملکیوں اور پناہ گزینوں کے خلاف جذبات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جرمنی کی وفاقی حکومت نے مہاجرین کا سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیئے صوبوں اور بلدیات کو مزید رقم مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی حکومت آئندہ تین برسوں میں مقامی حکومتوں کو اس ضمن میں 15 بلین یورو مہیا کرے گی۔ وفاقی جرمن حکومت مہاجرین کے انضمام پر زیادہ توجہ صرف کرنا چاہتی ہے۔ 2019ءسے لیکر 2022ءکے درمیان وفاقی حکومت جرمنی کی مختلف ریاستوں اور بلدیات کو مہاجرین کے سماجی انضمام کے حوالے سے سرگرمیاں بڑھانے کے لیئے پندرہ بلین یورو فراہم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جرمن حکومت مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیئے جو رقوم خرچ کر رہی ہے، سماجی انضمام پر آنے والے اخراجات اس کا صرف ایک فی صد ہیں۔ 2022ءتک مجموعی طور پر 78 بلین یورو خرچ کیے جانا ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ رقم قریب اکتیس بلین یورو ہجرت کی وجوہات کے انسداد کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔یہ رقوم مشرق وسطی، افریقہ اور دیگر خطوں میں جنگ و جدل کے خاتمے، ان خطوں میں ملازمت کے مواقع پیدا کرنے اور دیگر عوامل پر خرچ کی جانی ہیں۔ قریب اکیس بلین یورو مہاجرین کو فراہم کی جانے والی سماجی امداد کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جن کی مدد سے وہ جرمنی میں روزمرہ کی زندگی پر اٹھنے والے اخراجات پورے کرتے ہیں۔
وفاقی حکومت کے اندازوں کے مطابق اس دوران کم از کم تیرہ بلین یورو مہاجرین کو جرمن زبان سکھانے کے لیے درکار ہوں گے۔ رواں سال قریب دو لاکھ مہاجرین جرمنی کے اندر ہی ایک شہر یا ریاست سے دوسرے شہر منتقل ہوں گے، جب کہ سن 2022 ءتک ملک کے اندر ہی نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد کم ہو کر ڈیڑھ لاکھ تک رہ جائے گی۔ جرمنی آمد کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران مہاجرین کو اپنے مخصوص علاقے سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ کبھی کبھار آپ کو عارضی طور پر اپنے شہر سے باہر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے البتہ اپنی ریاست سے باہر جانے کی ہرگز اجازت نہیں۔ 1960 کی دہائی کے آغاز پر جرمنی نے ترک شہریوں کو بطور“ مہمان کارکن“ اپنے ہاں بلا تو لیا تھا، لیکن ان لاکھوں غیر ملکیوں کو جرمن شہریت دینے اور ان کے سماجی انضمام کے لیے کوئی باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ ماضی کے اس تلخ تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے گزشتہ سالوں میں جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کے متعلق جرمن حکمران جماعت کے رہنما¶ں کا خیال ہے کہ جرمن معاشرے میں مہاجرین کے بہتر انضمام کے لیئے انہیں ایک برس تک سماجی شعبے میں خدمات انجام دینے پر مامور کرنا چاہیے۔ اس سے پہلے جرمن حکومت مہاجرین کے سماجی انضمام کے لیے ایک قانون بھی بنا چکی ہے جسے“ حوصلہ افزائی اور مطالبہ“ کا نام دیا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت سہولیات تو فراہم کرے گی لیکن ان کے عوض مہاجرین کو بھی سماجی انضمام یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھی نبھانا پڑیں گی۔ ان قوانین کے ذریعے پناہ گزینوں کو جلد از جلد جرمنی کی روزگار کی منڈی تک پہنچایا جا سکے گا لیکن اس کے ساتھ ساتھ مہاجرین اور تارکین وطن کو جرمن زبان بھی لازمی طور پر سیکھنا پڑے گی۔ سماجی انضمام کے کورسز میں لازمی شرکت کرنا پڑے گی۔ جو تارکین ان کورسز میں شریک نہیں ہوں گے انہیں اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑیں گے۔
تعلیم انضمام کی کنجی ہے۔ جرمن زبان سیکھے بغیر معاشرے کا حصہ نہیں بنا جا سکتا، زبان پر مہارت کے ساتھ کیرئیر بنانے کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔ 2017 میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی درخواستوں کی کامیابی کا تناسب نہایت کم رہا۔ بیس ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں میں سے محض چار فی صد کو پناہ دی گئی جب کہ انیس ہزار سے زائد (قریب چھیانوے فی صد) پاکستانیوں کو پناہ کا حقدار نہیں سمجھا گیا۔ حالیہ برسوں کے دوران مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن میں روزگار کی شرح بھی مختلف رہی۔ روزگار کے حصول کی سب سے زیادہ شرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن میں دیکھی گئی۔ 2015ءکے بعد سے پناہ کی تلاش میں جرمنی کا رخ کرنے والے پاکستانی تارکین وطن میں سے چالیس فی صد افراد جرمنی میں ملازمتیں حاصل کر چکے ہیں۔ جرمن حکومت کی خواہش ہے کہ ملک میں نئے آنے والے مہاجرین رہائش، سماجی سہولیات اور زبان سیکھنے کی کلاسوں کے بدلے میں خود بھی جرمن معاشرے میں ضم ہونے کی کوشش کریں۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم ،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved