تازہ تر ین

اختیار‘ ہتھکڑی اور ذمے داری

جاوید کاہلوں….اندازِفکر
فاروق اعظم ؓاپنے ایک ہی قول میں حکمت و دانائی کا ایک عظیم سمندر رہتی دنیا تک کے لئے چھوڑ گئے۔ فرمایا کہ ”جو ریاست مجرموں پر رحم کرتی ہے وہاں کے بے گناہ لوگ بڑی بے رحمی سے مرتے ہیں“۔یہ بات تو چودہ صدیاں قبل کی گئی تھی مگر آج بھی آپ روئے زمین پر بستے معاشروں‘ بستیوں اور ممالک پر نظر دوڑائیں‘ ان میں سے بعض میں پھیلی بے راہ رویوں‘ گناہوں ‘ بے چینیوں ‘ بددیانتیوں اور مظالم کی وجوہات کوجاننے کی کوشش کریں تو آپ پر حضرت عمر فاروقؓ کے اس قول کی ”عالمگیر حقانیت“ روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی۔ آپ اس قول عظیم کو اگر فاطمہ بنت اسد کی چوری اور اس پر سرکار دو عالم کی طرف سے جاری کی گئی ”سزائے حد“کی روشنی میں پرکھیں تو یہ اسی روایت سے جڑا نظر آئے گا۔ کیا یہ درست نہیں کہ جب معزز عرب قبیلے سے تعلق رکھنے والے سردار کی بیٹی پر چوری ثابت ہوگئی تو روسائے عرب نے حضور سے اس کی سزا میں نرمی کی درخواست کی۔ کیونکہ سارقہ لڑکی ایک معزز سردارِ عرب کی بیٹی تھی۔ روایت میں ہے کہ اس پر سرکار کا رخ انور سرخ ہوگیا اور فرمایا کہ مسلمانوں مت بھولو کہ تم سے پہلے بڑی بڑی قومیں اس لئے تباہ ہوگئی تھیں کہ وہ اپنے کمزوروں کو تو بری طرح سے سزا دیتے تھے جبکہ اپنے معززین سے نرمی روا رکھتے تھے اور یہ بھی کہ اگر یہی جرم ”فاطمہ بنت محمد “ بھی کرتی تو میں اسے بھی یہی سزا دیتا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس قوم اور ملت کے خزینے میں ایسے اقوال اور تابندہ روایات موجود ہوں‘ وہ یونیورسٹی کے ایک وائس چانسلر اور دیگر دو پروفیسروں کو گرفتار ہونے پر ایسے جز بز کیوں نظر آتے ہیں؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی معاشرے میں ”استاد“ کا ایک بہت ہی بلند درجہ اور عزت و احترام ہونا چاہئے اور یہ مقام ان کے پاس فقط ان کے علم و عقل اور معاشرے میں ان کی درس و تدریس اور حکمت و تربیتِ عوام کی بنا پر ہونا چاہئے۔ مگر جب بھی کوئی ”استاد“اپنے محترم ترین مقام سے گر کر بددیانتی ‘ درندگی اور فواحش و خرافات میں مبتلا بلکہ لت پت نظر آئے تو پھر کونسا استاد اور کیسا احترام؟ چونکہ معاشرہ ہمیشہ سے استاد کے لئے ایک خاص مقام کو ملحوظ خاطر رکھتا ہے لہٰذا ان کےOMISSIONS اور ACTS پر بھی ان سے ویسا ہی مطالبہ ہونا چاہئے۔ اب وہ زمانہ قدیم تھا یا حالیہ زمانہ جدید‘ استاد کا مقام اور رشتہ ہمیشہ سے مقدس رہا ہے مگر کل تک تو ان اساتذہ کے متعلق یہ صورتحال تھی کہ ”دامن نچوڑ دو تو فرشتے وضو کریں“ مگر آج کل اسی پیشے سے کچھ ایسے افراد بھی منسلک نظر آتے ہیں کہ ان کی تعلیمی اسناد کچھ دیر کے لئے ان سے علیحدہ کردی جائیں تو پیچھے فرشتوں کی جگہ ایک ”شیطان“ ہی بچتا ہے۔ اب گو کہ ہتھکڑیاں لگے اساتذہ پر دھرے الزامات ابھی ثابت نہیں ہوسکے مگر یونیورسٹی کیمپس اور گردونواح میں ان کی شہرت اور نام کچھ قابل رشک نہیں تھے۔ ابھی تک تو انکوائری ہی ہوئی ہے جس میں ان کی داغدار شہرت سے متعلق کافی شواہد موجود نظر آتے ہیں کل کو یہ سب عدالت کے ٹیسٹ پر پورا اترتے ہیں کہ نہیں؟ پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ!
یہ تو فقط ایک زاویہ نگاہ تھا۔ اب آیئے اس کو ایک دوسرے زاویئے سے دیکھیں۔ ہمارے بعض ٹیلی ویژن چینلز ‘ اخبارات اور بالخصوص سوشل میڈیا میں ہتھکڑی لگے ہاتھوں کے ساتھ یونیورسٹی کے ان پروفیسروں کی پیشی پر کچھ نام نہاد دانشور اور سماجی کارکن بڑے غصے میں نظر آتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے دیکھا کہ ایک ہی دن میں ایسے دو مناظر میں ایک سابق رکن پارلیمنٹ مسٹر عابدی کے دونوں بازو جسم کے سامنے ہتھکڑی لگے ہوئے دکھائے گئے جبکہ ان پروفیسر حضرات کے فقط ایک ہاتھ پر ہتھکڑی بندھی تھی۔ قانون نافذکرنےوالے ادارے کے پاس ایک تیسری صلاحیت یہ بھی ہوسکتی تھی کہ وہ دونوں ہاتھوں کو پیچھے کمر پر باندھ کر ہتھکڑی لگاتے اور عدالت لے کر آتے۔ معلوم پڑتا ہے کہ ایک استاد ہونے کے ناطے شاید انہوں نے نرمی برتی اور فقط ایک بازو پر زنجیر باندھی۔ اگر ان کی جگہ پر کوئی ”غریب پاکستانی ملزم“ ہوتا تو شاید اس کے دونوں ہاتھ کمر پر بندھے ہوتے‘ اس کے پاﺅں میں بھی زنجیریں ہوتیں اور اسے گھسیٹتے ہوئے عدالت کے دروازے تک لے کر آتے۔ تادم تحریر میڈیا سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس حرکت پر چیئرمین نیب اور محترم چیف جسٹس آف پاکستان تک بھی ”نوٹس“ لے چکے ہیں۔ اس لئے ہر عدالتی حکم سر آنکھوں پر۔
ہماری رائے پوچھی جائے تو ہم مقامی پولیس کو نہ صرف کسی بھی ملزم کو بلالحاظ مرتبہ و مقام ہتھکڑی پہنانے پر شاباش دیں گے بلکہ اسلامی روایات کے مطابق اساتذہ کے ضمن میں غیرقانونی و غیراخلاقی اقدامات اٹھانے‘ بددیانتی کا ارتکاب کرنے یا پھر اقربا پروری جیسے الزامات پر ان کے ”ڈبل احتساب“ کی امید بھی رکھیں گے جس میں کہ پولیس کی حد تک ایسے ملزموں کے ہاتھ کمر پر باندھ کر عدالت میں پیش کرنا بھی شامل ہوگا۔ ویسے پولیس فورس کو بھی اب اس کے اختیارات قانون کے دائرے کے اندر رہ کر استعمال کرنے کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے بلکہ ایک DEMORALISED مسلح فورس کے اختیارات میں غیر مناسب دخل اندازی بھی بند کردینی چاہئے اور ہر ادارے کو اپنے کام سے کام اور دوسرے کے کاموں میں ”عدم مداخلت“ کے اصول کی بھی پیروی کرنا ہوگی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ہمیں یقین ہے کہ ایک ”نئے پاکستان“ کا خواب جو ہر شہری تحریک انصاف کی حکومت آنے کے بعد اپنی آنکھوں میں بسا چکا ہے۔ شاید کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکے۔
ویسے ان ملزمان پروفیسروں کو ہتھکڑی لگنے پر جو لبرل حضرات خبربز ہورہے ہیں‘ کیا وہ فقط ایک سوال کا جواب دے سکتے ہیں۔کیا ایسا کرکے پولیس نے کوئی غیرقانونی و غیرآئینی حرکت کی ہے؟ اور اگر کسی وجہ سے ہتھکڑی نہ لگے ہونے کی وجہ سے ملزم بھاگ جاتے یا کوئی جتھہ انہیں چھڑا لے جاتا تو اس کی جواب طلبی ذمے دار پولیس افسروں سے ہونی تھی یا کسی اور شخص یا ادارے سے؟لہٰذا جس کی ذمے داری ہے اختیار بھی مکمل فقط اسی کو ہونا چاہئے۔
(کرنل ریٹائرڈ اور ضلع نارووال کے سابق ناظم ہیں)
٭….٭….٭


سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں




دلچسپ و عجیب
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2016 All Rights Reserved