تازہ تر ین

ضمنی انتخابات کے نتائج

عثمان احمد کسانہ…. بولتے الفاظ
2018ءکے جنرل الیکشن کے نتائج کی روشنی میں مرکز اور دو صوبوں میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت تووجود میں آ گئی لیکن یہ بات اپنی جگہ قائم ہے کہ حکومت سازی کے تمام مراحل پیچیدہ بھی تھے اور مبہم بھی۔ اپوزیشن تو ہمیشہ اعتراض کرتی ہی ہے مگر اب کی بار تنازعات اور شکوک و شبہات کی ایسی آندھی تھی جسے کسی ان دیکھی قوت اور سپوٹ کے بغیر کنڑول کیا جانا نا ممکن تھا۔ بہر حال اپوزیشن نے کپتان کا دیرینہ مطالبہ ہی کپتان کے سامنے دھر دیا کہ دھاندلی زدہ حلقے کھولے جائیں یہاں تک کہ پورے انتخابات کو ہی جعلی قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ اس کے جواب میں کپتان نے بھی کوئی سا حلقہ کھولنے کی آفر کردی۔الیکشن کمیشن اور انصاف کے دیگر اداروں میں اعتراضات اور شکایات کے انبار لگ گئے جس پر ابتداءمیں تو اِکا دُکا حلقوں میں دوبارہ گنتی کروائی گئی لیکن بعد میں یہ سلسلہ جاری نہ رہ سکاجو کہ میں سمجھتا ہوں کوئی بڑی بات نہیں۔ ویسے بھی ہمارے ملک کے سیاسی کلچر میں تو رواج ہے کہ زبان کے کہے سے مُکر جانا معیوب نہیں لگتا۔
یہاں تو اس حد تک منجھے ہوئے سیاسی پروھت پائے جاتے ہیں۔ جو کہتے رہے‘ وعدے کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہوتے۔اب بتائیے اس ماحول میں بار بار یوُ ٹرن لینے والے کی مذمت کیونکر بنتی ہے؟ حکومت کی تشکیل کیلئے تحریک انصاف نے بطور جماعت انتخابات سے قبل اور انتخابات کے بعد جو پاپڑ بیلے وہ اپنی جگہ میری دانست میں اصل محنت تو جہانگیر ترین کی ہے جنہوںنے آزاد امیدواروں کواپنے ساتھ ملانے اورتحریک انصاف کا پیغام ان تک پہنچانے کے لئے دن رات ایک کردیا۔اتنی تگ و دو اور بھاگ دوڑ کے بعد بھی جو حکومت ملی وہ حکومت واقتدار کم اور مسائل کی دلدل زیادہ لگ رہی ہے۔فیصلے کرنے والوں اور ان پر عملدرآمد کرنے والوں کی اہلیت و قابلیت پر اٹھنے والے سوالات کی اس قدر بھر مار ہے کہ صرف شور سنائی دے رہا ہے۔ اچانک بیورو کریسی اور افسر شاہی پر نا اہلی کا لیبل لگنے لگا ہے مجموعی ملکی حالات یہ خبر دے رہے ہیں کہ عام آدمی کیلئے ضروریات زندگی کا حصول محال ہوتا جارہا ہے۔مہنگائی اور افراتفری دن بدن عروج پکڑتی جارہی ہے۔ صاحبان اقتدار کے بڑے بڑے اور چھوٹے چھوٹے تمام فیصلے انکی اپنی پالیسیوں اور منشور سے متصادم نظرآتے ہیں۔ اندازہ کیجئے حکومت میں بعض عناصر یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ قبضہ مافیا سے نجات حاصل کرنے اور سرکاری اراضی واگزار کروانے کیلئے منشاءبم جیسوںپر ہاتھ ڈالا جانا چاہئے یا غریب ریڑھی بانوں اور چھابڑی فروشوں سے روزگار چھینا جانا چاہئے۔ خیر‘ حکومتی کارگزاری اور اس کے فوری نتائج پر بات کرنے کے ساتھ آج کے کالم کے مندرجات میں یہ بھی واضح کرنا ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات میں حکومتی جماعت کو اپنی متعددنشستوں سے جو ہاتھ دھونا پڑا ہے حقیقت میں یہاں ان کی گرفت ہی کمزور تھی۔ مثال کے طور پر کپتان کی لاہور اوربنوں میں اپنی چھوڑی ہوئی دو نشستیں جس طرح ان کے ہاتھ سے گئیں وہ یا تو انکی تھیں نہیںیا پھر چند دنوں میں ہی تبدیلی والوں کو تبدیلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ بھی درست ہے کہ ان نشستوں پر کامیابی کے پیچھے عمران خان کی شخصیت کاکرشمہ تھاتاہم تحریک انصاف کو ضمنی انتخاب میں جو دھچکا لگا اس کا انکار یا فرار مزید نقصان کی طرف لے جائے گا۔
دیانتدارانہ غورکیا جائے کہ اپوزیشن کے مطلوبہ حلقے اگر پہلے کھُل جاتے تو حالات مختلف ہوتے ۔ لاہور کے حلقہ این اے 131میں خواجہ سعد رفیق پھر سے تحریک انصاف کیلئے لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے۔ اُس نے اپنی پوری انتخابی مہم اسی نکتے پر چلائی کہ یہ سیٹ ہم پہلے بھی جیتے تھے اب ہم نے دوبارہ اپنی سیٹ واپس لینی ہے۔ مسلم لیگی کارکن ایک ہی نعرے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے تھے کہ ہم نے اپنا مینڈیٹ واپس لینا ہے۔ یادر رہے 25جولائی کے انتخابات کے بعد جب سعد رفیق نے اس حلقے میں دوبارہ گنتی کی درخواست دی تو اس کے مطالبے کو مان کر دوبارہ گنتی شروع کروادی گئی ۔ چند بیگ کھُلے ہی تھے کہ پھر یہ مطالبہ رد کر دیا گیا۔ اب ضمنی انتخابات میں وہی سیٹ بڑے واضح مارجن سے خواجہ سعد رفیق نے اپنے نام کر لی۔دیگر قومی و صوبائی حلقوں میں بھی اسی سے ملتے جلتے حالات دیکھنے کو ملے۔چند سیٹوں کے اضافے سے مسلم لیگ ن کی نہ صرف عددی طاقت بہتری ہوئی ہے بلکہ ان کے کارکنوں کا مورال بھی بلند ہوا ہے۔ پنجاب اسمبلی کی نشستوں میں تو بات برتری کی طرف جاتی دکھائی دیتی ہے۔ حکومت کی فوری تبدیلی کی بات ابھی قبل از وقت لگتی ہے تاہم حالات کے کروٹ بدلنے میں دیر نہیں لگتی عوامی رائے کا احترام کرنا یا اسے اہمیت دینا قطعاً اہم نہیں یہاں تو راتوں رات وفاداریاں بدلنے ‘ پریشر برداشت نہ کرنے اور اِدھر سے اُدھر جانے کی روش عام ہے ۔ ہاں ‘ چھانگامانگا کلچر بھی تو اپنا ہی ہے اسے بھی خاطر میں لایا جا سکتا ہے ۔ موجودہ حکومت کا 100دن کا ایجنڈا اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہاہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ان100دنوں کے اختتام پرکون سی تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا !
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved